الصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہ
وہ جہنم میں گیا جو ان سے مستغنی ہوا
ہے خلیل اللہ کوحاجت رسول اللہ ﷺ کی
آج لے ان کی پناہ آج مدد مانگ ان سے
پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا

  Important Articles - Aqaid AhleSunnah Wa Jammatاہم مضا مین ۔ عقا ئد اہل سنت و جما عت

فیضا ن ِ اعلی ٰ حضرت ۔ حصّہ دوئم
Published Date: Sunday, April 19, 2015 - 12:05 PM
فیضا ن ِ اعلی ٰ حضرت
حصّہ دوئم
محمد ابراہیم

 

عِشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم 
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سراپا عشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم کا نُمُونہ تھے، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا نعتیہ کلام (حدائقِ بخشش شریف) اس اَمرکا شاہد ہے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نوکِ قلم بلکہ گہرائی قَلب سے نِکلا ہوا ہر مِصرَعَہ آپ کی سروَرِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم سے بے پایاں عقیدت و مَحَبَّت کی شہادت دیتا ہے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کبھی کسی دُنیوی تاجدار کی خوشامد کے لیے قصیدہ نہیں لکھا، اس لیے کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضور تاجدارِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم کی اِطاعت و غلامی کو دل وجان سے قبول کرلیا تھا۔ اس کا اظہار آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے ایک شعر میں اس طرح فرمایا: 
 
 
انہیں جانا انہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام 
 
لِلّٰہِ الْحَمْد میں دنیا سے مسلمان گیا 
 
(تذکرہٗ امام احمد رضا ص۹ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)

حُکَّام کی خوشامد سے اِجتِناب
ایک مرتبہ رِیاست نانپارہ (ضِلع بہرائچ یوپی) کے نواب کی مَدح میں شعراء نے قصائد لکھے ۔کچھ لوگوں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے بھی گزارِش کی کہ حضرت آپ بھی نواب صاحِب کی مَدح میں کوئی قصیدہ لکھ دیں۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس کے جواب میں ایک نعت شریف لکھی جس کا مَطْلَع ( غزل یا قصیدہ کے شروع کا شعر جس کے دونوں مصرو ں میں قافیے ہوں وہ مَطْلَع کہلاتا ہے) یہ ہے۔

وہ کمالِ حسنِ حضورہے کہ گمانِ نقص، جہاں نہیں

یہی پھول خار سے دور ہے یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں

اور مَقْطَع (غزل یا قصیدہ کا آخری شعر جس میں شاعر کا تخلّص ہو وہ مَقْطَع کہلاتا ہے) میں “نانپارہ” کی بندِش کتنے لطیف اشارہ میں ادا کرتے ہیں

کروں مدح اہلِ دُوَل رضاؔپڑے اس بلا میں مِری بلا

میں گدا ہوں اپنے کریم کا مِرا دین “پارہ ناں” نہیں

فرماتے ہیں کہ میں اہلِ ثروت کی مَدح سرائی کیوں کروں۔ میں تو اپنے کریم اور سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم کے در کا فقیر ہوں۔ مرا دین ”پارہ نان ” نہیں۔ ”نان” کا معنیٰ روٹی اور ”پارہ” یعنی ٹکڑا۔ مطلب یہ کہ میرا دین روٹی کا ٹکڑا نہیں ہے جس کے لیے مالداروں کی خوشامدیں کرتا پھروں اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ میں دنیاکے تاجداروں کے ہاتھ بکنے والا نہیں ہوں۔


(تذکرہ امام احمد رضا ص۹ مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی)

سیرت کی جھلکیاں

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے ، اگر کوئی میرے دل کے دو ٹکڑے کردے تو ایک پر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اور دوسرے پرمُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہِ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم لکھا ہوا پائے گا۔(سوانح امام احمد رضا ،ص ۹۶ ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر)

تاجدارِ اہلسنّت ، شہزادہ اعلٰیحضرت حُضور مفتی اعظم ھند مولٰینا مصطفٰے رضا خان علیہ رحمۃ الحنّان ”سامانِ بخشش” میں فرماتے ہیں۔

خدا ایک پر ہو تو اِک پر محمد
اگر قَلب اپنا دو پارہ کروں میں

مَشائخِ زمانہ کی نظروں میں آپ واقعی فَنافِی الرَّسول تھے۔ اکثر فراقِ مصطفٰے صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میں غمگین رہتے اور سرد آہیں بھرتے رہتے۔جب پیشہ ور گستاخوں کی گُستاخانہ عبارات کو دیکھتے تو آنکھوں سے آنسوؤں کی جَھڑی لگ جاتی اور پیارے مصطَفٰے صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم کی حمایت میں گستاخوں کا سختی سے رَدّ کرتے تاکہ وہ جھنجھلا کر اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بُرا کہنا اور لکھنا شروع کردیں۔ آپ اکثر اس پر فخر کیاکرتے کہ باری تعالیٰ نے اس دور میں مجھے ناموسِ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم کے لیے ڈھال بنایا ہے۔ طریقِ استعمال یہ ہے کہ بدگویوں کا سختی اور تیز کلامی سے ردّ کرتا ہوں۔ کہ اس طرح وہ مجھے برا بھلا کہنے میں مصروف ہوجائیں۔ اس وقت تک کے لیے آقا ئے دو جہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم کی شان میں گستاخی کرنے سے بچے رہیں گے۔ حدائقِ بخشش شریف میں فرماتے ہیں ۔ ؎

کروں تیرے نام پہ جاں فِدا نہ بس ایک جاں دوجہاں فدا

دوجہاں سے بھی نہیں جی بھرا کروں کیا کروڑوں جہاں نہیں

غُرَباء کو کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے تھے، ہمیشہ غریبوں کی اِمداد کرتے رہتے ۔بلکہ آخِری وَقت بھی عزیز و اقارِب کو وصیّت کی کہ غُرَباء کاخاص خیال رکھنا ۔ان کو خاطِر داری سے اچھے اچھے اور لذیذ کھانے اپنے گھر سے کِھلایا کرنا اور کسی غریب کو مطلق نہ جھڑکنا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اکثر تصنیف و تالیف میں لگے رہتے۔ نماز ساری عمر باجماعت ادا کی ،آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خوراک بہت کم تھی، اور روزانہ ڈیڑھ دو گھنٹہ سے زیادہ نہ سوتے ۔(حیات اعلٰی حضرت ، ج ۱، ص ۹۶، مکتبۃ المدینہ کراچی)

سونے کا مُنْفَرِد انداز

سوتے وَقت ہاتھ کے اَنگوٹھے کو شہادت کی اُنگلی پر رکھ لیتے تاکہ اُنگلیوں سے لفظ “اﷲ”بن جائے ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پیر پھیلا کر کبھی نہ سوتے، بلکہ دا ہنی کروٹ لیٹ کر دونوں ہاتھوں کو ملا کر سر کے نیچے رکھ لیتے اورپاؤں مبارَک سمیٹ لیتے۔ اس طرح جسم سے لفظ”محمّد” بن جاتا۔ (حیات اعلٰی حضرت ، ج ۱ ،ص ۹۹، مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی)

یہ ہیں اﷲ کے چاہنے والوں اور رسولِ پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم کے سچے عاشِقوں کی ادائیں۔

نامِ خدا ہے ہاتھ میں نامِ نبی ہے ذات میں

مُہرِ غلامی ہے پڑی، لکھے ہوئے ہیں نام دو

آداب ِ حدیث پاک

ہم جس طرح اسلافِ صالحین سے آدابِ حدیث شریف کے متعلق پڑھتے سنتے آرہے ہیں اعلیٰ حضرت اس کی عملی تفسیرتھے،حدیثِ پاک کے ادب کے حوالے سے چند نمونے ملاحظہ ہوں:

آپ درسِ حدیث بحالت قعود(دو زانوں بیٹھ کر) دیا کرتے ۔

احادیث کریمہ بغیر وضونہ چھوتے اور نہ پڑھایا کرتے ۔

کتب ِ احادیث پر کوئی دوسری کتا ب نہ رکھتے۔

حدیث کی ترجمانی فرماتے ہوئے کوئی شخص درمیانِ حدیث اگر بات کاٹنے کی کوشش کرتا تو آپ سخت ناراض ہو جاتے،یہاں تک کہ جوش سے چہرہء مبارک سرخ ہو جاتا۔

حدیث پڑھاتے وقت دوسرے پاؤں کو زانوپر رکھ کر بیٹھنے کو ناپسند فرماتے ۔

(امام احمد رضا اور درسِ ادب از مفتی فیض احمد اُویسی مطبوعہ مکتبہ اہلِ سنت فیصل آباد ص 16)

مدینہءپاک کی چڑیوں کا ادب

مولانا فیض احمد اویسی صاحب اعلیٰ حضرت کے عشق و ادب پر کچھ یوں تبصرہ کرتے ہیں:

پارہ ء دل بھی نہ نکلا تم سے تحفے میں رضا

اُن سگانِ کو سے اِتنی جان پیاری واہ واہ

دیارِ حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے کتوں کو دل کا نذرانہ پیش کرنے کے علاوہ امام احمد رضا شہر ِحبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی چڑیوں کو دعوتِ شوق پیش کرتے ہیں کہ:

صحرائے مدینہ کی چڑیو! آؤ میں تمہاری بلائیں لوں ۔تمہارے لئے اپنے جسم کا پنجرہ بناؤں ۔اس میں تمہارے بیٹھنے کے لئے اپنے دونینوں کی جگہ بناؤں۔تمہارے کھانے کے لیے اپنے کلیجے کا چوگا بنا کر حاضر کروں۔اگر پانی مانگو تو آنسوؤں سے اپنی ہتھیلیاں بھرکر پیش کر وں۔اوراگر تمہیں دھوپ کی شدت سے اذیت ہو تو تم پر اپنے بالوں کا سایہ کردوں ۔سبحان اللہ بزبان ہندی شہر حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی چڑیوں کی دعوت کا منظر ملاحظہ ہو:

میں بھارو چھنے من کا پنجر ابناؤں

نینن کی رکھ دیوں د ورکریّاں

میں اپنے کر کر جوا کا چوگا بناؤں

جو جل مانگو روروبھر دیوں تلیّاں

واہوماں تمکا جوگھا مے ستاوے

کیسن کی کردیوں تم پر چھیّاں

عاشق اور پھر عشق حبیب خداصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی شان کیا ہے ۔ امام احمد رضا کو قدرت نے کتنی فیاضی کے ساتھ یہ دولتِ عشق عطا فرمائی ہے۔ (امام احمد رضا اور درسِ ادب از مفتی فیض احمد اُویسی مطبوعہ مکتبہ اہلِ سنت فیصل آباد ص 24)

مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام

اعلیٰ حضرت ،امام اہلسنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بے مثال عشق کا اظہار آپ کے اُس منظوم سلام سے بھی ہوتا ہے جس کے بارے میں علماء نے ارشاد فرمایا ہے کہ اعلیٰ حضرت اگر اور کوئی کام نہ بھی کرتے تو یہ سلام ہی آپ کی عظمت کے لیے کافی تھا ۔

جی ہاں! یہ وہ سلام ہے جس کی گونج پا ک و ہند کے گوشے گوشے میں سنائی دیتی ہے بلکہ یہاں سے نکل کر پوری دنیا میں یہ سلام پڑھا جار ہا ہے۔مساجد میں نماز ِ جمعہ کے بعد اور محافلِ میلا د کے اختتام پر اس کو بطورِخاص پڑھا جاتا ہے ،اردو جاننے والوں میں شاید ہی کو ئی ایسا ہو جسے اس سلام کا کوئی شعر یاد نہ ہو ۔

علمائے کرام ارشاد فرماتے ہیں’’دو کلام‘‘سرکارِ دوعالم صلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَیہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں بہت مقبول ہیں ،ایک اردو کا اور ایک عربی کا،عربی کا تو’’قصیدہ بردہ شریف‘‘ہے اور اُردو کا یہی اعلیٰ حضرت کا لکھا ہوا سلام’’مصطفی جان ِرحمت پہ لاکھوں سلام‘‘ہے ۔

اس کی قبولیت میں کیسے شک ہو سکتا ہے جبکہ سنہری جالیوں کے رو برو زائرین جب سلام پیش کرتے ہیں تو اس مبارک سلام کے چند اشعار بھی سرکا ر صلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَیہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں ۔

اس سلام کے والہانہ پن کی خصوصیت یہ ہے کہ اعلیٰ حضرت نے اپنے پیارے آقا و مولیٰ صلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَیہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کے ہر ہر عضوِ پاک پر الگ الگ سلام پیش کیا ہے جس سے آپ کے عشقِ رسول صلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَیہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کا اور فناء فی الرسول صلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَیہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم ہونے کا بخوبی اندازہ ہو تا ہے۔

یہ سلام جہاں عشقِ رسول صلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَیہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کا شاہکار ہے ،وہیں اعلیٰ حضرت کے فنی تبحر کی گواہی بھی دے رہاہے ۔آپ کا یہ سلام ایک سو بہتر اشعار پر مشتمل ہے۔

( فیضان اعلیٰ حضرت ص281 مطبوعہ مکتبہ شبیر برادرز لاہور)

بخار جاتا رہا

اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی سرکا ر صلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَیہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں استغاثہ پیش کیا کرتے۔ دوسرے حج کے موقع پر جب آپ جدہ پہنچے تو آپ کو بخار ہو گیا،آئیے آگے کا واقعہ خوداعلیٰ حضرت سے سنتے ہیں:

’’تین روز جَدَّہ میں رہنا ہوا اوربخارترقی پرہے، آج چل کر جَدَّہ کے کھلے میدان میں رات بسر کرنی ہوگی۔بخار میں کیا حالت ہوگی؟ سر کارِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سےعرض کی۔ بِحَمْدِاللہ تَعَالٰی بخار معاً(یعنی فوراً) جاتا رہا اورتیرھویں (ذی الحجۃ )تک عَود نہ کیا(یعنی دوبارہ نہ آیا)۔ جب بِفَضْلِہٖ تَعَالٰی تمام مناسکِ حج سے فارغ ہولئے ،تیرہویں تاریخ بخار نے عَودکیا ۔ میں نے کہا:اب آیا کیجئے، ہمارا کام ربُّ العزت نے پورا کردیا۔‘‘ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت مطبوعہ مکتبہ المدینہ ص188)

