الصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہ
وہ جہنم میں گیا جو ان سے مستغنی ہوا
ہے خلیل اللہ کوحاجت رسول اللہ ﷺ کی
آج لے ان کی پناہ آج مدد مانگ ان سے
پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا

  Important Articles - Aqaid AhleSunnah Wa Jammatاہم مضا مین ۔ عقا ئد اہل سنت و جما عت

امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے اوصاف ومعمولات
Published Date: Monday, November 30, -0001 - 12:00 AM

امام احمد رضا قادری برکاتی بریلوی قدس سرہ العزیز ( 1340ھ/1921ئ) ایسے   علمی‘ فکری اور عشق مصطفوی ﷺ سے سرشار خاندان کے پروردہ تھے جو شروع ہی سے   دینی اور دنیوی دونوں طرح کی عزت و شہرت اور محاسن و فضائل سے آراستہ تھا۔   اوصافِ حمیدہ اور اخلاقِ فاصلہ کا قابل عمل نمونہ تھا۔ عشق رسول‘ اتباع   سنت‘ سخاوت و تواضع‘ اشاعت سنت اور ازالئہ بدعت جس کا طرئہ امتیاز تھا۔   امام احمد رضا اپنے علمی فضل و کمال کے ساتھ اعلٰی انسانی اوصاف و کردار سے   آراستہ اپنے خانوادہ کے سچے جانشین اور مظہر اتم تھے۔

حضرت سیدنا شاہ اسمٰعیل حسن میاں قادری مارہروی سرہ آپ کے اوصاف و کمالات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’ مولانا احمد رضا خاں صاحب کو اﷲ تعالٰی نے جامع کمالاتِ ظاہری و باطنی‘   صوری و معنوی بنایا تھا‘ اوصاف و کمالات جس کو لے کر دیکھیے مولانا کی ذات   میں بدرجہ کمال اس کا ظہور تھا۔‘‘ (حیاتِ اعلٰی حضرت‘ ترتیب جدید‘ 141/1   مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی)

مولانا حسنین رضا بن مولانا حسن بریلوی آپ کے طرز گفتگو پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر کرتے ہیں:

’’ اعلٰی حضرت قبلہ ہر شخص سے اس کی سمجھ کے موافق بات چیت کرنے کی مہارت   رکھتے تھے۔ وہ ہر شخص سے اسکی سمجھ کے موافق بات چیت کرتے تھے۔ ایسے موقع   پر ان کی زبانِ مبارک سے جو الفاظ نکلے وہ ان کے ہر مخاطب کے دل میں اتر   گئے۔ اس واسطے کہ انہیں اپنی سطح سے ہر شخص کی سطح پر اتر کر بات چیت کرنے   کا پورا ملکہ تھا اور ارشاد سرکار دو عالم ﷺ : ’’ لوگوں سے ان کی سمجھ کے   موافق بات چیت کرو۔‘‘ پر پورے عامل تھے۔‘‘ ( ص 99‘ سیرتِ اعلٰی حضرت مع   کرامات‘ مطبوعہ سنی رضوی اکیڈمی افریقہ)

اس خصوص میں مولانا نے شواہد بھی پیش کیے ہیں جن کا ذکر یہاں طوالت سے خالی نہیں۔

طرز نشست و بر خاست

آپ کے خادمِ خاص جناب سید ایوب علی رضوی بریلوی کی روایت سے مولانا ظفر   الدین قادری آپ کے بیٹھنے اور چلنے کے انداز کی عکاسی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

