الصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہ
وہ جہنم میں گیا جو ان سے مستغنی ہوا
ہے خلیل اللہ کوحاجت رسول اللہ ﷺ کی
آج لے ان کی پناہ آج مدد مانگ ان سے
پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا

  Important Articles - Aqaid AhleSunnah Wa Jammatاہم مضا مین ۔ عقا ئد اہل سنت و جما عت

حضرت بابا فرید گنج شکر رضی اللہ عنہ
Published Date: Monday, January 23, 2017 - 12:00 AM
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے اس سوال پر اجل شیرازی رحمتہ اﷲ علیہ نے حاضرین کی طرف دیکھا اور بلند آواز میں فرمایا ’’اہل مجلس غور سے سن لیں۔ میں اس سلسلے میں وہی کہتا ہوں جو حضرت جنید بغدادی رحمتہ اﷲ علیہ کا قول ہے۔ حضرت جنید رحمتہ اﷲ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اہل دنیا سے رسم و راہ رکھنا اور امرائے وقت سے ملاقاتیں کرنا فقیر کے لئے قطعا حرام ہے۔‘‘
حضرت اجل شیرازی رحمتہ اﷲ علیہ کی خانقاہ میں حاضری کے علاوہ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے بخارا کے مضافات کی بھی سیر کی۔ ایک دن آپ ایک غار میں داخل ہوئے جہاں ایک بزرگ سالہا سال سے محو عبادت تھے۔ بابا فریدرحمتہ اﷲ علیہ نے ان بزرگ سے بھی دعائیں حاصل کیں اور رخصت ہونے سے پہلے دریافت کیا کہ آپ ایک تارک الدنیا شخص کا لباس پہن کر صرف اس غار تک کیوں محدود ہوگئے ہیں؟‘‘
بزرگ نے جوابا فرمایا ’’جب دنیا انسان کو بہت زیادہ ستانے لگے اور انسان بھی محسوس کرنے لگے کہ وہ ہلاک ہوجائے گا تو اسے لازم ہے کہ وہ شہر سے نکل کر جنگلوں کا رخ کرے میں بھی یہی سوچ کر اس غار میں مقید ہوا تھا مگر یہاں بھی مجھے دولت سکون میسر نہیں‘‘ اتنا کہہ کر بزرگ خاموش ہوگئے۔
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے دوبارہ عرض کیا ’’حضرت! اپنا کوئی مشاہدہ تو بیان فرمائیں تاکہ یہ حقیر و عاجز اپنے علم میں اضافہ کرسکے‘‘
بزرگ نے ایک آہ سرد کھینچی ’’فرید! میں جاں سوختہ‘ تجھ سے اپنی روداد کیا بیان کروں؟ ساٹھ سال سے اس غار میں رہتا ہوں مگر ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرتا‘ جب مجھ پر کوئی بلا نازل نہ ہوتی ہو اور جس روز بلا نازل نہیں ہوتی تو گریہ وزاری کرکے خود اس کے لئے التجا کرتا ہوں‘ جب مرضی دوست آزمائش میں پوشیدہ ہے تو پھر میں کیوں نہ اس کی آرزو کروں فرزند! تجھے بھی بس میرا یہی سبق ہے کہ انسان کو بلائوں پر اس طرح صبر کرنا چاہئے کہ جیسا صبر کرنے کا ہے‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ ان بزرگ سے مل کر دوبارہ حضرت اجل شیرازی رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پھر دوسرے دن سرزمین بخارا کو الوداع کہا۔
٭……٭……٭
بخارا کی حدود سے نکل کر بغداد پہنچے اور مشہور بزرگ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت شیخ نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ’’عوارف المعارف‘‘ کا کچھ حصہ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو خود پڑھایا اور اس کے مطالب ذہن نشین کرائے۔ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ کی خانقاہ میں امراء قیمتی تحائف اور زرکثیر لے کر حاضر ہوتے تھے‘ مگر شیخ کا حکم تھا کہ جو کچھ بھی آئے اسے بلاتاخیر بندگان خدا میں تقسیم کردیا جائے۔ حضرت شیخ شہاب الدین سہرردی  رحمتہ اﷲ علیہ فرمایا کرتے تھے۔
’’اگر دولت کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا جائے تو اہل دنیاکو تونگری کا طعنہ دیں گے اور یہ ایک بڑی سنگین تہمت ہوگی جسے درویش کسی بھی حال میں برداشت نہیں کرسکتا۔ درویشی تو نام ہی خود فروشی کا ہے سو میں نے اپنے آپ کو بیچ دیا ہے‘‘
ایک دن حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ کی خانقاہ میں حضرت جلال الدین تبریزی رحمتہ اﷲ علیہ‘ حضرت اوحد الدین کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ اور حضرت شیخ برہان الدین سیتانی رحمتہ اﷲ علیہ حاضر تھے۔ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے دیکھا کہ حضرت شیخ کے ایک مرید نے خرقہ خلافت کی درخواست کی۔ یہ مرید ایک عرصہ دراز سے عبادت و ریاضت میں مشغول تھا اور اب اس کی شدید خواہش تھی کہ وہ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ کے دوسرے خلفاء کی طرح اس اعزاز سے نوازا جائے۔
مرید کی اس خواہش کے جواب میں حضرت شیخ شہاب الدین سہرردی رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔
’’آج مجھے معاف کرو‘ کل کسی وقت آئو گے تو اس معاملے پر غور کریں گے‘ پھرجو خدا کی مرضی ہوگی وہی ظاہر ہوجائے گی‘‘
پیرومرشد کا حکم سن کر مرید چلا گیا۔پھر دوسرے دن واپس آیا تو خانقاہ کے ایک گوشے میں سر جھکا کر بیٹھ گیا اہل مجلس نے دیکھا کہ مرید کے چہرے پر افسردگی کا رنگ نمایاں تھا۔
حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ نے مرید کی طرف نگاہ کی اور فرمایا ’’کیا اب بھی تمہیں خرقہ خلافت کی خواہش ہے؟ رات تم نے خواب میں اپنی آنکھوں سے ایک پیر اور اس کے مرید کا حشر دیکھا لیا۔ فرشتے ان دونوں کو کھینچتے ہوئے دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ کی طرف لے جارہے تھے تم نے اپنے اس خواب کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کی؟‘‘
مرید نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ بے حس و حرکت سرجھکائے بیٹھا رہا۔
حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ نے دوبارہ اپنے مرید کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ’’تم سمجھتے ہو کہ ان دونوں کا یہ عبرتناک انجام کیوں ہوا؟ اس لئے کہ وہ خرقے کے نام سے دنیا کمایا کرتے تھے اور ہر وقت اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل میں مصروف رہتے تھے‘‘ اس کے بعد حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ نے دیگر حاضرین مجلس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ’’جب تک انسان کا دل دنیا کی کثافتوں سے پاک نہ ہوجائے‘ اس وقت تک مرشد پر فرض ہے کہ وہ کسی شخص کو خرقہ نہ دے… اور مرید کے لئے بھی لازم ہے کہ وہ خرقہ نہ پہنچے‘‘
حضرت بابا فرید کچھ دن تک حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ کی صحبتوں سے فیضیاب ہوتے رہے تھے۔ یہ وہی شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ ہیں جو 549ھ میں بمقام ’’سہرورد‘‘ پیدا ہوئے تھے۔ آپ نے امام مجدالدین سے فلسفے اور فقہ کی تعلیم حاصل کی تھی۔ آپ پر فلسفے کا رنگ غالب تھا اس لئے مختلف مذہبی مسائل میں عقل و دانش کے سہارے بحث کرتے تھے جس کا کبھی کبھی خوفناک نتیجہ برآمد ہوتا تھا۔ اس قسم کے بیشتر مناظرے شہر ’’حلب‘‘ میں ہوئے۔ بالاخر فقہاء کی ایک جماعت حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ کی مخالف ہوگئی۔ آپ کے بعض مریدوں نے سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ اپنے نظریات کو اعتدال میں رکھیں مگر شیخ کے دل و دماغ مذہب کے ایک خاص زاویئے سے متاثر ہوچکے تھے اور آپ کے بیان کی شدت میں روزبروز اضافہ ہوتا جارہا تھا۔
انجام کار اس دور کے چند مشہور فقیہوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی رحمتہ اﷲ علیہ کو ایک مشترکہ خط میں تحریر کیا ’’یہاں شیخ شہاب الدین نامی ایک درویش ہے جس کے الجھے ہوئی خیالات سے مسلمان گمراہ ہوتے جارہے ہیں۔ ہماری درخواست ہے کہ اہل ایمان کو فوری طور پر اس فتنے سے نجات دلائی جائے‘‘
فقہاء کی اس شکایت کے جواب میں سلطان صلاح الدین ایوبی رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے بیٹے سلطان الظاہر کو جو حلب کا حکمران تھا‘ ایک خط لکھا جس میں واضح طور پر تحریر کیا گیا تھا۔
’’ہماری سلطنت کے مشہور اور معتبر فقہ‘ شیخ شہاب الدین کے خلاف گواہی دے چکے ہیں‘ اس لئے ایک ایسے درویش کو زندہ نہ چھوڑا جائے جو لاکھوں اہل ایمان کی زندگی سے کھیل رہا ہو‘‘
سلطان الظاہر نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر اپنے باپ کے حکم کی تکمیل کی اور حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ اپنے خون میں نہاگئے۔ اسی لئے تصوف کی بعض کتابوں میں آپ کو شیخ شہاب الدین ’’مقتول‘‘ لکھا گیا ہے۔
اس سلسلے میں ایک روایت یہ ہے کہ صلاح الدین ایوبی رحمتہ اﷲ علیہ نے نہیں بلکہ اس کے بیٹے سلطان الظاہر نے براہ راست شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ کے قتل کا حکم جاری کیا تھا۔ جب حضرت شیخ کو اس حقیقت کا علم ہوا کہ فقہائے حلب کفر کے الزام میں آپ کے قتل کا فتویٰ دے چکے ہیں تو آپ نے سلطان الظاہر سے درخواست کی۔
’’مجھے ایک مکان میں قید کردیا جائے۔ سلطان کی طرف سے کھانے پینے کی چیزوں کا اہتمام کیا جائے مگر میں ذاتی طور پر ایک لقمہ بھی اپنے حلق سے نہیں اتاروں گا یہاں تک کہ وہ دن آجائے گا جب شدت ناتوانی اور بھوک میرے جسم کو فنا کردے گی اس طرح سلطان کے حکم کی بھی تعمیل ہوجائے گی اور فقہاء کی جماعت کو بھی قرار آجائے گا‘‘ بعض معتبر تاریخ نویسوں کے نزدیک یہ روایت معتبر نہیں ہے۔
دراصل واقعہ یہی ہے کہ اس زمانے کے مشہور فقیہوں نے حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ کے بعض اقوال کو کفر کے دائرے میں شامل کرکے آپ کے خلاف قتل کا فتویٰ دے دیا تھا۔ پھر سلطان صلاحح الدین ایوبی رحمتہ اﷲ علیہ سے درخواست کی تھی کہ اس شخص کے بوجھ سے زمین کو ہلکا کردیاجائے گا جس کے افکار و خیالات مسلمانوں کو گمراہ کررہے ہیں۔ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمتہ اﷲ علیہ نے مزید تحقیق کرائے بغیر اپنے بیٹے سلطان الظاہر کو حکم دیا کہ وہ ملت اسلامیہ کے شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ سے نجات دلادے۔ الغرض تصوف میں سلسلہ سہروردی کے بانی کو قتل کردیا گیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بغداد سے رخصت ہوکر سیستان جاچکے تھے۔
٭…٭…٭
کچھ دن بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ سیستان پہنچے اور مشہور بزرگ حضرت اوحد الدین کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت شیخ اوحد الدین کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ روحانیت میں ایک بلند درجہ رکھتے تھے مگر آپ کو کرامت دیکھنے اور دکھانے کا بہت شوق تھا۔ جب بھی کوئی بزرگ آپ کی خانقاہ میں داخل ہوتا تو شیخ کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ اپنی کرامت کا اظہار کرتے اور اس بزرگ کو بھی مجبور کرتے کہ وہ اپنی روحانی قوتوں کا مظاہرہ کرے۔
ایک دن حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اور دوسرے بزرگ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت اوحد الدین کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ نے تمام بزرگوں سے اپنی اپنی کرامات دکھانے کی خواہش کا اظہار کیا پھر حاضرین کے جواب کا انتظار کئے بغیر خود ہی اہل مجلس کو مخاطب کرکے فرمانے لگے۔
’’یہاں کا حاکم میری بہت دل آزاری کرتا ہے۔ آج وہ چوگان کھیلنے کے لئے گیا ہوا ہے۔ اب اﷲ ہی ہے کہ وہ حاکم صحیح و سلامت واپس آجائے‘‘
ابھی مجلس میں حضرت شیخ اوحد الدین کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ کے الفاظ کی گونج باقی تھی کہ کسی شخص نے باہر سے آکر اطلاع دی کہ وہ حاکم گھوڑے سے گر کر مرگیا۔ مجلس میں موجود تمام بزرگ شیخ کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ کی یہ کرامت دیکھ کر حیران رہ گئے۔ اس کے بعد دوسرے بزرگوں نے بھی اپنی اپنی کرامات کا اظہار کیا۔ آخر میں شیخ کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت فرید رحمتہ اﷲ علیہ سے کہا۔
’’فرید! تم بھی اپنی کوئی کرامت دکھائو‘‘
بڑا مشکل مرحلہ تھا۔ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے نہایت عجزوانکساری کے ساتھ عرض کیا ’’میں تو ایک طالب علم ہوں اور بزرگوں سے کچھ سیکھنے اور ان کی خدمت کے لئے گھر سے نکلا ہوں‘‘
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اپنی عاجزی کا اظہار کرتے رہے مگر حضرت شیخ اوحد الدین کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ نے آپ کے کسی عذر کو تسلیم نہیں کیا۔ بالاخر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ مجبور ہوگئے۔ آپ نے آنکھیں بند کرلیں اور دل ہی دل میں خداوند ذوالجلال سے درخواست گزار ہوئے۔
’’اے اپنے بندوں کے عیوب کی پردہ پوشی کرنے والے! تجھ پر سب باطن و ظاہر روشن ہے۔ تو خوب جانتا ہے کہ میں تیرا ایک گناہ گار بندہ ہوں مگر ان لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوں جو بے شمار کمالات روحانی رکھتے ہیں۔ میری ذات میں نہ کوئی کرامت پوشیدہ ہے اور نہ میں کرامت کے اظہار کو مناسب سمجھتا ہوں۔ پھر بھی میرے سر سے ان کڑے لمحات کو ٹال دے اور مجھ بے ہنر کو ان حضرات کے سامنے سرخرو فرمادے جو اہل علم بھی ہیں اور اہل کمال بھی‘‘
ابھی بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ خیالوں ہی خیالوں میں اپنے رب کے حضور دست بہ دعا تھے کہ یکایک تصورات کے پردے پر آپ کے پیرومرشد حضرت قطبرحمتہ اﷲ علیہ  کا چہرہ مبارک روشن ہوگیا۔ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ فرمارہے تھے۔
’’بابا فرید! آزردہ کیوں ہوتے ہو؟ جس خدا نے تمہیں سلطان الہندرحمتہ اﷲ علیہ کے آستانہ عالیہ تک پہنچایا ہے‘ وہی ہرحال میں تمہاری مشکل کشائی کرے گا۔ ان بزرگوں سے کہو کہ اپنی اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ پھر انہیں تمہاری کرامت نظر آئے گی‘‘ ان الفاظ کے ساتھ ہی حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کا پرنور چہرہ بابا فریدرحمتہ اﷲ علیہ کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ آپ نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔
شیخ اوحد الدین کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ نے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی یہ کیفیت دیکھی تو فرمایا ’’فرید! خاموش کیوں ہو؟ کیا ابھی اس منزل تک نہیں پہنچے ہو؟‘‘
’’منزل تو میری بہت دور ہے مگر آپ حضرات اپنی آنکھیں بند کرلیں پھر دیکھیں کہ خدا کیا ظاہر کرتا ہے؟‘‘
شیخ کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ اور دوسرے بزرگوں نے اپنی اپنی آنکھیں بند کرلیں یکایک تمام بزرگوں نے دیکھا کہ وہ سیستان کے بجائے خانہ کعبہ میں موجود ہیں۔ خود بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بھی ان درویشوں کے ساتھ بیت اﷲ میں موجود تھے۔ کچھ دیر بعد جب تمام درویشوں نے آنکھیں کھولیں تو نظروں کے سامنے شیخ کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ کی خانقاہ تھی اور حاضرین مجلس خاموش بیٹھے نظر آرہے تھے۔
حضرت شیخ اوحد الدین کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ نے بے اختیار ہوکر فرمایا ’’فرید! اس نوعمری میں تمہیں یہ اعلیٰ مقام مبارک ہو‘‘
شیخ کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ کے ساتھ دوسرے درویش بھی بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے روحانی تصرف کا اعتراف کررہے تھے مگر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی نظریں جھکی ہوئی تھیں اور آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ آپ کیسے بتاتے یہ سب کچھ کیا تھا؟ کس کی دعائوں کااثر تھا اور کس کے فضل و کرم کی کرشمہ سازی تھی۔
٭…٭…٭
سیستان سے رخصت ہوکر بابا فریدرحمتہ اﷲ علیہ بدخشاں تشریف لے گئے۔یہاں آپ کی ملاقات مشہور بزرگ حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ سے ہوئی۔ حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ مشہور صوفی حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اﷲ علیہ کے مرید تھے۔ حضرت شیخ عبدالواحدرحمتہ اﷲ علیہ عشق خداوندی سے اس قدر سرشار تھے کہ اہل دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔ اسی بے نیازی اور قلندری کے سبب آپ شہری حدود سے نکل کر ایک غار میں مقیم ہوگئے تھے۔ جب کوئی دنیا پرست حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوتا اور اپنے کسی کام کے لئے آپ سے دعا کی درخواست کرتا تو حضرت شیخ نہایت تلخ لہجے میں فرماتے۔
’’تم کب تک اس مردار (دنیا) کے پیچھے بھاگتے رہوگے؟ کیا تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو اﷲ کی خوشنودی حاصل کرے؟ اور اس بھڑکتی ہوئی آگ سے بچنے کی کوشش کرے۔ جس کا ایندھن انسان ہیں۔ تم میرے پاس اس لئے کیوں نہیں آتے کہ میں تمہارے حق میں اپنے اﷲ سے عافیت طلب کروں… تم میرے پاس دنیا مانگنے کے لئے آتے ہو تو غور سے سن لو کہ دنیا سے میرا کوئی رشتہ نہیں ہے۔ میں نے اس سیاہ کار اور کریہہ المنظر عورت کو طلاق دے دی ہے۔ جائو کسی اور کے دروازے پر جائو‘ تمہیں دینے کے لئے میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے‘‘
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ جانتے تھے کہ حضرت شیخ عبدالواحدرحمتہ اﷲ علیہ ملاقاتیوں سے بیزار رہتے ہیں پھر بھی ایک خدا رسیدہ بزرگ کا شوق دیدار آپ کو اس غار تک لے گیا جہاں سناٹے اور ویرانی کے سوا کچھ نہیں تھا۔ جیسے ہی بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے ڈرتے ڈرتے غار کے دروازے میں قدم رکھا۔ ایک تیزآواز گونجی۔
’’اے جاں سوختۂ عشق! ادھر آکہ تجھ پہ میرے دروازے ہمیشہ کھلے رہیں گے‘‘
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اندازے سے پہچان لیا کہ یہ حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ کی آواز تھی۔ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ غار کے اندر پہنچے تو آپ نے ایک نحیف و نزار شخص کو دیکھا جو بظاہر ہڈیوں کا ڈھانچہ نظر آرہا تھا اور جس کی ایک ٹانگ کٹی ہوئی تھی۔ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ آگے بڑھتے رہے مگر جب غار کے درمیان میں پہنچے تو حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ کی آواز دوبارہ سنائی دی۔ آپ پرنہایت پرجلال لہجے میں فرمارہے تھے۔
’’فرید! میرے قریب ہرگز نہ آنا کہ جل کر خاک ہوجائے گا… اور مجھ سے دور بھی نہ رہنا کہ تجھ پر جادو کا اثر ہوجائے گا‘‘
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ پر اس مرد جاں سوختہ کی اس قدر ہیبت طاری ہوئی کہ بڑھتے ہوئے قدم رک گئے‘‘ وہیں خاک پر بیٹھ جاکہ تو میرا مہمان ہے اور میری میزبانی یہ ہے کہ میں اپنے مہمانوں کو خاک کے سوا کچھ نہیں دیتا… اور میرے پاس خاک کے سوا ہے بھی کیا کہ میں خود ہی خاک ہوچکا ہوں‘‘
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اس مرد قلندر کی خدمت میں سلام پیش کیا اور بڑی خوش دلی کے ساتھ فرش خاک پربیٹھ گئے۔ غار میں سناٹا چھا گیا۔ کچھ دیر بعد بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے عرض کیا۔
’’شیخؑ عشق خداوندی کیا ہے؟‘‘
’’مجھے دیکھ کہ میں عشق کی ادنیٰ ترین مثال ہوں‘‘ حضرت شیخ عبدالواحد نے جوابا فرمایا ’’میرے جسم پر نظر کر کہ یہ آتش فراق میں بوند بوند پگھل رہا ہے۔ بس کچھ دنوں کی بات ہے کہ یہ پگھلتے پگھلتے خاک میں جذب ہوجائے گا۔ میرے پیروں کی جانب دیکھ کہ میں ایک ٹانگ سے محروم ہوں۔ مجھے دنیا کو طلاق دیئے ہوئے پون صدی گزر چکی ہے۔ میں ستر سال سے اس گوشہ تنہائی میں پڑا ہوں اور میں نے تمام اسباب ظاہری کی نفی کردی ہے۔ بہت دن پہلے اس غار میں ایک عورت آئی تھی۔ اس کے حسن فریب کار کو دیکھ کر میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی غار سے باہر چلا جائوں۔ مگر جیسے ہی قدم اٹھایا‘ ایک غیبی آواز نے میرے پیروں میں ہمیشہ کے لئے زنجیر ڈال دی‘‘
کہنے والا کہہ رہا تھا۔ ’’کہاں جارہے ہو؟ محبت کا دعویٰ تو ہم سے کیا تھا‘‘
’’میں واپس لوٹ آیا اور فورا اپنی ایک ٹانگ کاٹ کر پھینک دی۔ اب تیس سال سے شرم و ندامت کی آگ میں جھلس رہا ہوں کہ قیامت کے دن اپنے دوست کو یہ چہرہ کس طرح دکھائوں گا‘‘
حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ کی داستان حیات سن کر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اس قدر روئے کہ آپ کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ پھر خود کلامی کے انداز میں فرمانے لگے ’’فرید! تجھے کیا پتا کہ اس سرزمین پر اس کے کیسے کیسے جاں نثار موجود ہیں‘‘
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ کے ساتھ ایک ہفتے تک اس غار میں مقیم رہے۔ آپ کے لئے یہ بات شدید حیرت کاباعث تھی کہ بظاہر کوئی شخص نظر نہیں آتا تھا مگر رات کے وقت کھانے کے لئے دودھ اور کھجوریں موجود ہوتی تھیں۔
کچھ دن بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بدخشاں سے رخصت ہونا چاہتے تھے۔ آپ نے حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ سے اجازت طلب کی۔ جوابا حضرت شیخ نے سکوت اختیار کیا۔ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ یہ سوچ کر خاموش ہوگئے کہ ابھی شیخ کی مرضی نہیں ہے پھر نصف شب گزر جانے کے بعد حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ  نے بابا فریدرحمتہ اﷲ علیہ  کو مخاطب کرکے فرمایا۔
’’فرید ! تو بھی چلا جائے گا؟‘‘ شیخ کے لہجے سے دل کا درد جھلک رہا تھا ’’ہاں سب کچھ جانے ہی کے لئے ہے۔ کسی کو دوام نہیں‘ کسی کو قرار نہیں اور کسی کو بتاتے نہیں سب کے سب منزل دو منزل کے ساتھی ہیں۔ بس جدائی اور تنہائی ہی اپنے ہم درد و غم گسار ہیں‘‘
’’شیخ محترم! اگر آپ حکم دیں تو کچھ دن اور ٹھہر جائوں‘‘ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے مودبانہ عرض کیا۔
’’چند روزہ قیام سے کیا ہوگا؟ جدائی کی منزل تو سر پرکھڑی ہے‘‘ حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ بہت اداس اور دل گرفتہ نظر آرہے تھے۔ ’’ہر طرف الفراق الفراق کی آوازیں گونج رہی ہیں۔ تجھے بھی جانا ہوگا تیرے سفر عشق کا ابھی آغاز ہوا ہے ابھی اس کا انجام کہاں؟ مجھ اسیر غم کی طرف نہ دیکھ کہ میں تو ازل سے قیدی ہوں۔ یہی تاریک غار میرا مکان ہے۔ یہی میری خلوت ہے اور یہی میرا انجمن ہے تو ہرگز گوشہ نشینی اختیار نہ کرنا کہ بندگان خدا کا ہجوم تیرا منتظر ہے۔ میں تجھے اپنی دعائوں کے سائے میں رخصت کروں گا۔ بس ایک رات اور ٹھہر جا‘‘ اتنا کہہ کر حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ مراقبے میں چلے گئے اور بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ ذکر الٰہی میں مشغول ہوگئے۔