بیداری میں دیدارِ مصطَفٰی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم

جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دوسری بار حج کے لیے تشریف لے گئے تو زیارتِ نبیِّ رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم کی آرزو لیے روضہ اَطہر کے سامنے دیر تک صلوٰۃ وسلام پڑھتے رہے، مگر پہلی رات قسمت میں یہ سعادت نہ تھی۔ اس موقع پر وہ معروف نعتیہ غزل لکھی جس کے مَطْلَع میں دامنِ رحمت سے وابستگی کی اُمّیددکھائی ہے ۔

وہ سُوئے لالہ زار پھرتے ہیں

تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں

لیکن مَقْطَع میں مذکورہ واقِعہ کی یاس انگیز کیفیت کے پیشِ نظر اپنی بے مائیگی کا نقشہ یوں کھینچا ہے۔

کوئی کیوں پوچھے تیری بات رضاؔ

تجھ سے شَیدا ہزار پھرتے ہیں

(اعلیٰحضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مِصرعِ ثانی میں بطورِ عاجزی اپنے لیے “کُتّے” کا لفظ اِستعمال فرمایا ہے مگر سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہُ نے اَدَباً یہاں “شیدا” لکھ دیا ہے)

یہ غزل عرض کرکے دیدار کے اِنتظار میں مُؤَدَّب بیٹھے ہوئے تھے کہ قسمت جاگ اٹھی اور چشمانِ سر سے بیداری میں زیارتِ حُضُورِ اَقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم سے مشرَّف ہوئے۔ (حیات اعلٰی حضرت ،ج ۱، ص ۹۲، مکتبۃ المدینہ، بابُ المدینہ کراچی)

سبحٰنَ اﷲ عزوجل ! قربان جائیے ان آنکھوں پر کہ جنہوں نے عالمِ بیداری میں محبوبِ خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم کا دیدار کیا۔کیوں نہ ہو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اندر عشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ “فَنا فی الرَّسول” کے اعلیٰ منصب پر فائز تھے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا نعتیہ کلام اِس اَمر کا شاہد ہے۔

شارحِ بخاری امام قسطلانی کی تحسین فرمائی

شارحِ بخاری امام قسطلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ابنِ عربی کا ایک قول نقل کرتے وقت اپنی طرف سےصلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَیہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کا اضافہ کردیا،جس پر امام احمد رضا خان نےبےساختہ شارح بخاری علیہ الرحمہ کو دُعا دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ آپ پر رحمت کرے اور آپ کی حفاظت فرمائے اور آپ کے صدقہ میں ہماری بھی حفاظت فرمائے کیونکہ آپ نے بارگاہِ مصطفی صلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَیہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کا ادب ملحوظ رکھاہے۔‘‘ (تعلیقاتِ رضا از مولانا سید غلام مصطفی شاہ عقیل بخاری مطبوعہ لاہورمکتبہ بہارِ شریعت ص18)

تعظیمِ ساداتِ کرام

اعلیٰ حضرت نےسید صاحب کے ہاتھ چوم لئے

جناب سید ایوب علی صاحب کا بیان ہے کہ:

فقیر اور برادرم سید قناعت علی کے بیعت ہونے پر بموقع ِعید الفطر بعد ِنماز دست بوسی کے لیے عوام نے ہجوم کیا، مگر جس وقت سید قناعت علی دست بوس ہوئے سید ی اعلیٰ حضرت نے اُن کے ہاتھ چوم لئے ،یہ خائف ہوئے اور دیگر مقربان ِ خاص سے تذکرہ کیا تو معلوم ہوا کہ آپ کا یہی معمول ہے کہ بموقع عیدین دوران ِمصافحہ سب سے پہلے جو سید صاحب مصافحہ کرتے ہیں ۔ آپ اس کی دست بوسی فرمایا کرتے ہیں۔ غالباً آپ موجود سادات کرام میں سب سے پہلے دست بوس ہوئے ہوں گے ۔

(حیاتِ اعلیٰ حضرت از مولانا ظفرالدین بہاری مطبوعہ مکتبہ نبویہ لاہور ص 286)

سادات کودوگناحصّہ عطا فرماتے

جناب سید ایوب علی صاحب اعلیٰ حضر ت کی محبتِ سادات کا ایک اورواقعہ یوں بیان کرتے ہیں:

اعلیٰ حضر ت کے یہاں مجلس ِ میلاد مبارک میں سادات کرام کو بہ نسبت اور لوگوں کے دوگنا حصہ بروقت تقسیم شیرینی ملا کرتا تھا اور اسی کا اتباع اہلِ خاندا ن بھی کرتے ہیں ۔

ایک سال بموقع بارہویں شریف ماہ ربیع الاول ہجو م میں سید محمود جان صاحب کو خلاف ِمعمول اکہر ا(ایک) حصہ یعنی دو تشتریاں شیر ینی کی بلا قصد پہنچ گئیں ۔موصوف خاموشی کے ساتھ حصہ لے کر سیدھے حضورِ اعلیٰ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حضور کے یہاں سے آج مجھے عام حصہ ملا ۔ فرمایا: سید صاحب تشریف رکھئے !اور تقسیم کرنے والے کی فوراً طلبی ہوئی اور سخت اظہار ناراضی فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا :ابھی ایک سینی(بڑی پلیٹ) میں جس قدر حصے آسکیں بھر کر لاؤ چنانچہ فوراً تعمیل ہوئی ۔ سید صاحب نے عرض بھی کیا کہ حضور میرا یہ مقصد نہ تھا ،ہاں دل کو ضرور تکلیف ہوئی جسے برداشت نہ کر سکا۔ فرمایا سید صاحب!یہ شیرینی تو آپ کو قبول کرنا ہوگی ورنہ مجھے سخت تکلیف رہے گی۔ اور شیر ینی تقسیم کرنے والے سے کہا کہ ایک آدمی کو سید صاحب کے ساتھ کر دو جو اس خوان کو ان کے مکان پر پہنچا آئے انہوں نے فوراً تعمیل کی۔ (حیاتِ اعلیٰ حضرت از مولانا ظفرالدین بہاری مطبوعہ مکتبہ نبویہ لاہور ص 288)

سید صاحب کے گھر جا کر بچے کو دم کیا

قاری احمد صاحب پیلی بھیتی بیان کرتے ہیں کہ:

اعلیٰ حضرت’’مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت‘‘میں قیام فرما ہیں،سید شوکت علی صاحب خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتے ہیں کہ حضرت! میرا لڑکا سخت بیمار ہے ،تمام حکیموں نے جواب دے دیا ہے ، یہی ایک بچہ ہے صبح سے نزع کی حالت طاری ہے ،سخت تکلیف ہے ،میں بڑی اُمید کے ساتھ آپ کی خدمت میں آیا ہوں ۔

اعلیٰ حضرت سید صاحب کی پریشانی سے بہت متاثر ہوئے اور خود اُن کے ہمراہ مریض کو دیکھنے کے لیے گئے ، مریض کو ملاحظہ فرمایا پھر سر سے پیر تک ہاتھ پھیر پھیر کر کچھ دُعائیں پڑھتے رہے ، سید صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت کے ہاتھ رکھتے ہی مریض کو صحت ہونا شروع ہو گئی اور صبح تک وہ مرتا ہوا بچہ اعلیٰ حضرت کی دعا کی برکت سے بالکل تندرست ہو گیا۔ (حیاتِ اعلیٰ حضرت از مولانا ظفر الدین بہاری مکتبہ نبویہ لاہور ص978)

دربارِ رسالت میں انتظار

۲۵ صفَر المُظَفَّرکو بیت المقدَّس میں ایک شامی بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے خواب میں اپنے آپ کو دربارِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ وسلّم میں پایا ۔تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان اور اولیائے عِظام رَحِمَہُمُ اللہُ تعالٰی دربار میں حاضِر تھے ،لیکن مجلس میں سُکوت طاری تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کسی آنے والے کا اِنتظار ہے ۔شامی بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بارگاہِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم میں عرض کی ، حُضور! (صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم ) میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کس کا انتظار ہے ؟ سیِّدِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم نے ارشاد فرمایا،ہمیں احمد رضا کااِنتظار ہے۔شا می بزرگ نے عرض کی، حُضُور ! احمد رضا کون ہیں ؟ ارشاد ہوا،ہندوستان میں بریلی کے باشِندے ہیں۔بیداری کے بعد وہ شامی بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مولانا احمد رضارحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تلاش میں ہندوستان کی طرف چل پڑے اور جب وہ بریلی شریف آئے تو انہیں معلوم ہوا کہ اس عاشقِ رسول کا اسی روز (یعنی ۲۵ صفرالمُظفَّر۱۳۴۰ھ) کو وصال ہوچکا ہے جس روز انہوں نے خواب میں سرورِ کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم کو یہ کہتے سنا تھا کہ”ہمیں احمد رضا کا انتظار ہے۔”(سوانح امام احمد رضا ،ص ۳۹۱، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر)

یا الہٰی جب رضاؔ خوابِ گراں سے سر اٹھائے

دولتِ بیدارِ عشقِ مصطفٰے کا ساتھ ہو

علمی خدمات

اعلٰی حضرت اور کنز الا یمان

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تفسیر ی مہارت کا ایک شاہکار آپ کا ترجمہ قرآن ’’کنزالایمان ‘‘ بھی ہے جس کے بارے میں محدثِ اعظم ہند سید محمد محدث کچھوچھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :

’’علم ِقرآن کا اندازہ صر ف اعلیٰ حضرت کے اس اردو ترجمہ سے کیجئے جو اکثر گھروں میں موجود ہے اور جس کی مثال ِسابق نہ عربی میں ہے، نہ فارسی میں ہے ، نہ اردو زبان میں ہے ، اور جس کا ایک ایک لفظ اپنے مقام پر ایسا ہے کہ دوسرا لفظ اُس جگہ لایا نہیں جا سکتا جو بظاہر محض ترجمہ ہے مگر در حقیقت وہ قرآن کی صحیح تفسیر اور اردو زبان میں قرآن(کی روح)ہے (جامع الاحادیث جلد 8از مولانا حنیف خان رضوی مطبوعہ مکتبہ شبیر برادرز لاہور ص 101)

پھر یہ ترجمہ کس طرح معرض ِ وجو د میں آیا، ایسے نہیں جس طرح دیگر مترجمین عام طور سے گوشہ تنہائی میں بیٹھ کر متعلقہ کتابوں کا انبار لگا کر اور ترجمہ تفسیر کی کتابیں دیکھ دیکھ کر معانی کا تعین کرتے ہیں بلکہ اعلیٰ حضرت کی مصروف ترین زندگی عام مترجمین کی طرح ان تمام تیاریوں اور کامل اہتمامات کی متحمل کہا ں تھی ۔

’’سوانح امام احمد رضا ‘‘ میں مولانا بد ر الدین قادری صاحب تحریر فرماتے ہیں :

’’صدر الشریعہ‘‘ حضرت علامہ مولانا محمد امجد علی اعظمی نے قرآن مجید کے صحیح ترجمہ کی ضرورت پیش کرتے ہوئے امام احمد رضا سے ترجمہ کر دینے کی گزارش کی ۔ آپ نے وعدہ فرمالیا لیکن دوسرے مشاغل ِ د ینیہ کثیرہ کے ہجوم کے باعث تاخیر ہوتی رہی ،جب حضرت ’’صدر الشریعہ‘‘کی جانب سے اصرار بڑھا تو اعلیٰ حضرت نے فرمایا: چونکہ ترجمہ کے لیے میرے پاس مستقل وقت نہیں ہے اس لئے آپ رات میں سوتے وقت یا دن میں قیلولہ کے وقت آجایا کریں ۔چنانچہ حضرتِ ’’صدر الشریعہ‘‘ ایک دن کاغذ قلم اور دوات لے کر اعلیٰ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور یہ دینی کام بھی شروع ہو گیا

آپ ربانی طور پر آیات کا ترجمہ بولتے اور صدر الشریعہ لکھتے رہتے:

ترجمہ کا طریقہ یہ تھا کہ اعلیٰ حضرت زبانی طور پر آیات ِکریمہ کا ترجمہ بولتے جاتے اور’’ صدر الشریعہ‘‘ اس کو لکھتے رہتے ،لیکن یہ ترجمہ اس طرح پر نہیں تھا کہ آپ پہلے کتب ِتفسیر و لغت کو ملاحظہ فرماتے ،بعدہٗ آیت کے معنی کو سوچتے پھر ترجمہ بیان کرتے، بلکہ آپ قرآن مجید کا فی البدیہہ برجستہ ترجمہ زبانی طور پر اس طرح بولتے جاتے جیسے کوئی پختہ یادداشت کا حافظ اپنی قوتِ حافظہ پر بغیر زور ڈالے قرآن شریف روانگی سے پڑھتا جاتا ہے، پھر جب حضرتِ’’ صدر الشریعہ‘‘ اور دیگر علمائے حاضر ین اعلیٰ حضرت کے ترجمے کا کتب ِتفاسیر سے تقابل کرتے تو یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے کہ آ پ کا یہ برجستہ فی البدیہہ ترجمہ تفاسیر ِمعتبرہ کے بالکل مطابق ہے۔

الغرض اِسی قلیل وقت میں ترجمہ کا کام ہوتا رہاپھر وہ مبارک ساعت بھی آگئی کہ حضرتِ ’’صدر الشریعہ‘‘ نے اعلیٰ حضرت سے قرآن مجید کا مکمل ترجمہ کر والیا اور آپ کی کوششِ بلیغ کی بدولت دنیائے سنیت کو’’ کنز الایمان ‘‘کی دولت ِعظمیٰ نصیب ہوئی ۔ (انوارِ رضا مطبوعہ ضیاء القرآن لاہور ص 81-82)

کاش وہ تفسیر لکھی جاتی

’’صدر الشریعہ‘‘ مولانا محمد امجد علی اعظمی صاحب فرماتے ہیں :

ترجمہ کے بعد میں نے چاہا تھا کہ اعلیٰ حضرت اس پر نظر ثانی فرمالیں اور جا بجا فوائد تحریر کر دیں۔ چنانچہ بہت اصر ار کے بعد یہ کام شروع کیا گیا، دو تین روز تک کچھ لکھا گیا، مگر جس انداز سے لکھوانا شرو ع کیا اس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ یہ قرآن پاک کی بہت بڑی تفسیر ہو گی ۔کم از کم دس بارہ جلد وں میں پوری ہو گی۔