حضور (اعلٰی حضرت) کی سبک خرامی کا یہ حال تھا کہ چلنے میں کبھی پائے مبارک   کی چاپ سننے میں نہ آئی۔ نشست کا حال یہ تھا کہ ایک پاؤں دوسرے پاؤں کے   زانو پر رکھ کر بیٹھنے کو ناپسند فرماتے۔ کتب بینی‘ یا لکھتے وقت پائے   مبارک سمیٹ کر دونوں زانو اٹھائے رہتے‘ ورنہ سیدھا زانوے مبارک اکثر اٹھا   رہتااوردوسرا بچھا رہتا اور کبھی بایاں زانو ضرورتاً اٹھاتے توداہنا بچھا   لیا کرتے تھے۔ ذکر میلاد میں ابتدا سے انتہا تک ادباًدو زانو رہا کرتے‘ یوں   ہی وعظ فرماتے‘ چار پانچ گھنٹے کامل دوزانو ہی منبر شریف پر رہتے۔ (حیات   اعلٰی حضرت 142/1 )

سونے کی کیفیت

اعلٰی حضرت کے سونے کے مخصوص اور منفر د انداز و ادا پہ روشنی ڈالتے ہوئے آپ کے مستند سوانح نگار حضرات یوں رقم طراز ہیں:

اعلٰی حضرت 24 گھنٹے میں صرف دو گھنٹے آرام فرماتے اور باقی تمام وقت تصنیف   و کتب بینی اور دیگر خدماتِ دینیہ میں صرف فرماتے۔ ( سیرت اعلٰی حضرت‘ ص   161 )

ہمیشہ بشکل نام اقدس محمد ﷺ سویا کرتے۔ اسی طرح کہ دونوں ہاتھ ملا کر سرکے   نیچے رکھتے اور پائوں سمیٹ لیتے جس سے سر ’’میم‘‘ کہنیاں’’ح‘‘ کمر’’میم‘‘   پائوں’’دال‘‘ بن کر گویانام پاک محمد ﷺ کا نقشہ بن جاتا۔

(ص 112 ‘ سوانح اعلٰی حضرت‘ مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی 1422ھ)

سوتے وقت جب آپ دونوں ہاتھوں کو ملا کر سر کے نیچے رکھتے تو انگلیوں کا   انداز عجیب ہوتا۔ انگوٹھے کو انگشتِ شہادت کے وسط پر رکھتے اور باقی   انگلیاں اپنی اصلی حالت پر رہتیں۔ اس طرح انگلیوں سے لفظ اﷲ بن جاتا۔ گویا   سوتے وقت دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اﷲ اور جسم سے محمد لکھ کر سوتے۔(ص   46‘ سیرت امام احمد رضا‘ رضوی کتاب گھر دہلی)

اس طرح سونے کا راز اعلٰی حضرت کے خلف اکبر حجتہ الاسلام مولانا حامد رضا   بریلوی نے (یہ) ظاہر فرمایا کہ سوتے وقت یہ فنافی الرسول اپنے جسم کو اس   طرح ترکیب دے کر سوتے ہیںکہ لفظ محمد بن جاتا ہے۔ اگر اسی حالت میں پیغام   اجل آجائے تو زہے نصیب ورنہ دوسرا فائدہ تو حاصل کہ: سترہزار فرشتے رات   بھراس نام مبارک کے گرد درود شریف پڑھتے ہیں اور وہ اس طرح سونے والے کے   نامئہ اعمال میں لکھا جاتا ہے ( ص45‘ ایضاً و حیات اعلٰی حضرت)

ہر کام میں تیامن

اعلٰی حضرت ہر کام داہنی جانب سے شروع کرتے۔ مولانا صابر القادری نسیم بستوی تحریر کرتے ہیں:

ناک صاف کرنے اور استنجا فرمانے کے سوا آپ کے ہر کام کی ابتدا سیدھے ہی   جانب سے ہوتی تھی۔ چنانچہ عمامئہ مبارک کا شملہ سیدھے شانہ پر رہتا‘ اس کے   پیچ سیدھی جانب ہوتے اور اس کی بندش اس طور پر ہوتی کہ بائیں دست مبارک میں   بندش اورداہنا دست مبارک پیشانی پر ہر پیچ کی گرفت کرتا تھا۔ (ص89‘ مجدد   اسلام مطبوعہ کان پور)