صبح سورج طلوع ہوا تو بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت شیخ عبدالواحدرحمتہ اﷲ علیہ سے اجازت طلب کی۔ حضرت شیخ رحمتہ اﷲ علیہ نے ایک نظر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی طرف دیکھا اور پھر غمزدہ لہجے میں فرمانے لگے۔
’’فرید! تو مجھے بہت پسند ہے تجھے اپنا دوست بنالیتا مگر کیا کروں کہ کسی اور کی دوستی کا دم بھر چکا ہوں۔ اپنے اس عہد کو توڑ نہیں سکتا۔ اگر عہد شکنی کروں گا تو ہلاک ہوجائوں گا۔ پھر بھی تو میرے دل سے دور نہیں رہے گا۔ جب تک زندہ رہوں گا اپنے اﷲ سے تیرے لئے عافیت طلب کرتا رہوں گا‘‘ یہ کہہ کر حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ بیساکھی کے سہارے کھڑے ہوئے پھر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو سینے سے لگالیا۔
اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بیان کرتے ہیں ’’مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے میرا پورا جسم جل اٹھا ہو‘‘ یہ حضر ت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ کا سوز عشق تھا جو نزدیک آنے والوں کو بھڑکتے ہوئے شعلوں کے مانند محسوس ہوتا تھا۔
بابا فرید رحمۃ اﷲ علیہ کی عجیب حالت تھی۔ حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ آپ کو سینے سے لگائے ہوئے فرما رہے تھے ’’فرید! ہم تو خانماں برباد ہیں‘ نہ ہماری کوئی ملکیت ہے اور نہ کوئی جاگیر‘ بس سوزنہاں کی ایک میراث ہے جس نے ہمیں جلا کر خاکستر کردیا ہے۔ ایک چنگاری تیری نذر بھی کئے دیتا ہوں کہ اس چنگاری کے بغیر درویش‘ درویش نہیں ہوتا‘ نیکیوں اور عبادتوں کا سوداگر بن جاتا ہے۔ بس اب جاکہ تیری منزل بہت دور ہے۔ اﷲ تیرے قدموں کو استقامت بخشے اور تیرے سر پر ہمیشہ اس کی رحمت سایہ فگن رہے۔ اگر کبھی تجھے یہ جاں سوختہ یاد آئے تو اس کے حق میں بھی دعائے خیر کرنا کہ یہ آگ بجھنے نہ پائے۔ یہاں تک کہ تمام اعضاء دل ‘ دماغ اور روح جل کر خاک ہوجائیں… اور پھر یہ خاک کوچہ یار میں بکھر جائے اور اسے تیز ہوائیں در بدر اڑاتی پھریں‘‘ اتنا کہہ کر حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ زمین پر بیٹھ گئے۔
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ تاریک غار سے نکل آئے مگر اس طرح کہ آپ کے قدم تھکے تھکے تھے اور آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو حضرت شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ سے بچھڑنے کا بہت غم تھا مگر مجبور تھے کہ ابھی آپ کی منزل بہت دور تھی۔
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے بدخشاں کو خیرباد کہا اور چشت کی طرف روانہ ہوگئے۔ یہ وہی مقام ہے جس کی نسبت سے سلسلہ چشتیہ کے روضہ مبارک کی زیارت کی حضرت خواجہ ابو یوسف چشتی رحمتہ اﷲ علیہ کا شمار سلسلہ چشتی کے نامور بزرگوں میں ہوتا ہے۔ اگر ہم اس موقع پر مختصراً پیران چشت کا شجرہ بیان کردیں تو یقیناً قارئین کی معلومات میں ایک گرانقدر اضافہ ہوگا۔
٭…٭…٭
سلسلہ چشتیہ کاآغاز امیر المومنین حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہوتا ہے۔ مشہور روایات کے مطابق حضرت علی کرم اﷲ وجہ نے حضرت خواجہ حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ کو خرقہ خلافت عطا کیا۔ حضرت خواجہ حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ کو برصغیر پاک و ہند کے بیشتر لوگ محض ایک صوفی بزرگ کی حیثیت سے جانتے ہیں مگر جن کی نگاہیں تاریخ آشنا ہیں وہ اس راز سے بھی واقف ہیں کہ حضرت حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ ایک عظیم محدث تھے اور درجہ امامت پر اس طرح فائز تھے کہ امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمتہ اﷲ علیہ اور حضرت امام مالک رحمتہ اﷲ علیہ بھی آپ کا بہت احترام کرتے تھے۔ حضرت حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ کو تمام اولیائے کرام کے درمیان یہ شرف خاص حاصل ہے کہ آپ کی والدہ محترمہ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہما کی کنیز تھیں بچپن میں جب حضرت حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ کی مادر گرامی کسی کام میں مصروف ہوتیں اور آپ رونے لگتے تو ام المومنین آپ کو گود میں اٹھا کر اپنا دودھ پلادیتیں۔ حضرت امام نووی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں۔
’’حضرت حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ کے کلام میں جو غیر معمولی وضاحت اور حکمت پائی جاتی ہے‘ وہ سب اسی مقدس شیرخوارگی کا صدقہ تھا‘‘
حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ کو حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا کے تعلق سے دوسری ازواج مطہرات کے گھروں میں بھی آنے جانے کا موقع ملتا تھا۔ ولادت کے بعد جب آپ کو امیرالمومنین حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں پیش کیا تو مسلمانوں کے عظیم و جلیل خلیفہ نے بے اختیار فرمایا ’’یہ بہت ہی خوبصورت ہے۔ اس کا نام حسن رکھو‘‘
حضرت حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ کو ایک سو بیس صحابہ کرام کی خدمت میں حاضر ہونے کا شرف حاصل تھا۔
ام المومنین حضرت سلمہ رضی اﷲ عنہا نے آپ کی تربیت کی اور ہمیشہ یہی دعا کرتی رہیں ’’اے اﷲ! حسن کو دنیا کا رہنما بنادے‘‘
حضرت امام حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ کی زندگی میں ایسے بے شمار واقعات پیش آئے جو تاریخ کے اوراق پر نقش ہوکر رہ گئے ہیں۔ ایک بار حضرت امام حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ کی مجلس درس آراستہ تھی۔ آپ نہایت شیریں اور پرجوش لہجے میں معرفت کے رموز و اسرار بیان فرما رہے تھے کہ اچانک حاضرین مجلس پر سکتہ طاری ہوگیا۔ حجاج بن یوسف اپنے سپاہیوں اور شمشیر بے نیام کے ساتھ حضرت امام حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ کے مکتب میں داخل ہوا۔ اس ستم پیشہ اور جفا کار انسان کو دیکھ کر لوگوں کی آنکھیں پتھرا گئیں اور سانسیں رکتی ہوئی سی محسوس ہونے لگیں۔ بیشتر حاضرین مجلس حجاج بن یوسف کے خوف سے کھڑے ہوگئے اور سوچنے لگے کہ آج حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ کا امتحان ہے۔ وہ حجاج کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوئے ہیں یا درس میں مشغول رہتے ہیں۔ لوگ اپنے اپنے ذہن کے مطابق سوچتے رہے مگر حضرت امام حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ نے والی عراق کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا کہ آپ کے سامنے دنیا کا سفاک ترین انسان کھڑا ہے۔ بالاخر جب حضرت امام حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ کا وعظ ختم ہوگیا تو حجاج بن یوسف نے پکار کر کہا۔
’’اگر تم کسی مرد خدا سے ملنا چاہتے ہو تو حسن رحمتہ اﷲ علیہ کا چہرہ دیکھ لو‘‘
حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کے تربیت یافتہ یہی وہ حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ ہیں جن سے سلسلہ چشتیہ کو دنیا میں فروغ حاصل ہوا۔ آپ نے زندگی بھر دولت و اقتدار کی نفی کی اور پھر 4 محرم 111ھ کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
جب حضرت امام حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ دنیا سے رخصت ہونے لگے تو آپ نے حضرت شیخ عبدالواحد بن زید رحمتہ اﷲ علیہ کو خرقہ خلافت عطا کرتے ہوئے نصیحت فرمائی کہ اس عظیم امانت کی حفاظت کرنا ورنہ بروز حشر اﷲ کے سامنے بڑے شرمسار ہوگے۔ واضح رہے کہ یہ وہ شیخ عبدالواحد رحمتہ اﷲ علیہ نہیں ہیں جن سے بدخشاں کے ایک تاریک غار میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے ملاقات کی تھی۔
حضرت  شیخ عبدالواحد بن زید رحمتہ اﷲ علیہ 177ھ میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ آپ نے اس عالم خاکی کو الوداع کہا تو سلسلہ چشتیہ کی یہ امانت حضرت فضیل بن عیاض رحمتہ اﷲ علیہ کو منتقل ہوگئی۔
حضرت فضیل بن عیاض کو یہ شرف بھی ہاصل ہے کہ آپ فقہ میں امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمتہ اﷲ علیہ کے شاگرد تھے۔ روایت ہے کہ آپ اپنے عہد شباب میں رہزنوں اور قزاقوں کے سردار تھے۔ پھر جب ہدایت غیبی نصیب ہوئی تو اولیاء کی سرداری کے منصب پر فائز ہوئے۔ خلفیہ ہارون رشید آپ کے بارے میں کہا کرتا تھا:
حقیقتاً بادشاہ تو فضیل بن عیاض رحمتہ اﷲ علیہ ہیں‘‘
پھر 187ھ میں یہ شہنشاہ معرفت زیر خاک سوگیا مگر جانے سے پہلے خرقہ خلافت حضرت ابراہیم بن ادھم رحمتہ اﷲ علیہ کو منتقل ہوگئے۔
حضرت ابراہیم بن ادھم رحمتہ اﷲ علیہ بلخ کے حکمران تھے مگر جب آتش عشق نے آپ کے دل و دماغ کو جلا ڈالا تو تخت و تاج چھوڑ کر قصر شاہی سے یہ کہتے ہوئے نکل آئے ’’اے اﷲ! میں حاضر ہوں۔ اے اﷲ! میں حاضر ہوں‘‘
بے شمار دلوں کا میل دھوکر اور لاتعداد ذہنوں کی کثافت دور کرکے حضرت ابراہیم بن ادھم رحمتہ اﷲ علیہ  265ھ یا 267ھ میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ وفات سے چند روز پہلے آپ نے حضرت حذیقہ مرعشی رحمتہ اﷲ علیہ کو خرقہ خلافت پہنایا اور نہایت پرسوز لہجے میں تلقین فرمائی۔
’’حذیقہ! میں تجھے جو لباس پہنا رہاہوں وہ بہت حساس اور نازک ہے۔ ریاکاری کے پتھر سے شیشے کی اس قباء کو محفوظ رکھنا‘ ورنہ ایک کنکری سے یہ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائے گا۔ اسے غلاظت سے بچانا کہ ساری دنیا گناہوں کا تالاب ہے جس کا پانی گلی گلی اور کوچہ کوچہ  بہہ رہا ہے۔ بہت احتیاط سے قدم اٹھانا کہ اس کثیف پانی کی ایک چھینٹ پورے لباس کو داغدار کردے گی‘‘
حضرت حذیقہ کا خاندانی نام خواجہ سدید الدین تھا۔ آپ مرعش کے رہنے والے تھے جوشام کے قریب ایک آباد شہر ہے۔ اسی شہر کی نسبت سے آپ مرعشی کہلاتے ہیں۔ حضرت حذیقہ نے سات سال کی عمر میں نہ صرف قرآن کریم حفظ کرلیا تھا بلکہ ساتوں مشہور قراتوں میں بھی مہارت حاصل کرلی تھی۔ آپ کا طریقہ تھا کہ جس درویش سے بھی ملاقات کرتے اس سے اپنے حق میں دعائے خیر کراتے۔ حضرت فضیل بن عیاض رحمتہ اﷲ علیہ اور حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت حذیقہ مرعشی رحمتہ اﷲ علیہ کو بچپن میں ایک بار دیکھا تھا۔
حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اﷲ علیہ نے آپ کو دیکھتے ہی فرمایا تھا ’’حذیقہ! مرد خدا ہیں اور جوان ہوکر بہت سے لوگوں کو منزل مقصود تک پہنچائیں گے‘‘
حضرت حذیقہ مرعشی نے پیران چشت کا خرقہ حضرت ہبیرہ بصری رحمتہ اﷲ علیہ کو منتقل کیا اور عالم خاکی سے عالم بالا کی طرف تشریف لے گئے۔ حضرت ہبیرہ بصری رحمتہ اﷲ علیہ نہایت عالم و فاضل بزرگ تھے۔ آپ کو ’’ناصر شریعت‘‘ اور ’’امام طریقت‘‘ کے لاب سے یاد کیا جاتا تھا۔
حضرت ہبیرہ بصری رحمتہ اﷲ علیہ نے سلسلہ چشتیہ کی یہ امانت حضرت شیخ محشاد علو دینوری رحمتہ اﷲ علیہ کے سپرد کی اور سفر آخرت پر روانہ ہوگئے۔
حضرت شیخ محشاد رحمتہ اﷲ علیہ ایک امیروکبیر خاندان سے تعلق رکھتے تھے مگر جب آپ درویشی کی طرف راغب ہوئے تو ساری دولت محتاجوں میں تقسیم کردی۔ یہاں تک کہ اپنے افطار کے لئے بھی کوئی چیز باقی نہ رہنے دی۔ تمام سرمایہ لٹا دینے کے بعد حضرت شیخ نے دست دعا دراز کیا اور نہایت رقت آمیز لہجے میں عرض کرنے لگے۔
’’اے اﷲ! میرے اور تیرے درمیان جو ہلاک کردینے والی شئے حائل تھی‘ میں نے اسے راستے سے ہٹادیا۔ اب مجھے تیری رضا کے سوا کچھ نہیں چاہئے‘‘
14 محرم 299ھ کو معرفت کا یہ آفتاب ضیاء بار بجھ گیا مگر غروب ہونے سے پہلے حضرت شیخ محشاد رحمتہ اﷲ علیہ نے پیران چشت سے حاصل کردہ روشنی حضرت ابو اسحاق چشتی رحمتہ اﷲ علیہ کو منتقل کردی۔
حضرت ابو اسحاق چشتی رحمتہ اﷲ علیہ شام کے رہنے والے تھے اور یہ پہلے بزرگ ہیں کہ جن کے نام کے ساتھ ’’چشتی‘‘ کا لفظ نظر آتاہے۔ چشت خراسان ک یایک مشہور قصبے کا نام ہے۔ اس قصبے میں کچھ بزرگان دین نے روحانی تربیت کا ایک بڑا مرکز قائم کیا تھا جسے بعد میں غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی اور وہ روحانی نظام اسی مقام کی نسبت سے ’’چشتیہ‘‘ کہلانے لگا۔
حضرت ابو اسحاق چشتی رحمتہ اﷲ علیہ نے وصال سے پہلے حضرت ابو احمد چشتی رحمتہ اﷲ علیہ کو خلافت عطا کرتے ہوئے فرمایا ’’ابو احمد! مخلوق خدا بیمار ہے اس کی مسیحائی کرو‘‘
حضرت ابو احمد چشتی رحمتہ اﷲ علیہ 355ھ میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ آپ نے اپنے صاحبزادے حضرت شیخ ابو محمد چشتی رحمتہ اﷲ علیہ کو پیران چشت کی امانت منتقل کی۔
حضرت شیخ محمد چشتی رحمتہ اﷲ علیہ کے بعد حضرت ابو یوسف چشتی رحمتہ اﷲ علیہ اس روحانی خاندان کے وارث قرار پائے۔ آپ نے 459ھ میں وفات پائی۔
حضرت ابو یوسف چشتی رحمتہ اﷲ علیہ کے روحانی وارث حضرت حاجی شریف زندنی رحمتہ اﷲ علیہ تھے۔ حضرت حاجی شریف زندنی رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت خواجہ عثمان ہرونی رحمتہ اﷲ علیہ کی تربیت فرمائی۔ حضرت خواجہ عثمان ہرونی رحمتہ اﷲ علیہ کی بارگاہ جلال سے وہ خورشید معرفت طلوع ہوا جس کی روشنی سے پوری سرزمین ہند جگمگا اٹھی۔ وہ مرد باصفا حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اﷲ علیہ ہیں جن کے آستانے پر ایک لاکھ سے زیادہ سرکش راجپوت خم ہوئے۔
حضرت سلطان الہند رحمتہ اﷲ علیہ کے بعد حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ مسند خلافت پر جلوہ افروز ہوئے اور اہل کفر کے دلوں کو اس طرح فتح کیا کہ پتھر کے بچاریوں نے ’’زنار‘‘ توڑ کر پھینک دی اور اپنے ہاتھوں سے قشقشے کا نشان کھرج کر پھینک ڈالا۔
اگرچہ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نے ابھی بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے سر پر دستار خلافت نہیں جو پیرو مرشد کے حکم سے مختلف ممالک میں سرگرم سفر تھا۔
٭…٭…٭
بدخشاں سے رخصت ہوکر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ ’’چشت‘‘ پہنچے اور مشہور بزرگ حضرت ابو یوسف چشتی رحمتہ اﷲ علیہ کے مزار مبارک پر حاضری دی۔
ایک دن کسی بزرگ کی مجلس میں دیگر صوفیاء کے ساتھ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بھی موجود تھے۔ گفتگو کے دوران ایک درویش نے صاحب مجلس سے اپنا خواب بیان کرتے ہوئے کہا۔
’’کل رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میری موت واقع ہوچکی ہے اور میری روح شدید اضطراب میں مبتلا ہے‘‘
صاحب مجلس نے درویش کا خواب سنا اور اپنے علم کے مطابق تعبیر بیان کی۔
جب وہ بزرگ خاموش ہوگئے تو حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نہایت ادب کے ساتھ صاحب مجلس سے مخاطب ہوئے ’’اگر آپ اجازت دیں تو میں اس خواب کے سلسلے میں کچھ عرض کروں؟‘‘
صاحب مجلس نے نوجوان کی تابناک چہرے کی طرف دیکھا اور پھر شفقت آمیز لہجے میں کہا ’’علم کسی کی میراث نہیں۔ اگر تم اس خواب کو کسی اور زاویئے سے سمجھ سکے ہو تو بے جھجھک ہوکر اپنا مفہوم بیان کرو۔ مقصد تو یہ ہے کہ کسی طرح خواب کی تعبیر حاصل کی جائے۔ ممکن ہے اﷲ نے تمہارے ذہن رسا پر خواب کی صحیح تعبیر منکشف کردی ہو‘‘
اجازت پاتے ہی بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ ان درویش سے مخاطب ہوئے جنہوں نے یہ خواب دیکھا۔ ’’اس خواب میں موت سے مراد حقیقی موت نہیں۔ اپنی کم علمی کے باوجود جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں اس کے مطابق مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آپ سے فجر کی نماز قصا ہوگئی ہے‘‘
تمام مجلس پر سکوت طاری تھا۔ جیسے ہی بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ خاموش ہوئے‘ ان بزرگ نے بے اختیار ہوکر کہا ’’نوجوان تمہاری پیش کردہ تعبیر بالکل درست ہے۔ واقعتاً آج میری فجر کی نماز قضا ہوگئی ہے۔ جب میں نے خواب میں یہ دیکھا کہ میں مرچکا ہوں تو شدت خوف سے میری آنکھ کھل گئی۔ میںنے گھبرا کر چاروں طرف نگاہ کی۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ نماز فجر کا وقت گزر چکا ہے اور سورج طلوع ہورہا ہے‘‘
جب درویش نے نماز فجر کی قضا کا اعتراف کرلیا تو بابا رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’نماز کا قضا ہوجانا بھی ایک مسلمان کے لئے موت کی حیثیت رکھتا ہے۔ میرے نزدیک یہی آپ کے خواب کی تعبیر ہے‘‘
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی اس گفتگو سے حاضرین بہت خوش ہوئے۔ پھر صاحب مجلس نے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے بارے میں پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ’’یہ نوجوان بہت جلد افق معرفت پر خورشید تابناک بن کر ابھرے گا‘‘
٭…٭…٭
چشت سے رخصت ہونے کے بعد بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ دمشق کی جانب روانہ ہوئے۔ یہ تاریخی شہر بھی بزرگان دین اور اہل علم و فن کے بڑے مراکز میں شامل تھا۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے کچھ دن تک یہاں قیام کیا اور کئی نامور اولیائے کرام کی صحبتوں سے فیض یاب ہوئے۔
اس وقت دمشق کے مشہور بزرگوں میں حضرت شہاب الدین زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ کا نام زیادہ نمایاں تھا۔ ایک دن بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بھی شیخ زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ کی مجلس میں شریک تھے کہ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس میں معرفت کے طلب گاروں کے لئے بڑا سبق تھا۔
حضرت شیخ شہاب الدین زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ روحانیت کے کسی موضوع پر گفتگو کررہے تھے اور سننے والوں پر ایک وجد سا طاری تھا۔ پھر جیسے جیسے حضرت شیخ کی تقریر ختم ہوئی تو حاضرین مجلس میں سے ایک شخص اپنی نشست پر اٹھ کر کھڑا ہوا اور عرض کرنے لگا۔
’’شیخ آپ کا وہ مرید جسے آپ نے کچھ دن پہلے خرقہ عطا کیا ہے‘ اہل دنیا سے بہت زیادہ میل جول رکھتا ہے‘‘
حضرت شیخ شہاب الدین زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ نے بڑے صبروتحمل سے یہ ناخوشگوار خبر سنی۔ جس مرید کے بارے میں اہل دنیا سے ربط و ضبط رکھنے کی اطلاع دی جارہی تھی‘ دراصل وہ شیخ زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ کا محبوب ترین مرید تھا جب آپ نے اسے خرقہ (معرفت کا لباس) عطا کیا تھا تو بڑے والہانہ انداز میں فرمایا تھا۔
’’فرزند! اس درویش کے پاس جو کچھ تھا وہ سب تجھے بخش دیا‘ اپنی چاہتیں‘ اپنے جذبے‘ اپنی محبتیں اور اپنی دعائیں سب تیرے دامن میں ڈال دیں۔ اپنی فغان نیم شہی‘ اپنی آہ سحر گاہی‘ اپنے قلب کا گداز اور اپنی روح کا سوز اس خرقے میں شامل کردیا ہے۔ اسے محض ایک زرد رنگ کا کپڑا نہ سمجھنا‘ یہ تیرے شیوخ کی وہ نشانی ہے۔ جس کے ایک ایک تار میں ان کا اپنا لہو شامل ہے‘ دنیا کے گردوغبار اور حرص وہوس کی کثافتوں سے اسے محفوظ رکھنا‘‘
آج اسی مرید کے بارے میں شیخ زندوسی کو خبر ملی تھی کہ اس نے تمام نصیحتوں کو فراموش کرکے اہل دنیا سے رشتہ جوڑ لیا ہے۔
’’اس کے مزید اعمال کیا ہیں؟‘‘ حضرت شیخ شہاب الدین زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ نے کہنے والے شخص سے دریافت کیا۔
’’لوگ آپ کے بخشے ہوئے متبرک خرقے کے باعث خاموش رہتے ہیں لیکن وہ مسلسل اس پردے میں دنیاوی مفادات حاصل کررہا ہے‘‘ کہنے والے نے مزید وضاحت کی۔
پھر اہل مجلس نے دیکھا کہ حضرت شیخ شہاب الدین زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ کے چہرہ مبارک کا رنگ متغیر ہوگیا اور اذیت و کرب کے آثار نمایاں ہونے لگے۔ بڑا تکلیف دہ مرحلہ تھا۔ ایک شخص جس نے اپنی زندگی کی ساری لذتوں کو ترک کرکے خانقاہ کا وقار قائم کیا تھا‘ اس کا ایک نمائندہ کوچہ در کوچہ روحانی نظام کو بدنام کرتا پھر رہا تھا۔ حضرت شیخ زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ بہت دیر تک سوگوار بیٹھے رہے جیسے ان کا کوئی محبوب عزیز دنیا سے گزر گیا ہو۔ اس کے ساتھ ہی پوری مجلس کا رنگ بھی بدل کر رہ گیا اور شیخ زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ کا اضطراب دیکھ کر حاضرین بھی اداس نظر آنے لگے۔
پھر ایک طویل وقفہ سکوت کے بعد حضرت شیخ رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے خدمت گاروں سے فرمایا۔ ’’اسے تلاش کرکے میرے روبرو حاضر کرو‘‘
پھر جب وہ نافرمان مرید حضرت شیخ شہاب الدین زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ کے بارگاہ میں حاضر ہوا تو مجلس کے درودیوار تک ساکت ہوگئے۔ وہاں موجود ہر شخص خاموش تھا مگر اس کے ذہن میں کئی سوالات ابھر ابھر کر ڈوب رہے تھے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ حضرت شیخ زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ اپنے اس مرید کے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بھی حیران تھے۔ کبھی اس سرکش مرید کو دیکھتے اور کبھی حضرت شیخ رحمتہ اﷲ علیہ کی طرف نگاہ کرتے۔
مرید سر جھکائے کسی مجرم کی طرح بارگاہ شیخ میں کھڑا رہا۔ حضرت شیخ شہاب الدین زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ کی چشم جلال اٹھی اور وہ عہد شکن کانپ کر رہ گیا۔
’’لوگ کہتے ہیں کہ تونے میرے پہنائے ہوئے خرقے کو نیلام گاہ میں فروخت کردیا ہے؟‘‘ شیخ زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ اپنے مرید سے مخاطب ہوئے تو حاضرین کو محسوس ہوا جیسے آپ کی نوائے آتشیں سے پوری مجلس جل اٹھی ہو۔
مرید کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اس لئے بدستور خاموش کھڑا  رہا۔
’’آخر تونے ایسا کیوں کیا؟‘‘ حضرت شیخ زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ کے لہجے کا جلال مزید نمایاں ہوگیا تھا۔
’’شیخ محترم! میں اپنے دل سے مجبور ہوگیا تھا‘‘ مرید کے جسم پر لرزہ طاری تھا اور اس کی آواز بھی کانپ رہی تھی ’’میں نے بہت کوشش کی کہ آخرت کے وعدے پر مطمئن ہوجائوں مگر میرے دل میں دنیا کی محبت اس طرح موجزن تھی کہ میں اپنی ذات کو غرقاب ہونے سے نہیں بچا سکا۔ میری ظاہر پرست فطرت نے مجھے نام و نمود کے کوچہ و بازار میں لے گئی اور پھر صبر کا دامن میرے ہاتھوں سے چھوٹ گیا ’’مرید برسر مجلس اعتراف جرم کررہا تھا۔ اور وہ ایسا کرنے پر مجبور تھا کہ اس کا گناہ شیخ کی نگاہ کشف سے پوشیدہ نہیںرہ سکتا تھا۔
