الصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہ
وہ جہنم میں گیا جو ان سے مستغنی ہوا
ہے خلیل اللہ کوحاجت رسول اللہ ﷺ کی
آج لے ان کی پناہ آج مدد مانگ ان سے
پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا

  Important Articles - Aqaid AhleSunnah Wa Jammatاہم مضا مین ۔ عقا ئد اہل سنت و جما عت

محبت اہلِ بیت و صحابہ شعار ِ اہل ِ سنت

  Uploaded: Tuesday, May 19, 2015 - 7:08 PM

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرات اہل بیت کرام رضی اللہ عنہم کو سفینۂ نجات اور سلامتی کا ذریعہ قراردیا اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ہدایت کے درخشاں ستارے قرار دیا ارشاد فرمایا :
أصحابي كالنجوم ، فبأيهم اقتديتم اهتديتم ۔
ترجمہ:میر ے صحابہ ہدایت کے درخشاں ستارے ہیں ،تم ان میں سے جس کی بھی پیروی کروگے ہدایت پالوگے ۔ (مشکوۃ المصابیح ص 554، زجاجۃ المصابیح ج 5 ص 334)
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح میں حضرت ملاعلی قاری رحمہ اللہ الباری امام فخرالدین رازی رحمہ اللہ کے حوالہ سے رقمطراز ہیں ،
نحن معاشر اهل السنة بحمد الله رکبنا سفينة محبة اهل البيت واهتدينا بنجم هدی اصحاب النبی صلی الله عليه وسلم فنرجوا النجاة من اهوال القيامة ودرکات الجحيم والهداية الی مايوجب درجات الجنان والنعيم المقيم-
(حاشیہ زجاجۃ المصابیح ج 5 ص 315 ، باب مناقب اہل بیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ،مرقاۃالمفاتیح ج5ص610)
ترجمہ:الحمد للہ ہم اہل سنت وجماعت اللہ کے فضل وکرم سے اہل بیت کرام رضی اللہ عنہم کی محبت کی کشتی میں سوار ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہدایت کے ستاروں سے رہبری پارہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں سے اورجہنم کے طبقات سے نجات عطا فرمائے گا، ہمیشہ رہنے والی اور نعمتوں والی جنت کے اونچے مقاما ت پر پہونچائیگا ۔
حجۃالوداع سے واپسی کے وقت محبت اہل بیت پر خطبہ
صحیح مسلم شریف میں حدیث پاک ہے:
عن زيد بن ارقم ۔۔۔۔ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا فِينَا خَطِيبًا بِمَاءٍ يُدْعَى خُمًّا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَ وَذَكَّرَ ثُمَّ قَالَ « أَمَّا بَعْدُ أَلاَ أَيُّهَا النَّاسُ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِىَ رَسُولُ رَبِّى فَأُجِيبَ وَأَنَا تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللَّهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ فَخُذُوا بِكِتَابِ اللَّهِ وَاسْتَمْسِكُوا بِهِ ». فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَرَغَّبَ فِيهِ ثُمَّ قَالَ « وَأَهْلُ بَيْتِى أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِى أَهْلِ بَيْتِى أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِى أَهْلِ بَيْتِى أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِى أَهْلِ بَيْتِى.
حضرت سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں حضرت رسول اللہ صلی علیہ وسلم ایک روز مقام غدیر خم میں خطبہ ارشادفرمانے کے لئے جلوہ گرہوئے جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ہے۔
پس آپ نے اللہ تعالیٰ کاشکر بجالایا،تعریف بیان کی اور وعظ فرمایا، نصیحتیں فرمائیں اورآخرت کی یاد دلائی پھر ارشادرفرمایا: امابعد: اے لوگو !بیشک میں جامۂ بشری میں جلوہ گرہوا ہوں عنقریب میرے رب کا قاصد میری بارگاہ میں حاضرہوگا اورمیں اس کی دعوت کو قبول فرماؤنگا ، اور میں تم میں دوعظیم ترین نعمتیں چھوڑے جارہا ہوں ان میں سے ایک کتاب اللہ ہے جس میں ہدایت اور نور ہے –
پس تم اللہ کی کتاب کو تھام لو اور مضبوطی سے پکڑے رہو،اس کے بعد قرآن کریم کے بارے میں تلقین فرمائی اوراس کی طرف ترغیب دلائی پھر ارشاد فرمایا :(دوسری نعمت )اہل بیت کرام ہے ۔
میں تمھیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں میرے اہل بیت کے بارے میں، میں تمھیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں میرے اہل بیت کے بارے میں(مسلم شریف ج 2 ص 279 حدیث نمبر:2408-مشکوۃ المصابیح ص68 - زجاجۃ المصابیح ج 5 ص317/318/319)
اذکرکم اللہ:’’میرے اہل بیت کرام کے بارے میں ، میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتاہوں ‘‘ یہ اس لئے فرمایاکہ اہل بیت کرام سے محبت سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے ہے او رآپ سے محبت اللہ کے لئے ہے لہذا اہل بیت کرام کی محبت اللہ تک پہنچانے والی ہے تو ان کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو کہ کبھی تمہاری زبان سے ان کے خلاف کوئی نامناسب لفظ نہ نکلے –
اس حدیث شریف کی شرح میں حضرت ملاعلی قاری رحمہ اللہ الباری فرماتے ہیں:
کرر الجملة لافادة مبالغة ولايبعد ان يکون اراد باحدهما اٰله وبالاخری ازواجه لماسبق من اهل البيت يطلق عليهما۔
(مرقاۃالمفاتیح ج5ص594)
سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اذکرکم دومرتبہ فرمایا اس میں حکمت یہ ہے کہ پہلی مرتبہ جوفرمایا اس سے مراد اٰل پاک رضی اللہ عنہم ہیں اوردوسرے سے مراد امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن ہیں۔
صحابہ کی اذیت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اذیت کاباعث
سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بیت کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق تاکیدی حکم فرمایا کہ ان کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہیں اور اس کے ساتھ ساتھ حضرات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں بھی تاکیدی امر فرمایا جیسا کہ جامع ترمذی شریف ج 2 ص 225 ابواب المناقب میں ارشاد مقدس ہے:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: اللَّهَ اللَّهَ فِى أَصْحَابِى اللَّهَ اللَّهَ فِى أَصْحَابِى لاَ تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِى فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّى أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِى أَبْغَضَهُمْ وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِى وَمَنْ آذَانِى فَقَدْ آذَى اللَّهَ وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ.
ترجمہ :حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ سے ڈرتے رہو ،میرے بعد انہیں ہدف ملامت نہ بناؤ ،پس جس کسی نے ان سے محبت کی توبالیقین اس نے میری محبت کی خاطر ان سے محبت کی ہے اور جس کسی نے ان سے بغض رکھا تواس نے مجھ سے بغض کی بناء پر ان سے بغض رکھاہے اور جس کسی نے ان کو اذیت پہونچائی یقینااس نے مجھ کو اذیت دی ہے اور جس نے مجھ کو اذیت دی یقینا اس نے اللہ کو اذیت دی ہے اور جس نے اللہ کو اذیت دی قریب ہے کہ اللہ اس کی گرفت فرماے۔
قرآن واہل بیت سے وابستگی ہدایت کی ضمانت
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بیت کرام سے تعلق و وابستگی کو باعث نجات اور گمراہی وضلالت سے حفاظت کا ذریعہ قراردیا جو ان حضرات سے وابستہ ہوجاتا ہے وہ کبھی گمراہ نہیں ہوتا توغور کرنا چاہئے!کیاوہ نفوس قدسیہ بے راہ روی ودنیا طلبی کا شکار ہوسکتے ہیں۔ العیاذباللہ
چنانچہ حجۃ الوادع کے موقع پر جہا ں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری دنیا کو پیغام امن وسلامتی دیا اوراتمام دین کا اعلان فرمایا وہیں قرآن کریم اور حضرات اہل بیت کرام سے وابستگی کا حکم فرمایا جن سے تعلقِ غلامی ابدی سعادتوں کا ذریعہ ہے اور بے دینی وبدمذہبی اور بداعتقادی وگمراہی سے بچنے کیلئے مضبوط قلعہ ہے ۔
سنن بیہقی وجامع ترمذی شریف کی روایت ہے:
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِى حَجَّتِهِ يَوْمَ عَرَفَةَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ يَخْطُبُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّى قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا كِتَابَ اللَّهِ وَعِتْرَتِى أَهْلَ بَيْتِى.
ترجمہ:حضرت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر عرفات میں دیکھا کہ آپ اپنی مبارک اونٹنی قصواء پرجلوہ گر ہیں اورخطاب فرمارہے ہیں ،میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’اے لوگو !بیشک میں تم کودوعظیم نعمتیں دے کر جارہاہوں جب تک تم انہیں تھامے رہوگے ہرگز گمراہ نہ ہو گے :وہ کتاب اللہ اور میری عترت اہل بیت ہیں :‘‘۔ ( ترمذی شریف ج2ص219۔حدیث نمبر:3718)
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک کے مطابق اہل بیت کرام گمراہی سے بچانے والے ہوئے جن سے وابستہ ہونے والا غلط راہ پر نہیں ہوسکتا تو کیا ان پاکباز ومقدس ہستیوں کے متعلق غلط باتیں منسوب کرنا یا ان پر دنیا داری کا الزام لگانا یا ان کے، کے گئے اقدام کو سیاسی اقدام کہنا درست ہوسکتا ہے ؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام مبارک میں انکی پاکیز گی کے متعلق فرمایا:
انمايريد الله ليذهب عنکم الرجس اهل البيت ويطهرکم تطهيرا-
ترجمہ:یقینااللہ تعالیٰ تویہی چاہتا ہے اے نبی کے گھروالوکہ تم سے ہر ناپاکی دور فرمادے او رتمہیں پاک کرکے خوب ستھراکردے(سورۃالاحزاب ۔33)
اور جن کے لئے حضور پاک صلی اللہ علیہ نے دعافرمائی :
اللهم هؤلاء اهل بيتی فاذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا –
ترجمہ:’’اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں تو ان سے رجس وگندگی کودور فرما اور انہیں مکمل پاکیزگی عطافرما‘‘(ترمذی شریف ، ج 2ص 219 حدیث نمبر:3129