مولانا بدرالدین قادری رضوی لکھتے ہیں: اگر کسی شخص کوکوئی چیز دیتے اور وہ   بایاں ہاتھ بڑھاتا تو فوراً دست مبارک روک لیتے اور فرماتے کہ: داہنے ہاتھ   میںلو‘ بائیں ہاتھ میں شیطان لیتا ہے۔

بسم اﷲ شریف کا عدد 786لکھنے کا عام دستوریہ یہ ہے کہ پہلے سات ’7‘ پھر ’8‘   اس کے بعد ’6‘ لکھتے ہیں۔ لیکن آپ پہلے ’6‘ پھر آٹھ ’8‘ تب ساتھ تحریر   فرماتے۔ یعنی اعداد کوبھی داہنی جانب سے لکھتے۔ (ص 113‘ سوانح اعلٰی حضرت)

خود داری اور اغنیا سے بے نیازی

مولانا ظفر الدین قادری سے رضوی نے اغنیا و امرا سے اجتناب اور خودداری کے   تعلق سے کثیر واقعات ذکر کیے ہیں۔ یہاں صرف ایک واقعہ نقل کیا جارہا ہے:

ایک بار نواب رام پور نینی تال جا رہے تھے۔ جب بریلی پہنچا تو حضرت شاہ   مہدی میاں صاحب اپنے نام سے ڈیڑھ ہزار نوٹ ریاست کے مدار المہام کی معرفت   بطورنذرانہ اسٹیشن سے حضور ( اعلٰی حضرت) کی خدمت میں بھیجتے ہیں اور والی   ریاست کی جانب سے مستدعی ہوتے ہیںکہ ملاقات کا موقع دیا جائے۔

حضور (اعلٰی حضرت) کو مدارالمہام صاحب کے آنے کی خبر ہوئی تو اندر سے دروازہ کی چوکھٹ پر کھڑے کھڑے مدارالمہام صاحب سے فرمایا:

میاں کو سلام عرض کیجیئے اور کہئے گا کہ یہ الٹی نذر کیسی؟ مجھے میاں کی   خدمت میں نذر پیش کرنی چاہیے نہ کہ میاں مجھے نذر دیں۔ یہ ڈیڑھ ہزار ہوں یا   جتنے ہوں واپس لے جائیے۔ فقیر کا مکان نہ اس قابل کہ کسی والی ریاست کو   بلا سکوں اور نہ میں والیانِ ریاست کے آداب سے واقف کہ خود جا سکوں۔ (حیات   اعلٰی حضرت جدید209/1 )

حق گوئی و بے باکی

آپ کی حق گوئی‘ غیرتِ مذہبی اور دینی حمیت کا اندازہ مندرجہ ذیل واقعہ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے:

حضرت سید شاہ اسماعیل حسن میاں مارہروی کا بیان ہے کہ:

ایک بار میں نے عرس صاحب البرکات شاہ برکت اﷲ صاحب قدس سرہ العزیز کے قبل   مولانا ( احمدرضا) کو طلب کر لیا تھا۔ درگاہ شریف کے ایک حجرہ میں قیام   فرما تھے۔ مبارک جان نامی علی گڑھ کی ایک مشہور اور متمول رنڈی کسی کے   یہاںمارہرہ آئی ہوئی تھی۔ درگاہِ معلیٰ میں حاضر ہوئی اور روضئہ شریف کی   سیڑھیوں پر بیٹھ کر گانا آغاز کرنا ہی چاہتی تھی۔ سازندوں نے ساز لگائے   تھے۔ تو مولانا کی نظر پڑ گئی اور بے اختیار ہو کر حجرہ سے باہر تشریف لا   کر ان سے فرمایا کہ: ’’ تم یہاں کسیے آئے؟ یہ درگاہِ معلیٰ ناچ گانے شیطانی   کاموں کی جگہ نہیں۔ فوراً یہاں سے روانہ ہو جائو۔‘‘ یہ فرمایا اور درگاہ   سے ان لوگوں کو باہر کر دیا۔ ( حیات اعلٰی حضرت 199/)