’’وہ دن یاد کر جب تو اس خانقاہ میں داخل ہوا تھا اور تونے مجھ سے دل کی دولت طلب کی تھی ’’حضرت شیخ شہاب الدین زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ کی پرجلال آواز کی گونج رہی تھی اور اہل مجلس پرسکوت مرگ سا طاری تھا ’’کیا میں نے تجھ سے نہیں کہا تھا کہ یہ زندگی کا مشکل ترین راستہ ہے؟ کیا میں نے تجھے خبردار نہیں کردیا تھا کہ اس ریگزار میں تیرے پائوں آبلوں سے بھر جائیں گے؟ کیا تجھ پر یہ راز فاش نہیں کیا گیا تھا کہ اس راستے میں لوگ مصلوب بھی کئے جاتے ہیں‘ حوالہ زنداں بھی ہوتے ہیں… زنجیر ستم ہڈیوں پر اپنے نشانات بھی چھوڑ جاتی ہے اور جب قتل گاہ شوق ویران ہونے لگتی ہے تو اسے زندانہ جاں دے کر آباد کیا جاتا ہے… تجھ پر ایک ایک بات روشن تھی۔ پھر بھی تو روشنی کے حصار سے نکل کر اندھیروں کے سراغ میں چلا گیا… تونے آداب سفر بھلا دیئے اور رہزن دنیا کی رہنمائی قبول کرلی۔ منزل سے برگشتہ ہوگیا۔ اپنے قول سے انحراف کیا اور سارے عہدوپیمان بھلا دیئے۔ پھر کیا باقی رہا؟ خدا کی قسم! اب غبار ہی غبار ہے۔ گرد ہی گرد ہے اور خاک ہی خاک ہے۔ قبائے بے رنگ پہن کر کچھ دن اور جی لے۔ بہت جلد سانسوں کا شمار ختم ہونے والا ہے پھر تجھے معلوم ہوجائے گا کہ دنیا اور آخرت ایک مرکز پر جمع نہیں ہوسکتے‘‘ حضرت شیخ شہاب الدین زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ بول رہے تھے اور خانقاہ میں موجود درویشوں کا یہ حال تھا کہ وہ پتھروں کے ستون کے مانند ہوکر رہ گئے تھے تو مرید کے لئے اب کوئی جائے اماں نہیں تھی‘ کوئی پناہ گاہ نہیں تھی۔ وہ بحر ندامت میں ڈوبتا جارہا تھا۔
’’تونے اس رشتہ اعتبار کو پامال کر ڈالا۔ جو اہل وفا کی پہچان ہے‘‘ حضرت شیخ زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ مختصر سی خاموشی کے بعد اپنے مرید سے دوبارہ مخاطب ہوئے ’’جب تیری پہچان ہی گم ہوگئی تو خود بھی میری بارگاہ سے چلا جا اور اپنی ذات کو سرکشی کے غبار میں گم کردے۔ یہاں تک کہ وقت معلوم سر پر آپہنچے اور پھر تیرے پاس کوئی دلیل باقی نہ رہے‘‘ اتنا کہہ کر حضرت شیخ الدین زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ اپنی نشست سے اٹھے اور آگے بڑھ کر مرید کے جسم سے وہ خرقہ اتار لیا جو خود ہی آپ نے اپنے ہاتھوں سے بڑے نازو محبت کے ساتھ اسے پہنایا تھا۔
پھر جب وہ مرید خانقاہ سے نکل کر چلا گیا تو حضرت شیخ زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ نے اہل مجلس کو مخاطب کرکے فرمایا ’’جانے والا چلا گیا کہ اسے جانا ہی تھا۔ مقتول عشق کا مسافر تھا لیکن اہل دنیا اور ان کی تراشی ہوئی رسموں سے ڈرتا تھا۔ اسے ظاہر کرکے خوف نے کھالیا۔ صد حیف! اس نے باطل کی طرف نہیں دیکھا۔
’’شیخ‘‘ وہ سرکش تھا۔ پھر آپ اس کے لئے اتنے آزردہ کیوں ہیں؟‘‘ کسی درویش نے سوال کیا۔
’’جانے والے کو کیا معلوم کہ وہ میری ریاضت تھا۔ ایسی ریاضت جو رائیگاں گئی۔ وہ میری تمام زندگی کی دعائوں کا ثمر تھا ایسی دعائیں جو باب اثر سے لوٹ آئیں‘‘ یہ کہتے کہتے حضڑت شیخ شہاب الدین زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ کی آواز سے رقت جھلکنے لگی تھی۔
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اس واقعہ سے بہت زیادہ متاثر ہوئے تھے۔ شیخ زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ کی دلی کیفیت کا اندازہ کرکے اداس نظر آنے لگے تھے۔
پھر گفتگو کے دوران ایک طویل لمحہ سکوت حائل ہوگیا۔ حضرت شیخ زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ کے چہرہ مبارک پر اذیت و کرب کے آثار اب تک نمایاں تھے۔
اہل مجلس بھی اس واقعہ سے غمزدہ نظر آرہے تھے کہ یکایک حضرت شیخ زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ عجیب سے لہجے میں فرمانے لگے۔
’’مرید بھی پیر کے جسم کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ اگر اسے اپنے دل کے اتنے قریب نہ سمجھا جائے تو پھر یہ نظام خانقاہی ایک کاروبار ہے۔ جانے والا بھی میرے بدن کا ایک حصہ تھا۔ جب تک وہ دنیا کے ناہموار راستوں پر بھٹکتا رہے گا‘ میری روح بھی پریشان و مضطرب رہے گی‘ وہ جس راہ سے بھی گزرے گا‘ میری آنکھیں اس کی نگراں ہوں گی۔ میں اس کے تنہا اور کمزور جسم کو وقت کی بے رحم آنکھوں کا ہدف بنتے ہوئے کس طرح دیکھ سکتا ہوں؟ شاید مجھے دیکھنا ہوگا… مگر اﷲ ہی جانتا ہے کہ لوح محفوظ پر کیا رقم ہے۔ بس اسی کو خبر ہے کہ مجھے کیا دیکھنا ہوگا؟‘‘
اہل مجلس حیران تھے کہ کہاں حضرت شیخ زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ کا وہ قہر بے کنار‘ وہ بے انداز حقیقت … اور کہاں یہ سوز فراق؟ دونوں میں کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ بڑا تضاد تھا جسے اہل مجلس سمجھنے سے قاصر تھے۔
پھر آپ نے اس کے جسم سے خرقہ خلافت کیوں اتار لیا؟ ایک دوسرے درویش نے ان متضاد کیفیات کا مفہوم سمجھنے کی غرض سے شیخ کے حضور عرض کیا۔
’’یہ بھی ضروری تھا‘‘ حضرت شہاب الدین زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔ ’’اگر میں ایسا نہ کرتا تو وہ اور بے راہ رو ہوجاتا‘‘
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو اس وقت بڑی شدت سے اپنے پیر و مرشد حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ یاد آرہے تھے۔ اب آپ کو اندازہ ہوا کہ پیر ومرشد نے سیاحت کا حکم کیوں دیا تھا؟ مجلس میں موجود دوسرے درویش حضرت شیخ شہاب الدین رحمتہ اﷲ علیہ کے فرمودات پر غور کرتے رہے اور بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نمناک آنکھوں کے ساتھ دل ہی دل میں اپنے اﷲ کی پناہ مانگتے رہے۔
’’اے کارساز عالم اپنے بندے فرید کو دل کی دولت سے محروم نہ رکھ۔ چاہے غربت و افلاس کے سبب اس کا لباس ظاہری تار تار ہوجائے… اور کثرت فاقہ کشی سے اس کے چہرے کے نقش ونگار بگڑ کر رہ جائیں مگر اس کے دل کو قبرستان نہ بنا کہ ہلاکت کی اس منزل سے زیادہ خوفناک کوئی دوسری منزل نہیں ہے۔
بابا فرید کچھ دن تک حضرت شہاب الدین ولی رحمتہ اﷲ علیہ کے مہمان رہے اور پھر دمشق سے رخصت ہوکر شام تشریف لے گئے۔ یہاں بھی آپ مختلف بزرگوں کی صحبتوں سے فیض یاب ہوئے پھر آپ نے کچھ دنوں تک بیت المقدس میں قیام فرمایا۔
معتبر روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اس پاکیزہ سرزمین پر چلہ بھی کیا تھا۔ یہ جگہ اب تک ’’زاویہ فرید الدین ہندی‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ وقف کے طور پر یہاں ایک عمارت تعمیر کردی گئی ہے جو کئی کمروں (حجروں) پر مشتمل ہے۔ زائرین جب بھی اس مرد عظیم کی ایک نشانی کو دیکھنے کے لئے آتے ہیں تو انہی حجروں میں قیام کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں زائرین سے کوئی کرایہ وصول نہیں کیا جاتا۔
٭…٭…٭
بعض مستند روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ طویل سیاحت کے دوران بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے نیشاپور میں بھی قیام فرمایا تھا۔ یہت تاریخی شہر جہاں اور کئی حوالوں سے مشہور ہے وہاں اس سرزمین کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ یہاں نامور بزرگ حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنی خانقاہ تعمیر کی تھی اور بے شمار بھٹکتے ہوئے مسافروں کوان کی منزلوں کا پتہ دیا تھا۔ جب حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ حضرت فرید الدین عطار رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت شیخ نے آپ کا والہانہ استقبال کیا اور شدت جذبات سے سرشار ہوکر فرمایا۔
’’لوگو! غور سے دیکھو کہ کون آیا ہے؟ فرید ہندی آیا ہے میرا محبوب فرید ہندی‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمتہ اﷲ علیہ کے اس اخلاق کریمانہ سے بہت متاثر ہوئے اور جب تک نیشاپور میں آپ کا قیام رہا‘ اس مرد جلیل کے فیض صحبت سے استفادہ کرتے رہے۔
پھر جب حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نیشاپور سے رخصت ہوگئے تو چند سال بعد ایک بڑا جانگداز واقعہ پیش آیا جسے پڑھ کر آج بھی اہل دل کی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔
بے عملی اور بے خبری کے سبب جب گردش وقت نے مسلمانوں کا احتساب کیا تو یہ آباد شہر آن ہی آن میں مقتل بن گیا۔ منگولوں نے ہلاکو خان کی زیر قیادت نیشاپور پر حملہ کیا اور جب اہل شہر کو نوشتہ دیوار صاف نظر آنے لگا کہ حاکم نیشاپور چند معززین کے ہمراہ شیخ فرید الدین عطاررحمتہ اﷲ علیہ کی خانقاہ میں حاضر ہوا اور اپنی قوم کی تباہی و بربادی کا مرثیہ پڑھنے لگا۔
’’شیخ! ہماری قوم کا سفینہ گرداب ہلاکت میں اس طرح گھر گیا ہے کہ ساحل کے آثار دور تک نہیں آتے۔ اگر آپ نے ہمارے حق میں دعائے خیر نہیں کی تو یہ موج خوں سروں سے گزر جائے گی اور پھر کچھ بھی باقی نہیں رہے گا‘‘
’’کیا تمہیں یقین ہے کہ میری دعائیں اس طوفان بلاخیز کو روک لیں گی؟‘‘ حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمتہ اﷲ علیہ نے حاکم نیشاپور سے دریافت کیا۔
’’یقینا ایسا ہی ہوگا‘‘ والی نیشاپور نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بلند آواز میں کہا۔
’’میں تو اہل شہر کے لئے روز ہی دعائیں کرتا ہوں۔ پھر نفرت و قہر کے نمائندوں نے ادھر کا رخ کیوں کیا؟‘‘ حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمتہ اﷲ علیہ نے حاکم نیشاپور سے پوچھا۔
معززین شہر حیرت سے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ حاکم نیشاپور بھی حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمتہ اﷲ علیہ کے اس سوال کو سمجھنے سے قاصر تھا۔
حضرت شیخ نے مختصر سے وقفہ سکوت کے بعد دوبارہ حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ’’جب سالہا سال سے تمہاری آنکھیں بند ہیں تو اب بھی انہیں بند ہی رہنے دو کہ آنکھیں کھول کر دیکھنے سے بھی عافیت کی منزل نظر نہیں آئے گی۔ جو دماغ عیش و نشاط کے گہوارے میں سوتے رہے ہیں‘ انہیں محو خواب ہی رہنے دو کہ اب جشن بیداری بھی بے سود ہے‘ جہاں سے جاگو گے‘ وہیں سے زندگی کی شام ہوجائے گی۔ تم نے قدرت کی دی ہوئی مہلت سوکر گزار دی۔ اب کچھ نہیں ہوگا‘‘
حاکم نیشاپور کو حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمتہ اﷲ علیہ کا یہ جواب پسند نہیں آیا۔ اس نے کسی قدر ناخوشگوار لہجے میں کہا۔
’’آپ خانقاہ کے ایک گوشے میں تشریف فرما ہیں۔ آپ کو کیا معلوم کہ ہلاکو نے قتل و غارت کا کیسا بازار گرم کررکھا ہے۔ ہمارے کھیت جل کر سیاہ ہوچکے ہیں۔ دریائوں کا پانی ہمارے ہی خون سے سرخ ہوگیا ہے منگولوں کی شمشیر سفاک نہ عورتوں کا لحاظ کرتی ہے اور نہ بچوں اور بوڑھوں کا‘‘
’’تم ٹھیک کہتے ہو کہ میں خانقاہ کے ایک گوشے میں قید ہوں۔ تمہارے خیال میں صوفی کا کردار اس کے سوا کیا ہوسکتا ہے؟‘‘ حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمتہ اﷲ علیہ کے لہجے میں تلخی نمایاں تھی۔ لہجے کی یہ ناخوشگواری ان اعتراضات کے جواب میں تھی جو اہل شہر نے صوفیوں کے حق میں روا رکھے تھے۔ بے دریغ کہا جاتا تھا کہ صوفیوں کو گوشہ نشینی کے سوا کیا آتا ہے؟ یہ لوگ انسانی معاشرے کا عضو ناکارہ ہیں۔ دن کو گردنیں خم کئے ہوئے حالت استغراق میں بیٹھے رہتے ہیں اور راتوں کے سناٹے میں شور مچاتے ہیں۔ راتوں کے شور سے ان کی مراد یہ تھی کہ جب صوفیائے کرام نصف شب کوبلند آواز سے ذکر الٰہی کرتے ہیں تو نیند کے متوالوں کو زندگی بخشنے والی یہ آواز ناگوار گزرتی ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ حاکم نیشاپور نے حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمتہ اﷲ علیہ کی گوشہ نشینی اور جنگ سے بے خبری کا ذکر کیاتھا… مگر ذکر کرتے وقت اس کی بدحواسی کا یہ عالم تھا کہ وہ ایک عظیم بزرگ کی خانقاہ کے آداب بھول گیا تھا اور اس کی گفتگو کسی حد تک گستاخانہ رنگ اختیار کرگئی تھی۔
حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمتہ اﷲ علیہ نے اہل نیشاپور کے اسی ناروا سلوک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا۔
’’ہاں میں خانقاہ کے ایک گوشے میں قید رہتا ہوں۔ مگر اس کے باوجود میرا خدا مجھے سب کچھ دکھاتا ہے‘‘ اہل شہر کو اس کی خبر نہیں مگر حضرت شیخ رحمتہ اﷲ علیہ کو ایک گوشہ خانقاہ سے سب کچھ دکھایا جارہا تھا۔
حاکم نیشاپور اپنے الفاظ پر نادم ہوگیا اور بڑی شرمساری کے ساتھ حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمتہ اﷲ علیہ سے معافی مانگنے لگا۔
’’میرا یہ مقصد ہرگز نہیں تھا کہ تم شرمندہ و خجل ہوجائو‘‘ حضرت شیخ عطار رحمتہ اﷲ علیہ نے حاکم نیشاپور کو مزید احساس ندامت سے بچانے کے لئے فرمایا ’’یہ حقیقت ہے کہ ایک خرقہ پوش صوفی ایک فاقہ کش درویش تم لوگوں کے لئے کچھ نہیں کرسکتا۔ اور وہ شخص ایک طوفان بلا خیز کو روکنے کے لئے بھی کیا کرسکتا ہے جسے دو وقت کی روٹی تک میسر نہیں… تم جائو اور اپنے تمام تر وسائل سمیٹ کر دشمن کی یلغار کا بھرپور مقابلہ کرو۔ یہی تمہاری بیماری کا علاج ہے اور یہی تمہارے مسئلے کا حل ہے‘‘
’’یہ باتیں ایک کم فہم انسان بھی جانتا ہے مگر میں اور نیشاپور کے تمام باشندے آپ کی دعائوں کے طالب ہیں۔ اب ہر زبان پر یہی الفاظ جاری ہیں کہ کوئی فوج ہلاکو کے لشکر قہر کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ کیونکہ مقابلے کا وقت گزر چکا۔ ہاں! اگر کوئی اسلحہ باقی ہے تو وہ صرف آپ کی دعائیں ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر آپ اپنا دست دعا بلند کردیں تو ہمارے سروں سے یہ قیامت ٹل سکتی ہے۔
حاکم نیشاپور کی بات سن کر حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمتہ اﷲ علیہ مسکرائے اور نہایت پرسکون لہجے میں فرمانے لگے ’’جس طرح تم یہ کہتے ہو کہ جنگ کا وقت گزر گیا‘ اسی طرح میں بھی کہتا ہوں کہ دعائوں کا وقت گزر گیا‘‘
حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمتہ اﷲ علیہ کی بے نیازی دیکھ کر حاکم نیشاپور اپنے حواس پر قابو نہ رکھ سکا۔ اگرچہ وہ حضرت شیخ رحمتہ اﷲ علیہ کا عقیدت مند تھا لیکن موت کے خوف نے اس کے ذہن سے خانقاہ کے تمام آداب و قوانین محو کردیئے تھے۔ ایک بار پھر وہ تلخ لہجے میں کہنے لگا ’’ہمارے گھروں کے دروازوں پر موت رقص کررہی ہے اور آپ مسکرا رہے ہیں؟‘‘
’’اگر میرے رونے سے اہل شہر کی موت ٹل جاتی تو میں اپنی عادت کے خلاف پرسوز گریہ وزاری کرتا۔ یہاں تک کہ میرے آہ و فغاں سے نیشاپور کے درودیوار تک گونجنے لگتے… مگر میں جانتا ہوں کہ آنے والی موت کو کوئی بھی انسانی تدبیر نہیں روک سکتی‘‘ حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمتہ اﷲ علیہ نے موت کے آفاقی فلسفے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا
’’مسلمان اور کافر میں یہی فرق ہے کہ جب کوئی کافر موت کا چہرہ دیکھتا ہے تو اس کی گناہ گار روح جسم میں گھبراتی ہے اور وہ چیخ چیخ کر مر جاتا ہے۔ اس کے برعکس مسلمان جانتا ہے کہ موت تقدیر الٰہی ہے۔ اس لئے وہ مسکراہٹ کے ساتھ اپنے اﷲ کے فیصلے کا پرجوش خیر مقدم کرتا ہے۔ اب اگر میرے ہونٹوں پر تمہیں کسی قسم کا عکس نظر آتا ہے تو حیران کیوں ہو؟‘‘
یہ کہہ کر حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمتہ اﷲ علیہ ایک لمحے کے لئے خاموش ہوگئے اور پھر فورا ہی حاکم نیشاپور اور اس کے ہمراہ آئے ہوئے معززین شہر کو مخاطب کرکے فرمانے لگے۔
’’تم لوگ فضول باتوں میں اپنا وقت برباد نہ کرو۔ لوح محفوظ میں جو فیصلہ تحریر تھا‘ وہ اب زمین پر نازل ہوچکا ہے۔ اہل نیشاپور کو میری طرف سے خبر دو کہ اپنی شمشیریں بے نیام کرلیں اور پر آسائش بستروںکو چھوڑ کر اپنے گھروں سے نکل آئیں۔ وہ موت جو ان کے دروازوں تک آ پہنچی ہے‘ اس کا اس طرح استقبال کریں کہ مسلمانوں کی تاریخ شرمندہ نہ ہو اور دشمنوں کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ اہل اسلام نے ان کی تواضع نہیں کی۔ دشمن خدا کی تواضع یہی ہے کہ یا تو وہ خاک و خون میں نہا جائے یا پھر تم پیوند زمین ہوجائو۔ اہل نیشاپور سے یہ بھی کہہ دو کہ تم جس کی دعائوں پر اتنا اعتبار کرتے تھے‘ آج وہ خود بھی کسی کے کرم کا محتاج ہے… اور اہل نیشاپور کو یہ بھی بتادو کہ اس سیلاب بلا سے کچھ بھی نہیں بچے گا… آج نہ کسی پیر کے لئے جائے اماں ہے اور نہ کسی مرید کے لئے کوئی پناہ گاہ۔ خون کی یہ تندوسرکش موجیں سب کچھ بہا کر لے جائیں گی۔ جائو! جلدی کرو… دعائوں کا سائبان طلب کرنے والو! اپنی منتشر صفوں کو درست کرو۔ ساعتیں شمار کی جاچکیں اور لمحات گنے جاچکے۔ پھر کس کا انتظار کررہے ہو؟ اب کوئی نہیں آئے گا۔ موت صرف موت … ہلاکت‘ بربادی‘ مقتل‘ زندان‘ شورسلاسل‘ ماتم زنجیر‘ بے گوروکفن لاشیں‘ بے نشان قبریں‘ سیاہ اعمال نامے‘ تاریک انجام اس کے سوا کچھ نہیں… جائو! جلدی کرو! مجھے بھی بہت دور جانا ہے‘‘
حاکم نیشاپور جو زندگی کے دلدادہ اور موت کے تصور سے خوفزدہ تھا بارگاہ شیخ سے مایوس ہوکر اٹھا… اور اس کے پیچھے معززین شہر کی وہ جماعت بھی اٹھی جو حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمتہ اﷲ علیہ کی دعائوں کے سہارے موت کے طوفان سے بچنا چاہتی تھی۔
جیسے ہی وہ لوگ خانقاہ سے باہر نکلے‘ حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمتہ اﷲ علیہ اپنے حجرہ خاص میں چلے گئے۔ پھر کچھ دیر بعد باہر تشریف لائے تو آپ کے ہاتھ میں شمشیر بے نیام تھی۔ اپنے پیرومرشد کو آج پہلی بار اس رنگ میں دیکھ کر تمام مرید حیرت زدہ رہ گئے۔
حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمتہ اﷲ علیہ اپنے مریدوں کی دلی کیفیات کا اندازہ کرچکے تھے۔ اس لئے آپ نے ان کی حیرت و استعجاب کو دور کرنے کی غرض سے فرمایا ’’تم لوگ میری ہاتھ میں تلوار دیکھ کر حیران کیوں ہو؟ حقیقی صوفی تو وہی ہے جس کے ایک ہاتھ میں تسبیح ہو اور دوسرے ہاتھ میں شمشیر بے نیام۔ درویش وہ نہیں جو ایک ہی گوشہ خانقاہ میں ساری زندگی بسر کردے۔ درویش گوشہ نشین اس لئے ہوتا ہے کہ وہ یکسوئی کے ساتھ اپنے اﷲ کو یاد کرسکے۔ معرفت میں یہ عمل بھی اﷲ کی رضامندی کے ساتھ ہوتا ہے۔ اب اﷲ کی مرضی یہ ہے کہ درویش خانقاہوں کو چھوڑ کر میدان کارزار کا رخ کریں۔ گوشہ نشیبی بھی اسی کے لئے اختیار کی تھی اور شمشیر بکف بھی اسی کی خاطر ہورہے ہیں۔ مرضی محبوب کی تلاش ہی درویشی ہے۔ کل تک تم جس محبوب کو خانقاہ کی تنہائیوں میں ڈھونڈ رہے تھے اب وہی محبوب تمہیں جنگ کی خون رنگ فضائوں میں ملے گا۔ اگر تم نے اس وقت اس کی جستجو نہیں کی تو پھر حشر تک سینہ کوبی کرتے رہو گے اور لباس کی دھجیوں کے سوا تمہارے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ خوب سمجھ لو کہ درویش کے نزدیک ضرب شمشیر بھی لاالہ الا اﷲ ہے۔ جو ان دونوں میں تفریق کرتا ہے‘ میں اسے درویش نہیں سمجھتا‘‘
اتنا کہہ کر حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمتہ اﷲ علیہ اپنی خانقاہ سے باہر نکلے اور تاتاریوں کے ساتھ اس طرح جنگ کی کہ جیسے آپ ایک پیشہ ور سپاہی ہوں۔ پھر جب تلوار ٹوٹ گئی اور آپ زخموں سے چور ہوگئے تو گرفتار کرلئے گئے۔ منگول سپاہی اس بات پر حیران تھے کہ اتنا ضعیف العمر انسان آخر کس طرح جنگ کرسکتا ہے؟ اس وقت حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمتہ اﷲ علیہ کی عمر ایک سو چودہ سال تھی۔ تاتاری حیرت کرتے رہے مگر انہیں کون بتاتا کہ یہ اس بوڑھے شخص کی قوت ایمانی تھی جس نے عرصہ کارزار میں اپنی شمشیر زنی کے جوہر دکھائے تھے۔
پھر جب نیشاپور کے درودیوار سے دھواں اٹھنے لگا اور بستیاں جل کر راکھ ہوگئیں تو منگول سپاہی تمام اسیران جنگ کو اپنے ساتھ لے کر جانے لگے۔ حضرت شیخ فرید الدین عطاررحمتہ اﷲ علیہ بھی ان جنگی قیدیوں میں شامل تھے۔
ہلاکو خان کے سپاہی حضرت شیخ عطار رحمتہ اﷲ علیہ کو کھینچتے ہوئے لئے جارہے تھے کہ ایک تاتاری نے اپنے ساتھیوں سے کہا۔
’’یہ بوجھ کہا اٹھائو پھروگے؟ میری رائے ہے کہ اس بوڑھے کو ایک ہزار سکوں کے عوض فروخت کر ڈالو‘‘
جیسے ہی حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمتہ اﷲ علیہ نے اس تاتاری کی بات سنی۔ آپ بے اختیار بول اٹھے ’’ہرگز نہیں! مجھے ایک ہزار میں فروخت نہ کرنا۔ میری قیمت اس سے کہیں زیادہ ہے‘‘
منگول سپاہی ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ انہیں گمان ہوا کہ شاید اسیری کے صدمے نے بوڑھے کے حواس چھین لئے ہیں۔ اسی وجہ سے بے معنی گفتگو کررہا ہے۔ حملہ آور وحشیوں کو کیا معلوم کہ یہ بوڑھا قیدی کون ہے اور سر مقتل بھی علم کے کس مقام سے بول رہا ہے؟
جب درندوں کا یہ قافلہ اپنے شکاروں کو جکڑے ہوئے کچھ آگے بڑھا تو ایک دوسرے تاتاری نے اپنے ساتھیوں سے کہا ’’اس بوڑھے کا کیا کروگے؟ یہ تو کسی بھی کام کا نہیں ہے۔ اسے گھاس کی ایک گٹھری کے بدلے میں بیچ ڈالو۔ کم سے کم تمہارے جانوروں کو تھوڑی بہت خوراک تو مل جائے گی‘‘
جیسے ہی حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمتہ اﷲ علیہ نے اس تاتاری کے الفاظ سنے‘ تو بے اختیار ہوکر فرمانے لگے ’’اب تم مجھے ضرور فروخت کردو۔ میری قیمت اس سے زیادہ نہیں ہے‘‘
جس تاتاری نے حضرت شیخ عطار رحمتہ اﷲ علیہ کو گرفتار کیا تھا۔ آپ کی بات سن کر سخت طیش میں آگیا پھر اس نے فورا ہی اپنی تلوار نکالی اور ایک ہی وار میں حضرت شیخ کا سر قلم کردیا۔ بالاخر جان مضطرب قرار پاگئی اور مسافر عشق منزل شہادت سے سرفراز کردیا گیا۔
جب حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمتہ اﷲ علیہ کی شہادت کی خبر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے سنی تو شدت جذبات میں آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ پھر بڑے دل گرفتہ انداز میں فرمایا:
’’اﷲ اس مرد جلیل کی قبر کو نور سے بھردے۔ وہ ایسا جانباز تھا کہ مقتل عشق سے گزرے بغیر اس کے مضطرب قدم ٹھہر ہی نہیں سکتے تھے‘‘
علامہ اقبال نے بھی حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمتہ اﷲ علیہ کی بارگاہ جلال میں اس طرح خراج عقیدت پیش کیا ہے:
عطار ہو‘ رومی ہو‘ رازی ہو‘ غزالی ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا ہے آہ سحر گاہی!!!