احادیثِ صحیحہ کے مطابق ۔۔۔
خلفائے راشدین (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) میں سب سے برتر فضیلت حضرت ابوبکر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو حاصل ہے ،
اس کے بعد حضرت عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو ،
پھر حضرت عثمان (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو
اور پھر حضرت علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو ۔

>> حضرت ابو بکر صدیق (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
’’امام زہری سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ’’کیا تم نے ابوبکر (صدیق رضی اللہ عنہ) کے بارے کچھ کہا ہے‘‘۔ انہوں نے عرض کی، ہاں (یا رسول اﷲ!)۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ’’وہ کلام مجھے سناؤ میں سنوں گا۔‘ حضرت حسان رضی اللہ عنہ یوں گویا ہوئے ’’وہ غار میں دو میں سے دوسرے تھے۔ جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر پہاڑ (جبل ثور) پر چڑھے تو دشمن نے اُن کے ارد گرد چکر لگائے اور تمام صحابہ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہے کہ وہ (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ) رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محبوب ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی شخص کو اُن کے برابر شمار نہیں کرتے ہیں‘‘۔
(یہ سن کر) رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دندانِ مبارک ظاہر ہو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ’’اے حسان تم نے سچ کہا، وہ (ابوبکر رضی اللہ عنہ) بالکل ایسے ہی ہیں جیسے تم نے کہا۔‘‘
1. الحاکم، المستدرک، 3 : 67، کتاب معرفة الصحابة، رقم : 441
2. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 3 : 174


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
'' بے شک میرے اوپر لوگوں میں اپنی رفاقت اور مال میں سب سے زیادہ احسان ابو بکر کا ہے ...
اور اگر میں اپنے رب کے سوا کسی اور کو دوست بناتا تو ابو بکر کو بناتا ، لیکن ان کے ساتھ اسلامی اخوت و محبت کا تعلق ہے ...
مسجد میں ہر دروازہ بند کر دیا جائے سوائے ابو بکر کے دروازے کے۔ ''
( صحیح بخاری ، کتاب المناقب ۔ حدیث : 3654 )
حضرت ابو یحییٰ حکیم بن سعد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کواللہ کی قسم اُٹھا کر کہتے ہوئے سُنا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا لقب’’صدیق‘‘ آسمان سے اُتارا گیا۔ :: تاريخ الکبير، 1 : 99، رقم : 277الآحاد والمثانی، 1 : 70، رقم : 6فتح الباری، 7 : 9شرح الزرقانی علی مؤطا، 1 : 90صفة الصفوه 1 : 236تحفة الأحوذی، 10 : 96رياض النضره، 1 : 407مجمع الزوائد 9، 41
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہیں حديث بیان کی کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبل احد پر تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی تھے، اچانک پہاڑ اُن کے باعث (جوش مسرت سے) جھومنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’اے اُحد! ٹھہر جا، تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔:: بخاری شریف، 3 : 1344، کتاب المناقب، رقم : 3472(2.) 3 : 1348، رقم : 34833. ترمذی شریف، 5 : 624، رقم : 36974. ابوداؤدشریف، 4 : 212، رقم : 46515. نسائی، 5 : 43، رقم : 8135
حضرت نزال بن سبرہ سے روایت ہے کہ ہم نے (حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ) سے عرض کی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ بیان فرمائیں تو انہوں (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا : ابو بکر رضی اللہ عنہ وہ شخصیت ہیں جن کا لقب اﷲ رب العزت نے حضرت جبرئیل علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے ’’صِدِّیق‘‘ رکھا۔:: مستدرک، 3 : 65، رقم : 4406رياض النضرة، 1 : 406،(2. )2 : 161تهذيب الاسماء، 2 : 479
حضرت ابو یحیٰی سے روایت ہے انہوں نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو قسم اُٹھا کر کہتے ہوئے سُنا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا لقب ’’صدیق‘‘ اﷲ تعالیٰ نے آسمان سے نازل فرمایا:: مستدرک، 3 : 65۔ رقم : 4405