اس وقت خیال پیدا ہو اکہ اتنی مبسوط تحریر کی کیا حاجت ؟ ہر صفحہ میں کچھ تھوڑی تھوڑی باتیں ہونی چاہئیں جو حاشیہ پر درج کر دی جائیں لہٰذا یہ تحریر جو ہو رہی تھی بند کر دی گئی اور دوسری(تحریر) کی نوبت نہ آئی ۔ کاش وہ مبسوط تحریر جو اعلیٰ حضرت لکھوا رہے تھے اگر پوری نہیں تو دو ایک پارے تک ہی ہوتی،جب بھی شائقین ِعلم کے لیے وہ جواہر پارے بہت مفید اور کار آمد ہوتے ۔ (سیر ت صدر الشریعہ از مولانا عطا ء الرحمن قادری مطبوعہ مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور ص 175)

مولانا محمدحنیف خان رضوی صاحب نے اعلیٰ حضرت کی کتب میں سے انتخاب کر کے چھ سو آیات پر مشتمل تفسیر ی مباحث جمع کر کے شائع کر دئیے ہیں جو کہ بڑے سائز کی تین جلدوں(جامع الاحادیث جلد 8-9-10) پر محیط ہیں،جن کو پڑھ کر منصف مزاج حضرات اس بات کا ضرور اعتراف کریں گے کہ جو شخصیت ان آیات کی اس طرح محققانہ انداز میں تفسیر کرسکتی ہے وہ بلاشبہ پور ے قرآن کی تفسیر پر قادرتھی اور تمام مضامینِ قرآن اُس کے پیش نظر تھے ۔

مستقل فتویٰ نویسی

مولانا احمد رضاخان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تیرہ سال دس مہینے اور چاردن کی عمر میں 14شعبان 1286ھ کو اپنے والد مولانا نقی علی خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نگرانی میں فتویٰ نویسی کا آغاز کیا،سات برس بعد تقریباً 1293ھ میں فتویٰ نویسی کی مستقل اجازت مل گئی۔پھر جب 1297میں مولانا نقی علی خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا انتقال ہوا تو کلی طور پر مولانا بریلوی فتویٰ نویسی کے فرائض انجام دینے لگے۔ (حیاتِ مولانا احمد رضا خان بریلوی از پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد مطبوعہ کراچی ص50)

ایک سو پانچ علوم پر مہارت

سید ریاست علی قادری صاحب نے تو اپنے مقالہ ’’امام احمد رضا کی جدید علوم وفنون پر دسترس‘‘ میں جدید تحقیق و مطالعہ کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ:

’’اعلیٰ حضر ت کو ایک سو پانچ علوم وفنون پر دسترس و مہارت ِ تامہ و کاملہ حاصل تھی ۔ ‘‘

وہ لکھتے ہیں :امام احمد رضا نے ایک ہزار کے لگ بھگ کتب و رسائل تصنیف کئے ،جن میں 105سے زائد علوم کا احاطہ کیا گیاہے۔ اس کے علاوہ فقہ کی سینکڑوں کتابوں پر حواشی لکھے جو ہزاروں صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں۔ کثرت تصانیف اور متنوع علوم پر انہیں جو فوقیت حاصل تھی اس کی نظیر نہیں ملتی۔

راقم الحروف(سید ریاست علی قادری) ’’کَنزُالعِلم ‘‘ کے نام سے ایک کتاب شائع کرنا چاہتا ہے، جس میں 105علوم و فنون پر تبصرہ و تعارف پیش کیا جائے گا جس کی تفصیل یہ ہے :

(1)علم القرآن(2)قرأت(3)تجوید(4)تفسیر(5)علم حدیث (6)تخریج(7)فقہ (8)علم الکلام(9)علم العقائد(10)علم البیان (11)علم المعانی (12)علم المناظرہ (13)فتویٰ نویسی (14)سیرت نگاری(15)فلسفہ (16)منطق(17)تنقیدات(18)فضائل و مناقب (19)ادب (20)شاعری(21)نثر نگاری (22)حاشیہ نگاری(23)اسماء الرجال(24)علم الاخلاق (25)روحانیت (26)تصوف (27)سلوک(28)تاریخ و سیر(29)جدول (30)صرف و نحو (31)بدیع (32)علم الانساب (33)علم الفرائض (34)ردات (35)پندو نصائح (36) مکتوبات(37)ملفوظات (38)خطبات (39)جغرافیہ (40)تجارت (41)شماریات (42)صوتیات (43)مالیات (44)اقتصادیات (45)معاشرت (46)طبعیات (47)معاشیات (48)ہیئت (49)کیمیا (50)معدنیات (51)فلکیات (52)نجوم (53)جفر (54)ارضیات (55)تعلیم و تعلم (56)علم الحساب (57)زیجات (58)زائر چہ (59)تعویذات (60)طب (61)ادویات (62)لسانیات (63)رسم الخط (64)جر ح و تعدیل (65)ورد و اذکار (66)ایمانیات (67)تکسیر (68)توقیت (69)اوفاق (70)علم ریاضی (71)بنکاری (72)زراعت(73)تاریخ گوئی (74)سیاسیات (75)علم الاوقات (76)ردِّموسیقی (77)قانون (78)تشریحات (79)تحقیقات (80)علم الادیان (81)ماحولیات (82)علم الایام (83)تعبیر (84)عروض و قوانی (85)علم البر والبحر (86)علم الاوزان (87)حکمت (88)نقد ونظر (89)تعلیقات (90)موسمیات (91)شہریات (92)علم المناظر (93)نفسیات (94)صحافت (95)علم الاموال (96)عملیات (97)علم الاحکام (98)علم النور(99)ما بعد الطبعیات (100)عمرانیات (101)علم ِ رمل (102)لغت (103)استعارہ (104)حیاتیات (105)نباتات اور بے شما ر دوسرے علوم ممکن ہے کہ بعض اہل نقد و نظر کو فاضل مقالہ نگار کی مذکور ہ کی گئی تحقیق مبالغہ آمیز یا معتقدانہ معلوم ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ فاضل مقالہ نگار کی تحقیق میں ذرا بھی مبالغہ یا اعتقادی عنصر کا دخل نہیں اس لئے کہ اگر فاضل بریلوی کے تبحر علمی اور علوم پر ان کی مہارت و دسترس کے بارے میں تحقیق سے کام لیا جائے تو مذکورہ تعداد میں اور اضافہ کیا جاسکتا ہے،بلکہ فاضل بریلوی کی علوم پر دسترس و گرفت کا موضوع خود اتناوسیع ہے کہ جو مستقل طورسےتحقیق طلب ہے ۔

(امام احمد رضا کی نعتیہ شاعری از ڈاکٹر سراج احمد بستوی مطبوعہ فرید بک سٹال لاہورص59تا64)

چھ گھنٹے سورہء والضُّحیٰ پر بیان

سید اظہر علی صاحب (ساکن محلہ ذخیر ہ )کا بیان ہے کہ:

ایک مرتبہ اعلیٰ حضرت حضر ت محب الرسول مولانا شاہ عبد القادر صاحب کے عرس شریف میں بدایون تشریف لے گئے ،وہاں 9بجے صبح سے 3بجے دن تک کامل چھ گھنٹے سورہء والضحیٰ پر حضور کا بیان ہوا۔

(دوران ِ بیان اعلیٰ حضرت نے)فرمایاکہ:’’اسی سورۃء مبارکہ کی کچھ آیاتِ کریمہ کی تفسیر میں 80جز (تقریباً چھ سو صفحات )رقم فرما کر چھوڑ دیا کہ اتنا وقت کہاں سے لاؤں کہ پورے کلام پاک کی تفسیر لکھ سکوں ‘‘۔ (حیاتِ اعلیٰ حضرت از مولانا ظفر الدین بہاری مکتبہ نبویہ لاہور ص177)

علمُ الحدیث

اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ جس طرح علم التفسیر میں مہارت ِ تامہ رکھتے تھے اسی طرح علم الحدیث میں بھی درجہء امامت پرفائز تھے ۔ مولانا محمد احمدمصباحی صاحب تحریر فرماتے ہیں:


امام احمد رضا بلند پایہ محدث تھے،علمِ حدیث پر ان کو بڑا تبحر حاصل تھا اور ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا چنانچہ جب آپ سے پوچھا گیا کہ حدیث کی کتابوں میں کون کون سی کتابیں پڑھی یا پڑھائی ہیں توآپ نے یہ جواب دیا:


پچاس سے زائد کتبِ حدیث میرے درس و تدریس و مطالعہ میں رہیں :

’’مسند امام اعظم، مؤطا امام محمد، کتا ب الآثار، امام طحاوی، مؤطاامام مالک، مسند ِامام شافعی، مسندِ امام محمد وسننِ دارمی، بخاری و مسلم، ابوداؤد وترمذی ونسائی و ابنِ ماجہ وخصائص نسائی، ملتقی ابن الجا رود و ذوعلل متناہیہ و مشکوٰۃ و جامع کبیر و جامع صغیر وملتقی ابن تیمیہ وبلوغ المرام، عمل الیوم واللیلہ ابن السنی وکتاب الترغیب وخصائص ِکبریٰ وکتاب الفرج بعد الشدَّۃ وکتاب الاسماء و الصفات و غیرہ پچاس سے زائد کتبِ حدیث میرے درس و تدریس و مطالعہ میں رہیں‘‘۔


امام احمد رضا کے وسعت ِمطالعہ کی شان یہ ہے کہ ’’شرح ِعقائد نسفی‘‘ کے مطالعہ کے وقت ستر شروح سامنے رہیں، ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:

شرح عقائد میری دیکھی ہوئی ہے اور شرح عقائد نسفی کے ساتھ 70شروح و حواشی میں نے دیکھے۔ (امام احمد رضا کی فقہی بصیرت از محمد احمد مصباحی مطبوعہ مکتبہ رضا دارالاشاعت لاہور ص16)


مولانا محمد حنیف خان رضوی صاحب اپنی کتاب ’’جامع الاحادیث ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:

علمِ حدیث اپنے تنوّع کے اعتبار سے نہایت وسیع علم ہے، امام سیوطی قدس سرہ نے ’’تدریب الراوی ‘‘میں تقریباً سو علوم شمار کرائے ہیں جن سے علم ِحدیث میں واسطہ ضروری ہے ۔ لہٰذا ان تمام علوم میں مہارت کے بعد ہی علمِ حدیث کا جامع اور اس علم میں درجہء کمال کو پہنچا جاسکتاہے ۔

اگر انہیں امام بخاری و مسلم دیکھتے تو ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں


جب ہم اعلیٰ حضرت کی ہمہ جہت شخصیت اور ان کی تصانیفِ عالیہ کو دیکھتے ہیں تو فنِ حدیث،طرقِ حدیث، علل ِحدیث اور اسماء الرجال وغیر ہ میں بھی وہ انتہائی منزلِ کمال پر دکھائی دیتے ہیں اور یہی وہ وصف ہے جس میں کمال وانفرادیت ایک مجدد کے تجدیدی کارناموں کا رکنِ اعظم ہے ۔ فنِ حدیث میں اُ ن کی جو خدمات ہیں اِن سے اُن کی علمِ حدیث میں بصیرت و وسعت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ حدیث کی معرفت اور اِ سکی صحت وعدم ِصحت، ضعف وسقم، حسن وغیر جملہ علومِ حدیث میں جو مہارتِ تامہ اُن کو حاصل تھی وہ بہت دور تک نظر نہیں آتی ہے اور یہ چیزیں ان کی کتب و رسائل میں مختلف انداز پر ہیں،کہیں تفصیل کے ساتھ مستقلاً ذکر ہے اورکہیں اختصار کے ساتھ ضمناً اور کہیں کہیں حدیث و معرفت ِحدیث اور مبادیات ِحدیث پر ایسی نفیس اور شاندار بحثیں ہیں کہ اگر انہیں امام بخاری و مسلم بھی دیکھتے تو اُن کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں۔ (امام احمد رضا اور علم حدیث از محمد عیسی رضوی صاحب مطبوعہ مکتبہ شبیر برادرز لاہور ص16)

اعلٰی حضرت کی شاعری

مُلکِ سخن کی شاہی تم کو رضا مُسلَّم:


اعلیٰ حضرت کے منجھلے بھائی استاذِ زمن حضرتِ علامہ حسن رضا خا ن صاحب ’’حسن ‘‘بریلوی فنِّ شاعری میں حضرت ِداغ دہلوی کے شاگر د تھے،استاذِ زمن کی جب چند نعتیں جمع ہو جاتی تھیں تو اپنے صاحبزاد ے حضرت مولانا حسنین رضا خان کے بدست اپنے استاد حضرت ِداغ دہلوی کے پاس اصلاح کے لیے روانہ فرماتے تھے۔


ایک بار کا واقعہ ہے کہ استاذ ِزمن کا کچھ کلام لیکر مولانا حسنین رضا خان صاحب دہلی جارہے تھے، اعلیٰ حضرت نے دریافت فرمایا کہ کہاں جانا ہو رہا ہے مولانا حسنین رضا خان نے عرض کیا والد صاحب کا کلام لیکر استاد داغ دہلوی کے پاس جا رہا ہوں ۔ اعلیٰ حضرت اُس وقت وہ نعتِ پا ک قلمبند فرما رہے تھے جس کا مطلع ہے:


اُن کی مہک نے دل کے غنچے کھلائے دیئے ہیں


جس راہ چل دئے ہیں کوچے بسادئیے ہیں


ابھی مقطع نہیں لکھا تھا، فرمایا لیجئے! چند اشعار ہو گئے ہیں،ابھی مقطع نہیں لکھا ہے ،اس کو بھی دکھا لیجئے گا۔


چنانچہ مولانا حسنین رضاخان صاحب دہلی پہنچے اور استاذ الشعر اء حضرتِ داغ دہلوی سے ملاقات کی، اپنے والد ِماجد استاذِ زمن کا کلام پیش کیا۔حضرتِ داغ دہلوی نے اِس کی اصلاح کی، جب اصلاح فرماچکے تو مولانا حسنین میاں صاحب نے اعلیٰ حضرت کا وہ کلام بھی پیش کیااورکہا یہ کلام چچا جان اعلیٰ حضرت نے چلتے وقت دیاتھا اور فرمایا تھا کہ یہ بھی دکھاتے لائیے گا۔