٭…٭…٭
پھر واپسی میں بغداد سے گزرتے ہوئے حضرت بابا فرید الدین بخارا پہنچے۔ یہاں آپ نے چند روز تک مشہور بزرگ حضرت شیخ سیف الدین فردوسیہ رحمتہ اﷲ علیہ کی خانقاہ میں قیام فرمایا۔ خود حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا بیان ہے کہ جیسے ہی میں شیخ سیف الدین فردوسیہ رحمتہ اﷲ علیہ کی خانقاہ میں داخل ہوا تو مجھے دیکھ کر فرمانے لگے۔
’’یہ نوجوان مشائخ روزگار میں سے ہوگا۔ تمام دنیا اس کے مریدوں اور روحانی فرزندوں سے بھر جائے گی‘‘ اتنا کہہ کر آپ نے مجھے ایک سیاہ خرقہ عطا فرمایا۔
حضرت شیخ سیف الدین فردوسیہ رحمتہ اﷲ علیہ کا دستر خوان بہت وسیع تھا۔ ہزاروں بھوکے آپ کے لنگر خانے سے اپنے شکم کی آگ بجھاتے تھے۔
ایک دن حاضرین مجلس میں سے ایک شخص نے عرض کیا۔ ’’میں ایک صاحب حیثیت تاجر ہوں مگر مجھے مسلسل نقصان ہورہاہے۔ اس کے علاوہ مختلف بیماریاں بھی گھیرے رہتی ہیں‘‘
اس شخص کی عرضداشت سن کر حضرت شیخ سیف الدین فردوسیہ رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’مال و زر کا نقصان اس لئے ہوتا ہے کہ جب اپنے فرائض کے سلسلے میں کوتاہی سے کام لے اور زکوٰۃ ادا نہ کرے۔ رہی بیماری تو یہ قدرت کا ایک راز ہے۔ ابن آدم پر بیماری اس لئے مسلط کی جاتی ہے کہ اس کا دل صحت مند ہوجائے۔ دل کی صحت اس طرح ممکن ہے کہ انسان بیماری میں اپنے اﷲ کو یاد کرے اور گناہوں سے تائب ہوجائے۔ یہ ایک غیبی تنبیہ ہوتی ہے۔ اگر انسان اس تنبیہ کا مفہوم سمجھ لے تو راہ راست پر آجاتا ہے۔ ورنہ مسلسل غفلت اسے مزید امراض میں مبتلا کردیتی ہے۔ یہاں تک کہ موت سر پر آجاتی ہے اور انسان توبہ کئے بغیر جہنم کے سفر پر روانہ ہوجاتا ہے۔‘‘
کچھ دن تک حضرت شیخ فردوسیہ رحمتہ اﷲ علیہ کی محبتوںسے فیضیاب ہوکر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اپنے وطن ملتان کی جانب روانہ ہوگئے
٭…٭…٭
ملتان پہنچتے ہی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ مادر گرامی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے کوئی تشنہ لب دریا کے کنارے پہنچ کر پیاس کی شدت سے نڈھال ہوجائے۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بھی اسی کیفیت سے دوچار تھے۔ جیسے ہی آپ نے والدہ محترمہ کے رخ روشن کو دیکھا‘ بے اختیار آگے بڑھے اور قدموں سے لپٹ کر رونے لگے۔
مادر گرامی بھی فرزند کی جدائی سے بے حال تھیں مگر جب اپنے جسم کے گم شدہ حصے کو اتنے قریب پایا تو فرط جذبات سے اشکبار ہوگئیں۔ کچھ دیر تک عجیب سی رقت انگیز حالت سکوت طاری رہی۔ پھر جب دل بے قرار کی دھڑکنیں متوازن ہوگئیں تو قرسم خاتون رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے سعادت مند بیٹے کو اٹھا کر سینے سے لگالیا اور بے شمار دعائوں سے سرفراز کیا۔
چند روز آرام کرنے کے بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے مادر گرامی سے عرض کیا ’’اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے شیخ محترم کی خدمت میں حاضر ہوجائوں‘‘
جوابا قرسم خاتون نے فرمایا ’’فرید! تم ابھی اس قابل تو نہیں ہو کہ اس مرد پاکباز کی مجلس میں شریک ہوسکو۔ پھر بھی میرے لئے یہ بات باعث طمانیت ہے کہ تم نے اپنے شیخ کے حکم کی تعمیل کردی ہے۔ اب یہ شیخ جانیں کہ وہ تمہیں قبول کرتے ہیں یا نہیں؟ پھر بھی میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں‘‘
جب بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ دہلی کی طرف روانہ ہوئے تو آپ کے دل کی عجیب حالت تھی۔ دوران سفر بے قرار ہوکر بار بار فرمایا کرتے تھے۔
’’یہ راستہ کبھی تمام بھی ہوگا یا نہیں؟ فرید! تو اس قابل بھی ہے کہ اس مرد عظیم کی قدم بوسی سے شرف یاب ہوسکے؟ تو اپنی منزل تک پہنچ بھی سکے گا یا پھر راستے ہی میں مرجائے گا؟‘‘
اہل شہر نے ایک نوجوان کو دیکھا جو نہایت آہستہ روی کے ساتھ چل رہا تھا اور وقفے وقفے سے رک کر راستہ چلنے والوں سے پوچھتا تھا کہ میرے شیخ کی خانقاہ کس طرف سے ہے؟ لوگ نووارد شوق کو حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ کے آستانے کاپتہ بتاد یتے اور یہ جاں سوختہ  حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کے جلال روحانی سے لرزتا آگے بڑھ جاتا۔
پھر منزل طلب قریب آگئی۔ کسی نے پکار کر کہا ’’وہ ہے حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کا دربار روحانی‘‘
خانقاہ عالیہ پر نظر پڑتے ہی بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی حالت غیر ہوگئی۔ وصال کا غم‘ ساعت فراق سے زیادہ تلاطم خیز ثابت ہوا۔ کچھ دیر کے لئے ہوش و حواس جاتے رہے مگر بے خودی میں بھی اتناہوش باقی رہا کہ سر عقیدت خم کردیا اور خانقاہ کے دروازے کے سامنے اس طرح دست بستہ کھڑے رہے جیسے اس راستے سے کسی باجبروت شہنشاہ کا گزر ہونے والا ہو۔
پھر جب گمشدہ حواس لوٹ آئے تو کانپتے قدموں سے خانقاہ میں داخل ہوئے۔ اس وقت حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کی مجلس روحانی آراستہ تھی اور دربار معرفت میں حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمتہ اﷲ علیہ‘ مولانا شمیم الدین ترک رحمتہ اﷲ علیہ‘ حضرت خواجہ محمود‘ علائو الدین کرمانی رحمتہ اﷲ علیہ‘ حضرت بدر الدین غزنوی رحمتہ اﷲ علیہ‘ حضرت برہان الدین بلخی رحمتہ اﷲ علیہ‘ حضرت نور الدین غزنوی رحمتہ اﷲ علیہ‘ حضرت ضیاء الدین رومی رحمتہ اﷲ علیہ اور حضرت شیخ نظام الدین رحمتہ اﷲ علیہ جیسے بزرگ صوفی موجود تھے۔
جب بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اس مجلس روحانیت میں پہنچے تو حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ درس دے رہے تھے۔ آپ نے ایک نظر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو دیکھا اور اپنے کام میں مشغول ہوگئے۔ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اس نظر کا مفہوم نہ سمجھ سکے۔ اگر کچھ سمجھے تو بس یہی کہ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نے آپ کو پہچانا نہیں تھا۔ یہ تصور بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے لئے دنیا کی ہر اذیت سے بڑھ کر تھا۔ جس کے حکم کی تعمیل میں کوچہ در کوچہ دامن پھیلایا۔ دروازے دروازے دستک دی۔ قلب صحرا کو پامال کر ڈالا۔ خارزاروں میں اس وقت تک سفر جاری رکھا جب تک پیروں کے آبلے پھوٹ کر نہ بہہ گئے جس کی ایک جنبش چشم نے گھر سے بے گھر کر رکھا‘ آج اسی کی نظروں میں شناسائی کا دھندلا سا عکس تک نہیں تھا۔ اس خیال نے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے ذہن کو تہہ و بالا کر ڈالا۔
’’کیا سب کچھ رائیگاں گیا؟ کیا میں زندگی بھر اس قابل نہیں ہوسکوں گا کہ اس کی بزم لطف و کرم میں بیٹھنے کے لئے کوئی نشست حاصل کرسکوں؟‘‘ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا ذہن منتشر خیالات کی زد میں تھا اور دل میں ایک حسرت خوں گشتہ دم توڑتی محسوس ہورہی تھی۔
اس دوران حاضرین مجلس میں سے ایک بزرگ حضرت شمس الدین ترک رحمتہ اﷲ علیہ نے آداب محفل کے مطابق بیٹھ جانے کا اشارہ بھی کیا مگر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو کہاں ہوش تھا۔ آپ کی نظریں تو ایک ہی چہرے پر مرکوز تھیں اور آپ ایک ہی اشارے کے منتظر تھے۔ پھر جب اس چہرے پر آشنائی کا کوئی رنگ نہیں ابھرا اور اس جانب سے کوئی اشارہ نہیں ہوا تو پھر سبکچھ ہیچ تھا۔ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے دیکھا تک نہیں کہ حضرت شمس الدین ترک رحمتہ اﷲ علیہ کیا کہہ رہے ہیں اور آداب مجلس کا تقاضا کیا ہے؟
اپنے گردوپیش سے بے نیاز حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ مسلسل ایک ہی بات سوچ رہے تھے کہ حضور شیخ کس طرح اپنا تعارف پیش کریں؟ کبھی خیال آتا کہ حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کو اس طرح ماضی کی یاد دلائیں کہ ’’میں ہوں آپ کا غلام فرید الدین‘ جسے آپ نے ملتان کی مسجد میں شرف ملاقات بخشا تھا‘ پھر سوچنے لگتے کہ اگر شیخ کو یہ واقعہ بھی یاد نہ آئے تو عرض کریں ’’میں وہی خادم ہوں جسے آپ نے پہلے ظاہری تعلیم حاصل کرنے کا حکم دیا تھا اور پھر فرمایا کہ قدم بوسی کے لئے دہلی حاضر ہوجائوں‘‘
پھر اچانک ذہن میں یہ تصور ابھرتا کہ اگراس کے بعد بھی شیخ نے نہ پہچانا تو کیا ہوگا؟ قیامت نہیں ٹوٹ پڑے گی؟ جس نے ایک ہی ذات سے وابستگی کا عہد کیا‘ وہ کہاں جائے گا؟ کیا مذہب عشق میں دوسرا سنگ در تلاش کرنا جرم نہیں؟ اس خیال سے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ برگ خزاں رسیدہ کے مانند لرزنے لگتے اور دل اس طرح ڈوبنے لگتا جیسے گرداب میں کوئی سفینہ غرق ہورہا ہو۔
ہزار فکریں تھیں‘ ہزار اندیشے تھے جب بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی مایوسی اپنی حدوں سے گزر گئی تو آپ نے ایک صدائے جاں نواز سنی چند لمحوں کے لئے کوچہ عشق کو اپنی سماعت پر شبہ سا ہوا مگر حقیقت اپنی تمامتر تابناکیوں کے ساتھ روشن ہوچکی تھیں۔
درس سے فارغ ہونے کے بعد حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ آپ سے مخاطب تھے۔ ’’بابا فرید! سب کام ختم کرکے آئے ہو؟‘‘
یہ چند الفاظ کیا تھے‘ زندگی کی وہ شدید لہر تھی‘ جو تن مردہ میں بھی جان ڈال دیتی ہے۔ حضرت بابا رحمتہ اﷲ علیہ شیخ کا ارشاد سن کر جی اٹھے۔ مرشد کی زبان پر آپ کا نام کیا آیا کہ ساری کائنات کا سرمایہ مل گیا۔ شیخ نے مزاج پرسی کیا کی کہ دولت کونین قدموں میں ڈھیر ہوگئی۔ بقول علامہ اقبال رحمتہ اﷲ علیہ
دو عالم سے بیگانہ کرتی ہے دل کو
عجیب چیز ہے لذت آشنائی
اسی لذت آشنائی نے حضرت بابا کو وارفتہ کردیا اور آپ آداب مجلس سے بے نیاز ہوکر حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کے قدموں سے لپٹ گئے پھر اتنا روئے کہ ہچکیاں بندھ گئیں۔ بار بار فرماتے تھے۔
’’شیخ! اگر آپ مجھے نہ پہچانتے تو میں کہاں جاتا؟ آپ کی نگاہ کرم ہی میری پہچان ہے ورنہ فرید کیا اور اس کی حقیقت کیا؟‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی آواز اس قدر پرسوز تھی کہ حاضرین مجلس بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔
حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کا دست مہربان بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے سر پر سایہ فگن تھا اور نوائے شیریں اس دل پر شبنم ریز تھی جو آتش فراق سے جل رہا تھا۔
اس کے بعد حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ نے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو اٹھایا اور اپنے سامنے بیٹھنے کا حکم دیا۔ پھر اہل مجلس کو مخاطب کرکے فرمانے لگے ’’رسالت مآبﷺ نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲعنہ کو حدیبیہ کے مقام پر کفار مکہ سے گفتگو کرنے کے لئے بھیجا تھا۔ اسی دوران یہ افواہ عام ہوگئی کہ حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ شہید کردیئے گئے۔ جب یہ جانگداز خبر مسلمانوں نے سنی تو ان کے جذبات بے قابو ہوگئے۔ بالاخر نبی کریمﷺ نے کفار کی بدعہدی کا جواب دینے کے لئے ایک درخت کے نیچے تمام صحابہ رضی اﷲ عنہم کو جمع کیا پھر ایک ہاتھ کو حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کا ایک ہاتھ تصور کیا اور دوسرا ہاتھ اس پر رکھ کر مسلمانوں سے بیعت لی‘‘
یہ مثال پیش کرکے حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’صوفیائے کرام کے نزدیک تجدید بیعت کی بنیاد وہی بیعت رضوان ہے‘‘
پھر تمام لوگوں کے سامنے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو دوبارہ مرید کیا۔اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ قیام ملتان کے دوران بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو اپنے حلقہ ارادت میں شامل کرچکے تھے۔ صوفیاء کا خیال ہے کہ بظاہر وہ پہلی بیعت ہی کافی تھی… مگر دوبارہ اس لئے مرید کیا گیا کہ حضرت قطب الدین کاکی رحمتہ اﷲ علیہ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ سے بے حد محبت کرتے تھے اور اسی محبت کا مظاہرہ تجدید بیعت تھی۔ اس وقت خانقاہ میں اکابر صوفیاء اور نامور بزرگ موجود تھے۔
٭…٭…٭
اس موقع پر حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو ’’طے کا روزہ‘‘ رکھنے کا حکم دیا۔ اس روزے کی خصوصیت یہ ہے کہ تیسرے دن مغرب کے وقت افطار کیا جاتا ہے۔ یہ بھی ایک قسم کا ’’چلہ‘‘ تھا جس کے لئے گوشہ تنہائی کی ضرورت تھی۔ روایت ہے کہ غزنی دروازے کے قریب ایک برج تھا۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو اسی برج میں ٹھہرایا گیا تھا۔
پھر جب آپ نے روزہ رکھا تو تیسرے دن افطار کے لئے کچھ نہیں تھا۔ اتفاق سے ایک شخص کو معلوم ہوگیا کہ یہاں کوئی نوجوان درویش چلہ کش ہے۔ وہ صوفیاء کی خدمت اور حصول ثواب کی نیت سے شام کو کھانا لے کر برج میں داخل ہوگیا اور بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خوشامد کرنے لگا کہ اس کے لائے ہوئے کھانے سے افطار کرکے اسے شرف یاب ہونے کا موقع فراہم کریں۔
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے مسلک کے تقاضوں کے پیش نظر ایک اجنبی شخص کا دل توڑنا گوارا نہیں کیا اور بغیر تحقیق کے کھانا لے لیا۔ اجنبی شخص خوشی خوشی واپس چلا گیا۔ پھر جب افطار کا وقت آیا تو حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اسی کھانے سے افطار کیا۔ ابھی مشکل سے چند لمحے گزرے ہوں گے کہ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے پیٹ میں درد محسوس کیا اور فورا ہی قے ہوگئی۔ غذا کا ایک ایک ذرہ نکل گیا۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے پانی پی کر ساری رات عبادت الٰہی میں گزار دی۔
جب نماز فجر کے بعد حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کی مجلس درس آراستہ ہوئی تو بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے سارا واقعہ حضور شیخ کو بیان کردیا۔
جواب میں پیرومرشد نے فرمایا ’’بابا فرید! میں جانتا ہوں کہ تین دن تک مسلسل روزے رکھنے کے بعد تمہارے جسم کی نقاہت کا کیا حال ہوگا اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ قے کے بعد جسم کی باقی توانائی بھی سلب ہوتی محسوس ہورہی ہوگی۔ تمہاری یہ تکلیف اپنی جگہ مگر یاد رکھو کہ اﷲ جو کچھ کرتا ہے بہتر کرتا ہے۔ تم نہیں جانتے کہ جو شخص تمہارے لئے کھانا لے کر آیاتھا وہ ایک شراب نوش اور بدکار انسان ہے۔ بے شک! اس نے بڑی عقیدت کے ساتھ تمہیں کھانا پیش کیا مگر اﷲ نہیں چاہتا تھا کہ ایک کثیف اور ناپسندیدہ غذا تمہارے شکم میں ٹھہرے اور پھر اس سے بننے والے خون کے قطرے تمہارے جسم میں فساد برپا کردیں۔ تمہیں اپنے رب کا مزید شکر گزار ہونا چاہئے کہ وہ تمہیں شیطان کے کیسے کیسے حملوں سے بچاتا ہے؟‘‘
حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کے اس انکشاف پر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اور دوسرے درویشوں پر حیرت طاری کردی تھی۔ آج پہلی بار حاضرین مجلس کو اس نازک حقیقت کا اندازہ ہوا تھا کہ اﷲ کے نزدیک صرف حرام روزی ہی ناپسندیدہ نہیں بلکہ اس کا ایک ایک نوالہ بھی ناگوار ہے۔
پھر کچھ دیر بعد حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا مولانا تمہیں’’طے‘‘ کا ایک اور روزہ رکھنا ہوگا۔ شراب نوش کی لائی ہوئی غذا نے تمہاری اس روحانی عبادت کے اثرات زائل کردیئے۔ اب کی بار کسی انسان کے لائے ہوئے کھانے کی طرف متوجہ نہ ہونا بلکہ کچھ غیب سے میسر آئے اسی اسے افطار کرلینا‘‘
اگرچہ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ شدید جسمانی نقاہت محسوس کررہے تھے مگر مرشد کے حکم نے آپ کو دوبارہ تازہ دم کردیا۔ حاضرین مجلس ایک نوجوان کی جرات و ہمت دیکھ کر حیرت زدہ تھے اور یہ بات واضح طور پر نظر آنے لگی تھی کہ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ اس نووارد شوق کی تربیت پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کے حکم کے مطابق ’’طے‘‘ کا دوسرا روزہ رکھ لیا۔ پھر جب تیسرے روز افطار کا وقت آیا تو آپ غیب سے بھیجے جانے والے سامان خوردنوش کا انتظار کرنے لگے… مگر ایسی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی۔ آخر جب وقت تنگ ہونے لگا تو آپ نے پانی سے روزہ افطار کرلیا اور نماز مغرب میں انتہائی ذوق و شوق سے مشغول ہوگئے۔
نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ دوبارہ انتظار کرنے لگے کہ غیب سے کھانے کا کوئی انتظام ہوجائے مگر اس بار کسی غیبی مدد کے آثار ظاہر نہیں ہوئے۔ مدت انتظار طویل ہوئی تو عشاء کی نماز کا وقت آگیا۔ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اپنے رب کے سامنے دست بستہ کھڑے ہوگئے۔ نقاہت کا یہ عالم تھا کہ پائوں کانپ رہے تھے اور کھڑا ہونا مشکل نظر آرہا تھا پھر بھی تمام قوت ارادی کو ایک نقطے پر مرکوز کرکے آپ اﷲ کے سامنے ایستادہ رہے اور نماز کے تمام ارکان پوری صحت کے ساتھ ادا کرتے رہے۔
نماز عشاء کے بعد بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ ذکر الٰہی میں مشغول ہوگئے… مگر جب بھی شکم کی آگ ستاتی تو آپ آنکھیں کھول کر دیکھ لیتے کہ شاید اب غیب سے کچھ ظاہر ہوا ہو… مگر وہاں سناٹے اور ویرانی کے سوا کچھ نہیں تھا۔ آزمائش کی عجیب منزل تھی۔ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کواﷲ کی ذات پر پورا یقین تھا کہ وہ اس مرحلے میں اپنے بندے کو تنہا اور بے یارومددگار نہیں چھوڑے گا اور مرشد کی بات پر بھی مکمل اعتبار تھا کہ کچھ نہ کچھ ضرور ظہور پذیر ہوگا۔
غرض اسی کشمکش انتظار میں آدھی رات گزر گئی۔ اب یہ کیفیت تھی کہ بھوک کی شدت سے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا شکم جل اٹھا تھا اور آپ اس تکلیف کو کم کرنے کے لئے بار بار پہلو بدل رہے تھے۔ بالاخر جب شکم کا درد اپنی انتہا کو پہنچ گیا تو بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے بے قرار ہوکر اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے۔ اچانک آپ کو اپنی ہتھیلیوں میں چبھن محسوس ہوئی۔ غور سے دیکھا تو وہ چند سنگریزے تھے جو ہاتھوں سے چپک کر رہ گئے تھے۔
اہل نظر اندازہ کریں کہ چھ دن کے مسلسل فاقے کے بعد انسان کی کیا حالت ہوجاتی ہے۔ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بھی ایک بشر تھے۔ جب قوت برداشت جواب دے گئی تو اضطراری طور پر آپ نے ان ہی سنگریزوںکو منہ میں رکھ لیا۔ اچانک بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو محسوس ہوا کہ کوئی میٹھی چیز آپ کے دہن میں موجود ہے۔ فورا ہی خیال گزرا کہ سنگریزوں کی شیرینی بھی کہیں شرابی کے کھانے کی طرح فریب نہ ہو اس احساس کے پیدا ہوتے ہی بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے منہ کے تمام سنگریزے زمین پر تھوک دیئے۔
کچھ دیر بعدآپ پر دوبارہ وہی کیفیت طاری ہوئی اور آپ نے شدید عالم اضطراب میں زمین پر ہاتھ مارے۔ اس مرتبہ بھی وہی واقعہ پیش آیا اور بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے سنگریزوں کو اس طرح اگل دیا جیسے کوئی لقمہ حرام منہ میں پہنچ گیا ہو۔
پھر جب تیسری بار یہی واقعہ پیش آیا کہ سنگریزے شکر محسوس ہونے لگے تو بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اسے تحفہ غیب سمجھا اور اس کے ساتھ ہی آپ کو حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کے الفاظ یاد آنے لگے۔
’’مولانا فرید! جو کچھ بھی غیب سے ظاہر ہو اسی سے افطار کرلینا‘‘
جیسے ہی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی سماعت میں پیر و مرشد کے یہ کلمات گونجے۔ آپ نے سنگریزے حلق سے اتار لئے۔ یہاں تک کہ آپ کی بھوک بھی مٹ گئی اور آپ کوجسمانی طور پر بھی نئی طاقت کا احساس ہونے لگا۔
دوسرے دن بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ کو دیکھتے ہی پیر و مرشد نے فرمایا۔
’’مولانا فریدرحمتہ اﷲ علیہ روزہ مکمل ہوگیا؟‘‘
جواب میں بابا فریدرحمتہ اﷲ علیہ نے وہ عجیب و غریب واقعہ سنایا۔ اور انتظار کرنے لگے کہ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ اس واقعہ کی کیا توجیہ پیش کرتے ہیں؟
پیر و مرشد نے محبت آمیز نظروں سے اپنے مرید جان نثار کی طرف دیکھا اور پھر زیر لب تبسم کے ساتھ فرمایا۔
’’فرزند! اﷲ اپنے فرمانبردار بندوں کو ایسی ہی نشانیاں دکھاتا ہے۔ وہ سنگریزے حقیقت میں سنگریزے ہی تھے مگر تمہارے لبوں کو چھو کر اپنی فطرت بدل دیتے تھے… اور  یہ سب کچھ اﷲ کے حکم سے ظہور پذیر ہورہا تھا… جب روح کثافت کا لباس اتار کر لطافت کی قبا پہن لیتی ہے اور مسلسل ریاضت سے نفس کی سرکشی ختم ہوجاتی ہے تو انسان دائمی حلاوت (ابدی مٹھاس) حاصل کرلیتا ہے۔ سنگریزوں کا شکر بن جانا اسی شیرینی کے سبب ہے جسے اﷲ نے اپنے فضل و کرم سے تمہاری روح میں شامل کردیا ہے۔ فرید! تمہیں قدرت کا یہ خاص انعام مبارک ہو کہ آج سے تم ’’گنج شکر‘‘ بن گئے۔
ایک بار پیر و مرشد کی زبان مبارک سے یہ لفظ ادا ہوا تو پھر قیامت تک حضرت فرید الدین مسعود گنج شکر بن گئے۔ اس ذیل میں دیگر روایتیں بھی مشہور ہیں مگر تحقیق کرنے والوں نے اسی روایت کو سب سے معتبر قراردیا ہے۔
’طے‘‘ کے روزے کے بعد حضرت بابا فرید مسعود گنج شکر نے حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کے حکم پر کئی چلّے کئے۔ پھر جب چلہ ختم ہوجاتا تو بابافرید رحمتہ اﷲ علیہ پیر و مرشد کی خدمت میںحاضر ہوتے۔ مگر حضرت قطب فورا ہی کوئی دوسرا وظیفہ بتاد یتے۔ کئی بار بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے شکایت آمیز لہجے میں عرض کیا۔
’’سیدی‘ اب مجھ سے یہ دوری برداشت نہیں ہوتی۔ میں ہمہ وقت خدمت شیخ میں حاضر رہناچاہتا ہوں‘‘
حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نہایت شفقت کے ساتھ فرماتے ’’بابا! یہ دوری کب ہے؟ یہ تو حضوری ہے‘‘
اسی چلہ کشی کے دوران صوفیائے ہند کی تاریخ کا وہ عظیم الشان واقعہ پیش آیا جو وقت کی پیشانی پر ہمیشہ کے لئے نقش ہوکر رہ گیا ہے۔ بابافرید رحمتہ اﷲ علیہ اسی مخصوص برج میں چلہ کش تھے کہ 612ھ میں سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اﷲ علیہ اپنے خلیفہ اکبر حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ سے ملنے دہلی تشریف لائے۔ جیسے ہی یہ خبر عام ہوئی تو پورا شہر زیارت و قدم بوسی کے لئے امڈآیا۔ یہاں تک کہ والئی ہندوستان شمس الدین التمش بھی عام نیاز مندوں کی طرح حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضرہوا۔ پھر جب تمام لوگ دیدار کی سعادت سے شرفیاب ہوکر واپس چلے گئے تو حضرت سلطان الہند نے حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ سے دریافت کیا۔
’’قطب! تم نے خطوط میں اپنے ایک نئے مرید فرید الدین مسعود رحمتہ اﷲ علیہ کے متعلق اطلاع دی تھی مگر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید میں نے ملاقاتیوں کے درمیان اسے نہیں دیکھا‘ کیا وہ حاضر ہوا تھا؟‘‘
’’بابا فرید بھی آپ کی قدم بوسی کو حاضر ہوتا تو وہ چلہ کشی کے سبب اس نعمت عظیم سے سرفراز نہ ہوسکا‘‘ حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے مرید کی طرف سے معذرت پیش کرتے ہوئے عرض کیا۔
حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کی وضاحت سن کر سلطان الہند رحمتہ اﷲ علیہ کچھ دیر سوچتے رہے۔ پھر آپ نے فرمایا ’’اگروہ یہاں آنے سے قاصر ہے تو ہمیں خود وہاں چلنا چاہئے۔ ہم تو اس حجرے تک جانے سے عاجز نہیں‘‘
حضرت سلطان الہند رحمتہ اﷲ علیہ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ سن کر حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کے چہرے پر کیف و مسرت کا عجیب سا رنگ ابھر آیا اور آپ بے اختیار ہوکر عرض کرنے لگے۔
’’فرید بھی کیا خوش نصیب ہے کہ اولیائے ہند کا شہنشاہ خود ایک غلام کی خاطر تشریف لے جارہا ہے‘‘
’’نہیں قطب! فرید اس کا مستحق ہے‘‘ حضرت سلطان الہندرحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا
’’تم میرے ہو۔ اس لئے تمہارا ہر تعلق ہر رشتہ میری ذات کا حوالہ ہے۔ تمہاری نسبت سے فرید بھی میرا ہے۔ یہاں تک کہ تمہارے کوچے سے گزرنے والا ہرشخص میرا ہے‘‘
اس کے بعد حضرت سلطان الہند رحمتہ اﷲ علیہ اپنے خلیفہ اکبر کے ہمراہ اس برج کی طرف روانہ ہوگئے جہاں بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کئی ہفتوں سے چلہ کش تھے۔