>> حضرت عمر بن الخطاب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
'' تم سے سابقہ قوموں میں صاحبِ الہام یا صحیح گمان رکھنے والے لوگ ہوا کرتے تھے، پس اگر میری امت میں ان میں سے کوئی ہے تو وہ عمر ہیں۔ ''
( صحیح بخاری ، کتاب المناقب ۔ حدیث : 3689 )
'' بے شک ، اللہ نے " حق" کو عمر کی زبان اور دل پر ثابت کر دیا ہے۔ ''
( جامع ترمذی ۔ حدیث : 3682 )

>> حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ
حضرت عثمان (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی ایک فضیلت ایسی تھی جو ان کی شناخت اور پہچان بن گئی تھی۔ وہ فضیلت '' حیا و شرم '' کی صفت تھی۔
حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہما) نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا :
'' جب ابوبکر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے کوئی خاص اہتمام نہیں فرمایا۔ پھر جب عمر آئے تو اس وقت بھی آپ نے کوئی اہمیت نہیں دی لیکن جب عثمان آئے تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کر لیے تھے ... ''
اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا :
'' کیا میں ایسے آدمی سے شرم نہ کروں جس سے فرشتے بھی شرماتے ہیں ۔ ''
( صحیح مسلم ۔ حدیث : 6209 )

>> حضرت علی بن ابی طالب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
حضرت علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے فضائل و مناقب میں جو صحیح احادیث مروی ہیں ، ان کی روشنی میں اگر حضرت علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی سیرت مرتب کی جائے تو ایک ضخیم کتاب تیار ہو سکتی ہے۔
حضرت علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے محبت ایمان کی علامت اور ان سے کسی بھی درجے میں بغض و نفرت ، نفاق کی علامت ہے۔
جو لوگ ایک خاص طبقے کی مخالفت کی آڑ میں حضرت علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے مقام و مرتبہ کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں ، ان کو درج ذیل ارشادِ نبوی کے آئینہ میں اپنا خراب چہرہ دیکھ لینا چاہئے :
حضرت علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے فرمایا : '' .... مجھ سے نبی اُمی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ وعدہ ہے کہ مجھ سے صرف مومن محبت رکھے گا اور صرف منافق مجھ سے بغض رکھے۔ ''
( صحیح مسلم ۔ حدیث : 240 )
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی عیب جوئی سے منع فرمایا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو سخت ناپسند فرماتے تھے کہ لوگ حضرت علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) پر تنقید کریں اور ان کی ذات میں کیڑے نکالیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
'' ... علی میں عیب نہ نکالو ۔ بے شک ، علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ اور میرے بعد وہ ہر مومن کا دوست اور خیرخواہ ہے۔ ''
( ترمذی ، كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، باب : مناقب علي بن ابي طالب رضى الله عنه ، حدیث : 4077 )
( سنن نسائی ، مسند احمد ، المستدرک الحاکم )
حضرت زید بن ارقم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
'' میں جس کا مولیٰ ہوں ، علی اس کا مولیٰ ہے۔ اے اللہ ! تو اس کو دوست بنا جو اس سے محبت کرے اور اس سے دشمنی کر جو اس سے عداوت رکھے ۔ ''
: ترمذی ، كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، باب : مناقب علي بن ابي طالب رضى الله عنه ، حدیث 4078