حضرتِ داغ نے اس کو ملاحظہ فرمایا،مولانا حسنین میاں صاحب فرماتے ہیں:حضرت ِداغ اُس وقت نعت ِپاک کو گنگنار ہے تھے اور جھوم رہے تھے اور آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے تھے، پڑھنے کے بعد حضرت ِداغ دہلوی نے فرمایا اِس نعتِ پاک میں تو کوئی ایسا حرف بھی مجھے نظر نہیں آتا جس میں کچھ قلم لگا سکوں، اور یہ کلام تو خود لکھا ہوا معلوم ہی نہیں ہوتا بلکہ یہ کلام تو لکھوایا گیا ہے ،میں اس کلام کی فن کے اعتبار سے کیا کیا خوبیاں بیان کروں بس میری زبان پر تو یہ آرہا ہے کہ:


ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم

جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دئے ہیں

اور فرمایا اس میں مقطع تھا بھی نہیں ،لیجئے مقطع بھی ہو گیا ،نیز اعلیٰ حضرت کو ایک خط لکھا کہ اس نعت ِپاک کو اپنے دیوان میں اس مقطع کے ساتھ شامل کر یں اس مقطع کو علیحدہ نہ کریں نہ دوسرا مقطع کہیں ۔(تجلیات امام احمد رضا از مولانا امانت رسول قادری مطبوعہ مکتبہ برکاتی پبلیشرز کراچی ص90)

اعلٰی حضرت کی رِیاضی دانی

اﷲ تعالیٰ نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بے اندازہ عُلُومِ جَلِیلہ سے نوازا تھا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کم و بیش پچاس عُلُوم میں قلم اُٹھایا اور قابلِ قدر کُتُب تصنیف فرمائیں۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو ہر فن میں کافی دسترس حاصل تھی۔ علمِ توقیت، (عِلمِ۔ تَو۔ قِیْ ۔ ت ) میں اِس قَدر کمال حاصل تھا کہ دن کو سورج اور رات کو ستارے دیکھ کر گھڑی مِلالیتے۔ وَقْت بِالکل صحیح ہوتا اور کبھی ایک مِنَٹ کا بھی فرق نہ ہوا۔ علمِ رِیاضی میں آپ یگانہ رُوزگار تھے۔ چُنانچِہ علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضِیاء الدین جو کہ رِیاضی میں غیر ملکی ڈگریاں اور تَمغہ جات حاصل کیے ہوئے تھے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں ریاضی کا ایک مسئلہ پوچھنے آئے۔ ارشاد ہوا، فرمائیے! اُنہوں نے کہا ، وہ ایسا مسئلہ نہیں جسے اتنی آسانی سے عَرض کروں۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا، کچھ تو فرمائیے۔ وائس چانسلر صاحب نے سوال پیش کیا تو اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اُسی وقت اس کا تَشَفّی بخش جواب دے دیا۔ اُنہوں نے انتہائی حیرت سے کہا کہ میں اِس مسئلہ کے لیے جرمن جانا چاہتا تھا اِتّفاقاً ہمارے دینیات کے پروفیسر مولانا سَیِّد سُلَیمان اشرف صاحِب نے میری راہنمائی فرمائی اور میں یہاں حاضر ہوگیا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ اِسی مسئلہ کو کتاب میں دیکھ رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحِب بصد فرحت و مُسرّت واپس تشریف لے گئے اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی شخضیت سے اِس قدر مُتَأَثِّرہوئے کہ داڑھی رکھ لی اور صوم و صلوٰۃ کے پابند ہوگئے۔ (حیاتِ اعلٰی حضرت، ج ۱، ص ۲۲۳، ۲۲۸، مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی) عِلاوہ ازیں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ علمِ تکسِیر، علمِ ہَیئَت ، علمِ جَفَروغیرہ میں بھی کافی مَہارت رکھتے تھے۔

علمِ تکسیر میں مہارت

اعلیٰ حضرت جن علوم میں مہارت رکھتے تھے ان میں ایک علمِ تکسیر بھی ہے۔

علم ِ تکسیر کیا ہے؟

اعداد کو تقسیم کر کے تعویذ کے خانوں میں اس طرح لکھنا کہ ہر طرف کا مجموعہ برابر ہو’’حیاتِ اعلیٰ حضرت‘‘ میں مولانا ظفرالدین بہاری صاحب تحریر فرماتے ہیں:

علمِ تکسیر بھی اِس زمانہ میں اُنہیں علوم میں سے ہے جس کے جاننے والے ہر صوبے میں ایک یا دو شخص ہوں گے، عوام کو اس سے کیا دلچسپی،علماء کو اس سے کیا غرض، مشائخِ کرام جن کے یہاں کی اور جن کے کام کی چیز ہے سو میں سے اَسّی ایسے ملیں گے جو اپنے مشائخ کے مجموعہء اعمال ’’یا مجربات ِدیربی یانافع الخلائق ‘‘سے نقوش اُلٹے سیدھے باقاعدہ یا بے قاعدہ لکھ دینا کافی سمجھتے ہیں ۔ کتنے فی صد ی نقشِ مثلث یا مربع قاعدہء مشہورہ سے بھرلینا جانتے ہیں ؟اور پوری چال سے نقوش بھرنا تو شاید چار پانچ سو میں سے دو ایک ہی کا حصہ ہو گا۔

اعلیٰ حضرت کتنے طریقوں سے بھرتے ہیں ؟

مولانا ظفرالدین بہاری صاحب مزید تحریر فرماتے ہیں:

عرصے کی بات کہ ایک شاہ صاحب ’’مدرسہ ء اسلامیہ شمس الہدٰی پٹنہ ‘‘(مصنفِ’’حیاتِ اعلیٰ حضرت‘‘مولانا ظفرالدین بہاری صاحب یہاں پڑھاتے تھے)میں تشریف لائے اور محب ِمحترم حامیء دین، واقفِ علوم عقلیہ و نقلیہ، مولانا مولوی مقبول احمد خان صاحب دربھنگی مدرسِ مدرسہ ھٰذا کے مہمان ہوئے اور اپنی عزت بنانے، وقار جمانے کو ادھر ادھر کی بات کرتے ہوئے فنِّ تکسیر کی واقفیت کا ذکر کیا۔

مولوی صاحب بہت ظریف طبیعت ہیں ،یہ سن کر ایسا انداز برتا جس ے اُن شاہ صاحب نے سمجھا کہ میرے فن دانی کے قائل اور معتقد ہو گئے،چنانچہ مہینہ دو مہینہ میں ایک پھیرا اِدھر ُان کا ہونے لگا اور مولانا کے یہاں ایک دو وقت قیام ضرور کرتے، یہ بھی مہمان نوازی فرماتے، جب اُن کی ڈینگ بہت بڑھی تو ایک دن بہت ہلکی زبان سے فرمایا کہ میرے مدرسے میں بھی ایک مدرس مولانا ظفر الدین بہاری ہیں وہ بھی فنِّ تکسیر جانتے ہیں ۔بہت حیرت ہوئی وہ تو سمجھ رہے تھے کہ مولانا مقبول احمد خان صاحب کے علم میں دنیا میں میں ہی ایک تکسیر جاننے والا ہوں اور اِسی وجہ سے ایسے زبردست معقولی ہونے پر بھی میری عزت کرتے ہیں ۔ جب اُنہیں معلوم ہوا کہ ِاسی پٹنہ میں مولانا کے دوستوں میں اِسی مدرسے کے مدرِّسوں میں ایک شخص فنِّ تکسیر جاننے والے ہیں تو حیرت کی حد نہ رہی، بولے کہ اُن سے میری ملاقات کرا دیجئے گا۔ انہوں نے کہا وہ تو روازنہ مدرسہ کے وقت 10بجے مدرسے تشریف لاتے ہیں اور 4بجے ’’دریاپور‘‘ واپس چلے جاتے ہیں ۔

چنانچہ ایک دن مولوی صاحب شاہ صاحب کو لے کر میرے پاس تشریف لائے اوران کا تعارف کرواتے ہوئے،بہت سی خوبیاں بیان کیں ساتھ ہی اپنے خاص انداز سے فرمایا کہ : سب سے بڑا کمال آپ کا یہ ہے کہ آپ فن تکسیر جانتے ہیں ، میں سمجھ گیا ،میں نے کہا کہ اس سے بڑھ کر اورکیا کمال ہو گا کہ آپ وہ فن جانتے ہیں جس کے جاننے والے روئے زمیں سے معدوم و مفقو د نہیں تو قلیل الوجود ضرور ہیں ۔ اس پر شاہ صاحب نے فرمایا کہ: مجھے معلوم ہواہے کہ جناب کو بھی فنِّ تکسیر کا علم ہے میں نے کہا یہ مخلصوں کا محض حسنِ ظن ہے،کسی فن کے چند قواعد کا جان لینا فن کی واقفیت نہیں کہلاتی ہے ،ہاں اس فن سے ایک گونہ دلچسپی ضرور ہے ۔

اِس کے بعد میں نے اُن شاہ صاحب سے پوچھا کہ جناب ’’مربع‘‘ کتنے طریقے سے بھرتے ہیں؟بہت فخریہ فرمایا سولہ طریقے سے، میں نے کہا بس ! اِس پر فرمایا اور آپ !میں نے کہا کہ گیارہ سو باون (1152)طریقے سے ۔ بولے سچ! میں نے کہا کہ جھوٹ کہنا ہوتا تو کیا لاکھ دو لاکھ کا عدد مجھے معلوم نہ تھا گیارہ سو باون کی کیا خصوصیت تھی ۔ کہا: میرے سامنے بھر سکتے ہیں، میں نےکہا کہ ضرور، بلکہ میں نے بھر کر رکھے ہوئے ہیں، آج 4بجے میرے ساتھ’’دریا پور‘‘تشریف لے چلیں،مولانا مقبول احمد خاں صاحب کو بھی میں دعوت دیتا ہوںوہیں چائے ہوگی ،وہ کتاب میں حاضر کر دوں گا ، ایک ہی نقش ہے جو اتنے طریقوں سے بھرا ہوا ہے جس میں کوئی ایک دوسرے سے ملتا ہوانہیں پوچھا آپ نے کن سے سیکھا ؟میں نے اعلیٰ حضرت کا نام لیا ،یہ بھی اعلیٰ حضرت کے معتقد تھے ۔ نام سن کر اُن کو یقین ہو گیا ۔

میں نے بتایا تئیس سو تین طریقے سے:

مگر پوچھنے لگے کہ اعلیٰ حضرت کتنے طریقوں سے بھرتے ہیں ؟ میں نے کہا تئیس سو تین (2303)طریقے سے کہا کہ ’’آپ نے کیوں نہیں سیکھا ‘‘ میں نے کہا وہ تو علم کے دریا نہیں سمندر ہیں، جس فن کا ذکر آیا ایسی گفتگو فرماتے کہ معلوم ہوتا کہ عمر بھر اِسی علم کو دیکھا اوراِسی کی کتب بینی فرمائی ہے، اُن کے علوم کو میں کہاں تک حاصل کر سکتا ہوں۔

آخر 4بجے وہ میرے ساتھ دریا پور تشریف لائے اور وہ کاغذجس پر میں نے وہ نقوش لکھے تھے، ملاحظہ فرمایا ، بہت تعجب سے دیکھتے رہے اور اعلیٰ حضرت کی زیارت کے مشتاق ہو کر بعد ِمغرب واپس ہوئے ۔ پھر نہ معلوم کہ بریلی شریف حاضر ہوئے یا نہیں ۔

خیر بہر کیف جملہ علوم وفنون کی طرح فنّ تکسیر سے اعلیٰ حضر ت کو نہ صرف واقفیت ہی تھی بلکہ اس فن میں کمال اور مہارت رکھتے تھے بلکہ اگر مجتہد کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ (حیاتِ اعلیٰ حضرت از مولانا ظفر الدین بہاری مکتبہ نبویہ لاہور ص249)

تاریخ گوئی میں مہارت

تاریخ گوئی کیا ہے؟

کسی واقعہ کو ایسے اعداد میں ظاہر کرنا جس کے الفاظ بحسابِ ابجد جوڑنے سے زمانہء وقوع ظاہر ہو،مثلاً اعلیٰ حضرت کی ایک کتاب ہے’’تَجَلِّیُ الیَقِین بِاَنَّ نَبِیِنَا سَیِّدَِ المُرسَلِین‘‘ اگر اس کے عدد جمع کیے جائیں تو اس کا سنِ تصنیف نکل آتا ہے جو کہ 1305ھ ہے۔

تاریخ گوئی میں مَلَکَہ:

ولانا ظفرالدین صاحب تحریر فرماتے ہیں:

عالمُ الغیبِ والشہادۃجلَّ جلالہٗ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے اعلیٰ حضرت کو جملہ کمالاتِ انسانی کہ جو ایک ولی اللہ یکتائے زمانہ میں ہونے چاہئیں،بروجہ ِکمال جمع فرما دیا تھا، جس وصف ِکمال کو دیکھئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اعلیٰ حضرت نے اِسی میں تمام عمر صرف فرماکر اس کو حاصل فرمایا ہے اور اس میں کمال پیدا کیا ہے،حالانکہ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض موہبتِ عظمیٰ ونعمت کبریٰ ہے ،ایک ادنی توجہ سے زیادہ اِس کی طرف کبھی توجہ صرف نہیں فرمائی، انہی علوم میں تاریخ گوئی بھی ہے، اس میں وہ کمال اور ملکہ تھا کہ انسان جتنی دیر میں کوئی مفہوم لفظوں میں ادا کرتا ہے اعلیٰ حضرت اتنی دیر میں بے تکلف تاریخی مادے اور جملے ارشاد فرما دیا کرتے تھے ۔

ہر کتاب کا نام تاریخی:

جس کا بہت بڑا ثبوت حضور کی کتابوں میں اکثر و بیشتر کا تاریخی نام ہے اور وہ بھی ایسا چسپاں کہ بالکل مضمونِ کتاب کی توضیح و تفصیل کرنے والاہے۔

(حیات ِ اعلیٰ حضرت از مولانا ظفرالدین بہاری مطبوعہ مکتبہ نبویہ لاہور ص227)

علم ھئیت میں مہارت

مولانا ظفرالدین بہاری صاحب تحریر فرماتے ہیں:

اعلیٰ حضر ت کا علم کسبی و تحصیلی نہ تھا بلکہ محض وہبی و لدنی ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں اور یہ صرف میرا خیال نہیں بلکہ اعلیٰ حضرت کا بھی میرے گمان میں یہ عقیدہ تھا ۔ اِسی لئے حضور نے اپنے فتاویٰ شریف کا نام العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ(سرکار صلی للہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی عطاسے )رکھاتھا۔ اسی لئے نہ صرف فقہ اور دینیات بلکہ جس فن کی طرف توجہ فرمائی اپنے اس شعر کو سچ کر دکھایا اور حقائق و دقائق کے دریا بہا دیئے:

ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم

جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں

علمِ ہیئت میں اعلیٰ حضرت نے شرح چغمینی حضرت مولانا عبدالعلی صاحب رامپوری سے پڑھی لیکن اس فن میں ایسا کمال پیدا فرمایا کہ ’’تصریح ِشرح چغمینی‘‘ پر حاشیہ لکھا ۔ اس کے مشکل مقامات کو حل فرمایا، پھر اعلیٰ حضرت کا کسی کتاب پر حاشیہ لکھنا علمائے معاصرین کی طرح نہ تھا کہ کچھ اِدھراُدھر سے نقل کیا اور کسی کتاب پر چسپا ں کر دیا بلکہ وہ جو کچھ تحریر فرماتے اپنے علم اور فیضانِ الہٰی سے بیان کرتے تھے۔ (حیات ِ اعلیٰ حضرت از مولانا ظفرالدین بہاری مطبوعہ مکتبہ نبویہ لاہور ص244)

علمِ توقیت میں مہارت

مولانا ظفرالدین بہاری صاحب تحریر فرماتے ہیں:

ہیئت و نجوم میں کمال کے ساتھ علمِ توقیت(اوقات کا علم) میں کمال تو حدِّا یجاد کے درجہ پر تھا یعنی اگر اِس فن کا موجد کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔ علماء نے جستہ جستہ اس کو مختلف مقامات پر لکھا ہے لیکن میرے علم میں کوئی مستقل کتاب اس فن میں نہ تھی۔

سورج اور ستارے دیکھ کر وقت بتا دیتے :

مولوی برکات احمد صاحب صدیقی پیلی بھیتی کا بیان ہے کہ:

اعلیٰ حضرت کو ستارہ شناسی میں اس قدر کمال تھا کہ آفتاب کو دیکھ کر گھڑی ملا لیا کرتے تھے۔ فقیرنے بوقتِ شب ستاروں کو ملاحظہ فرماکر وقت بتانے اور گھڑی ملانے کے واقعا ت بھی سنے اور دیکھے ہیں اور بلکل صحیح وقت ہوتا،ایک منٹ کا بھی فرق نہ پڑتا ۔

آفتاب نکلنے میں ابھی دو منٹ اڑتالیس سیکنڈ باقی ہیں:



مولوی برکات احمد صاحب مزید فرماتے ہیں:

ایک مرتبہ اعلیٰ حضرت بدایون تشریف لے گئے، حضرتِ محب الرسول مولانا شاہ عبدالقادر صاحب بدایونی کے یہاں مہمان تھے، ’’مدرسہ قادریہ‘‘کی مسجد میں خود حضرت مولانا شاہ عبدالقادر صاحب بدایونی امامت فرماتے ۔



ایک مرتبہ اعلیٰ حضرت بھی وہاں جلوہ گر تھے ،جب فجر کی تکبیر شروع ہوئی تو حضرت مولانا عبدالقادر صاحب نے اعلیٰ حضرت کو امامت کے لیے آگے بڑھا دیا ۔اعلیٰ حضرت نے نماز ِفجر کی امامت کی اور قراء ت اتنی طویل فرمائی کہ مولانا عبد القادر کو بعد ِسلام شک ہوا کہ کہیں آفتاب طلوع تو نہیں ہو گیا،مسجد سے نکل نکل کر لوگ آفتاب کی جانب دیکھنے لگے، یہ حال دیکھ کر اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ ’’ آفتاب نکلنے میں ابھی2 منٹ 48سیکنڈ باقی ہیں‘‘ یہ سن کر لوگوں کی تسلی ہو گئی ۔

(حیات ِ اعلیٰ حضرت از مولانا ظفر الدین بہاری مکتبہ نبویہ لاہور ص 248)

تصانیف

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مختلف عُنوانات پر کم وبیش ایک ہزار کتابیں لکھی ہیں۔یوں توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ۱۲۸۶ھ سے ۱۳۴۰ھ تک لاکھوں فتوے لکھے، لیکن افسوس! کہ سب کو نَقل نہ کیا جاسکا، جو نَقل کرلیے گئے تھے ان کا نام ” العطایا النبّویۃ فی الفتاوی الرضویۃ”رکھا گیا ۔ فتاویٰ رضویہ (جدید) کی 30جلدیں ہیں جن کے کُل صفحات:21656، کل سُوالات وجوابات:6847اور کل رسائل: 206ہیں۔ (فتاویٰ رضویہ،ج ۳۰،ص ۱۰، رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور)ہر فتوے میں دلائل کا سمندر موجزن ہے۔ قرآن و حدیث ، فِقْہْ ،مَنْطِق اور کلام وغیرہ میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی وُسْعَتِ نظری کا اندازہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے فتاوٰی کے مُطالَعے سے ہی ہوسکتا ہے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی چند دیگر کُتُب کے نام درج ذیل ہیں: “سبحٰنُ السُّبُّوح عَن عیبِ کِذب مَقْبُوح”سچے خدا پر جھوٹ کا بہتان باندھنے والوں کے رد میں یہ رسالہ تحریر فرمایا ،جس نے مخالفین کے دم توڑ دئیے اور قلم نچوڑ دئیے۔”نُزُوْلِ آیاتِ فُرقان بَسُکونِ زمین و آسمان” اس کتاب میں آپ نے قرآنی آیات سے زمین کو ساکِن ثابِت کیا ہے ۔ سائنسدانوں کے اس نظریے کا کہ زمین گردِش کرتی ہے رَدّ فرمایا ہے۔علاوہ ازیں یہ کتابیں تحریر فرمائیں: المُعْتَمَدُ الْمُسْتَنَد ، تَجَلِّیُّ الْیقین، اَلْکَوکَبَۃُ الشِّھابِیۃ، سِلّ السُّیُوف الہِندیۃ ، حیاۃُ الموات وغیرہ۔

کرامات
میں دوبارہ زندہ ہو چکا تھا

مفتی غلام سرورقادری رضوی صاحب اپنی کتاب ’’الشاہ احمد رضا‘‘ میں ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ:



اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کی ایک زندہ کرامت’’ شیخ حبیب الرحمن ‘‘کے نام سے آج بھی لاہور میں موجود ہے ۔ شیخ حبیب الرحمن صاحب ’’پراسیکیوٹنگ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ‘‘(حال متعین محکمہ انٹی کر پشن لاہور1971) نے 11اپریل 1971کو اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے 51ویں عُرسِ مبارک کے موقع پر لاہور میں اعلیٰ حضرت کی یہ کرامت تقریر میں سُنائی جو اُن کی اپنی آپ بیتی ہے ۔



محترم شیخ صاحب نے فرمایا کہ یہ1920کا واقعہ ہے، میرے دانت نکلنے کا زمانہ تھا، اُس وقت عمر تقریباً ایک سال کی ہو گی ،میرے والدین کے بیان کے مطابق میں اُس وقت بہت کمزور تھا ،بخار کی زیادتی تھی، رفتہ رفتہ بیماری شدت پکڑ گئی اور نمونیہ ہو گیا ،اور سانس بند ہو گیا، حتیٰ کہ میرے والدین نے مجھے مُردہ قرار دے دیا اور رضائی میں لپیٹ کر علیحدہ رکھ دیا ۔ سب گھر والے میری موت کے صدمہ سے رو روکر نڈھال ہو گئے، میں اُن کا اکلوتا بچہ تھا ۔ میرے ماں باپ اعلیٰ حضرت کے زیرِ سایہ ایک قریبی مکان میں رہائش پذیر تھے ۔



اعلیٰ حضرت کو بھی اس اَلم ناک واقعہ کا علم ہو اتو آپ غمگین ہو ئے ،علالت کی تفصیل دریافت فرمائی، چند تعویذ عطا فرمائے اور ہدایت فرمائی کہ ان کی دھونی بچہ کے ناک میں دی جائے۔



میرے ماں باپ کو چونکہ بے حد عقیدت تھی اس لیے اُنہوں نے حسب ِ ارشاد تعمیل کی اور ساتھ ساتھ کفن دفن کی تیاریاں بھی ہو رہی تھیں کہ اچانک رضائی کے اندر سے میرے رونے کی آواز سنائی دی ۔والدہ صاحبہ نے دوڑ کر منہ سے رضائی ہٹائی تو حیران رہ گئی کہ “میں دوبارہ زندہ ہو چکا تھا”۔



ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ یہ اعلیٰ حضر ت کی دُعا کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور رحمت سے مجھ کو ایک مرتبہ پھر زندگی عطا فرمائی میری عمر اب پچاس سال سے کچھ زائد ہے مگر میں اب تک اعلیٰ حضرت کی برکتوں کا اثر اپنے اندر محسوس کرتا ہوں۔



(الشاہ احمد رضا از مفتی غلام سرو رقادری مطبوعہ مکتبہ فریدیہ ساہیوال ص 180

ایک ولی نے ایک ولی سے ملاقات کی

’’تجلیاتِ امام احمد رضا ‘‘ میں ہے کہ :

غالباً 1320ھ میں حضورِ اعلیٰ حضرت ’’بیسلپور‘‘ حضرت مولاناعرفان علی صاحب بیسلپوری کے دولت خانے پر تشریف لے گئے اور مولاناعرفان علی صاحب سے فرمایا کہ کیا اس بستی میں کسی ولی اللہ کا مزار شریف ہے؟ انہوں نے عرض کیا حضور! یہاں تو کسی مشہور ولی کا مزار میری نظر میں نہیں ۔



اعلیٰ حضرت نے ارشاد فرمایا مجھے تو’’ولی اللہ‘‘ کی خوشبو آرہی ہے، میں ان کے مزار پر فاتحہ پڑھنے جاؤں گا۔تب مولانا عرفان علی نے عرض کیا حضور! ہاں بالکل اس بستی کے کنارے پر ایک قبر ہے ،جنگلی علاقہ ہے ،ایک کوٹھڑی بنی ہوئی ہے ،اُسی کے اندر وہ قبر ہے۔فرمایا چلئے؛ اعلیٰ حضرت اس گمنام مزار پر تشریف لے گئے اور آپ نے اس چار دیواری کے اندر جا کر دروازہ بند کر لیا اور تقریباً پون گھنٹے تک اندرہی رہے ۔



سینکڑوں کا مجمع تھا ،عینی شاہدوں کا، خصوصاً مولانا عرفان علی صاحب کا بیا ن ہے کہ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا دو لوگ آپس میں گفتگو فرمارہے ہیں،ان اوقات میں ایک ولی نے ایک ولی سے ملاقات کی اور کیا کیا راز ونیاز کی گفتگو فرمائی کسی کو معلوم نہیں، ہاں جب آپ باہر تشریف لائے تو چہرے پر جلا ل روشن تھا ،بارعب آواز میں فرمایا:



بیسلپور والو! تم اب تک تاریکی میں تھے یہ اللہ تعالیٰ کے زبر دست ولی اللہ ہیں، غازیان ِ اسلام سے ہیں، سہروردی سلسلے کے ہیں، قبیلہء انصار سے ہیں ،غازی کمال شاہ ان کا نام ہے، انہوں نے شادی نہیں کی تھی ۔تم لوگوں کا فرض ہے کہ ان سے کسب فیض کرتے رہواور ان کے مزار شریف کو عمدہ طور پر تعمیر کرو۔



ا علیٰ حضرت کا یہ فرمانا تھا کہ اسی وقت سے لوگوں کا ہجوم ہونے لگا اور آپ کی بارگاہ سے لوگ مستفیض ہونے لگے اب وہ اُ جاڑ جنگل نما خطہ تھوڑے ہی دنوں میں صحن ِ گلزاربن گیا۔ (تجلیاتِ امام احمد رضا از امانت رسول مکتبہ برکاتی پبلیشرز ص100)

سمندری طوفان تھم گیا

پہلے حج سے واپسی پر جب کہ آ پ والدین کے ہمراہ بحری جہاز سے تشریف لا رہے تھے راستے میں سَمندری طوفا ن آگیا ۔خود ہی ارشادفرماتے ہیں:



واپسی میں تین دن طوفانِ شدید رہا تھا، اِس کی تفصیل میں بہت طول ہے ۔ لوگوں نے کفن پہن لئے تھے۔ حضرتِ والدہ ماجدہ کا اضطراب دیکھ کر اُ ن کی تسکین کے لیے بے ساختہ میری زبان سے نکلا کہ آپ اطمینا ن رکھیں ، خدا کی قسم !یہ جہاز نہ ڈوبے گا ۔ یہ قسم میں نے حدیث ہی کے اطمینا ن پر کھائی تھی جس میں کشتی پر سوار ہوتے وقت غرق سے حفاظت کی دُعا ارشاد ہوئی ہے ۔ میں نے وہ دُعاپڑھ لی تھی لہٰذا حدیث کے وعدہء صادقہ پر مطمئن تھا۔ پھر بھی قَسْم کے نکل جانے سے خود مجھے اندیشہ ہوا اور معاً حدیث یاد آئی :



’’ جو اللہ پر قسم کھائے اللہ اُ س کی قسم کو رد فرمادیتا ہے‘‘ (کنز العمال،حدیث4358)



حضرتِ عزت( اللہ عزوجل ) کی طرف رُجوع کی اور سرکارِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے مد د مانگی ،اَلحَمدُ للّٰہ !و ہ مخالف ہوا کہ تین دن سے بشدت چل رہی تھی دو گھڑی میں بالکل موقوف ہو گئی اور جہاز نے نجات پائی۔

(ملفوظات ِ اعلیٰ حضرت مکتبہ المدینہ ص181)

خربوزہ میٹھا ہوگیا

جنابِ سید ایوب علی صاحب فرماتے ہیں کہ:

سیدمحمود جان صاحب ساکن ’’محلہ گڑھی‘‘ نے فرمایاکہ ایک روز مولانا سید سلیمان اشرف صاحب بہاری پروفیسر دینیات علی گڑھ یونیورسٹی اعلیٰ حضرت کی خدمت میں حاضر تھے اور کچھ پھل خربوزہ کے رکھے ہوئے تھے ۔



بایمائے(باجازتِ)اعلیٰ حضرت پھل مولانا ممدوح نے اٹھایا اور گیارہ مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ کر تراشا تو پھیکا نکلا ،اس کے بعداعلیٰ حضرت نے صرف ایک بارسورۃ اخلاص پڑھ کرتراشاتو میٹھا نکلا،مولاناسید سلیمان اشرف صاحب نےفرمایاکہ:



’’میں گیارہ مرتبہ پڑھوں تو پھیکا نکلے آپ ایک بار پڑھیں تو میٹھا نکلے‘‘

(حیاتِ اعلیٰ حضرت ص 929 از مولانا ظفر الدین بہاری مکتبہ نبویہ لاہور)

موسم تبدیل ہو گیا

مولانا محمد حسین میرٹھی صاحب کا بیان ہے کہ:

ایک مرتبہ میں بریلی شریف گیا ،دو دن رہ کر سنا کہ آج حضرت ایک موضع(دیہات) کو تشریف لے جائیں گے، آپ کے ایک مرید خان صاحب نے دعوت کی ہے، کچھ لوگ ہمراہ جائیں گے ۔ میں نے یہ خیال کر کے کہ آپ کی کثیر صحبت میسر ہو گی ہمرکاب چلنے کی اجازت لے لی ۔



غالباً قریبِ عصر ٹرین وہاں پہنچی، اسٹیشن پر اتر کر نماز پڑھی گئی،بعد ازاں بیل گاڑیوں میں ہم سب سوار ہوئے اور اعلیٰ حضرت رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ پالکی میں سوار ہوئے۔وہ موضع اسٹیشن سے 4-5 میل پر واقع تھا، وہاں پہنچے تو قرب و جوار کے مواضعات کے لوگ برابر زیارت کے لئے آتے جاتے رہے دو دن وہاں قیام فرمایا، ہر وقت آدمیوں کی کثرت تھی،میزبان صاحب نے یہ انتظام کر رکھا تھا کہ ہر وقت کھانے میں صرف مرغ کا گوشت ہوا کرتا تھا۔



اب واپسی کا وقت آیا تو روانگی کا وقت 2بجے مقرر ہوا ، سب نے ظہر کی نماز پڑھی، تانگوں میں سوار ہوئے، شدید گرمی اور سخت دھوپ تھی۔ میں متعجب تھا کہ اعلیٰ حضرت کا مزاج نہایت گرم ہے ، اس قدر سخت گرمی ہے اور وقت بھی دوپہر کا ہے مگر قدرتِ خداوندی کہ 15-20قدم چلے ہوں گے کہ ابر (بادل)آیا اور اسٹیشن تک برابر ساتھ ہی ساتھ چلتا رہا جسے دیکھ کر بہت تعجب ہوتا تھا اس لیے کہ ابرکا زمانہ نہیں تھا۔ (سیرت اعلیٰ حضرت از مولانا ظفر الدین بہاری مطبوعہ مکتبہ نبویہ لاہور ص994)

تھوڑی دیر میں بریلی

بریلی شریف کے رہنے والے (ایک کوچوان) حیدر فٹن (بگھی )والے کا بیان ہے کہ:

ایک مرتبہ قریب ِعصر اعلیٰ حضرت نے مجھے یاد فرمایا۔ میری گھوڑی بالکل تھک گئی تھی مگراعلیٰ حضرت کے یا د فرمانے کے بعد مجھے کچھ عرض کرنے کی جراء ت نہ ہوئی اورحاضر ِ بارگاہ ہوگیا۔ اعلیٰ حضرت نے ارشاد فرمایا: چلو ۔(اور اُس میں تشریف فرما ہو گئے ،گاڑی چل پڑی ) غرض نینی تال روڈ پر گاڑی روانہ ہوئی ۔ جب گاڑی لاری اسٹینڈ پر پہنچی فرمایا :پیلی بھیت والی سڑک پر چلنا ہے ۔ غرض اُدھر گاڑی روانہ ہوئی، قریب ایک میل کی مسافت طے کی ہو گی کہ پیلی بھیت کی عمارتیں نظر آنے لگیں ۔ (سبحان اللہ عزوجل)



اعلیٰ حضر ت سید ھے آستانہء حضر ت محمد شیرمیاں صاحب پر تشریف لائے اور اُن سے دریافت فرمایا : کیسے یاد فرمایا؟شاہ صاحب نے فرمایا: ابھی ابھی خیال ہو ا کہ مولانا احمد رضا خان کی زبان سے نعت شریف سننا چاہئے۔‘‘



اعلیٰ حضرت نے حضور علیہ الصلوٰ ۃ وسلام کے فضائل بیان کیے اس کے بعد بریلی واپس تشریف لے آئے ۔ اور ابھی مغرب کا وقت نہیں ہوا تھا بریلی شریف آکر نمازِ مغر ب ادا فرمائی ۔(یاد رہے! اعلیٰ حضرت عصر کی نماز حنفی اصول پر تاخیر سے ادا فرماتے تھے ،لہٰذا عصر سے مغرب بہت کم وقت ہو تا تھا ۔ یہ آپ کی کرامت ہے کہ مختصر وقت میں ایک گھوڑا گاڑی پر دوسرے شہر تشریف لے گئے اور وہاں پر بیان بھی فرمایا اور واپس تشریف لائے ۔اور دوسری کرامت یہ ہے کہ اُدھر حاجی محمد شیر میاں صاحب کے دل میں خیال گزرا اِ دھر اعلیٰ حضرت کو خبر ہو گئی کہ جناب حاجی صاحب یاد فرماتے ہیں ۔) (حیاتِ اعلیٰ حضرت از مولانا ظفر الدین بہاری مکتبہ نبویہ لاہور ص886)

وصال کے بعد سرکارصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی بارگاہ میں حاضری

جناب ِ سید ایوب علی صاحب کا بیان ہے کہ:

حضرت مولانا ضیاء الدین احمد صاحب مدنی نے اپنا ایک خواب بیان کیا کہ دن کے دس بجے کا وقت تھا ، میں سو رہا تھا، خواب میں دیکھا کہ سید ی اعلیٰ حضرت حضور پر نور سرکار دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے مواجہہِ اقدس میں حاضرہیں اور صلوٰۃ وسلام عرض کررہے ہیں ۔ بس اسی قدر دیکھنے پایا تھا کہ معاً میری آنکھ کھل گئی ۔



اب بار بار خیال کر رہا تھا کہ خواب تھا مگر دل کی یہ حالت کہ متواتر حرم شریف چلنے پرآمادہ کررہاتھا،بالآخربسترسے اٹھا،وضو کیا اور’’باب السلام‘‘سے حرم شریف میں داخل ہوا۔ ابھی کچھ حصہ مسجد نبوی کا طے کیا تھا کہ اپنی آنکھوں سے میں نے دیکھا کہ واقعی اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی سفید لباس میں مزار پر انوار پر حاضر ہیں اور جیسا کہ خواب میں دیکھا تھا کہ صلوٰۃ و سلام پڑھ رہے تھے، آنکھوں نے یہ دیکھا کہ لبہائے مبارکہ جنبش میں تھے آواز سننے میں نہ آئی ۔



غرض میں یہ واقعہ دیکھ کر بیتابانہ قدم بوسی کے لیے آگے بڑھا کہ نظروں سے غائب ہو گئے اس کے بعد میں نے حاضری دی اور صلوٰۃ وسلام عرض کرکے واپس ہوا۔جب اسی جگہ آیا جہاں سے انہیں دیکھا تھا تو ایک مرتبہ آپ کو پھر وہیں موجود پایا،مختصر یہ کہ تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ (حیاتِ اعلیٰ حضرت از مولانا ظفر الدین بہار ی مطبوعہ مکتبہ نبویہ لاہور ص 973)

وہ دونوں کونجیں یہ گفتگو کر رہی ہیں

مولانا نور الدین صاحب فرماتے ہیں کہ:

میں گورنمنٹ انگریز کا ملازم تھا ، اتفاقاً میری ڈیوٹی بریلی شریف میں لگ گئی چونکہ میں میاں شیر محمد صاحب شرقپوری کا مرید تھا، اور مجھے یہ نصیحت تھی کہ جہاں بھی جاؤ اُس علاقہ کے بزرگ کی حاضری ضرور دو چنانچہ میں بریلی شریف میں بحکم ِپیر و مرشد اعلیٰ حضرت کی خدمت میں اکثرحاضر ہوتا تھا ۔



حسب ِ معمول میں ایک دن آپ کی خدمت میں حاضر تھا کہ دو انگریز آپ کی خدمت میں حاضرہوئے اوروہ آپ سے گفت و شنید میں مشغول ہو گئے اور آپ سے استفسار کرنے لگے کہ آپ فرماتے ہیں کہ پیغمبر ِ ِاسلام(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایاہے کہ:



میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کیطرح ہیں۔



کیا آپ اس کا ثبوت دے سکتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے پیغمبر تو جانوروں کی بولیاں تک سمجھتے تھے ۔آپ پیغمبر ِ اسلام(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کے عالم ہیں ،آپ میں کوئی ایسی صلاحیت ہے ؟



اتفاق سے اُس وقت دو کونجیں اڑی چلی جارہی تھیں، فرنگیوں نے عرض کیا کہ وہ جو کونجیں اڑی چلی آرہی ہیں وہ ایک دوسری سے کیا باتیں کر رہی ہیں ؟



آپ نے فرمایا :میں تو خاک پائے اقدس(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) کا ادنیٰ غلام ہوں اور اِنکساری ظاہر کی مگرانہوں نے اصرار کیا ۔ پھر آپ نے فرمایا اچھا اگر آپ اصرار کرتے ہیں تو سن لیجئے کہ وہ دونوں کونجیں یہ گفتگو کر رہی ہیں :



اگلی پچھلی سے کہہ رہی ہے جلدی کرو ،اندھیرا ہو رہا ہے، پچھلی نے اگلی کو جواب دیا ہے کہ جب ہم پچھلی وادی میں جلدی سے اتری تھیں، تو میرے بائیں پاؤں میں کانٹا چبھ گیا تھا اس لیے مجھ سے تیز نہیں اڑاجارہا ،تم آہستہ آہستہ چلو میں پورے زور سے چلتی ہوں تاکہ تمھارے ساتھ ساتھ رہ سکوں۔



اُن فرنگیوں کے پاس اُس وقت بندوق تھی اور دونوں بڑے نشانچی تھے ایک فرنگی نے فوراً نشانہ باندھا اور پچھلی کو نج گر کر تڑپنے لگی اور انہوں نے دیکھا کہ واقعی کونج کے بائیں پاؤں میں کانٹا چبھا ہوا ہے۔ آپ کی یہ کرامت دیکھ کر وہ انگریز مسلمان ہو گئے اور کہنے لگے حضور! واقعی دین ِ اسلام سچا ہے ۔ (گلستانِ اولیاء ازمحمد امیر سلطان چشتی مطبوعہ چشتی کتب خانہ فیصل آبادص50)

بیمارِ بَخت بَیدار

سیِّدقَناعت علی شاہ صاحِب کمزور دل کےتھے۔ ایک بارکسی مریض کے خطرناک آپریشن کی تفصیل سُن کر صدمے سے بے ہوش ہوگئے، لاکھ جتن کئے گئے لیکن ہوش نہ آیا۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کی خدمت میں درخواست پیش کی گئی۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سیّد زادے کے سِرہانے تشریف لائے۔ نہایت ہی شَفقت کے ساتھ ان کا سر اپنی گود میں لیا اور اپنا مُبَارک رومال ان کے چِہرے پر ڈالا کہ فوراً ہوش آگیااور آنکھیں کھول دیں۔ زَمانے کے ولی کی گود میں اپنا سردیکھ کر جھوم گئے تعظیم کی خاطر اُٹھنا چاہا مگر کمزوری کے سبب نہ اُٹھ سکے۔



(بریلی سے مدینہ ص12مطبوعہ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)

پھولوں کا ہار شفاء دیتا ہے

جنابِ سیدایوب علی صاحب بیان فرماتے ہیں کہ:

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بسا اوقات بعد نماز عشاء پھولوں کا ہار گلے سے اتار کر حاضرین ِمسجد میں تقسیم فرمادیا کرتے تھے ۔ اس عطیہء مبارکہ سے اکثر فقیر بھی مستفید ہوا کرتا تھا۔



میں ان پھولوں کو خشک ہونے پر محفوظ کر لیا کرتا تھا، چنانچہ جب تک وہ تبرک میرے پاس رہا مجھے کسی دوا کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ اگر دردِسرہوا تو انہی خشک پھولوں کو پیس کر پیشانی پر لگالیا۔ بخار، زکام، کھانسی وغیرہ امراض میں پیس کر پی لیا کرتا تھا اور بِکَرَمہِ تَعالیٰ وہ مرض کافور ہو جاتا تھا۔افسوس کہ وہ تبرک اب رفتہ رفتہ ختم ہوگیا ۔



(حیات اعلیٰ حضرت ص 935 از مولانا ظفرالدین بہاری مکتبہ نبویہ لاہور)

آپریشن سے بچا لیا

جنابِ سید ایوب علی صاحب ایک اور واقعہ یوں بیان کرتے ہیں کہ :

سید سردار احمد صاحب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے گھر میں 7ماہ کا حمل تھا ،دو(جڑواں) بچے پیٹ میں تھے، اسی حال میں وہ دونوں بچے پیٹ ہی میں مر گئے ۔ ان کا پیدا ہونا سخت دشوار ہوا۔ ہسپتال کی بڑی میم (لیڈی ڈاکٹر)نے کہا کہ ان بچوں کابغیر آپریشن پید ا ہونا ممکن نہیں لہٰذا ان کو ہسپتال لے چلو۔



اس کے کہنے کے مطابق میں پالکی لینے کو بہت پریشان جارہا تھا کہ دیکھا اعلیٰ حضرت قبلہ مسجد کی فصیل پر وضو فرمارہے ہیں۔ مجھ سے دریافت فرمایا کیوں پریشان ہو ؟میں نے سب واقعہ اپنے گھر کا ذکر کیا، اس پراعلیٰ حضرت نے وضو فرمانا روک دیا اور فرمایا پردہ کراؤ میں آرہا ہوں۔ لہٰذا میں فوراً دوڑتا ہوا گھر آیا اور پردہ کرا دیا۔



اتنے میں اعلیٰ حضرت تشریف لے آئے ، مکان میں لے گیا ،آپ نے فرمایا :ایک ڈورا بڑا سالاؤ۔ میں نے ڈور احاضر کر دیا۔اعلیٰ حضرت نے اس کا ایک سرا میرے ہاتھ میں دے دیا اور فرمایا یہ ان کی ناف پر رکھو، میں نے اس ڈورے کو لے کر اپنے گھر میں ناف پر رکھا حضور نے پڑھنا شروع کیا ، پندرہ منٹ کے بعد حضور نے فرمایا باہر چلے آئیے اور دایہ کو پا س کر دیجئے۔