حضرت سلطان الہند رحمتہ اﷲ علیہ اور حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ دروازے پر کھڑے اس جاں سوختہ کو دیکھ رہے تھے جس نے اپنی جوانی سخت ریاضتوں کی نذر کردی تھی۔ یکایک بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے محسوس کیا کہ ایک مسحور کن خوشبو حجرے میں چاروں طرف پھیل گئی ہے۔ آپ کے حواس نید کی بہترین خوشبوئوں سے آشنا تھے مگر آج جو خوشبو حجرے میں بکھری ہوئی تھی وہ سب سے منفرد اور جدا تھی۔ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔
’’مولانافرید! اپنی خوش بختی پر ناز کرو کہ تم سے ملنے کے لئے میرے پیرومرشد حضرت سلطان الہند رحمتہ اﷲ علیہ تشریف لائے ہیں‘‘ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے مرید کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔
پیر و مرشد کی زبان سے حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اﷲ علیہ کا اسم گرامی سن کر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی حالت غیر ہوگئی۔ احتراما کھڑا ہونے کی کوشش کی تو پائوں لڑکھڑائے اور آپ زمین پر گر پڑے۔ دوبارہ پوری طاقت کے ساتھ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن اس بار بھی لرزتے قدموں نے آپ کا ساتھ نہیں دیا۔ عاجز ہوکر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے زمین پرسر رکھ دیا اور بے اختیار رونے لگے۔
سلطان الہند رحمتہ اﷲ علیہ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی دلی کیفیات کا بغور جائزہ لے رہے تھے۔ جب اپنی بے کسی پر نوجوان سالک کی آنکھوںسے اشک جاری ہوگئے تو آپ نے حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔
’’قطب ! آخر کب تک اس نوجوان کو مجاہدات کی آگ میں جلاتے رہو گے؟ آئو ہم دونوں مل کر بارگاہ خداوندی میں عرض کریں کہ ہمارے اس فرزند کو شرف قبولیت بخش دیاجائے‘‘
جب مولا نے اپنی تمام دولت حضرت شیخ جلال الدین تبریزی رحمتہ اﷲ علیہ کو نذر کرنی چاہی تو آپ نے فرمایا ’’اسے اپنے پاس رکھو۔ جس طرح ہم کہیں اس طرح خرچ کرتے رہنا‘‘
قبول اسلام کے بعد حضرت شیخ جلال الدین تبریزی رحمتہ اﷲ علیہ نے ’’مولا‘ کا ہندوانی نام بدل کر ’’علی‘‘ رکھ دیا تھا۔ علی کا بیان ہے کہ جب بھی کوئی ضرورت مند شخص حضرت شیخ کے پاس آتا تو آپ اسے میرے پاس بھیج دیتے اور میں حکم کے مطابق اتنی ہی رقم سائل کو دے دیتا۔ حضرت شیخ جلال الدین تبریزی رحمتہ اﷲ علیہ جب بھی کسی سوالی کو علی کے پاس بھیجتے تو پانچ چیتل سے کم نہیں دیتے تھے اور موجودہ صورتحال یہ تھی کہ علی کے پاس ایک ہی چیتل بچا تھا۔
ابھی علی ذہنی انتشار میں مبتلا تھا کہ حضرت شیخ جلال الدین تبریزی رحمتہ اﷲ علیہ کی آواز گونجی ’’علی! خدا تمہیں جزائے خیر دے‘ یہ صاحب آرہے ہیں۔ انہیں ایک چیتل دے دو‘‘
علی نے وہ آخری سکہ تو دے دیا مگر اسے اس بات پر شدید حیرت تھی کہ شیخ عجیب وغریب حسابد اں ہیں۔ ایک ایک کوڑی کا حساب دل میں رکھتے ہیں۔
جب حضرت شیخ جلال الدین تبریزی رحمتہ اﷲ علیہ نے بدایوں سے بنگال جانے کا ارادہ ظاہر کیا تو علی کو تصور فرق نے مضطرب کردیا۔ ’’شیخ! مجھے یہاں کس کے سہارے چھوڑے جاتے ہیں؟ میں نے تو اپنا سب کچھ آپ کے ہاتھوں فروخت کردیا ہے۔ کیا میں دوبارہ اس دنیا کے بازار میں بکوں گا؟ میرا نیلام ہوگا اور لوگ میری بولیاں لگائیں گے؟‘‘ شیخ کی جدائی کے خیال سے علی زاروقطار رو رہا تھا۔
’’نہیں علی! دنیا میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ تمہاری قیمت لگا سکے۔ تم اﷲ کے بندے ہو اور تم نے اﷲ ہی کے لئے اپنی جان فروخت کی ہے۔ میں تو ایک ظاہری سبب ہوں اور درمیان کا کچھ حصہ ہوں۔ اسی نے تمہیں ہدایت بخشی ہے اور وہی تمہاری کفالت کرے گا‘‘ حضرت شیخ جلال الدین تبریزی رحمتہ اﷲ علیہ علی کو سمجھا رہے تھے ’’بدایوں میں میر اکام ختم ہوچکا۔ تم ان آوازوں کو نہیں سن سکتے۔ ارض بنگال ہمیں پکار رہی ہے۔ مجھے جانا ہی ہوگا۔ لوح محفوظ پر یہی رقم ہوچکا ہے۔ آسمانی تحریریں مٹائی نہیں جاسکتیں جس طرح سرزمین بنگال میرا مقدر ہے اسی طرح خاک بدایوں تمہارے مقدر میں لکھ دی گئی ہے۔ میں بحکم خدا یہ علاقہ تمہارے حوالے کرتا ہوں۔ تم اس بت کدے میں اذان دو۔ اتنی پرجلال آواز میں اذان دو کہ مندروں کے ناقوس ہمیشہ کے لئے خاموش ہوجائیں اور برہمن اپنے گلے سے زنار توڑ کر پھینک دیں اﷲ تمہاری نگہبانی کرے‘‘ یہ آخری الفاظ تھے جو حضرت شیخ جلال الدین تبریزی رحمتہ اﷲ علیہ کی زبان مبارک سے ادا ہوئے اور پھر آپ بنگال کی جانب روانہ ہوگئے۔
بعد میں یہی علی رحمتہ اﷲ علیہ درجہ ولایت تک پہنچے اور تاریک میں علی مولا رحمتہ اﷲ علیہ کے نام سے مشہور ہوئے۔ یہ وہی علی رحمتہ اﷲ علیہ ہیں جنہوں نے بدایوں میں حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کے سر پر دستار فضیلت باندھی تھی۔
٭…٭…٭
بعض مستند تذکرہ نویس حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اﷲ علیہ کے حوالے سے ایک اور اہم واقعہ کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نوعمرتھے اور ملتان کی مسجد میں علم ظاہری حاصل کررہے تھے۔ اسی مسجد میں ایک دن حضرت شیخ جلال الدین تبریزی رحمتہ اﷲ علیہ بھی تشریف لائے تھے۔ ملتان کی اس تاریخی عبادت گاہ میں داخل ہونے سے پہلے حضرت شیخ رحمتہ اﷲ علیہ نے اہل شہر سے دریافت کیا تھا…
’’یہاں کون کون اﷲ کے دوست ہیں‘‘
جواب میں مقامی لوگوں نے تمام بزرگوں کے نام بتادیئے تھے اور پھر یوں ہی سرسری انداز میں کہہ دیا تھا…
’’یہاں ایک قاضی بچہ بھی ہے مگر دیوانہ ہے‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ قاضی شعیب رحمتہ اﷲ علیہ کی نسل سے تھے‘ اسی لئے بچہ قاضی کہلاتے تھے۔ دیوانہ مشہور ہونے کی وجہ یہ تھی کہ آپ دن رات کتابوں کے مطالعے میں مصروف رہتے تھے اور کسی سے بات نہیں کرتے تھے۔ اسی لئے اہل دنیا نے سمجھ لیا تھا کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کسی خلل دماغی کا شکار ہیں پھر اپنی اسی غیر معمولی محویت کے سبب آپ دیوانے مشہور ہوگئے۔
جب حضرت شیخ جلال الدین تبریزی رحمتہ اﷲ علیہ نے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا نام سنا تو بے اختیار فرمایا ’’ہم اس دیوانے بچے سے ضرور ملیں گے‘‘
پھر حضرت شیخ رحمتہ اﷲ علیہ اسی مسجد میں تشریف لے گئے جہاں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کسی کتاب کے مطالعے میں مصروف تھے۔ حضرت جلال الدین تبریز رحمتہ اﷲ علیہ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے قریب پہنچے تو آپ احتراما کھڑے ہوگئے۔
حضرت شیخ رحمتہ اﷲ علیہ نے نہایت مشفقانہ لہجے میں فرمایا ’’بیٹھ جائو فرزند! اور اپنا کام جاری رکھو‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ حضرت شیخ رحمتہ اﷲ علیہ کے حکم سے مسجد کے فرش پر بیٹھ گئے مگر کتاب کو ہاتھ نہیں لگایا۔ آپ کچھ عجیب سے اضطراب میں مبتلا تھے۔ نتیجتاً دوبارہ کھڑے ہوگئے۔ حضرت شیخ رحمتہ اﷲ علیہ نے اس کا سبب پوچھا تو عرض کرنے لگے ’’آپ کی موجودگی میں بیٹھتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے‘‘
حضرت شیخ جلال الدین تبریزی رحمتہ اﷲ علیہ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا جواب سن کر بہت مسرور ہوئے اور پھر آپ نے ایک انار نکال کر نوجوان طالب علم کودیا اور فرمایا ’’بچے اسے رکھ لو‘ درویش کے پاس تمہیں دینے کے لئے کچھ اور نہیں ہے‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اس دن روزے سے تھے۔ اس لئے انارتوڑ کر اس کے سارے دانے حاضرین مسجد میں تقسیم کردیئے۔
’’فرزند! تم نے اپنے لئے کچھ نہیں رکھا؟‘‘ حضرت شیخ جلال الدین تبریزی رحمتہ اﷲ علیہ نے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ سے دریافت کیا۔
’’بس! مجھے یہ کافی ہے‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے انار کے اس دانے کواٹھاتے ہوئے کہا جو تقسیم کے دوران مسجد کے فرش پر گرپڑا تھا۔
حضرت شیخ جلال الدین تبریزی رحمتہ اﷲ علیہ نے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا جواب سنا‘ عجیب نظروںسے آپ کی طرف دیکھا اور پھر مسجدسے تشریف لے گئے۔
جب بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے پیرومرشد کے پاس دہلی پہنچے اور ایک دن گفتگو کے دوران آپ کو اپنے لڑکپن کا وہ واقعہ یاد آیا تو حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کو تمام روداد سنانے کے بعد عرض کرنے لگے۔
’’پتا نہیں وہ کون درویش تھے؟ پھر بھی میں نے انار کے اسی دانے سے روزہ افطار کیا تھا‘‘
حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نے پورا واقعہ سننے کے بعد فرمایا ’’بابا! وہ بزرگ حضرت شیخ جلال الدین تبریزی رحمتہ اﷲ علیہ تھے۔ تم بہت خوش نصیب ہو فرید! حضرت شیخ تمہیں انار دینے ہی کے لئے مسجد تشریف لائے تھے‘‘
’’مگر میں نے تو سارا انار حاضرین مسجد میں تقسیم کردیا تھا۔‘‘ حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کے انکشاف کے بعد بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو اس بات پر افسوس ہونے لگا تھا کہ آپ نے پورا انار خود کیوں نہیں کھایا۔
’’مولانا فرید! اداس نہ ہو۔ تمہاری یہی ادا تو شیخ کو پسند آئی تھی۔ وہ تمہارے دل کی کشادگی دیکھنا چاہتے تھے تم نے حاضرین مسجد میں انار تقسیم کرکے شیخ کو خوش کردیا۔ پھر جب تم نے زمین گرا ہوا دانہ اٹھایا اور حضرت جلال الدین تبریزی رحمتہ اﷲ علیہ پر ظاہر کیا کہ تمہارے لئے یہی دانہ کافی ہے تو شیخ تمہارے انکسار اور قناعت سے راضی ہوگئے۔ یہ دل کی باتیں ہیں شیخ نے تمہیں سب کچھ دے دیا‘ اسی ایک دانے میں تمہارے لئے تمام نعمتیں موجود تھیں‘ باقی سارے دانے خالی تھے‘‘
اس کے بعد حضرت شیخ جلال الدین تبریزی رحمتہ اﷲ علیہ دہلی تشریف لائے تو بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ اس عظیم بزرگ کے ساتھ آپ کی ملاقاتیں بہت طویل ہوئیں ۔
618ھ میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ حضرت شیخ جلال الدین تبریزی رحمتہ اﷲ علیہ سے نیاز حاصل کرنے کے لئے بدایوں حاضر ہوئے۔ بعض تاریخی حوالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے کم و بیش ایک سال بدایوں میں قیام کیا تھا اور آپ حضرت شیخ جلال الدین تبریزی رحمتہ اﷲ علیہ کی طویل صحبتوں سے فیض یاب ہوئے تھے۔ قیام دہلی کے دوران جو تشنگی اور خلل باقی رہ گئی تھی‘ اس کی تکمیل کسی حد تک بدایوں میں ہوئی۔
619ھ میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ دوبارہ دہلی تشریف لائے۔ ایک دن بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ حاضرین مجلس کو درویشی کے آداب سمجھا رہے تھے۔ گفتگو کے دوران آپ نے فرمایا۔
’’ایک بار میں پیر و مرشد حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کی مجلس عرفانی میں حاضر تھا۔ حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ اپنے علم معرفت سے تشنہ لبوں کو سیراب کررہے تھے۔ اچانک میں نے دیکھا کہ حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ اپنی جگہ کھڑے ہوگئے اور کچھ دیر بعد دوبارہ بیٹھ کر درس دینے لگے۔ یہ واقعہ کئی بار پیش آیا تو لوگ حیرت زدہ ہوئے مگر احترام شیخ کے پیش نظر کسی میں اتنی جرات نہیں تھی کہ حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ سے اس عمل کا سبب دریافت کرتا۔
پھر جب مجلس درس تمام ہوئی تو حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کے کسی دوست نے پوچھا۔ ’’شیخ! آپ درس کے دوران کئی بار کھڑے ہوئے اور کئی مرتبہ بیٹھے۔ آخر اس کا کیا سبب تھا؟‘‘
جواب میں حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔
’’خانقاہ کے دروازہ پر ایک بوڑھا شخص بیٹھا ہوا تھا۔ جب بھی میری نظر اس کے سفید بالوں پر پڑتی تھی تو میں برائے تعظیم کھڑا ہوجاتا تھا‘‘
’’آپ اسے بلا کرخانقاہ کے اندر بھی بٹھا سکتے تھے۔ پھر اس طرح آپ کو بار بار یہ زحمت نہ اٹھانی پڑتی‘‘ دوست نے حضرت شیخ رحمتہ اﷲ علیہ کی وضاحت سن کر عرض کیا۔
’’مجھے اس بات سے شرم آتی ہے کہ میں اپنے آرام کی خاطر کسی دوسرے انسان کو زحمت دوں‘‘ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’شاید بوڑھا شخص یہ سمجھتا ہوکہ وہ خانقاہ کے اندر آنے کے لائق نہیں تھا۔ اس لئے میزبان کی حیثیت سے میرا یہ فرض تھا کہ میں اسے بھی دوسرے مہمانوں کی طرح اہمیت دوں اور اپنے قریب تصور کروں‘‘
یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے حاضرین مجلس سے فرمایا ’’درویشی بہت نازک شے ہے۔ اس راستے میں چھوٹی چھوٹی باتوں کا بھی لحاظ رکھنا پڑتا ہے۔ ایک عام شخص ان مناظر سے چشم پوشی کرسکتا ہے مگر درویش کسی بھی حال میں انہیں نظر انداز نہیں کرسکتا‘‘
٭…٭…٭
اسی سال ایک اور واقعہ پیش آیا جس نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو تمام زندگی شدید اضطراب میں مبتلا رکھا۔ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کی روایت کے مطابق ایک بار حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔
’’ایک دن میں پیر و مرشد کی خدمت میں حاضر تھا۔ جب تمام لوگ حضرت شیخ رحمتہ اﷲ علیہ کے روبرو اپنی اپنی خواہشات کا اظہار کرچکے تھے تو میں نے بھی عرض کیا کہ مجھے ایک چلے کی اجازت مرحمت فرمائی جائے‘‘
جواب میں حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’اب تمہیں کسی چلے کی ضرورت نہیں‘ خواجگان چشت نے شہرت کے لئے کوئی بھی کام نہیں کیا‘‘
اس وقت نہ جانے کیسی بدبختی میرے سر پر سایہ فگن تھی کہ بے اختیار زبان سے نکل گیا ’’میں شہرت کے لئے چلہ نہیں کررہا ہوں‘‘
حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نے پھر کچھ نہیں فرمایا اور خاموشی اختیار کرلی۔ پیرومرشد کا یہ سکوت میرے لئے کسی اذیت ناک سزا سے کم نہیں تھا بعد میں مجھے احساس ہوا کہ میں حضور شیخ رحمتہ اﷲ علیہ گستاخی جیسے سنگین جرم کا مرتکب ہوا ہوں  اور اس واقعہ کو زمانہ گزر گیا مگر میں آج بھی اپنے اس عمل پر شرمسار ہوں کہ مجھے حضرت شیخ کے سامنے جواب نہیں دینا چاہئے تھا۔ اﷲ میرے اس گناہ کو معاف کرے‘‘
٭…٭…٭
یہ اسی زمانے کا واقعہ ہے۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ اپنی مشہور تصنیف ’’اخبار الاخیار‘‘ میں تحریر کرتے ہیں کہ ایک بار چند سوداگر اونٹوں پر شکر لادے جارہے تھے۔ اتفاق سے حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اﷲ علیہ بھی وہاں موجود تھے۔ آپ نے شکر کے سوداگروں سے دریافت کیا۔
’’ان اونٹوں پر کیا ہے؟‘‘
ساد لباس کی وجہ سے سوداگروں نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو کوئی ضرورت مند انسان سمجھا۔ اس لئے ازراہ مذاق کہا۔
’’یہ نمک کی بوریاں ہیں‘ تمہیں کیا چاہئے؟‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے سوداگروں کی اس طنزیہ گفتگو کا کوئی تاثر قبول نہیں کیا اور نہایت خوش دلی کے ساتھ فرمایا ’’تم کہتے ہو تو پھر نمک ہی ہوگا‘‘
شکر کے سوداگر مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گئے اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ خانقاہ واپس تشریف لائے۔
پھر جب وہ سوداگر اپنی شکر فروخت کرنے کے لئے بازار پہنچے اور بوریاں کھولی گئیںتو سب کے سب حیرت زدہ رہ گئے۔ بوریوں میں شکر کے بجائے نمک بھرا ہوا تھا۔ تمام خریدار ان سوداگروں کو برا بھلا کہنے لگے۔
’’شکر کہتے ہو اور نمک بیچتے ہو؟ کیسا فریب اور کیسا اندھیر ہے؟‘‘
سوداگر بھرے بازار میں تماشا بن کر رہ گئے۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ شکر نمک میں کیسے تبدیل ہوگئی۔ آخر بہت غوروفکر کے بعد ایک سوداگر کو راستے کا واقعہ یاد آگیا۔
’’یقینا وہ کوئی مرد نیک تھا جس کے ساتھ ہم نے شرارت کی تھی‘‘ ایک سوداگر نے اپنے ساتھیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’اسی کی بددعا سے ہماری ساری شکر نمک کا ڈھیر بن گئی ہے‘‘
اس خیال کے آتے ہی تمام سوداگر واپس لوٹے اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
’’ہمیں معاف کردیا جائے‘‘ شکر کے سوداگر بڑی عاجزی کا مظاہرہ کررہے تھے۔
’’تم لوگوں نے کیا کیا ہے؟‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے حیران ہوکر پوچھا ’’آخر تم کس جرم کی معافی مانگ رہے ہو؟‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اس واقعہ کو فراموش کرچکے تھے۔ اس لئے آپ کو اجنبی لوگوں کی معافی پر حیرت ہورہی تھی۔
’’آپ کی بد دعا سے ہماری شکر کا سارا ذخیرہ نمک میں تبدیل ہوگیا‘‘ سوداگروں نے بیک زبان عرض کیا۔
’’مسلمان کسی کو بدعا نہیں دیتا‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’تم نے اپنے دینی بھائی سے مذاق کیا تھا۔ اﷲ نے تمہیں اس کی سزا دے دی‘ ہمیشہ اپنی زبان سے کلمہ خیر ادا کیا کرو۔ کوئی نہیں جانتا کہ کب قبولیت کی ساعت آجائے‘‘
شکر کے سوداگر اپنی اس حرکت پر سخت نادم تھے۔ آخر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے انہیں معاف کردیا۔ ’’جائو! دوبارہ اپنے اسباب تجارت کو دیکھو‘ اﷲ فضل کرے گا‘‘
جب سوداگر بازار واپس آئے اور ڈرتے ڈرتے بوریوں کے منہ کھولے تو حیرت زدہ رہ گئے۔ تمام بوریاں شکر سے بھری ہوئی تھیں۔
٭…٭…٭
620ھ میں ایک اور واقعہ پیش آیا جب اہل معرفت کو ہمیشہ والہانہ محبت کا سبق دیتا رہے گا۔ قیام دہلی کے آخری دور میں حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ کو اپنے وضو کی خدمت پر مامور فرما دیا تھا۔ ایک دن عجیب اتفاق ہوا کہ سردی کا موسم تھا اور رات کو آگ ختم ہوگئی تھی۔ نماز فجر میں پیر و مرشد کے وضو کے لئے پانی گرم کرنا تھا اس لئے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ آگ کی تلاش میں خانقاہ سے نکل کر بستی کی طرف روانہ ہوگئے۔ یہ سوچ کر دروازے دروازے پھرتے رہے کہ کہیں کسی مکان میں کوئی جاگ رہا ہو تو آگ کا سوال کریں۔ خوش قسمتی سے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو ایک گھر میں کسی کے چلنے کی آہٹ محسوس ہوئی۔ آپ تیزی سے آگے بڑھے اور دروازے پر دستک دی۔ مکان کی مالکہ ایک جوان اور شریر عورت تھی۔ اس نے پردے سے جھانک کر دیکھا تو اپنے دروازے پر ایک خوبصورت نوجوان کو کھڑے دیکھا۔
’’تمہیں کسی سے ملنا ہے؟‘‘ عورت نے شوخ لہجے میں پوچھا
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ عورت کے لہجے کی شرارت کو محسوس کرکے لرز گئے مگر مجبوراً آپ کو جواب دینا پڑا ’’مجھے کسی سے ملاقات نہیں کرنی ہے خاتون! میں تو ایک ضرورت مند شخص ہوں اور آپ کے دروازے پر آگ لینے کے لئے آیا ہوں‘‘
عورت آپ کے مزاج اور مسلک سے واقف نہیں تھی‘ اس لئے دل بستگی کی باتیں کرتی رہی۔
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنا سوال دہرایا اور درخواست کی کہ انہیں تھوڑی سی آگ دے دی جائے۔
عورت شرارت سے باز نہیں آئی‘ کہنے لگی کہ آگ بلا معاوضہ نہیں دی جاتی۔
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے معاوضہ دریافت کیا تو بڑی بے باکی سے بولی ’’اپنی ایک آنکھ نکال کر دے دو اور آگ لے جائو‘‘
وقت گزرتا جارہا تھا اور بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو یہ فکر پریشان کررہی تھی کہ اگر آگ نہیں ملی تو حضرت شیخ وضو کس طرح کریں گے؟ اور اس شریر عورت کا یہ حال تھا کہ آگ کے بدلے میں آنکھ طلب کررہی تھی۔
بالاخر آپ نے مجبور ہوکر اس فتنہ گر عورت سے کہا۔
’’میںآنکھ تو نہیں نکال سکتا مگر اسے پھوڑ سکتا ہوں۔ آپ آگ لے کر آئیں۔ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اتنا کہا اور آنکھ کے حلقے میں اپنی انگلیاں پیوست کردیں۔ عورت ابھی تک اپنی شرارت کو ایک دلچسپ کھیل سمجھ رہی تھی مگر جب اس نے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی اضطراری حالت دیکھی تو خوفزدہ ہوکر کہنے لگی۔
’’تم آنکھ رہنے دو۔ میں آگ لے کر آتی ہوں‘‘
عورت اپنی شرارت اور ضد سے باز آگئی مگر بہت دیر ہوچکی تھی۔ اسے پتا بھی نہ چل سکا کہ اس کشمکش میں بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی آنکھ بری طرح زخمی ہوگئی ہے پھر جب وہ آگ لے کر آئی تو بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اس کاشکریہ ادا کیا اور تیزرفتاری کے ساتھ خانقاہ کی جانب روانہ ہوگئے۔
حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی طرف دیکھا تو آپ کی ایک آنکھ پر رومال بندھا ہوا تھا۔
’’بابا! تمہاری آنکھ کو کیا ہوا؟‘‘ حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ نے وضو کرتے ہوئے اپنے مرید خاص سے دریافت کیا۔
’’کچھ نہیں شیخ محترم! آنکھ آئی ہے‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے صورتحال کو چھپاتے ہوئے عرض کیا۔
حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ مسکرائے اور پھر فرمایا ’’بابا! اگر آنکھ آئی ہے تو کھول دو۔
پیرومرشد کا حکم سن کر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے زخمی آنکھ سے رومال ہٹادیا۔ اس وقت آپ کو شدید حیرت ہوئی کہ آنکھ میں برائے نام بھی تکلیف باقی نہیں تھی۔
حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کی اس کرامت کا آج بھی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی نسل کے جتنے لوگ بھی پاک و ہند میں موجود ہیں‘ ان کی دائیں آنکھ چھوٹی اور بائیں قدرے بڑی ہوتی ہے۔ یہ فرق کسی دوسرے خاندان کے لوگوں میں بھی پایا جاسکتا ہے مگر ہم اسے اتفاق ہی کہیں گے‘ اس کے برعکس جس قدر بھی فریدی نظر آتے ہیں ان کی آنکھوں میں یہ علامت یقینی طور پر پائی جاتی ہے۔
٭…٭…٭
621ھ کا سال حضرت بابا فریدرحمتہ اﷲ علیہ کی زندگی کا ایک اور انقلابی سال تھا۔ اس سال آپ کی شادی ہوئی اور ایک عارف نے راہ سلوک میں سنت نبویﷺ ادا کی۔
اپنی شادی کے سلسلے میں خود بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز آپ پیر ومرشد کی خدمت میں حاضر تھے‘ دیگر خدمت گار‘ عقیدت مند اور مرید بھی موجود تھے۔ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نے سب کے سامنے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔
’’مولانا فرید! اب تمہیں شادی کرلینی چاہئے۔ جب تک رسالت مآبﷺ کی ایک ایک سنت مبارکہ پر عمل نہ کیا جائے اس وقت تک درویشی کی تکمیل نہیں ہوتی‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے شیخ کا حکم سن کر فرط حیاء سے سر جھکالیا۔
پھر یہ واقعہ کئی بار پیش آیا۔ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ وقفے وقفے سے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو شادی کی تلقین فرماتے رہے مگر آپ ہر مرتبہ شرم کی وجہ سے خاموش رہتے۔
بالاخر ایک دن تنہائی میں حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ نے آپ سے دریافت کیا ’’بابا فرید! میں تم سے کتنی بار شادی کے متعلق کہہ چکا ہوں مگر تم ہر مرتبہ خاموشی اختیار کرلیتے ہو۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟‘‘
اب حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ حضور شیخ اپنے دل کی بات کہہ ڈالیں۔ ’’سیدی! میں اس تصور سے خائف رہتا ہوں اگر اولاد غیر سعادت مند نکلی تو سر محشر اﷲ کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے گا‘‘
’’مولانا! تم نے اپنے اﷲ سے حسن ظن کیوں نہیں رکھا؟‘‘ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نے تنبیہ کے لہجے میں فرمایا ’’کسی کو نہیں معلوم کہ کسی آغاز کا انجام کیا ہوگا؟ ایک مسلمان کو ہر حال میں اپنے اﷲ سے خیر کی توقع رکھنی چاہئے۔ پھر بھی اگر تمہیں اپنی ہونے والی اولاد کی طرف سے فکر لاحق ہے تو ہم سے ایک معاہدہ کرلو‘‘
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ حضرت شیخ رحمتہ اﷲ علیہ کی زبان سے معاہدے کا لفظ سن کر حیرت زدہ ہوگئے اور اس طرح پیر و مرشد کی طرف دیکھنے لگے جیسے آپ بات کا مفہوم سمجھنے سے قاصر ہوں۔
’’وہ معاہدہ یہ ہے کہ جو اولاد سعادت مند ہو وہ تمہاری … اور جو نالائق نکلے‘ اسے ہمارے نام پر چھوڑ دو… پھر اﷲ جانے اور ہم جانیں‘‘ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نے اس معاہدے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا جسے سن کر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ پریشان سے نظر آنے لگے تھے۔