فرماں برداری

حضرت سیدنا شاہ اسماعیل حسن میاں صاحب قدس سرہ بیان کرتے ہیں:

والدین کی اتباع کا یہ حال تھا کہ جب مولانا (احمد رضا) کے والد ماجد جناب   مولانا نقی علی خاں صاحب کا انتقال ہوا۔ اپِنے حصئہ جائیداد کے خود مالک   تھے۔ مگرسب اختیار والدہ ماجدہ کے سپرد تھا۔وہ پوری مالکہ اور و مترفہ   تھیں۔ جس طرح چاہتیں صرف کرتیں۔ جب مولانا کو کتابوں کی خریداری کے لیے کسی   غیر معمولی رقم  کی ضرورت پڑتی تو والدہ ماجدہ صاحبہ کی خدمت میں درخواست   کرتے اور اپنی ضرورت ظاہر کرتے جب وہ اجازت دیتیں اور درخواست منظور کرتیں   تو کتابیں منگواتے۔ (حیات اعلٰی حضرت147/1)

بعض عادات کریمہ

مولانا ظفر الدین قادری آپ کے خادم خاص سید ایوب علی رضوی بریلوی کی روایت سے یوں نقل کرتے ہیں:

بشکل نام اقدس (محمد) ﷺ استراحت فرمانا‘ ٹھٹھانہ لگانا‘ جماہی آنے پر انگلی   دانتوں میں دبالینا اور کوئی آواز نہ ہونا‘ کلی کرتے وقت دست چپ (دایاں   ہاتھ) ریش مبارکہ پر رکھ کر خمیدہ سر ہو کر پانی منہ سے گرانا‘ قبلہ کی طرف   رخ کرکے کبھی نہ تھوکنا‘ نہ قبلہ کی طرف پائے مبارک دراز کرنا‘ نماز   پنجگاہ مسجد میں با جماعت ادا کرنا‘ فرض نماز باعمامہ پڑھنا‘ بغیر صوف پڑی   دوات سے نفرت کرنا‘ یوں ہی لوہے کے قلم سے اجتناب کرنا‘ خط بنواتے وقت اپنا   کنگھا‘ شیشہ استعمال کرنا‘ مسواک کرنا‘ سرِ مبارک میں پھلیل ڈلوانا۔   (حیاتِ اعلٰی حضرت 143/1)

فروتنی و خاک ساری

مولانا ظفر الدین قادری رضوی جو اعلٰی حضرت کے ارشد تلامذہ اور خلفا میں   ہیں اورآپ کے ساتھ سفر وحضر میں اکثر ساتھ ہوتے آپ کی تواضع و انکساری کا   نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں:

آپ کبھی قیمتی لباس‘ قیمتی عبا‘ قیمتی عمامہ وغیرہ استعمال نہیں فرماتے   تھے‘ نہ خاص مشائخانہ انداز‘ خانقاہ‘ چلہ حلقہ وغیرہ یا خدام کا مجمع ہوتا۔

دوسری جگہ لکھتے ہیں:ہر شخص حتی کہ چھوٹی عمر والے سے بھی نہایت خلق کے   ساتھ ملتے۔ ’’آپ‘‘ اور ’’جناب‘‘ سے مخاطب فرماتے اورحسب حیثیت اس کی توقیر و   تعظیم فرماتے۔ (حیاتِ اعلٰی حضرت198/1)

آپ کے ایک عینی شاہد مولانا سید ابوسلمان محمد عبدالمنان  قادری عظیم آبادی کا تحریری بیان ہے کہ اعلٰی حضرت:

اخلاق نبویہﷺ کی ایک زندہ مثال ہیں۔ آپ کی زیارت نے تمام وکمال فقیر پر یہ   ثابت کر دیا کہ جو کچھ بھی آپ کی تعریف ہوتی ہے وہ کم ہے۔ (متکوب بنام   مولانا ظفر الدین قادری رضوی)