جیسے ہی میں اوراعلیٰ حضرت باہر تشریف لائے گھر میں خبر ہوئی کہ دو بچے مردہ پیدا ہوگئے ہیں ورنہ بڑی میم نے کہہ دیا تھا کہ یہ بچے بغیر آپریشن کے نہیں پیدا ہو سکتے ورنہ بچوں کی ماں کا زندہ رہنا دشوار ہے۔ (حیات اعلیٰ حضرت از مولانا ظفرالدین بہاری مکتبہ نبویہ لاہور ص959)

تبرک پینے سے نزلہ دُور ہو گیا

جناب ِسید ایوب علی صاحب فرماتے ہیں کہ :

ایک مرتبہ موسمِ گرما میں فقیر کے سینہ پر نزلہ کا شدید غلبہ تھا ،جمعہ کے روز کاشانہء اقدس میں ’’برف کا شربت‘‘جس میں دودھ کیوڑا پستہ وغیر ہ لوازمات شامل تھے تیار ہوا۔



ظاہر ہے کہ یہ شربت نزلہ میں کس قدر مضر ہے مگرمیں نے یہ اپنے دل میں تہیہ کر لیا کہ پیو ں گا اور ضرور پیوں گا اور خو ب سیر ہو کر پیوں گا یہ حضور کے یہاں کا تبرک ہے ،ان شاء اللہ عزوجل مجھے مفیدہی ہوگا ۔چنانچہ ضرورت سے کہیں زیادہ پیا اور بحمد اللّٰہ تعالیٰ شام تک سارا نزلہ کھانسی وغیر ہ سب کافور ہو گیا۔ (حیات اعلیٰ حضرت از مولانا ظفرالدین بہاری مکتبہ نبویہ لاہور ص 962)

نگاہوں سے مرض کو کھینچ لیا

نبیرہ ء محدث ِ سورتی جناب مولانا قاری احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ:

8 ربیع الآخر 1335ھ کو حضرت مولانا شاہ وصی احمد صاحب محدث سورتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خانقاہ میں عرس شریف کے موقع پر رسیو ں میں جکڑے ہوئے ایک مسلمان نو جوان دیوانے کو اعلیٰ حضرت کی خدمت میں پیش کیا گیا۔



پاگل کے رشتہ داروں نے بیان کیا کہ کچھ ماہ سے یہ پاگل ہے ، ہزاروں علاج کئے کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔ پاگل خانے میں اس لیے داخل نہیں کیا کہ وہاں مریضوں کو بہت مارتے ہیں ہم بڑی اُمید کے ساتھ حضور کی خدمت میں آئے ہیں ، ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں تمام گھر والے پریشان ہیں ۔



اعلیٰ حضرت تمام واقعات سننے کے بعد چند منٹ اس دیوانے کی طرف بہت غور سے دیکھتے رہے ،ایسا معلوم ہوتا تھاکہ آپ نگاہوں سے مرض کو کھینچ رہے ہیں۔اعلیٰ حضرت کے نگاہ ملاتے ہی دیوانے کی مجنونانہ حرکا ت میں افاقہ ہونا شروع ہو گیا اور تھوڑی ہی دیر میں وہ اسی جگہ بے حس و حرکت ہو کر گر پڑا ۔



اعلیٰ حضرت نے اس کے رشتہ داروں سے فرمایا ’’اب یہ ٹھیک ہیں ،رسیا ں کھول دو اور گھر لے جاؤ ، اور روزانہ ایک عد د منقیٰ تھوڑ ے دودھ کے ساتھ کھلا دیا کرو‘‘۔



خدا کے فضل سے دیوانہ اب تک زندہ ہے اورا پنے نو جوان لڑکوں کے ساتھ کاروباری زندگی میں مصروف ہے ۔

(حیاتِ اعلیٰ حضرت از مولانا ظفر الدین بہار ی مکتبہ نبویہ لاہور ص978)

کبوتربھی اعلیٰ حضرت کا ادب کرتے

’’ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ‘‘ میں اعلیٰ حضرت اپنے دوسرے حج کا ذکرِ خیر کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :



( مکۃ المکرمہ کی رہائش گاہ کے )بالاخانے کے درِ وَسطانی (یعنی بیچ والے دروازے)پر میری نَشِسْت تھی ، دروازوں پر جو طاق تھے بائیں جانب کے طاق میں وحشی کبوتروں کا ایک جوڑ ا رہتا ، وہ تنکے لاتے او رگرایا کرتے ،وہ تنکے اُس طر ف کے بیٹھنے والوں پر گر تے۔



جب علالت میں میرے لئے پلنگ لایا گیا،وہ اسی (کبوتروںوالے)در کے سامنے بچھایا گیا کہ تشریف لانے والوں کے لیے جگہ وسیع رہے ۔ اس وقت سے کبوتر وں نے وہ طا ق چھوڑ کر دروازہء وسطانی کے طاق میں بیٹھنا شر وع کیا کہ اب جو وہاں(ملنے والے آکر ) بیٹھتے ان پر تنکے گرتے۔



حضرت مولانا سید اسمٰعیل نے فرمایا، وحشی کبو تر بھی تیرا لحاظ کرتے ہیں۔ میں نے عرض کی :



’’صَالَحْنَاھُمْ فَصَالَحُوْنَا ‘‘



’’ہم نے ان سے صلح کی تو انہوں نے بھی ہم سے صلح کی ‘‘



(فیضانِ اعلیٰ حضرت مطبوعہ شبیر برادرز لاہور ص394)

اعلیٰ حضرت کی دُعا سے اولاد

محمد ظہور خان صاحب کا بیان ہے کہ:

میری شادی کو 12سال ہو گئے تھے،اولاد نہیں تھی، دل میں اس کی تمنا تھی۔اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اورعرض کیا(کہ اولاد کے لئے دعا فرما دیں، آپ نے شفقت فرماتے ہوئے اولاد کی دُعا فرمائی)۔اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی دُعاوتوجہ سے ایک فرزند عطا فرمایا۔اُس وقت تک میں شرف ِبیعت سے مشرف نہ ہوا تھا۔دل میں تمنا تھی کہ آخر اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے وصال کے بعدشہزادہء اعلیٰ حضرت حجتہ الاسلام مولانا شاہ حامد رضا خان صاحب کلکتہ تشریف لائے اس وقت غلامی کی عزت حاصل ہوئی۔



(حیاتِ اعلیٰ حضرت ص876 از مولانا ظفر الدین بہاری مکتبہ نبویہ لاہور)

دل کی بات جان لی

مدینۃُ المرشِد بریلی شریف میں ایک صاحِب تھے جو بُزُرگانِ دین کو اَھَمِّیَّت نہ دیتے تھے اور پِیر ی مُریدی کو پیٹ کا ڈھکوسلا کہتے تھے۔ ان کے خاندان کے کچھ افراد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن سے بیعت تھے۔ وہ لوگ ایک دن کسی طرح سے بہلا پھُسلاکر اِن کو اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زِیارت کے لئے لے چلے۔ راستے میں ایک حَلوائی کی دُکان پر گَرم گَرم اَمرِتیاِں ( ماش کے آٹے کی مٹھائی جو جلیبی کے مُشابہ ہوتی ہے) تلی جارہی تھیں، دیکھ کر اِن صاحِب کے منہ میں پانی آگیا۔ کہنے لگے:’’یہ کھِلاؤ تو چلوں گا۔‘‘ان حضرات نے کہا کہ واپَسی میں کھلائیں گے پہلے چلو۔ بَہَرحال سب لوگ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں حاضِر ہوگئے۔ اِتنے میں ایک صاحِب گَرم گَرم اَمرِتِیوں کی ٹوکری لے کرحاضِر ہوئے، فاتِحہ کے بعد سب کو تقسیم ہوئیں۔ دربارِ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا قاعِدہ تھا کہ ساداتِ کرام اور داڑھی والوں کو دُگنا حصّہ ملتا تھا، چُونکہ ان صاحِب کی داڑھی نہیں تھی لہٰذا ان کو ایک ہی اَمرِتی ملی۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ ان کو دو دیجئے۔ تقسیم کرنے والے نے عَرض کی: حُضور ! ان کے داڑھی نہیں ہے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مسکرا کر فرمایا:’’اِن کا دل چاہ رہا ہے، ایک اور دیجئے‘‘۔یہ کرامت دیکھ کر وہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مُرید ہوگئےاوربُزُرگانِ دین کی تعظیم کرنے لگے۔

(تجلِّیاتِ امام احمد رضا ص۱۰۱)

کھلی کرامت اس کو کہتے ہیں

جناب ذکاءاللہ صاحب کا بیان ہے کہ:

ایک دن پھاٹک میں بہت سے مہمان آئے ہوئے تھے، گرمی کا موسم تھا،دوپہر کے کھانے میں مولانا ہدایت رسول صاحب نے فرمایا’’کیاہی اچھاہوتااگراس وقت برف کا پانی ہوتا‘‘۔



یہ جملہ ختم ہی کیاتھا کہ زنانہ مکان کے کواڑ کھلنے کی آواز آئی، دیکھا کہ اعلیٰ حضرت خود بنفسِ نفیس جگ میں برف کا پانی لئے ہوئے تشریف لائے اور فرمایا:

ذکاءاللہ خان صاحب!یہ برف کا پانی لے جایئے۔۔مولانا ہدایت رسول صاحب نے دیکھا توفرمایا’’کھلی کرامت اس کو کہتے ہیں‘‘۔

(حیاتِ اعلیٰ حضرت ص911 از مولانا ظفرالدین بہاری مکتبہ نبویہ لاہور)

میرے وسوسے پر مطلع ہو گئے

جنابِ سیدایوب علی صاحب کا بیا ن ہے کہ:

انگریزی کتاب ’’المنک‘‘ جس میں ’’تقویمات شمس‘‘ چھپی ہوتی ہیں، ہر سال کلکتہ سے منگوائی جاتی تھی۔



اعلیٰ حضرت نے مجھ سے فرمایا کہ ذرا دیکھئے تو کہ فلاں تاریخ کو کون سا دن ہوگا؟ چونکہ میں انگریزی سے واقف نہ تھا اس لئے مجھے بتانے میں تکلف ہوا، فرمایا ’’لائیے مجھے دیجئے‘‘معاً میرے دل میں خیال گزرا کہ آپ تو انگریزی جانتے نہیں پھر کیسے معلوم ہوگا۔



اعلیٰ حضرت میرے وسوسے پر مطلع ہو گئے اور ارشاد فرمایا:’’میں انگریزی نہیں جانتا مگر صرف جمعہ کے دن کے حروف کی شکل ذہن نشین کرلی ہے اسے تلاش کرکے سمجھ لیتاہوں کہ اس سے پہلے پنجشنبہ اور چہار شنبہ وغیرہ ہے اورآگے شنبہ، یکشنبہ وغیرہ‘‘۔



(حیاتِ اعلیٰ حضرت ص 924 از مولانا ظفر الدین بہاری مکتبہ نبویہ لاہور)

ٹرین رُکی رہی

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک بار پِیلی بِھیت سے بریلی شریف بذرِیعہ رَیل جارہے تھے۔ راستے میں نواب گنج کے اسٹیشن پر ایک دو مِنَٹ کے لیے ریل رُکی، مغرِب کا وَقت ہوچکا تھا ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ نَماز کے لیے پلیٹ فارم پر اُترے ۔ ساتھی پریشان تھے کہ َریل چلی جائے گی تو کیا ہوگا لیکن آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اطمینان سے اذان دِلوا کر جماعت سے نَماز شُروع کردی۔ اُدھر ڈرائیور انجن چلاتا ہے لیکن رَیل نہیں چلتی،اِنجن اُچھلتا اورپھر پٹری پر گرتا ہے۔ٹی ٹی، اسٹیشن ماسٹروغیرہ سب لوگ جمع ہوگئے، ڈرائیور نے بتایا کہ انجن میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ اچانک ایک پنڈِت چیخ اُٹھا کہ وہ دیکھو کوئی دَرویش نمازپڑھ رہا ہے ، شاید رَیل اسی وجہ سے نہیں چلتی؟ پھر کیا تھا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے گرد لوگوں کا ہُجُوم ہوگیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اطمینان سے نَماز سے فارِغ ہو کرجیسے ہی رُفَقا کے ساتھ ریل میں سُوارہوئے توریل چل پڑی۔سچ ہے جواﷲ کاہوجاتاہے کائنات اسی کی ہوجاتی ہے۔



(تذکرہٗ امام احمد رضا ص۱۵ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)

ان شآء اللہ پلیٹ فارم پر

مولانامفتی برہان الحق جبلپوری اپنی کتاب ’’اکرام ِ امام احمد رضا‘‘ میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ایک کرامت کچھ یوںتحریر فرماتے ہیں:



صبح چار بجے اعلیٰ حضرت،حضرت مولانا حامد رضا خاں صاحب،حاجی کفایت اللہ صاحب اور خادم برہان گاڑی پراسٹیشن کے لئے روانہ ہوئے،میں نے عرض کیا،حضور!عین نماز کے وقت گاڑی روانہ ہوگی، نماز ِفجر کہاں ادا کی جائے گی؟اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نےمسکرا کر فرمایا:



“ان شآء اللہ پلیٹ فارم پر”



اسٹیشن پہنچنے پر معلوم ہوا کہ گاڑی چالیس منٹ لیٹ ہے، پلیٹ فارم پر جائے نماز، چادریں، رومال وغیرہ بچھالئے گئے اور بعونہٖ تعالیٰ کثیر جماعت نے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے پیچھے نمازِ فجر ادا کی۔ تَقَبَّلَ اللّٰہ! یہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی کرامت تھی کہ اطمینان کے ساتھ نماز سے فارغ ہوئے۔



(اکرام امام احمد رضا ص86-84 از مفتی برھان الحق جبلپوری مطبوعہ مکتبہ ادارہ مسعودیہ کراچی)

مرید کو ظالموں سے چھڑا لیا

جنابِ سیدایوب علی صاحب کا بیان ہے کہ:

جناب منسوب احمد صاحب قادری رضوی تہجد گزار ہستی ہیں۔ایک روز ان کے اوئلِ عمر میں زمانہ کے احباب میں سے دوشخص ملنے آئے اور اپنے ساتھ بازارمیں اس طرف لے گئے جہاں ایک طوائف کا مکان تھا۔



دونوں طرف سے آدمیوں نے ان کے ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیئے اور کشاں کشاں طوائف کے دروازہ تک لے گئے۔ وہ دو تھے اور یہ اکیلے۔انہوں نے اعلیٰ حضرت سے رجوع کیااور دل ہی دل میں امدادکے طالب ہوئے ۔