اب گریز کے تمام راستے بند ہوچکے تھے۔ بالاخر حضرت شیخ کے حکم سے مجبور ہوکر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے نجیب النساء نامی ایک خاتون سے شادی کرلی۔
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی شادی کے سلسلے میں بعض بڑی عجیب روایات مشہور ہیں جنہیں پڑھ کر ایک عام انسان کا ذہن بری طرح الجھ جاتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس اہم موضوع پر معتبر تاریخی شہادتیں جمع کی جائیں۔ یہ بات بہت زیادہ شہرت پاگئی ہے کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی شادی634ھ میں ہوئی۔ یہ وہ زمانہ ہے جب حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ دنیا سے رخصت ہوچکے تھے۔ اگر ہم اس روایت کو درست تسلیم کرلیں تو پھر یہ بات بھی ثابت ہوجاتی ہے کہ پیرومرشد کے بے حد اصرار کے باوجود حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ شادی سے دامن بچاتے رہے اور پھر جب حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کا وصال ہوگیا تو آپ نے خود کو رشتہ ازدواج سے منسلک کرلیا۔ اس روایت کی درستگی کا سب سے خوفناک پہلو یہ ہے کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کے حکم کوکوئی اہمیت نہیں دی۔ ممکن ہے کہ اہل دنیا اس سلسلے میں کوئی عذر تراش لیں مگر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ حکم شیخ سے سرتابی نہیں کرسکتے تھے۔ اس لئے ثابت ہوجاتا ہے کہ آپ کی شادی حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کی حیات مبارک میں ہوئی تھی اور وہ  621 کا سال تھا۔
634ھ کی روایت کے مطابق حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے خاتون بیگم نامی ایک دو شیزہ سے شادی کی تھی اور وہ لڑکی والی ہندوستان سلطان غیاث الدین بلبن کی بیٹی تھی۔اس روایت کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ سلطان غیاث الدین بلبن کی اولادوں میں اس نام کی کسی لڑکی کا ذکر نہیں ملتا۔ بالفرض ہم یہ تسلیم کرلیں کہ تذکرہ نویسوں سے کام کے سلسلے میں غلطی سرزد ہوگئی ہوگی تب بھی تاریخی حقائق کی روشنی میں اس روایت کی کوئی حیثیت نہیں۔ اگر سلطان غیاث الدین بلبن کے بارے میں تحقیق کی جائے تو یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ سلطان شمس الدین التمش نے اسے بخارا کے تاجروں سے 628ھ کے بعد خریدا تھا… اور خریداری کے وقت وہ غیر شادی شدہ تھا۔ ایک روایت یہ بھی مشہور ہے کہ التمش نے مرنے سے پہلے اپنی ایک لڑکی کی شادی بلبن کے ساتھ کردی تھی۔ اگر شادی کی اس تقریب کو جلدازجلد صورت پذیر کیا جائے تو وہ629ھ کا زمانہ ہوسکتا ہے۔اس قیام آرائی کے بعد اگر بلبن کے کوئی لڑکی پیدا ہوئی تو وہ 634ھ میں شادی کے قابل نہیں ہوسکتی تھی۔ اس طرح حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے ساتھ بلبن کی لڑکی کا نکاح تحقیق کے کسی زاویئے سے بھی درست نہیں۔ یہ محض ایک افسانہ ہے۔ اﷲ ہی بہتر جانتا ہے کہ لوگوں نے ایسا بے سروپا افسانہ کیوں تراشا؟
اس روایت کا دوسرا تاریخی پہلو یہ ہے کہ غیاث الدین بلبن 643ھ میں اوچ جاتے ہوئے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں اجودھن (پاک پتن) حاضر ہوا تھا۔ اس وقت تک خاتون بیگم کے بطن سے کئی اولادیں پیدا ہوچکی تھیں۔ اگر خاتون بیگم‘ غیاث الدین بلبن کی صاحبزادی ہوتیں تو اس ملاقات میں ضرور کوئی اشارہ ملتا۔ اگرچہ اس زمانے میں بلبن براہ راست ہندوستان کا حکمراں نہیں تھا لیکن تمام مورخ اس بات پر متفق ہیں کہ درپردہ مملکت ہند پر بلبن ہی کی حکومت تھی۔ کہنے کو سلطان ناصر الدین محمود ایک نیک سیرت بادشاہ تھا لیکن سیاست کی بساط پر بلبن کی گرفت مضبوط تھی۔ اس طرح جب غیاث الدین بلبن حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ اس وقت وہ ہندوستان کا طاقتور ترین آدمی تھا۔ پھر اگر خاتون بیگم اس کی صاحبزادی ہوتیں تو بلبن ایک اجنبی کی طرح اجودھن میں حاضر نہ ہوتا۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بھی خسر کی حیثیت سے ضرور اس کا احترام کرتے اور بلبن خود بھی اپنی بیٹی نواسوں سے ملنے کے لئے بہت زیادہ پرجوش نظر آتا۔ پھر یہ کس طرح ممکن تھا کہ تاریخ اس اہم ترین رشتے کے سلسلے میں خاموش رہتی… مگر ہم دیکھتے ہیں کہ تاریخ نے اس بات میں مکمل سکوت اختیار کرلیا ہے۔ واضح رہے کہ غیاث الدین بلبن حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں ایک بزرگ کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک سوالی کا لباس پہن کر حاضر ہوا تھا۔
اس حاضری کی باقی تفصیلات یہ ہیں کہ سلطان ناصر الدین محمود بذات خود حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خانقاہ میں سلسلہ چشتیہ کے عظیم بزرگ کے دیدار سے شرف یاب ہونا چاہتا تھا‘ مگر الغ خان نے اسے مختلف بہانوں سے باز رکھا (اس وقت بلبن کا نام الخ خان تھا۔ تخت ہندوستان پر متمکن ہونے کے بعد اس نے سلطان غیاث الدین بلبن کا لقب اختیار کیا) الخ خان نے سلطان ناصر الدین محمود کو سمجھانے کی کوشش کی کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کے خلیفہ اکبر ہیں۔ اس لئے ان کی خدمت میں کسی اہتمام کے بغیر حاضر ہونا گستاخی تصور کیا جائے گا۔ الغ خان نے سلطان کو یہ بات بھی سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ پہلے خود بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوگا اور پھر سلطان کی ملاقات کے لئے راہ ہموار کردے گا۔ ناصر الدین محمود الغ خان (بلبن) کی باتوں سے مطمئن ہوگیا اور پھر والی ہند نے اسے اجودھن جانے کی اجازت دے دی۔
الغ خان اسی موقع کا منتظر تھا۔ سلطان ناصر الدین محمود کی طرف سے اجازت پاتے ہی اس نے سب سے پہلے اجودھن اور اس کے گردونواح کے دیہاتوں کی معافی کا پروانہ حاصل کیا۔ پھر دیگر قیمتی تحائف اور زرکثیر لے کر ایک لشکر کے ہمراہ اجودھن کی جانب روانہ ہوا۔
جب حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو الغ خان اور ہزاروں عقیدت مند فوجیوں کے آنے کی خبر ہوئی تو آپ نے اپنے مریدوں سے فرمایا ’’درویش کو ان لوگوں سے ملاقات کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ ان سے کہو کہ واپس جائیں۔ فقیر آنے والوں کے حق میں دعائے خیر کرتا رہے گا‘‘
جب الغ خان (بلبن) کو معلوم ہوا کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ تمام لشکر سے ملنے سے گریزاں ہیں تو اس نے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے مریدوں سے عرض کیا۔
’’یہ سپاہی اپنے دل میں حضرت شیخ کے دیدار کی تمنا لے کر آئے ہیں اور ان لوگوں نے اس بارگاہ تک پہنچنے کے لئے راستے کی بڑی صعوبتیں برداشت کی ہیں۔ حضرت شیخ کی خدمت میں میری طرف سے ایک بار اور درخواست کی جائے کہ یہ طالبان دیدار چہرہ مبارک دیکھے بغیر واپس جانا نہیں چاہتے‘‘
مریدوں نے اپنے شیخ کے حضور میں الغ خان کی درخواست پیش کردی۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کچھ دیر تک غور کرتے رہے۔ اسی دوران ایک مرید نے عرض کیا کہ ہزاروں سپاہیوں کو شرف باریابی عطا کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ حضرت شیخ خانقاہ کے ایک بلند مقام پر جلوہ افروز ہوں اور اپنی چادر گلی کی طرف لٹکادیں۔ اس طرح ہر سپاہی باری باری اس چادر کو بوسہ دیتا ہوا گزر جائے گا اور خانقاہ کے اندر کوئی انتشار پیدا نہیں ہوگا۔
پھر جب حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے مریدوں نے الغ خان کو اس تجویز سے آگاہ کیا تو تمام لشکری بے ساختہ پکار اٹھے۔
’’ہمارے لئے یہی سعادت کافی ہے کہ ہم حضرت شیخ کی متبرک چادر کو بوسہ دیتے ہوئے گزر جائیں‘‘
پھر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ خانقاہ کے ایک بلند مقام پر تشریف فرما ہوئے اور آپ نے اپنی چادر گلی کی طرف لٹکا دی۔ سپاہی ایک ایک کرکے آتے رہے اور حضرت شیخ کی چادر کو بوسہ دیتے ہوئے گزرتے رہے۔ عقیدت کے مظاہرے میں ہر شخص کا مختلف انداز ہوتا ہے۔ کوئی شخص زیادہ پرجوش نظر آتا ہے اور کوئی اعتدال کی منزل میں رہتا ہے مگر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے سلسلے میں ہرشخص کی عقیدت اپنے نقطہ عروج کو پہنچ گئی تھی۔ یہاں تک کہ کچھ دیر بعد چادر کی دھجیاں اڑ گئیں… اور پھر جس کے حصے میں چادر کا جو ٹکڑا آیا‘ وہ اس نے اپنے پاس محفوظ کرلیا۔
کئی گھنٹے تک مسلسل ایک جگہ بیٹھے رہنے سے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بھی تھکن محسوس کرنے لگے تھے۔ مجبورا آپ خانقاہ سے نکل کر ملحقہ مسجد میں تشریف لے آئے اور خدمت گاروں سے فرمانے لگے۔
’’میرے گرد حلقہ باندھ لو اور کسی سپاہی کو قریب نہ آنے دو۔ پھر بھی اگر کوئی شخص اس فقیر کو دیکھنا چاہتا ہے تو دور سے سلام کرتا ہوا گزر جائے‘‘
الغ خان کے سپاہی اس پر رضامند ہوچکے تھے مگر اچانک ایک بوڑھے شخص نے حلقہ توڑ دیا اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے قدموں پر گر پڑا۔ پھر جوش عقیدت میںاس نے بوسہ دینے کے لئے پائے مبارک کھینچا۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو بوڑھے کا یہ عمل سخت ناگوار گزرا۔ جوابا اس نے نہایت پرسوز لہجے میں عرض کیا۔
’’شیخ المشائخ حضرت شیخ فرید الدین آپ کیوں تنگ آتے ہیں؟ اﷲ تعالیٰ کی نعمت کا اس سے بھی اچھا شکر ادا کرو‘‘
بوڑھے کی بات سن کر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے نعرہ لگایا۔ پھر بوڑھے کے حال پر نوازش فرمائی اور اس سے معافی مانگی۔
بوڑھے شخص کے طفیل الغ خان کے سپاہیوں کو بھی اجازت مل گئی۔ ایک ایک لشکری نظم وضبط کے دائرے میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے قریب آتا اور اس مرد جلیل کے ہاتھوں کو بوسہ دے کر آگے بڑھ جاتا۔
جب تمام سپاہی دست بوسی سے شرف یاب ہوگئے تو الغ خان دست بستہ کھڑا ہوا اور اس نے نقد رقم کے ساتھ جاگیر کا پروانہ پیش کیا
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے نقد رقم اور تحائف قبول کرلئے اور فورا ہی اپنے ایک خادم کو حکم دیا کہ یہ تمام چیزیں اسی وقت ضرورت مندوں میں تقسیم کردی جائیں۔ اس کے بعد آپ الغ خان کے لائے ہوئے پروانہ جاگیر کو بہت غور سے دیکھنے لگے۔
الغ خان درمیان ہی میں بول اٹھا ’’حضور! جاگیر کا یہ حکم نامہ صرف آپ کے لئے ہے‘‘
جیسے ہی الغ خان کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوئے‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے وہ تمام کاغذات واپس کرتے ہوئے فرمایا ’’مجھے ان کی حاجت نہیں‘ تمہاری سلطنت میں بے شمار ضرورت مند ہیں‘ یہ کاغذ کے ٹکڑے ان لوگوں میں تقسیم کردو‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے جاگیر کا پروانہ واپس کیا تو الغ خان کے چہرے کا رنگ اتر گیا اجودھن آنے سے پہلے الغ خان نے اپنے ذہن میں یہ منصوبہ بنایا تھا کہ جب حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ جاگیر کے کاغذات قبول کرلیں گے تو پھر وہ اپنے اقتدار کے لئے دعا کی درخواست کرے گا‘ اس کے سینے میں برسوں سے یہ آرزو دفن تھی کہ وہ کسی طرح حکومت ہندکا مطلق العنان فرمانروا بن جائے۔ سلطان ناصر الدین محمود کے دور میں یہ خواہش اس قدر شدت سے بیدار ہوئی تھی کہ الغ خان حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے در تک آپہنچا تھا۔ خواہش کی تکمیل نذر قبول کرنے کے بعد آسان ہوجائے گی… مگر جب ایک درویش خدا مست نے شاہی عطئے کو ٹھکرا دیا تو الغ خان کا اپنا منصوبہ ناکام ہوتا ہوا نظر آیا پھر بھی وہ دل ہی دل میں یہ دعا مانگتا رہا کہ کاش بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اس کے اقتدار کے لئے دعا فرمادیں۔
ابھی الغ خان کی آرزوئوں کا سفینہ ڈوب کر ابھر رہا تھا کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اسے مخاطب کرتے ہوئے فارسی زبان کی ایک رباعی پڑھی جس کا مفہوم کچھ اس طرح تھا۔
’’شہنشاہ ایران فریدوں‘‘ کوئی آسمانی فرشتہ نہیں تھا اور نہ اسے آرام و آسائش سے کوئی نسبت تھی… مگر جب اس نے سخاوت سے کام لیا تو اس درجے تک پہنچ گیا تو بھی دادودہش (سخاوت و بخشش) سے کام لے‘ تو بھی ایک دن فریدوں ہوجائے گا‘‘
الغ خان کچھ دیر تک سناٹے میں بیٹھا رہا‘ اس نے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی روحانی قوتوں کے بے شمار تذکرے سنے تھے لیکن آج اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا کہ اجودھن کا یہ درویش کتنا بڑا روشن ضمیر ہے جو تمنائیں الغ خان کے دل کی گہرائیوں میں کروٹیں لے رہی تھیں‘ وہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے سامنے اس طرح بے نقاب تھیں جیسے آسمان پر چمکتا ہوا سورج۔ الغ خان حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے اس روحانی جلال کو برداشت نہ کرسکا اور اپنے ہزاروں سپاہیوں کی موجودگی میں اس نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے قدموں پر سر رکھ دیا۔ پھر بڑے عاجزانہ لہجے میں کہنے لگا۔
’’شیخ! میں کیا کروں؟ اپنے دل سے مجبور ہوں۔ ہر شخص سینے میں آرزوئے اقتدار رکھتا ہے اور میں بھی اپنے نفس کا اسیر ہوں کاش! ایسا ہوکہ یہ غلام زادہ ایک دن تخت ہندوستان پر جلوہ افروز ہو… اور یہ کار عظیم آپ کی دعائوں کے بغیر ممکن نہیں‘ بس یہی التجا ہے کہ میری جانب ایک بار نگاہ خاص سے دیکھ لیجئے کہ آپ کی ایک نظر میرا مقدر سنوار دے گی‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔ الغ خان… اٹھو! دنیا کا کوئی درویش کسی انسان کے مقدر پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اگر کوئی فقیر کسی وجہ سے یہ دعویٰ کر بیٹھا ہے تو وہ ہذیان کا شکار ہے۔ میں بھی تمہارے لئے دعا تو کرسکتا ہوں مگر اقتدار کی خوشخبری نہیں سنا سکتا۔ پھر بھی سخاوت اور رحم سے کام لو۔ عجب نہیں کہ یہ فیاضی تمہاری کام آجائیٖ‘‘
الغ خان حضرت شیخ کا اشارہ سمجھ گیا تھا۔ اس لئے خاموشی کے ساتھ بارگاہ فریدی سے اٹھا اور اجودھن کے درویش کے ہاتھوں کا طویل بوسہ دے کر واپس چلا گیا۔
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی ملاقات سے فیض یاب ہونے کے بعد الغ خان میں ایک خاص تبدیلی آگئی تھی۔ دوسرے وزیر و امیر اس کی اس بدلی ہوئی عادت کو بہت حیرت سے دیکھتے تھے مگر الغ خان اپنے امرائے سلطنت کے اس ردعمل سے بے نیاز محتاجوں اور ضرورت مندوں میں دولت تقسیم کرتا رہتا تھا۔ جب بھی کوئی حاجت مند اس کے سامنے آکر دست سوال حیرت انگیز طور پر اجودھن کا واقعہ یاد آجاتا اور ایسا محسوس ہوتا جیسے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ سرگوشی میں کہہ رہے ہوں۔
’’شہنشاہ ایران فریدوں بادشاہ بن کر آسمان سے نہیں اترا تھا‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے الفاظ کی بازگشت الغ خان کو پرجوش بنادیتی اور پھر وہ جی کھول کر سرکاری خزانہ لٹاتا رہتا۔
غرض اس طرح حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ سے ملاقات کئے ہوئے تقریبا پچیس سال گزر گئے مگر ابھی الغ خان کی خواہش اقتدار تکمیل تک نہیں پہنچی تھی۔ کبھی کبھی وہ شدید مایوس ہوجاتا اور مطلق العنان حکمرانی کے خواب بکھرنے لگتے مگر یہ عجیب بات تھی کہ جب بھی الغ خان ناامیدی کا شکار ہوتا۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے الفاظ اس کی سماعت میں گونجنے لگتے۔
’’سخاوت و کرم سے کام لے‘ تو بھی فریدوں ہوجائے گا‘‘
ان الفاظ کے یاد آتے ہی الغ خان ایک بار پھر پرامید نظر آنے لگتا اور ضرورت مندوں کی جماعت سے نہایت فراخدلانہ سلوک کرتا۔
پھر وہ وقت معلوم آپہنچا۔ 664ھ میں سلطان ناصر الدین محمود نے انتقال کیا اور متفقہ طور پر الغ خان کو ہندوستان کا فرمانروا منتخب کرلیا گیا۔ خواہش اقتدار ایک طویل انتظار کے بعد تکمیل کے مراحل تک پہنچی۔
الغ خان برسر عام کہا کرتا تھا کہ میرے اس منصب عظیم پر فائز ہونے میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی دعائوں کا بہت زیادہ دخل ہے۔ آپ مجھے فریدوں ہونے کی دعا دیتے تھے اور میں فریدوں شہنشاہ ہوگیا۔ رسم تاج پوشی کے بعد الغ خان نے سلطان غیاث الدین بلبن کا لقب اختیار کیا اور نہایت جاہ و جلال کے ساتھ طویل و عریض ہندوستان پر حکومت کرنے لگا۔
سلطان غیاث الدین بلبن کی داستان اقتدار بیان کرنے کے بعد اب ہم اصل موضوع کی طرف لوٹتے ہیں۔ بے شک! خاتون بیگم نام کی ایک دوشیزہ سے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے 634ھ میں شادی کی تھی مگر وہ فرمانروائے ہندوستان بلبن کی صاحبزادی نہیں تھی۔ خاتون بیگم خاندان سادات سے تعلق رکھنے والی ایک پاکباز عورت تھی۔ اﷲ نے انہیں یہ شرف بخشا تھا کہ ان کے بطن سے پیدا ہونے والی اولادیں نہ صرف زندہ ہیں بلکہ ان ہی کے ذریعے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی نسل کو فروغ حاصل ہوا۔
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کے اصرار مسلسل کے بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے عملی طور پر کیا قدم اٹھایا تھا؟ عام تاریخ نویس تو یہی لکھتے ہیں کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے پیرو مرشد کے وصال کے بعد 634ھ میں خاتون بیگم سے شادی کی تھی… مگر اہل دل اس تاریخی روایت کو تسلیم نہیں کرتے۔ اگر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ  شیخ کی وفات کے بعد شادی کرتے تو معرفت کے قانون میں آپ کا یہ عمل حکم عدولی کے مترادف قرار پاتا … اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ وہ بزرگ تھے جو حکم شیخ پر جان تو دے سکتے تھے مگر سرتابی نہیں کرسکتے تھے۔
ان حقائق کی روشنی میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے حکم شیخ کے مطابق 621ھ یا 622ھ میں نجیب النساء سے شادی کی۔ ان خاتون کے بارے میں زیادہ تفصیلات تو موجود نہیںپھر بھی اتنا ضرور ہے کہ نجیب النساء ایک شریف خاندان سے تعلق رکھتی تھیں… اور یہ خاندان غالبا بانسی میں آباد تھا۔ اپنی ان ہی زوجہ محترمہ کی وجہ سے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے شہر بانسی میں طویل قیام کیا۔
بیشتر تذکرہ نگاروں کا خیال ہے کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ حضرت شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کی وجہ سے اس شہر میں سکونت پذیر ہوئے۔ شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے انتہائی لاڈلے اور چہیتے مرید تھے۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو آپ سے اس قدر محبت تھی کہ بعض مواقع پر دوسرے مرید حضرت جمال الدین بانسوی سے حسد کرنے لگتے تھے۔
حضرت شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کا مختصر تعارف یہ ہے کہ آپ کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے امام اعظم حضرت ابوحنیفہ رحمتہ اﷲ علیہ تک پہنچ جاتا ہے۔ آپ کا خاندانی نام جلال الدین تھا۔
سلسلہ چشتیہ میں داخل ہونے سے پہلے حضرت شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ ایک اعلیٰ درجے کے خطیب تھیٖ۔ آپ جس محفل میں بھی تقریر کرتے‘ سننے والے مبہوت ہوکر رہ جاتیٖ حضرت شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کو الفاظ پر وہ قدرت حاصل تھی کہ آپ جب چاہتے اہل مجلس کو رلا دیتے اور جب چاہتے حاضرین کے ہونٹوںپر مسکراہٹوں کے چراغ جل اٹھتے۔
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے آپ کی اس صفت خاص کے بارے میں سنا تو فرمایا ’’جمال زبان کا امیر ہے مگر اس کا دل دولت عرفان سے خالی ہے‘‘
جب حضرت شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کو یہ معلوم ہوا تو آپ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے ’’مجھے اپنی غلامی کا شرف عطا کیجئے کہ میں اب تک اس دولت سے محروم ہوں‘‘
شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کی درخواست سن کر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ فرمانے لگیٖ ’’تم تو خود ایک عالم و فاضل شخص ہو۔ اپنی تقریروں سے محفلوں میں آگ لگا دیتے ہو۔ پھر میں تمہاری رہنمائی کس طرح کرسکوں گا؟‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کی آزمائش کے لئے گریز اختیار کررہے تھے۔
’’ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو مگر آج میں اپنے دل میں آگ لگانا چاہتا ہوں۔ میرا سینہ اب تک ایک سرد خانے کی مانند ہے۔ شیخ! اسے عشق کی حرارت عطا کیجئے ورنہ پتھر بن کر رہ جائوں گا‘‘ شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کی آواز سے رقت جھلک رہی تھی۔
آزمائش کا مختصر مرحلہ گزر چکا تھا۔ جیسے ہی شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوئے‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے آگے بڑھ کر فاضل نوجوان کو سینے سے لگالیا اور پھر والہانہ انداز میں فرمایا ’’میرا جمال‘‘ عجیب الفاظ تھے اور عجیب لمحہ تھا۔
اسی وقت اہل نظر کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اس نووارد کوچہ معرفت کی نگاہ شیخ میں کیا مقام حاصل ہے؟ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کو سلوک کی منزلیں اس طرح طے کرائیں کہ اس کا تصور ہی کرکے دوسرے عارف حیران رہ جاتے تھے پھر جلد ہی وہ مقام بھی آگیا جب حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کو خرقہ خلافت عطا کردیا۔ ظاہری اعتبار سے بھی حضرت شیخ جمال رحمتہ اﷲ علیہ ایک بہت بڑے عالم تھیٖ آپ نے کئی کتابیں تصنیف کیں۔ ’’ہلمات‘‘ آپ کی مشہور کتاب ہے۔ اس کے علاوہ حضرت شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ بلند مرتبہ شاعر بھی تھیٖ آپ کا صوفیانہ کلام اس قدر دلنشیں ہوتا تھا کہ جسے سن کر صوفیائے کرام بھی وجد میں آجاتے تھے۔
>ایک دن حضرت شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ نے رسالت مآبﷺ کی یہ حدیث مبارکہ سنی۔ ’’قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے… اور دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا‘‘
>اس حدیث مقدس کے سنتے ہی حضرت شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کی حالت غیر ہوگئی اور پھر آپ پر مسلسل ایک اضطراب کیفیت طاری ہونے لگی۔ دل میں جو کچھ بھی خواہش دنیا رہ گئی تھی وہ اس حدیث مبارکہ کے سنتے ہی فنا ہوگئی اور پھر ہر وقت آپ کی آنکھوں کے سامنے قبر کا ہولناک منظر ابھرنے لگا۔
>حصرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ حضرت شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ پیرومرشد کا یہ انداز دیکھ کر بعض مرید رشک کا شکار ہوگئے تھے اور کچھ لوگ آتش حسد میں جل اٹھے تھے۔ حصرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اکثر آپ کے بارے میں فرماتے تھے۔
>’’جمال… جمال ماست (جمال ہمارا جمال ہے) ایک بار حضرت بہاؤ الدین ذکریا ملتانی رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو تحریر کیا کہ میرے تمام مریدوں اور خلفاء کو لے لیجئے اور ان کے بدلے میں صرف جمال الدین کو مجھے دے دیجئے‘‘
>جواب میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے لکھا ’’جمال میرا جمال ہے‘ معاوضہ مال میں ہوسکتا ہے نہ کہ جمال میں‘‘
>حضرت شیخ بہاؤ الدین ذکریا ملتانی رحمتہ اﷲ علیہ نے کچھ دن بعد پھر اسی مضمون  کا خط لکھا ’’مستقل نہیں تو کچھ دن کے لئے مجھے جمال کو دیجئے‘‘
>جواب میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے تحریر فرمایا ’’شیخ! کوئی اپنا جمال بھی کسی کو دیتا ہے۔ آپ چند روز کے لئے کہتے ہیں‘ میں چند لمحوں کے لئے بھی جمال کو خود سے جدا نہیں کرسکتا‘‘
>کچھ عرصے بعد حضرت شیخ بہاؤ الدین ذکر ملتانی رحمتہ اﷲ علیہ نے پھر اسی خواہش کا اظہار کیا۔
>جواب میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔ ’’شیخ ! بار بار درخواست کرکے مجھے شرمندہ نہ کیجئے۔ جمال کے سلسلے میں نہ کوئی سودا ہوسکتا ہے اور نہ کوئی مفاہمت‘‘
>شیخ الہدیہ نے اپنی مشہور تصنیف ’’سیرالاقطاب‘‘ میں اس واقعہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی طرف سے مایوس ہوکر حضرت شیخ بہاؤ الدین ذکریا ملتانی رحمتہ اﷲ علیہ نے روحانی طاقتوں کے ذریعے شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کو اپنے طرف متوجہ کرلیا۔
>ایک دن شیخ جمال رحمتہ اﷲ علیہ پیرومرشد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے ’’سیدی! مجھے ملتان جانے کی اجازت مرحمت فرمایئے‘‘