احترام علماء

محبت و عزت علما کے تعلق سے مولانا ظفر الدین قادری طویل زمانے تک کا براہ راست مشاہدہ یوں سپرد قلم کرتے ہیں کہ:

میرے زمانئہ قیام بریلی شریف یعنی1312ھ سے 1320ھ تک علمائے اہلسنت و جماعت   برابر تشریف لایا کرتے۔ کوئی دن ایسا نہ ہوتا کہ ایک دو مہمان تشریف نہ   لاتے ہوں‘ اب سب کی خاطر و مدارات حسب مرتبہ کی جاتی اور علمائے کرام کی   تشریف آوری کے وقت اعلٰی حضرت کی مسرت کی جو حالت ہوتی احاطئہ تحریر سے   باہر ہے۔ (حیاتِ اعلٰی حضرت 218/1)

تعظیم سادات

تعظیم وتوقیر اور احترام سادات کے تعلق سے آپ کے طرزِ عمل کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ساداتِ کرام جز ورسول ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ مستحق توقیر و تعظیم ہیں   اور اس پر پورا عمل کرنے والا ہم نے اعلٰی حضرت قدس سرہ العزیز کو پایا۔ اس   لیے کہ وہ کسی سید صاحب کو اس کی ذاتی حیثیت و لیاقت سے نہیں دیکھتے بلکہ ا   س حیثیت سے ملاحظہ فرماتے کہ سرکار دو عالم ﷺ کا جزو ہیں۔(حیاتِ اعلٰی   حضرت 165/1)

سبقت سلام

آپ کے خادم خاص سید ایوب علی رضوی آپ کے عام مسلمانوں سے سبقت سلام کے عمل کو بتاتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ:

اعلٰی حضرت نماز جمعہ کے لیے جس وقت تشریف لاتے فرش پر قدم رکھتے ہی حاضرین   سے تقدیم سلام فرماتے۔ اور اسی پر بس نہیں‘ بلکہ جس درجہ میں وجودِمسعود   ہوتا‘ تقدیم سلام ہوتی جاتی۔ (حیاتِ اعلٰی حضرت 195/1)

فیاضی و غربا پروری

مولانا بدرالدین احمد قادری رضوی آپ کی سخاوت و فیاضی اور غربا پروری کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ کاشانئہ اقدس سے کوئی سائل خالی واپس نہ ہوتا‘ بیوگان کی امداد اور   ضرورت مندوں کی حاجت روائی کے لیے آپ کی جانب سے ماہوار ر قمیں مقرر تھیں۔   (ص111۔ سوانح اعلٰی حضرت)

سردیوں میں یہ معمول تھا کہ رزائیاں تیارکروا کر تقسیم کرتے تھے۔ (حیاتِ اعلٰی حضرت175/1)

ایسے بلند اوصاف و عادات‘ پاکیزہ اخلاق اور عظمت کردار و عمل کی حامل شخصیت   کی پوری زندگی کے پیغام عمل‘‘ کی جس کی آپ عملی و قلمی تبلیغ و ترسیل کرتے   رہے کا خلاصہ آپ کے سوانح نگار مولانا بدرالدین احمد قادری یوں رقم فرماتے   ہیں:

1۔ دنیا بھر کی ہر ایک محبت و مستحق تعظیم چیز سے زیادہ اﷲ و رسول کی محبت و تعظیم۔

2۔ اﷲو رسول ہی کی رضا کے لیے اﷲ و رسول کے دوستوں سے دوستی و محبت۔

3۔ اﷲ و رسول ہی کی خوشی کے لیے اﷲ و رسول کے دشمنوں سے نفرت و عداوت (ص 113‘ سوانح اعلٰی حضرت)

 

Murshid-e-Kamil

URS MUBARIK complete List