دیکھتے کیا ہیں کہ حضورسیدی اعلیٰ حضرت بہت سفید پوشاک پہنے جلوہ فرماہیں اور وہ بھی اس شان سے کہ دونوں ہاتھوں سے عصائے مبارک پر زور دیئے ہوئے ہیں،اورٹھوڑی عصائے مبارک پر قائم ہے۔



موصوف کا بیان ہے کہ جس وقت میری نظر حضور پر پڑی، میرے جسم میں ایسی طاقت آگئی کہ باوجود نقیہ و کمزور ہونے کے ان دونوں کی گرفت سے اپنے آپ کو چھڑوا لیا اور دوڑ کر اپنے مکان میں لوٹ آیا۔



(حیاتِ اعلیٰ حضرت ص955 از مولانا ظفر الدین بہاری مکتبہ نبویہ لاہور)

تب سوداگری محلہ کو اُلٹیے گا

مولوی اعجاز علی خان صاحب کا بیان ہے کہ:

ایک بار ایک فقیر اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی مسجد میں مقیم ہوا اور کسی بات پر ناراض ہوا۔اس قدر غصے میں آیا کہنے لگا کہ:میں سوداگری محلہ کو الٹ دوں گا۔



اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے یہ الفاظ سن کر اپنا جوتا اس کی طرف پھینکا، وہ اس کے سامنےالٹاگرا،’’فرمایا پہلے اس کو سیدھا کرو،تب سوداگری محلہ کو اُلٹیے گا۔‘‘



فقیر نے لاکھ زور لگایا مگر سیدھانہ کرسکا ۔جو لوگ موجود تھے کہتے تھے کہ اس فقیر نے اپنی پوری ہمت صرف کر دی مگر جوتا سیدھا نہ ہوسکا۔ حضرت نے جوتا پہن لیا اور مکان تشریف لے گئے وہ شخص بہت نادم ہوا اور درِدولت پر آیا۔اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو معلوم ہواتو خود اس فقیر کے واسطے کھانا لائے۔



(حیاتِ اعلیٰ حضرت ص886 از مولانا ظفرالدین بہاری مکتبہ نبویہ لاہور)

گھڑےمیں پانی بھرگیا

سیدایوب علی صاحب ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ:

ایک روز فجرکے وقت حضرت پیرانی صاحبہ دیکھتی ہیں کہ کسی گھڑے میں پانی نہیں، مجبوراً اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے دریافت کیا کہ نماز کا وقت جا رہا ہے کسی گھڑے میں پانی نہیں ہے،کیا کِیا جائے؟اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ یہ بات سن کر فوراً ایک گھڑے کے اوپر دست ِمبارک رکھ کر ارشادفرماتے ہیں کہ:



’’پانی تو اس گھڑے میں اوپر تک بھرا ہوا ہے لو وضو کرلو‘‘



دیکھا تو واقعی پانی گھڑے میں اوپر تک بھرا ہوا تھا۔



(حیاتِ اعلیٰ حضرت ص 928 از مولانا ظفرالدین بہاری مکتبہ نبویہ لاہور)


بارِش برسنے لگی

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن کی خدمت میں ایک نُجُومی حاضر ہوا، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اُس سے فرمایا:کہئے، آپ کے حساب سے بارِش کب آنی چاہیے؟ اس نے زائچہ بنا کر کہا:’’اس ماہ میں پانی نہیں آیَندہ ماہ میں ہوگی۔‘‘اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: اللہ عزوجل ہر بات پر قادِر ہے وہ چاہے تو آج ہی بارِش برسادے۔آپ سِتاروں کو دیکھ رہے ہیں اور میں ستاروں کے ساتھ ساتھ سِتارے بنانے والے کی قدرت کو بھی دیکھ رہا ہوں۔ دیوار پر گھڑی لگی ہوئی تھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے نُجُومی سے فرمایا:کتنے بجے ہیں؟ عَرض کی:سوا گیارہ۔ فرمایا:بارہ بجنے میں کتنی دیر ہے؟ عرض کی: پون گھنٹہ۔ فرمایا:پون گھنٹے سے قبل بارہ بج سکتے ہیں یا نہیں؟ عَرض کی: نہیں، یہ سُن کر اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اُٹھے اور گھڑی کی سُوئی گھمادی، فوراً ٹن ٹن بارہ بجنے لگے۔ نُجُومی سے فرمایا:آپ تو کہتے تھے کہ پَون گھنٹے سے قبل بارہ بج ہی نہیں سکتے۔ تو اب کیسے بج گئے؟ عَرض کی: آپ نے سُوئی گھمادی ورنہ اپنی رفتار سے تو پون گھنٹے کے بعد ہی بارہ بجتے۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :اللہ عزوجل قادِرِ مُطلَق ہے کہ جس سِتارے کو جس وَقت چاہے جہاں چاہے پہنچادے۔ آپ آیَندہ ماہ بارِش ہونے کا کہہ رہے ہیں اور میرا رب عزوجل چاہے تو آج اور ابھی بارِش ہونے لگے۔ زَبانِ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے اِتنا نکلنا تھا کہ چاروں طرف سے گھنگھور گھٹا چھا گئی اور جھوم جھوم کر بارِش برسنے لگی۔



(انوارِ رضا،ص 375 ضیاءالقرآن پبلی کیشنز مرکزالاولیاءلاہور)

بابَرَکت چَوَنّی

ایک باراعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کو حاجیوں کے استقبال کے لیے بندرگاہ جانا تھا،طے شُدہ سُواری کو آنے میں تاخیر ہوگئی تو ایک اِرادت مند غُلام نبی مستری بِغیر پوچھے تانگہ لینے چلےگئے۔ جب تانگہ لے کر پلٹے تو دُور سے دیکھا کہ سُواری آچکی ہے لہٰذا تانگے والے کو چَوَنِّی (ایک روپے کا چوتھائی حِصّہ) دے کر رخصت کیا۔ اِس واقعہ کا کسی کو علم نہیں تھا ۔ چار۴ روز کے بعد مستری صاحِب بارگاہِ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ میں حاضِر ہوئے تو اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے انہیں ایک چَوَنِّی عطا فرمائی۔ پوچھا: کیسی ہے؟ فرمایا:اُس روز تانگے والے کو آپ نے دی تھی۔ مستری صاحِب حیران ہوگئے کہ میں نے کسی سے اِس بات کامُطلَق تذکِرہ نہیں کیا پھر بھی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو معلوم ہوگیا۔اِنہیں اِس طرح سوچ میں ڈوبا ہوا دیکھ کر حاضِرین نے کہا: میاں بابَرَکت چَوَنِّی کیوں چھوڑتے ہو!تبرُّک کے طور پر رکھ لو۔ اُنہوں نے رکھ لی۔ جب تک وہ بابَرَکت چَوَنِّی ان کے پاس رہی کبھی پیسوں میں کمی نہ ہوئی۔

(مُلَخَّص ازحیاتِ اعلٰی حضرت ج3ص260مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)

دروازے پر شیر کاپہرہ

جنابِ سیدایوب علی کا بیان ہے کہ:

جس مکان میں حضرت مولانا حسن رضا خان (اعلیٰ حضرت کے منجھلے بھائی)رہتے تھے اُس کی شمالی دیوار برسات میں گر گئی،عارضی طور پر پردے کا اہتمام و انتظام کر لیا گیا۔ یہی مکان اعلیٰ حضرت کا قدیم آبائی مکان تھا اور پہلے اعلیٰ حضرت بھی اسی مکان میں تشریف رکھتے تھے۔



مسئلہ قربانیء بقر (گائے کی قربانی )کی وجہ سے مخالفت کی بنا پر رات کے وقت اعلیٰ حضرت پر ایک غیر مسلم نے اُس گری ہوئی دیوار کی طرف سے حملہ کر نا چاہا مگر جب اس طرف آنے کا قصد کرتا تو ایک شیر زیرِ دیوار گشت کرتے ہوئے پاتا، بالآخر اپنے ارادے سے باز رہا ۔



صبح کوحاضرخدمت ہوکرمعافی چاہی اورساراواقعہ بیان کیا،حافظِ حقیقی (اللہ عزوجل) اپنے محبوب بندوں کی اس طرح حفاظت فرماتا ہے۔



(حیاتِ اعلیٰ حضرت ص932 از مولانا ظفر الدین بہاری مکتبہ نبویہ لاہور)

دفن شدہ خزانہ کی جگہ بتائی

نبیرئہ محدثِ سورتی قاری احمد صاحب کا بیان ہے کہ:

پیلی بھیت کی ایک سیدانی صاحبہ نے اعلیٰ حضرت کی خدمت میں عرض کیا حضرت! ایک سال ہوا میں نے کچھ روپے اور اشرفیاں اپنے کمرے کے ایک کونے میں گاڑ دیئے تھے مگر اب وہاں دیکھتی ہوں تو نہیں ہیں،لڑکی کی شادی قریب ہے اور اسی لئے رکھے تھے ۔



اعلیٰ حضرت نے فرمایاکہ’’وہ اب اس جگہ نہیں ہیں بلکہ وہاں سے ہٹ کر کوٹھڑی میں فلاں جگہ پہنچ گئے ہیں‘‘۔اُس جگہ تلاش کئے گئے تو سب کے سب مل گئے ،اعلیٰ حضرت نے ارشاد فرمایا:



’’بغیر بسم اللہ کہے اگر روپیہ دفن کیا جائے تو وہ اپنی جگہ قائم نہیں رہتا‘‘۔



(حیاتِ اعلیٰ حضرت ص981 از مولانا ظفر الدین بہاری مکتبہ نبویہ لاہور)

پھانسی منسوخ ہوگئی

جنا بِ ذکااللہ خان صاحب کا بیان ہےکہ:

مولوی اصغر علی خان صاحب وکیل رئیسِ’’شہر کہنہ‘‘کے ایک قریبی عزیزقتل کے مقدمہ میں گرفتار ہوگئے،مقدمہ چلا،بریلی کی عدالت سے پھانسی کا حکم ہوگیا،الٰہ آباد میں اپیل کی،ان کےرشتہ داربہت پریشان تھے۔



ایک جمعہ کو ان کے خاص عزیز حاضر ِخدمت ِاقدس ہوئے اور سارا واقعہ بیان کیا۔اعلیٰ حضرت سن کر خاموش ہوگئے،اتنے میں عصر کی نماز کا وقت ہوگیا۔

اعلیٰ حضرت نے نمازِ عصر کے بعد صحن ِمسجد میں کھڑے ہو کر سب لوگوں سے فرمایا ‘‘پھانسی منسوخ ہوگئی اوریہ حکم منسوخ ہو جائے گا’’چنانچہ بعد کو خبر آئی کہ واقعی پھانسی کا حکم منسوخ ہوگیا۔

(حیاتِ اعلیٰ حضرت ص911 از مولانا ظفر الدین بہاری مکتبہ نبویہ لاہور)

وہ کافر تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا

سید سردار احمد صاحب کا بیان ہے کہ:

ایک مرتبہ میراانچارج آفیسر بہت ناخوش ہوگیا اور میری نقصان رسانی کا جویاں رہنے لگا جس کے باعث میں بہت پریشان تھا اور میں نے وہ وظائف جو حضور نے بتائے تھے پڑھنے شروع کر دیئے۔

ایک روز اس نے مجھ پر بہت تشدد کیا،میں نے اس پر یشانی کے باعث کھانا بھی نہ کھایا اورنماز ِعشاء پڑھ کر سو رہا، خواب میں سیدی اعلیٰ حضرت تشریف لائے اور فرمایا کیوں پریشان ہوتے ہو،وہ کافر تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اس کے بعد وہ فوراً خود بخود ٹھیک ہو گیا اور پھر کبھی کچھ نہ کہا۔

(حیات اعلیٰ حضرت ص 961 از مولانا ظفرالدین بہاری مکتبہ نبویہ لاہور)

اُٹھ اورنماز پڑھ

جنابِ سیدایوب علی صاحب ایک واقعہ یوں بیان کرتے ہیں کہ:

غالباً 14ذوالحجہ 1333ھ کی شب سید قناعت علی سوئے ہوئے تھے، خواب میں حضور سیدی ومرشدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زیارت سے مشرف ہوئے کہ آپ دستِ راست کا انگوٹھا اوردرمیانی انگلی پیشانی پررکھ کرحرکت دیتے ہیں اور ارشادفرماتے ہیں’’اُٹھ اور نماز پڑھ، پانچ بجے ہیں‘‘۔معا ًآنکھ کھلتی ہے،گھڑی کو دیکھتے ہیں تو ٹھیک پانچ بجے کا وقت ہے، اُٹھے اور وضو کیاپھر فجر کی نماز ادا کی۔
(حیاتِ اعلیٰ حضرت ص945 از مولانا ظفرالدین بہاری مکتبہ نبویہ لاہور)

بعدِ وصال تسلی دی

جنابِ حاجی کفایت اللہ صاحب کا بیان ہےکہ:

نیازاحمدخان صاحب کی ایک بھتیجی دیندار اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی مریدہ تھیں،شوہر اس کا بہت آزاد مزاج تھا۔جب وہ اپنے شوہر کی بے توجہی کی وجہ سے ملول اور مغموم ہوتیں تو اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وصال کے بعد خواب میں تشریف لاکر انہیں تسلی دیتے اور ان کی تسکین فرماتے۔

(حیاتِ اعلیٰ حضرت ص914 از مولانا ظفرالدین بہاری مکتبہ نبویہ مطبوعہ لاہور)

جا اچھی ہو جائیں گی

مولانا اعجازعلی خان صاحب کا بیان ہےکہ:

میری بھاوج علیل ہو گئیں، تمام لوگ ناامید ہوگئے تھے،والدہ محترمہ نے فرمایا کہ اعلیٰ حضرت کےمزارشریف پرجاکرعرض کر۔

میں حاضرہوا اور بچی کوپائنتی میں ڈال دیا۔خداکی قسم فوراً فرمایا ’’جا اچھی ہو جائیں گی‘‘ میں آیا والدہ صاحبہ سے عرض کیا اُسی وقت سےصحت شروع ہوگئی۔ 20-22دن میں بالکل اچھی ہوگئیں۔

(حیاتِ اعلیٰ حضرت ص882 از مولانا ظفرالدین بہاری مکتبہ نبویہ لاہور)

 

 

 

Murshid-e-Kamil

URS MUBARIK complete List