>’’جمال! تم ملتان جاکر کیا کروگے؟‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے حیرت زدہ لہجے میں دریافت کیا ’’کیا وہاں تمہیں کوئی ضروری کام ہے؟‘‘
>’’میں حضرت شیخ بہاؤ الدین ذکر ملتانی رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتا ہوں‘‘ شیخ جمال رحمتہ اﷲ علیہ کی گفتگو سے یہ ظاہر نہیں ہوتا تھا کہ آپ چند روز کے لئے ملتان جانے کی خواہش رکھتے ہیں یاپھر حضرت شیخ ذکریا رحمتہ اﷲ علیہ سے فیض روحانی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
>’’کیا کہا…؟‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی حیرت میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔ ’’اگر تمہیںوہاں بھیجنا ہوتا تو میں حضرت شیخ کے خطوط کے جواب میں انکار کیوں کرتا؟‘‘
>شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی اس ناگواری کو محسوس نہیں کیا اور خاموش کھڑے رہے۔
>’’کیا تم اپنا ارادہ نہیں بدل سکتے؟‘‘ شیخ جمال رحمتہ اﷲ علیہ کے ہونٹوں پر مہر سکوت دیکھ کر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔
>’’میں کچھ دنوں کے لئے ملتان جانا چاہتا ہوں‘‘ شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنی اسی خواہش کا اظہار کیا۔ شیخ الہدیہ نے اپنی کتاب ’’سیرالاقطاب‘‘ میں تحریر کیا ہے کہ یہ حضرت شیخ بہاؤ الدین ذکریا ملتانی رحمتہ اﷲ علیہ کا روحانی تصرف تھا اور اس کے زیر اثر شیخ جمال بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ ملتان جانے کے لئے بے قرار و مضطرب تھے۔
>’’جائو ! چلے جائو‘‘ اچانک حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ غضب ناک ہوگئے تھے۔ اہل مجلس کا بیان ہے کہ ان لوگوں نے اس سے پہلے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو اس قدر غیظ کے عالم میں نہیں دیکھا تھا۔ چہرہ مبارکہ بھی غصے سے سرخ ہوگیاتھا اور لہجے سے بھی قہر کی چنگاریاں پھوٹ رہی تھیں۔
>ہم نے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی زبان مبارکہ سے ادا ہونے والے الفاظ کو محتاط انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے ورنہ شیخ الہدیہ رحمتہ اﷲ علیہ نے تو مذکورہ واقعہ کو اس طرح بیان کیا ہے کہ جیسے ہی شیخ جمال بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت بہاؤ الدین ذکریا ملتانی رحمتہ اﷲ علیہ کے پس جانے کی خواہش ظاہر کی تھی تو حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے انتہائی برہم لہجے میں فرمایا تھا۔
>’’جائو اور اپنا منہ کالا کرو‘‘ یہ محبت کی انتہا تھی کہ شیخ جمال رحمتہ اﷲ علیہ کی جدائی کے تصور ہی سے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ جیسے شیریں دہن انسان کا لہجہ شرر بار ہوگیا تھا۔
>ابھی فضا میں حضرت بابافرید رحمتہ اﷲ علیہ کے الفاظ کی گونج باقی تھی کہ شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کا تمام علم روحانی سلب ہوگیا۔ اب شیخ جمال رحمتہ اﷲ علیہ کی حیثیت اس شخص کی سی تھی جس نے محنت شاقہ کے بعد ایک بڑا سرمایہ جمع کیا ہو… اور اچانک کسی نظر نہ آنے والے ہاتھ نے اس کی ساری دولت چھین لی ہو۔
>حضرت شیخ الہدیہ رحمتہ اﷲ علیہ نے یہ بھی تحریر کیا ہے کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے اظہر ناراضگی کے بعد شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کے چہرے کا رنگ بگڑنے لگا تھا شاید منہ کالا کرنے کا یہی مفہوم ہو۔
>پھر دیکھنے والوں نے دیکھا کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا چہیتا اور لاڈلا ’’جمال‘‘ خانقاہ کے دروازے سے اس طرح نکلا تھا کہ جیسے وہ روئے زمین پر دنیا کا سب سے زیادہ مفلس اور بدنصیب انسان ہو۔ شیخ جمال رحمتہ اﷲ علیہ کو محسوس ہورہا تھا کہ اب ان کے لئے اس زمین پر کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔ بعض روایات سے اس بات کی بھی نشاندہی ہوتی ہے کہ حضرت بابافرید رحمتہ اﷲ علیہ کے اظہار غضب کے بعد شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ نے خانقاہ میں ٹھہرنے کی کوشش کی تھی مگر پیر ومرشد بار بار یہی فرما رہے تھے۔
>’’میری نظروں سے دور ہوجائو۔ اپنے سینے میں ملتان جانے کی آرزو رکھتے ہو تو پھر وہیں چلے جائو‘‘
>شیخ جمال رحمتہ اﷲ علیہ اس آتش جلال کا سامنا نہیں کرسکتے تھے۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے سینے میں اذیت و کرب کی جو آگ بھڑکی تھی اسے بجھانے والا کوئی نہیں تھا اگر شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ ان شعلوں کو سرد کرنے کے لئے کچھ دیر ٹھہر جاتے تو خود بھی جل کر خاکستر ہوجاتے۔ وہ آگ تو اپنے وقت ہی پر بجھتی اور وقت ابھی بہت دور تھا۔ شیخ جمال رحمتہ اﷲ علیہ کی عافیت اسی میں تھی کہ وہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی نظروں سے اوجھل ہوجاتے۔
>پھر وہ جمال مجلس سے نکل کر چلا گیا جس کے بارے  میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ فرمایا کرتے تھے ’’کوئی اپنا جمال بھی کسی کو دیتا ہے‘‘ بڑی عجیب بات تھی کہ آج بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے اسی جمال کو وقت کے حوالے کردیا تھا۔
>شیخ الہدیہ رحمتہ اﷲ علیہ کا بیان ہے کہ پیرومرشد کی خانقاہ سے اٹھ کر شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ اتنے وارفتہ ہوئے کہ گریبان چاک کردیا اور دشت الم میں تنہا بھٹکنے لگے۔ پورا جسم زخموں سے بھر گیا اور زخم خون دینے لگے۔ کبھی جس کے رخ تابناک سے پوری بزم روشن تھی‘ اب اسی کا چہرہ دھواں دھواں تھا۔
>شیخ جمال کیا گئے کہ پوری خانقاہ اداسیوں میں ڈوب گئی۔ اگرچہ روز و شب بھی وہی تھی… مسافران عشق بھی وہی تھے… اور منزل عرفاں بھی وہی تھی… لیکن خود میر مجلس شکستہ تھا…رہنمائے شوق دل گرفتہ تھا… اس لئے ہر شے بجھی بجھی سی لگتی تھی۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے سامنے جب بھی کوئی شیخ جمال رحمتہ اﷲ علیہ کا ذکر کرتا تو آپ انتہائی ناخوشگوار لہجے میںفرماتے۔
>’’جانے والے چلے گئے تو اس مجلس سے ان کا نام بھی اٹھ گیا‘‘
>اس کے بعد پھر کسی کی اتنی جرات نہیں ہوئی کہ وہ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے حضور میں  شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کی سفارش کرنے کے متعلق سوچتا… اور سفارش کر بھی کون سکتا تھا کہ جانے والا تو خود محبوب تھا جب محبوب ہی زیر عتاب آگیا تو کس میں اتنا حوصلہ تھا کہ لب کشائی کرتا۔
>ظاہری آنکھ رکھنے والے بس اتنا جانتے تھے کہ شیخ جمال رحمتہ اﷲ علیہ پر مسلسل غضب نازل ہورہا ہے اور بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ ان سے اس حد تک خفا ہیں کہ راضی ہونے کا کوئی امکان بھی باقی نہیں… مگر جنہیں درویشی کے مزاج کا اندازہ تھا اور جو اہل دل کی فطرت سے آگہی رکھتے تھے‘ انہیں بخوبی اندازہ تھا کہ جب حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ شیخ جمال رحمتہ اﷲ علیہ کا نام لینے پر پابندی عائد کرتے ہیں تو پس پردہ ایک خلش‘ ایک اذیت اور ایک کرب کی آہٹیں بھی سنائی دیتی ہیں۔ حضرت شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنی ایک لغزش پر عذاب کب تک برداشت کیا۔ تاریخ سے اس کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ ہاں! اتنا ضرور پتا چلتا ہے کہ یہ مدت فراق کئی ماہ تک طول کھینچ گئی تھی… اور کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ شیخ جمال رحمتہ اﷲ علیہ کی ظاہری حالت بہت زیادہ بگڑ گئی تھی جو بھی دیکھتا تھا بے اختیار اس کے منہ سے آہ سرد نکل جاتی تھی۔
>’’یہ گردش روز و شب کا کیسا ہدف ہے کہ پہچانا بھی نہیں جاتا۔ اﷲ اس پر اپنا رحم کرے‘‘
>شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ چپ چاپ لوگوں کی باتیں سنتے رہتے۔ کہتے بھی تو کیا کہتے کہ اس منزل میں کچھ کہنے کا یارا ہی کہاں تھا؟ پھر جب ضبط سخن سے سینہ جل اٹھتا تو آسمان کی طرف دیکھ کر چیخنے لگتے۔
>’’لوگو! تمہیں کیا بتاؤں کہ میں کون ہوں؟ جب میری پہچان کھو گئی تو مجھ سے میرا تعارف چاہتے ہو؟ کسے خبر کہ میں کس محفل سے اٹھایا گیا ہوں؟‘‘
>پھر اسی زمانہ فراق میں شیخ جمال رحمتہ اﷲ علیہ کی ملاقات عالم نامی ایک شخص سے ہوئی۔ عالم ایک بڑا سوداگر بھی تھا اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا مرید بھی‘ جب اسے معلوم ہوا کہ یہ پیرومرشد کے محبوب ترین مرید شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ ہیں تو وہ شدت الم سے رونے لگا۔
>’’جمال! یہ تم ہو؟ بابا فریدرحمتہ اﷲ علیہ کے جمال؟‘‘ عالم سوداگر شدت غم سے کانپ رہاتھا۔
>’’ہاں! یہ میں ہی ہوں راندہ درگاہ شیخ‘‘ حضرت جمال بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ نے اس طرح کہا کہ آپ کی زبان مبارک سے ادا ہونے والا ایک ایک لفظ حسرت و آرزو کا مرثیہ تھا اور ماضی و حال کا نوحہ تھا۔
>’’میں کیا کروں؟ خدا کے لئے مجھے بتائو کہ میں کیا کروں؟‘‘ عالم سوداگر ناقابل بیان اضطراب میں مبتلا تھا ’’جس کی سفارش سے دوسرے لوگ شیخ کی حضوری حاصل کیا کرتے تھے‘ آہ وہ خود سفارش کا محتاج ہے۔ یہ کیسے فاصلے ہیں اور یہ کیسی دوری ہے؟ اور یہ کیسی فرقت ہے اور یہ کیسی مہجوری ہے؟‘‘
’’تجھے نہیں معلوم کہ جس کمبل پر تو بیٹھا ہے اس پر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ تشریف رکھتے ہیں‘ میں نے تو صرف مہمان نوازی کے خیال سے تجھے پیرومرشد کا کمبل پیش کردیا تھا مگر افسوس کہ تونے اس متبرک شے کی قدر نہیں کی… اور ادب و احترام کی ساری حدوں سے گزر گیا۔ اسی وقت یہاں سے اٹھ اور اپنا چہرہ گم کردے‘ تونے ہماری مدارات کا بہت برا صلہ دیا ہے‘‘
جیسے ہی مولانا بدرالدین اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ کی بات ختم ہوئی‘ قلندر نے آنکھ اٹھا کر دیکھا‘ اس کے چلتے ہوئے ہاتھ یکایک رک گئے۔ پھر قلندر نے ناگہاں ایک ایسی چیخ ماری کہ خانقاہ کے درودیوار گونج اٹھے۔ قلندر کی چیخ میں بڑی ہیبت تھی‘ بڑا جلال تھا‘ پھر وہ کشکول لے کر اپنی جگہ سے اٹھا۔
خانقاہ کے خدمت گار دیکھ رہے تھے کہ قلندر کے جس ہاتھ میں کشکول تھا‘ وہ آہستہ آہستہ فضا میں بلند ہورہا تھا‘ دیکھنے والوں کا خیال تھا کہ قلندر اپنا کشکول مولانا بدر الدین اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ کے سر پر مارنا چاہتا ہے اسی دوران حجرے کا دروازہ کھلا اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ باہر تشریف لے آئے۔ قلندر کے تیور بہت بگڑے ہوئے تھے مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنا کشکول مولانا بدر الدین اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ کے چہرے پر ماردیتا‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ تیزی سے … قلندر کی طرف بڑھے اور قلندر کا اٹھا ہوا ہاتھ پکڑ کر فرمانے لگے۔
’’مولانا بدر الدین کو میری وجہ سے معاف کردو یہ تمہیں پہچانتے نہیں تھے‘‘
جب حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی زبان مبارکہ سے یہ الفاظ ادا ہوئے تو تمام مرید اور خدمت گار سکتے میں آگئے۔ اب انہیں اندازہ ہوا کہ وہ قلندر کس مرتبے کا مالک ہے؟ ورنہ ’’انبان‘‘ گھاس کے پیستے وقت حاضرین خانقاہ نے سمجھ لیا تھا کہ وہ بھی قلندری کے لباس میں نشہ کرنے والا کوئی ملنگ ہے۔
’’فرید! میں تمہاری بات نہیں ٹال سکتا‘‘ قلندر کے چہرے کا رنگ بدل گیا تھا۔ ’’میں تمہارا بہت احترام کرتا ہوں مگر تمہیں یہ راز بھی معلوم ہے کہ پہلے تو فقیر ہاتھ اٹھاتے ہی نہیں مگر جب اٹھا لیتے ہیں تو پھر اسے نیچا نہیں کرتے۔ بہتر ہے کہ اب اس ہاتھ کو بلند ہی رہنے دو‘‘
’’میں جانتا ہوں… خوب جانتا ہوں‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’تم اپنا ہاتھ اونچا ہی رکھو اور اس کشکول کو دیوار پر ماردو‘‘
قلندر ایک درویش کی بات کا مفہوم سمجھ گیا اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ پھر جیسے ہی قلندر کا ہاتھ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی گرفت سے آزاد ہوا‘ اس نے پوری طاقت سے اپنا کشکول دیوار پر مار دیا۔
اس وقت خانقاہ میں موجود تمام لوگوں کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب کشکول کی معمولی ضرب سے ایک پختہ اور مضبوط دیوار آن کی آن میں زمیں بوس ہوگئی۔
دیوار کے گرتے ہی قلندر نے سر جھکالیا‘ کچھ دیر تک سکوت کے عالم میں کھڑا رہا۔ پھر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ سے کہتا ہوا چلا گیا ’’اچھا! اب ہم جاتے ہیں اﷲ تمہارا بھلا کرے‘‘
جب قلندر خانقاہ سے نکل کر چلا گیا تو حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے مولانا بدر الدین رحمتہ اﷲ علیہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ’’سب لوگوں کو ایک نظر سے نہیں دیکھتے‘ کبھی کبھی عام انسانوں کے لباس میں خاص ہستیاں بھی ہوتی ہیں‘‘
’’میں نے تو اس گھاس کی وجہ سے قلندر کے ساتھ یہ سلوک کیا تھا کہ وہ آپ کے متبرک کمبل پر بیٹھ کر نشہ کرنا چاہتا تھا‘‘ مولانا بدر الدین رحمتہ اﷲ علیہ نے عرض کیا۔
’’نہیں! یہ وہ گھاس نہیں تھی جسے ملنگ استعمال کرتے ہیں۔ وہ صاحب حال انسان تھا اور شاید ہماری آزمائش کے لئے آیا تھا‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’آئندہ احتیاط رکھنا کہ پھر کبھی تمہاری نظر دھوکا نہ کھا جائے‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ تقریبا بارہ سال تک ہانسی میں مقیم رہے۔ یہیں بی بی نجیب النساء سے آپ کی سات اولادیں ہوئیں۔ چھ بچے صغیر سنی میں انتقال کرگئے۔ صرف ایک صاحب زادی شرف النساء زندہ رہیں‘ جنہیں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے حقیقی بھانجے اور مشہور بزرگ حضرت علائو الدین صابر کلیری رحمتہ اﷲ علیہ کی بیوی ہونے کا شرف حاصل ہے۔
ربیع الاول کا مہینہ تھا حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ دہلی میں چار روزہ قیام کیا۔ پھر محفل سماع میں شرکت کے بعد ہانسی جانے کی اجازت طلب کی۔
حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نے بڑی محبت سے آپ کو گلے لگایا۔ پھر نہایت پرسوز لہجے میں فرمایا ’’مولانا فرید دنیا اور آخرت میں تم ہی میرے رفیق ہو… اور میرا مقام درحقیقت تمہارا ہی مقام ہے‘‘
اس عنایت خاص پر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ پھر جب آپ ہانسی کی طرف روانہ ہوئے تو دل و دماغ پر ایک عجیب سا بوجھ تھا۔
آخر اسی اضطراب میں کئی روز گزر گئے پھر ایک روز آپ کو پیرومرشد کے وہ الفاظ یاد آئے جو حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ نے دہلی سے رخصت کرتے وقت ادا فرمائے تھے ’’مولانا! میں تمہاری امانت قاضی حمید الدین ناگوری کو دے دوں گا‘‘
اسی رات حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے خواب میں دیکھا کہ پیرومرشد یاد فرما رہے ہیں۔ وہ رات کا پچھلا پہر تھا۔ آپ کی آنکھ کھلی تو بے چین ہوگئے۔ بی بی نجیب النساء سے فرمایا کہ سفر کا سامان تیار کریں۔
’’آپ کہاں تشریف لے جانا چاہتے ہیں؟‘‘ بی بی نجیب النساء نے عرض کیا۔ جب آپ نے دہلی جانے کا ارادہ ظاہر کیا تو زوجہ محترمہ بے اختیار بول اٹھیں ’’ابھی تو دہلی سے آئے ہوئے ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا ہے‘‘
’’پیرومرشد کا یہی حکم ہے۔‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔
’’کم سے کم صبح ہونے کا تو انتظار کرلیجئے‘‘ بی بی نجیب النساء نے آپ کی عجلت پر حیران ہوتے ہوئے کہا۔
’’میرے لئے ایک ایک لمحہ گراں ہے‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بہت زیادہ مضطرب نظر آرہے تھے ’’جب تک پیرمرشد کی خدمت میں حاضر نہ ہوجائوں اس وقت تک مجھے قرار نہیں آئے گا‘‘
پھر رات کے اندھیرے ہی میں آپ دہلی کی طرف روانہ ہوگئے۔
چوتھے دن دہلی پہنچے تو دنیا ہی بدلی ہوئی تھی۔ پورا شہر ایک ماتم کدہ نظر آرہا تھا۔ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ دنیا سے رخصت ہوچکے تھے۔
آفتاب زیر خاک سورہا تھا۔ پیرومرشد کی قبر پر نظر پڑی تو ایسے وارفتہ ہوئے کہ ہوش و حواس جاتے رہے جس شخص کا شمار صابرین میں ہوتا تھا‘ فراق کی اس منزل سے گزرا‘ تو صبروقرار کھو بیٹھا‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بچوں کی طرح حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کے مرقد سے لپٹ کر رونے لگے۔
دوسرے روز حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو وہ جامہ (خرقہ) پیش کیا جسے حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ پہنا کرتے تھے اور جو پیران چشت کی امانت تھی۔ سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اﷲ علیہ نے اسی جامے کو برسوں اپنے جسم کی خوشبو سے مہکایا تھا… اور پھر جب قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نے اسی جامے کو زیب تن کرکے خاندان چشتیہ کی روایات کو فروغ بخشا تھا… اور آج یہی خرقہ حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمتہ اﷲ علیہ ‘ حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کے حکم سے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو پیش کررہے تھے‘ جب حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمتہ اﷲ علیہ نے خرقہ آگے بڑھایا تو حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے ہاتھ کانپنے لگے۔
’’مولانا! یہ خواجگان چشت کی امانت ہے۔ اس کا بارگراں آپ ہی اٹھا سکتے ہیں‘ اسے قبول فرمالیجئے‘‘ حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت بابافرید رحمتہ اﷲ علیہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔
’’شیخ! میں اسے کیسے قبول کروں؟‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ پر ایک بار پھر گریہ طاری ہوگیا۔ ’’کل تک اس پاک لباس کو میرے پیرومرشد زیب تن فرماتے تھے‘ آج یہ غلام اس خرقہ عظیم کو پہنے گا؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ میں اس قابل کہاں ہوں‘‘
’’نہیں مولانا! آپ ہی اس خرقے کے حقدار ہیں‘‘ حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔ ’’حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ بہتر جانتے تھے کہ یہ خرقہ کس جسم کے لئے بنایا گیا ہے؟ شیخ نے رخصت ہونے سے پہلے اہل مجلس کے سامنے فرمایا تھا کہ جب مولانا فرید آئیں تو خواجگان چشت کے تبرکات ان کے حوالے کردیئے جائیں کہ میرے بعد وہی پیران چشت کی امانتوں کے امین ہیں‘‘
خرقے کے ساتھ ہی حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کا عصا اور چوبی نعلین (کھڑائوں) بھی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو پیش کئے تھے۔
خواجگان چشت کے تبرکات حاصل کرنے کے بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے دو رکعت نماز ادا کی اور پھر اس مسند خلافت پر بیٹھے جہاں حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ تشریف فرما ہوتے تھے۔
دیکھنے والوں نے دیکھا کہ سجادے پر بیٹھتے ہی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا جسم لرزنے لگا تھا اور آنکھیں ایک بار پھر اشک برسانے لگی تھیں‘ اسی کیفیت میں بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اہل مجلس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔
’’برادران عزیز! جب میں آخری بار پیرومرشد سے مل کر ہانسی جارہا تھا تو شیخ نے مجھ سے فرمایا تھا
’’فرید! میرا مقام درحقیقت تمہاری ہی مقام ہے‘‘
’’لوگو! غور سے سنو! یہ سیدی کا ظرف تھا کہ میرے اور اپنے مقام کو یکساں قرار دیا تھا … ورنہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں فرید الدین مسعود ہوں‘ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ کا ادنیٰ غلام تم سب میرے لئے دعا کرو کہ میں اس آزمائش میں پورا اتروں اور پیرومرشد کی تابندہ روایات کو گمنام نہ ہونے دوں‘‘
حضرت بابا فریدرحمتہ اﷲ علیہ  کا لہجہ اس قدر پرسوز تھا کہ اہل مجلس بھی بے اختیار رونے لگے پھر تمام حاضرین خانقاہ نے بیک زبان کہا۔
’’آپ پیرومرشد کی روشن نشانی ہیں۔ اس لئے اب آپ ہی ہمارے شیخ ہیں اور آپ ہی ہمارے رہنما ہیں‘‘
روایات ہے کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے تین دن حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کے دولت کدے پر گزارے اور سات دن تک مسند خلافت پر جلوہ افروز رہے پھر اچانک ایک ایساواقعہ پیش آیا کہ آپ دوبارہ ہانسی تشریف لے گئے۔
’’تجھے نہیں معلوم کہ جس کمبل پر تو بیٹھا ہے اس پر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ تشریف رکھتے ہیں‘ میں نے تو صرف مہمان نوازی کے خیال سے تجھے پیرومرشد کا کمبل پیش کردیا تھا مگر افسوس کہ تونے اس متبرک شے کی قدر نہیں کی… اور ادب و احترام کی ساری حدوں سے گزر گیا۔ اسی وقت یہاں سے اٹھ اور اپنا چہرہ گم کردے‘ تونے ہماری مدارات کا بہت برا صلہ دیا ہے‘‘
جیسے ہی مولانا بدرالدین اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ کی بات ختم ہوئی‘ قلندر نے آنکھ اٹھا کر دیکھا‘ اس کے چلتے ہوئے ہاتھ یکایک رک گئے۔ پھر قلندر نے ناگہاں ایک ایسی چیخ ماری کہ خانقاہ کے درودیوار گونج اٹھے۔ قلندر کی چیخ میں بڑی ہیبت تھی‘ بڑا جلال تھا‘ پھر وہ کشکول لے کر اپنی جگہ سے اٹھا۔
خانقاہ کے خدمت گار دیکھ رہے تھے کہ قلندر کے جس ہاتھ میں کشکول تھا‘ وہ آہستہ آہستہ فضا میں بلند ہورہا تھا‘ دیکھنے والوں کا خیال تھا کہ قلندر اپنا کشکول مولانا بدر الدین اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ کے سر پر مارنا چاہتا ہے اسی دوران حجرے کا دروازہ کھلا اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ باہر تشریف لے آئے۔ قلندر کے تیور بہت بگڑے ہوئے تھے مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنا کشکول مولانا بدر الدین اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ کے چہرے پر ماردیتا‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ تیزی سے … قلندر کی طرف بڑھے اور قلندر کا اٹھا ہوا ہاتھ پکڑ کر فرمانے لگے۔
’’مولانا بدر الدین کو میری وجہ سے معاف کردو یہ تمہیں پہچانتے نہیں تھے‘‘
جب حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی زبان مبارکہ سے یہ الفاظ ادا ہوئے تو تمام مرید اور خدمت گار سکتے میں آگئے۔ اب انہیں اندازہ ہوا کہ وہ قلندر کس مرتبے کا مالک ہے؟ ورنہ ’’انبان‘‘ گھاس کے پیستے وقت حاضرین خانقاہ نے سمجھ لیا تھا کہ وہ بھی قلندری کے لباس میں نشہ کرنے والا کوئی ملنگ ہے۔
’’فرید! میں تمہاری بات نہیں ٹال سکتا‘‘ قلندر کے چہرے کا رنگ بدل گیا تھا۔ ’’میں تمہارا بہت احترام کرتا ہوں مگر تمہیں یہ راز بھی معلوم ہے کہ پہلے تو فقیر ہاتھ اٹھاتے ہی نہیں مگر جب اٹھا لیتے ہیں تو پھر اسے نیچا نہیں کرتے۔ بہتر ہے کہ اب اس ہاتھ کو بلند ہی رہنے دو‘‘
’’میں جانتا ہوں… خوب جانتا ہوں‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’تم اپنا ہاتھ اونچا ہی رکھو اور اس کشکول کو دیوار پر ماردو‘‘
قلندر ایک درویش کی بات کا مفہوم سمجھ گیا اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ پھر جیسے ہی قلندر کا ہاتھ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی گرفت سے آزاد ہوا‘ اس نے پوری طاقت سے اپنا کشکول دیوار پر مار دیا۔
اس وقت خانقاہ میں موجود تمام لوگوں کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب کشکول کی معمولی ضرب سے ایک پختہ اور مضبوط دیوار آن کی آن میں زمیں بوس ہوگئی۔
دیوار کے گرتے ہی قلندر نے سر جھکالیا‘ کچھ دیر تک سکوت کے عالم میں کھڑا رہا۔ پھر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ سے کہتا ہوا چلا گیا ’’اچھا! اب ہم جاتے ہیں اﷲ تمہارا بھلا کرے‘‘
جب قلندر خانقاہ سے نکل کر چلا گیا تو حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے مولانا بدر الدین رحمتہ اﷲ علیہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ’’سب لوگوں کو ایک نظر سے نہیں دیکھتے‘ کبھی کبھی عام انسانوں کے لباس میں خاص ہستیاں بھی ہوتی ہیں‘‘