صحابہ کرام اور اہلبیت کا باہمی تعلق <<
صحابہ کرام اہلبیت سے اور اہل بیت صحابہ کرام سے بے حد محبت کیا کرتے بالخصوص چاروں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہ اور اہلبیت اس قدر مضبوط و مستحکم، خاندانی و ایمانی رشتوں میں بندھے ہوئے تھے کہ اس تعلق کو کوئی بھی ایک دوسرے سے ختم نہیں کر سکا۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ
اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضور سرور انبیاء حضرت محمد رضی اللہ عنہ کے سسر ہیں۔ کیونکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت عائشہ صدیقہرضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ حضور اکرم رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئی تھیں۔ خلیفہ سوم سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور خلیفہ چہارم حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم حضور اکرم رضی اللہ عنہ کے داماد ہیں۔ حضور اکرم رضی اللہ عنہ کی دو صاحبزادیاں حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہ اور حضرت رقیہ رضی اللہ عنہ یکے بعد دیگرے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں اور خاتون جنت سیدہ حضرت فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں۔
سبحان اللہ !! کیا عالی شان تقسیم ہے کہ دو خلفاء حضور اکرم رضی اللہ عنہ کے سسر اور دو خلفاء داماد ہیں۔ جب ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہ حضور اکرم کے نکاح میں آئیں تو ان کے والد حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ حضور کے سسر ہوئے اس طرح حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہ کے بھائی اور حضرت ابو سفیان کے بیٹے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حضور اکرم بہنوئی ہوئے۔ ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہ مومنوں کی ماں تو ان کے بھائی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مومنوں کے ماموں جان ہوئے۔ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہ
اور حضرت رقیہ رضی اللہ عنہ چونکہ حضرت فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہ کی بہنیں تھیں لٰہذا حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی خالہ ہوئیں اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ خالو جان ہوئے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ ، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہ چونکہ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے نانا جان حضرت محمد رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں تھیں تو یہ تینوں مقدس خاتون حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی نانیاں ہوئیں۔
سبحان اللہ !! غور کیجئے صحابہ کرام اور اہلبیت کو اللہ تعالٰی نے کتنی گہری وابستگی عطا فرمائی ہے۔ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی اور پیغمبر اسلام کی حقیقی نواسی ہیں۔ امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خواہش تھی کہ ان کی خاندان نبوت سے رشتہ داری قائم ہو جائے چنانچہ آپ نے اپنی اس خواہش کا اظہار حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے آپ کی اس درخواست کو قبول فرما لیا اور اپنی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہ کا نکاح امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کردیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت زید بن عمر رضی اللہ عنہ ، حضرت ام کلثوم ہی کے شکم مبارک سے پیدا ہوئے۔ (دیکھئے بخاری شریف بحوالہ کرمانی 403)

معلوم ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سسر تھے اور خاتون جنت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ امیر المومنین حضرت عمر فاروق کی خوش دامن تھیں اور سیدنا حضرت امام حسن اور سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے آپ بہنوئی ہوئے۔
مسلمانو ! سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا خاندان اہلبیت سے رشتہ کرنے کے لئے خواہشمند ہونا اس حقیقت کی واضح دلیل ہے کہ ان کے دل میں خاندان اہلبیت کا بڑا ادب اور اعلٰی مقام تھا۔ ان کی نگاہ میں خاندان اہلبیت سے رشتے داری کرنا باعث سعادت تھا، اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے انتہائی محبت اور عقیدت رکھتے تھے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عمر زیادہ تھی مگر اس کے باوجود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی کم عمر بیٹی کا ان سے نکاح کر دیا۔ یہ واقعہ ان سلام دشمن قوتوں کے لئے عبرت کا تازیانہ ہے جو بظاہر اہلبیت سے اپنی محبت کا ظاہری دم بھرتے ہیں اور جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شان اقدس میں گستاخی کرکے اپنی آخرت کو برباد کرتے ہیں اور نعوذ باللہ انہیں ظالم، غاصب، مرتد اور بے دین کہہ کر اپنے اعمال کو سیاہ اور داغدار کرتے ہیں۔ کوئی ان ظالموں سے پوچھے اے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی گستاخی کرنے والو ! تمہارا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا خیال ہے۔ جنہوں نے بقول تمہارے ایک غاصب، ظالم اور مرتد سے اپنی کمسن صاحبزادی کا نکاح کر دیا۔ ذرا سوچئے ! اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ظالم ہوتے تو کیا حضرت علی اپنی بیٹی انہیں دیتے ؟ ہرگز نہیں۔


 

Murshid-e-Kamil

URS MUBARIK complete List