’’میں نے تو اس گھاس کی وجہ سے قلندر کے ساتھ یہ سلوک کیا تھا کہ وہ آپ کے متبرک کمبل پر بیٹھ کر نشہ کرنا چاہتا تھا‘‘ مولانا بدر الدین رحمتہ اﷲ علیہ نے عرض کیا۔
’’نہیں! یہ وہ گھاس نہیں تھی جسے ملنگ استعمال کرتے ہیں۔ وہ صاحب حال انسان تھا اور شاید ہماری آزمائش کے لئے آیا تھا‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’آئندہ احتیاط رکھنا کہ پھر کبھی تمہاری نظر دھوکا نہ کھا جائے‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ تقریبا بارہ سال تک ہانسی میں مقیم رہے۔ یہیں بی بی نجیب النساء سے آپ کی سات اولادیں ہوئیں۔ چھ بچے صغیر سنی میں انتقال کرگئے۔ صرف ایک صاحب زادی شرف النساء زندہ رہیں‘ جنہیں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے حقیقی بھانجے اور مشہور بزرگ حضرت علائو الدین صابر کلیری رحمتہ اﷲ علیہ کی بیوی ہونے کا شرف حاصل ہے۔
ربیع الاول کا مہینہ تھا حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ دہلی میں چار روزہ قیام کیا۔ پھر محفل سماع میں شرکت کے بعد ہانسی جانے کی اجازت طلب کی۔
حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نے بڑی محبت سے آپ کو گلے لگایا۔ پھر نہایت پرسوز لہجے میں فرمایا ’’مولانا فرید دنیا اور آخرت میں تم ہی میرے رفیق ہو… اور میرا مقام درحقیقت تمہارا ہی مقام ہے‘‘
اس عنایت خاص پر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ پھر جب آپ ہانسی کی طرف روانہ ہوئے تو دل و دماغ پر ایک عجیب سا بوجھ تھا۔
آخر اسی اضطراب میں کئی روز گزر گئے پھر ایک روز آپ کو پیرومرشد کے وہ الفاظ یاد آئے جو حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ نے دہلی سے رخصت کرتے وقت ادا فرمائے تھے ’’مولانا! میں تمہاری امانت قاضی حمید الدین ناگوری کو دے دوں گا‘‘
اسی رات حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے خواب میں دیکھا کہ پیرومرشد یاد فرما رہے ہیں۔ وہ رات کا پچھلا پہر تھا۔ آپ کی آنکھ کھلی تو بے چین ہوگئے۔ بی بی نجیب النساء سے فرمایا کہ سفر کا سامان تیار کریں۔
’’آپ کہاں تشریف لے جانا چاہتے ہیں؟‘‘ بی بی نجیب النساء نے عرض کیا۔ جب آپ نے دہلی جانے کا ارادہ ظاہر کیا تو زوجہ محترمہ بے اختیار بول اٹھیں ’’ابھی تو دہلی سے آئے ہوئے ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا ہے‘‘
’’پیرومرشد کا یہی حکم ہے۔‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔
’’کم سے کم صبح ہونے کا تو انتظار کرلیجئے‘‘ بی بی نجیب النساء نے آپ کی عجلت پر حیران ہوتے ہوئے کہا۔
’’میرے لئے ایک ایک لمحہ گراں ہے‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بہت زیادہ مضطرب نظر آرہے تھے ’’جب تک پیرمرشد کی خدمت میں حاضر نہ ہوجائوں اس وقت تک مجھے قرار نہیں آئے گا‘‘
پھر رات کے اندھیرے ہی میں آپ دہلی کی طرف روانہ ہوگئے۔
چوتھے دن دہلی پہنچے تو دنیا ہی بدلی ہوئی تھی۔ پورا شہر ایک ماتم کدہ نظر آرہا تھا۔ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ دنیا سے رخصت ہوچکے تھے۔
آفتاب زیر خاک سورہا تھا۔ پیرومرشد کی قبر پر نظر پڑی تو ایسے وارفتہ ہوئے کہ ہوش و حواس جاتے رہے جس شخص کا شمار صابرین میں ہوتا تھا‘ فراق کی اس منزل سے گزرا‘ تو صبروقرار کھو بیٹھا‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بچوں کی طرح حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کے مرقد سے لپٹ کر رونے لگے۔
دوسرے روز حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو وہ جامہ (خرقہ) پیش کیا جسے حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ پہنا کرتے تھے اور جو پیران چشت کی امانت تھی۔ سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اﷲ علیہ نے اسی جامے کو برسوں اپنے جسم کی خوشبو سے مہکایا تھا… اور پھر جب قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نے اسی جامے کو زیب تن کرکے خاندان چشتیہ کی روایات کو فروغ بخشا تھا… اور آج یہی خرقہ حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمتہ اﷲ علیہ ‘ حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کے حکم سے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو پیش کررہے تھے‘ جب حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمتہ اﷲ علیہ نے خرقہ آگے بڑھایا تو حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے ہاتھ کانپنے لگے۔
’’مولانا! یہ خواجگان چشت کی امانت ہے۔ اس کا بارگراں آپ ہی اٹھا سکتے ہیں‘ اسے قبول فرمالیجئے‘‘ حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت بابافرید رحمتہ اﷲ علیہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔
’’شیخ! میں اسے کیسے قبول کروں؟‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ پر ایک بار پھر گریہ طاری ہوگیا۔ ’’کل تک اس پاک لباس کو میرے پیرومرشد زیب تن فرماتے تھے‘ آج یہ غلام اس خرقہ عظیم کو پہنے گا؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ میں اس قابل کہاں ہوں‘‘
’’نہیں مولانا! آپ ہی اس خرقے کے حقدار ہیں‘‘ حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔ ’’حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ بہتر جانتے تھے کہ یہ خرقہ کس جسم کے لئے بنایا گیا ہے؟ شیخ نے رخصت ہونے سے پہلے اہل مجلس کے سامنے فرمایا تھا کہ جب مولانا فرید آئیں تو خواجگان چشت کے تبرکات ان کے حوالے کردیئے جائیں کہ میرے بعد وہی پیران چشت کی امانتوں کے امین ہیں‘‘
خرقے کے ساتھ ہی حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کا عصا اور چوبی نعلین (کھڑائوں) بھی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو پیش کئے تھے۔
خواجگان چشت کے تبرکات حاصل کرنے کے بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے دو رکعت نماز ادا کی اور پھر اس مسند خلافت پر بیٹھے جہاں حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ تشریف فرما ہوتے تھے۔
دیکھنے والوں نے دیکھا کہ سجادے پر بیٹھتے ہی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا جسم لرزنے لگا تھا اور آنکھیں ایک بار پھر اشک برسانے لگی تھیں‘ اسی کیفیت میں بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اہل مجلس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔
’’برادران عزیز! جب میں آخری بار پیرومرشد سے مل کر ہانسی جارہا تھا تو شیخ نے مجھ سے فرمایا تھا
’’فرید! میرا مقام درحقیقت تمہاری ہی مقام ہے‘‘
’’لوگو! غور سے سنو! یہ سیدی کا ظرف تھا کہ میرے اور اپنے مقام کو یکساں قرار دیا تھا … ورنہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں فرید الدین مسعود ہوں‘ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ کا ادنیٰ غلام تم سب میرے لئے دعا کرو کہ میں اس آزمائش میں پورا اتروں اور پیرومرشد کی تابندہ روایات کو گمنام نہ ہونے دوں‘‘
حضرت بابا فریدرحمتہ اﷲ علیہ  کا لہجہ اس قدر پرسوز تھا کہ اہل مجلس بھی بے اختیار رونے لگے پھر تمام حاضرین خانقاہ نے بیک زبان کہا۔
’’آپ پیرومرشد کی روشن نشانی ہیں۔ اس لئے اب آپ ہی ہمارے شیخ ہیں اور آپ ہی ہمارے رہنما ہیں‘‘
روایات ہے کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے تین دن حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کے دولت کدے پر گزارے اور سات دن تک مسند خلافت پر جلوہ افروز رہے پھر اچانک ایک ایساواقعہ پیش آیا کہ آپ دوبارہ ہانسی تشریف لے گئے۔
’’تجھے نہیں معلوم کہ جس کمبل پر تو بیٹھا ہے اس پر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ تشریف رکھتے ہیں‘ میں نے تو صرف مہمان نوازی کے خیال سے تجھے پیرومرشد کا کمبل پیش کردیا تھا مگر افسوس کہ تونے اس متبرک شے کی قدر نہیں کی… اور ادب و احترام کی ساری حدوں سے گزر گیا۔ اسی وقت یہاں سے اٹھ اور اپنا چہرہ گم کردے‘ تونے ہماری مدارات کا بہت برا صلہ دیا ہے‘‘
جیسے ہی مولانا بدرالدین اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ کی بات ختم ہوئی‘ قلندر نے آنکھ اٹھا کر دیکھا‘ اس کے چلتے ہوئے ہاتھ یکایک رک گئے۔ پھر قلندر نے ناگہاں ایک ایسی چیخ ماری کہ خانقاہ کے درودیوار گونج اٹھے۔ قلندر کی چیخ میں بڑی ہیبت تھی‘ بڑا جلال تھا‘ پھر وہ کشکول لے کر اپنی جگہ سے اٹھا۔
خانقاہ کے خدمت گار دیکھ رہے تھے کہ قلندر کے جس ہاتھ میں کشکول تھا‘ وہ آہستہ آہستہ فضا میں بلند ہورہا تھا‘ دیکھنے والوں کا خیال تھا کہ قلندر اپنا کشکول مولانا بدر الدین اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ کے سر پر مارنا چاہتا ہے اسی دوران حجرے کا دروازہ کھلا اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ باہر تشریف لے آئے۔ قلندر کے تیور بہت بگڑے ہوئے تھے مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنا کشکول مولانا بدر الدین اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ کے چہرے پر ماردیتا‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ تیزی سے … قلندر کی طرف بڑھے اور قلندر کا اٹھا ہوا ہاتھ پکڑ کر فرمانے لگے۔
’’مولانا بدر الدین کو میری وجہ سے معاف کردو یہ تمہیں پہچانتے نہیں تھے‘‘
جب حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی زبان مبارکہ سے یہ الفاظ ادا ہوئے تو تمام مرید اور خدمت گار سکتے میں آگئے۔ اب انہیں اندازہ ہوا کہ وہ قلندر کس مرتبے کا مالک ہے؟ ورنہ ’’انبان‘‘ گھاس کے پیستے وقت حاضرین خانقاہ نے سمجھ لیا تھا کہ وہ بھی قلندری کے لباس میں نشہ کرنے والا کوئی ملنگ ہے۔
’’فرید! میں تمہاری بات نہیں ٹال سکتا‘‘ قلندر کے چہرے کا رنگ بدل گیا تھا۔ ’’میں تمہارا بہت احترام کرتا ہوں مگر تمہیں یہ راز بھی معلوم ہے کہ پہلے تو فقیر ہاتھ اٹھاتے ہی نہیں مگر جب اٹھا لیتے ہیں تو پھر اسے نیچا نہیں کرتے۔ بہتر ہے کہ اب اس ہاتھ کو بلند ہی رہنے دو‘‘
’’میں جانتا ہوں… خوب جانتا ہوں‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’تم اپنا ہاتھ اونچا ہی رکھو اور اس کشکول کو دیوار پر ماردو‘‘
قلندر ایک درویش کی بات کا مفہوم سمجھ گیا اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ پھر جیسے ہی قلندر کا ہاتھ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی گرفت سے آزاد ہوا‘ اس نے پوری طاقت سے اپنا کشکول دیوار پر مار دیا۔
اس وقت خانقاہ میں موجود تمام لوگوں کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب کشکول کی معمولی ضرب سے ایک پختہ اور مضبوط دیوار آن کی آن میں زمیں بوس ہوگئی۔
دیوار کے گرتے ہی قلندر نے سر جھکالیا‘ کچھ دیر تک سکوت کے عالم میں کھڑا رہا۔ پھر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ سے کہتا ہوا چلا گیا ’’اچھا! اب ہم جاتے ہیں اﷲ تمہارا بھلا کرے‘‘
جب قلندر خانقاہ سے نکل کر چلا گیا تو حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے مولانا بدر الدین رحمتہ اﷲ علیہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ’’سب لوگوں کو ایک نظر سے نہیں دیکھتے‘ کبھی کبھی عام انسانوں کے لباس میں خاص ہستیاں بھی ہوتی ہیں‘‘
’’میں نے تو اس گھاس کی وجہ سے قلندر کے ساتھ یہ سلوک کیا تھا کہ وہ آپ کے متبرک کمبل پر بیٹھ کر نشہ کرنا چاہتا تھا‘‘ مولانا بدر الدین رحمتہ اﷲ علیہ نے عرض کیا۔
’’نہیں! یہ وہ گھاس نہیں تھی جسے ملنگ استعمال کرتے ہیں۔ وہ صاحب حال انسان تھا اور شاید ہماری آزمائش کے لئے آیا تھا‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’آئندہ احتیاط رکھنا کہ پھر کبھی تمہاری نظر دھوکا نہ کھا جائے‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ تقریبا بارہ سال تک ہانسی میں مقیم رہے۔ یہیں بی بی نجیب النساء سے آپ کی سات اولادیں ہوئیں۔ چھ بچے صغیر سنی میں انتقال کرگئے۔ صرف ایک صاحب زادی شرف النساء زندہ رہیں‘ جنہیں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے حقیقی بھانجے اور مشہور بزرگ حضرت علائو الدین صابر کلیری رحمتہ اﷲ علیہ کی بیوی ہونے کا شرف حاصل ہے۔
ربیع الاول کا مہینہ تھا حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ دہلی میں چار روزہ قیام کیا۔ پھر محفل سماع میں شرکت کے بعد ہانسی جانے کی اجازت طلب کی۔
حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نے بڑی محبت سے آپ کو گلے لگایا۔ پھر نہایت پرسوز لہجے میں فرمایا ’’مولانا فرید دنیا اور آخرت میں تم ہی میرے رفیق ہو… اور میرا مقام درحقیقت تمہارا ہی مقام ہے‘‘
اس عنایت خاص پر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ پھر جب آپ ہانسی کی طرف روانہ ہوئے تو دل و دماغ پر ایک عجیب سا بوجھ تھا۔
آخر اسی اضطراب میں کئی روز گزر گئے پھر ایک روز آپ کو پیرومرشد کے وہ الفاظ یاد آئے جو حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ نے دہلی سے رخصت کرتے وقت ادا فرمائے تھے ’’مولانا! میں تمہاری امانت قاضی حمید الدین ناگوری کو دے دوں گا‘‘
اسی رات حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے خواب میں دیکھا کہ پیرومرشد یاد فرما رہے ہیں۔ وہ رات کا پچھلا پہر تھا۔ آپ کی آنکھ کھلی تو بے چین ہوگئے۔ بی بی نجیب النساء سے فرمایا کہ سفر کا سامان تیار کریں۔
’’آپ کہاں تشریف لے جانا چاہتے ہیں؟‘‘ بی بی نجیب النساء نے عرض کیا۔ جب آپ نے دہلی جانے کا ارادہ ظاہر کیا تو زوجہ محترمہ بے اختیار بول اٹھیں ’’ابھی تو دہلی سے آئے ہوئے ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا ہے‘‘
’’پیرومرشد کا یہی حکم ہے۔‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔
’’کم سے کم صبح ہونے کا تو انتظار کرلیجئے‘‘ بی بی نجیب النساء نے آپ کی عجلت پر حیران ہوتے ہوئے کہا۔
’’میرے لئے ایک ایک لمحہ گراں ہے‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بہت زیادہ مضطرب نظر آرہے تھے ’’جب تک پیرمرشد کی خدمت میں حاضر نہ ہوجائوں اس وقت تک مجھے قرار نہیں آئے گا‘‘
پھر رات کے اندھیرے ہی میں آپ دہلی کی طرف روانہ ہوگئے۔
چوتھے دن دہلی پہنچے تو دنیا ہی بدلی ہوئی تھی۔ پورا شہر ایک ماتم کدہ نظر آرہا تھا۔ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ دنیا سے رخصت ہوچکے تھے۔
آفتاب زیر خاک سورہا تھا۔ پیرومرشد کی قبر پر نظر پڑی تو ایسے وارفتہ ہوئے کہ ہوش و حواس جاتے رہے جس شخص کا شمار صابرین میں ہوتا تھا‘ فراق کی اس منزل سے گزرا‘ تو صبروقرار کھو بیٹھا‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بچوں کی طرح حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کے مرقد سے لپٹ کر رونے لگے۔
٭…٭…٭
دوسرے روز حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو وہ جامہ (خرقہ) پیش کیا جسے حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ پہنا کرتے تھے اور جو پیران چشت کی امانت تھی۔ سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اﷲ علیہ نے اسی جامے کو برسوں اپنے جسم کی خوشبو سے مہکایا تھا… اور پھر جب قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نے اسی جامے کو زیب تن کرکے خاندان چشتیہ کی روایات کو فروغ بخشا تھا… اور آج یہی خرقہ حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمتہ اﷲ علیہ ‘ حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کے حکم سے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو پیش کررہے تھے‘ جب حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمتہ اﷲ علیہ نے خرقہ آگے بڑھایا تو حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے ہاتھ کانپنے لگے۔
’’مولانا! یہ خواجگان چشت کی امانت ہے۔ اس کا بارگراں آپ ہی اٹھا سکتے ہیں‘ اسے قبول فرمالیجئے‘‘ حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت بابافرید رحمتہ اﷲ علیہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔
’’شیخ! میں اسے کیسے قبول کروں؟‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ پر ایک بار پھر گریہ طاری ہوگیا۔ ’’کل تک اس پاک لباس کو میرے پیرومرشد زیب تن فرماتے تھے‘ آج یہ غلام اس خرقہ عظیم کو پہنے گا؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ میں اس قابل کہاں ہوں‘‘
’’نہیں مولانا! آپ ہی اس خرقے کے حقدار ہیں‘‘ حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔ ’’حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ بہتر جانتے تھے کہ یہ خرقہ کس جسم کے لئے بنایا گیا ہے؟ شیخ نے رخصت ہونے سے پہلے اہل مجلس کے سامنے فرمایا تھا کہ جب مولانا فرید آئیں تو خواجگان چشت کے تبرکات ان کے حوالے کردیئے جائیں کہ میرے بعد وہی پیران چشت کی امانتوں کے امین ہیں‘‘
خرقے کے ساتھ ہی حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کا عصا اور چوبی نعلین (کھڑائوں) بھی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو پیش کئے تھے۔
خواجگان چشت کے تبرکات حاصل کرنے کے بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے دو رکعت نماز ادا کی اور پھر اس مسند خلافت پر بیٹھے جہاں حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ تشریف فرما ہوتے تھے۔
دیکھنے والوں نے دیکھا کہ سجادے پر بیٹھتے ہی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا جسم لرزنے لگا تھا اور آنکھیں ایک بار پھر اشک برسانے لگی تھیں‘ اسی کیفیت میں بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اہل مجلس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔
’’برادران عزیز! جب میں آخری بار پیرومرشد سے مل کر ہانسی جارہا تھا تو شیخ نے مجھ سے فرمایا تھا
’’فرید! میرا مقام درحقیقت تمہارا ہی مقام ہے‘‘
’’لوگو! غور سے سنو! یہ سیدی کا ظرف تھا کہ میرے اور اپنے مقام کو یکساں قرار دیا تھا … ورنہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں فرید الدین مسعود ہوں‘ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ کا ادنیٰ غلام تم سب میرے لئے دعا کرو کہ میں اس آزمائش میں پورا اتروں اور پیرومرشد کی تابندہ روایات کو گمنام نہ ہونے دوں‘‘
حضرت بابا فریدرحمتہ اﷲ علیہ  کا لہجہ اس قدر پرسوز تھا کہ اہل مجلس بھی بے اختیار رونے لگے پھر تمام حاضرین خانقاہ نے بیک زبان کہا۔
’’آپ پیرومرشد کی روشن نشانی ہیں۔ اس لئے اب آپ ہی ہمارے شیخ ہیں اور آپ ہی ہمارے رہنما ہیں‘‘
٭…٭…٭
روایات میں ہے کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے تین دن حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کے دولت کدے پر گزارے اور سات دن تک مسند خلافت پر جلوہ افروز رہے پھر اچانک ایک ایساواقعہ پیش آیا کہ آپ دوبارہ ہانسی تشریف لے گئے۔
جمعہ کا دن تھا۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ گھر سے باہر تشریف لائے تو ’’سرہنگا‘‘ نامی ایک مجذوب دروازے پر کھڑا تھا۔ سرہنگا وہ شخص ہے جو حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ سے دیوانگی کی حد تک محبت کرتا تھا۔ جدھر سے آپ گزرتے تھے‘ اس راستے کی خاک اٹھا کر اپنے سر اور چہرے پر ملتا تھا اور کہتا تھا کہ یہ میرے پیرومرشد کے قدموں کا غبار ہے جو سرہنگا کے لئے کہکشاں سے روشن تر ہے۔ خود حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بھی سرہنگا کا بہت خیال رکھتے تھے اور ہر طرح اپنے دیوانے خادم کی ناز برداری کرتے تھے۔ بعض مورخین نے لکھا ہے کہ سرہنگا حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا منہ چڑھا خادم تھا۔ اگر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کسی سے ناراض ہوجاتے تو سرہنگا کو آپ کی خدمت میں بھیجا جاتا یہاں تک کہ سرہنگا اس شخص کی سفارش کرتا اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ معاف فرمادیتے۔ آج وہی سرہنگا اس طرح دروازے پر کھڑا تھا کہ اس کے سر پر خاک تھی اور پورا چہرہ آنسوئوں سے بھیگا ہوا تھا۔
’’سرہنگا تم؟‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے اس دیوانے معتقد کو دیکھتے ہوئے حیرت سے فرمایا۔
’’ہاں سرکار! یہ میں ہوں‘ آپ کا غلام سرہنگا‘‘ اتنا کہہ کر وہ آگے بڑھا اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے پیروں پر سر رکھ کر رونے لگا ’’سرکار! میرے لئے دعا فرمادیجئے کہ میں یہیں آپ کے قدموں میں تمام ہوجائوں۔ اب مجھ سے یہ جدائی برداشت نہیں ہوتی‘‘
’’میں تمہارے سامنے موجود ہوں پھر تمہیں یہ شکایت کیوں ہے؟‘‘ حضرت بابا فریدرحمتہ اﷲ علیہ نے سرہنگا سے فرمایا۔
’’یہ قربت تو مجھے اتفاق سے حاصل ہوگئی ہے‘‘ سرہنگا مجذوب عرض کرنے لگا
’’ہانسی میں تو مجھ پر یہ پابندیاں نہیں تھیں۔ جب چاہتا تھا‘ خدمت عالیہ میں حاضر ہوجاتا تھا… مگر دہلی میں کسی نے اجازت نہیں دی کہ آپ کی قدم بوسی کرسکوں‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے سرہنگا کواٹھایا اور فرمانے لگے ’’تم میرے ساتھ ہی رہوگے۔ یہ فاصلے بہت عارضی تھے جو عنقریب ختم ہوجائیں گے‘‘
اس کے بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے نماز جمعہ ادا کی اور ہانسی جانے کا اعلان کردیا۔
یہ اعلان کیا تھا۔ ایک برق تھی جو اہل دل کی سماعتوں پر گری۔ لوگوں نے بہت منت و سماجت کی کہ حضرت اس شہر کو ویران کرکے ہانسی تشریف نہ لے جائیں مگر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اپنے ارادے پر قائم رہے۔
آخر میں حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کے خاص خاص مریدوں اور خدمت گاروں نے عرض کیا ’’حضرت شیخ کی مسند کو اس طرح خالی چھوڑ کر جانا مناسب نہیں جبکہ حضرت شیخ خود ہی فرماگئے ہیں کہ ان کا مقام آپ کا مقام ہے‘‘
جواب میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’میرے پیرومرشد نے جو نعمت مجھے عطا کی ہے کہ وہ محدود نہیں ہے۔ شہر میں بھی وہی ہے جنگل اور بیابان میں بھی وہی‘‘ یہ کہہ کر آپ سرہنگا مجذوب کے ساتھ ہانسی روانہ ہوگئے۔
اس کے بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ وقفے وقفے سے ایک دو دن کے لئے دہلی تشریف لاتے‘ پیرومرشد کی قبر مبارک پر حاضری دیتے‘ صوفیوں اور درویشوں سے مختصر ملاقاتیں کرتے اور پھر واپس ہانسی چلے جاتے۔ بیشتر تذکرہ نویسوں نے سرہنگا مجذوب کی آمد اور فریاد و فغاں کو دہلی چھوڑنے کا سبب قرار دیا ہے لیکن یہ محض قیاس آرائی ہے۔ اگر سرہنگا مجذوب حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی جدائی کے باعث بے قرار تھا تو دہلی میں اسے لوگوں نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ تک پہنچنے نہیں دیا تو اس کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ مسند خلافت پر جلوہ افروز ہوئے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو بمشکل ایک ہفتہ گزرا تھا۔ لوگ دیدار کی غرض سے قطار در قطار چلے آرہے تھے۔ خلقت کا اس قدر ہجوم تھا کہ کسی کو کسی کی خبر نہیں تھی۔ اسی لئے سرہنگا شرف باریابی نہ پاسکا تھا۔
کچھ اہل نظر نے اس طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے سرہنگا کی شکایت کو غیب کی تنبیہ سمجھا اور آپ کی دور بیں نظروں نے یہ اندازہ کرلیا کہ دہلی میں رہ کر عوام سے تعلق بھی کم ہوجائے گا اور دارالحکومت کا ماحول بھی سلسلہ چشتیہ کی تبلیغ و ترویج میں حائل رہے گا۔ آنے والے وقت نے ثابت کردیا کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے اندیشے درست تھے۔ سلطان التمش کی وفات کے بعد ایک طویل عرصے تک دہلی کے حالات خراب رہے۔ التمش جیسے نیک سیرت حکمراں کا بیٹا سلطان رکن الدین فیروز شاہ انتہائی ناکارہ ثابت ہوا۔ عیش کوشی اس کی فطرت تھی۔ وہ دن رات شراب کے نشے میں غرق رہتا۔ سلطان قطب الدین ایبک اور التمش کے خزانوں کو طوائفوں اور میراثیوں پر لٹاتا رہتا۔ پھر ایک دن اس کی سفاک ماں ترکان شاہ نے اقتدار اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ سلطان رکن الدین فیروز شاہ پازیب کی جھنکار اور شراب کی بوتلوں میں قید ہوکر رہ گیا تھا اور ترکان شاہ التمش کی اولادوں‘ بیویوں اور نمک خواروں کا قتل عام کررہی تھی۔
دوسری طرف علماء اور صوفیاء کا مزاج بھی بدل گیا۔ سیاست کی ایسی ہوا چلی کہ حضرت شیخ بدر الدین غزنوی رحمتہ اﷲ علیہ‘ قاضی منہاج سراج‘ مولانا نور ترک‘ شیخ الاسلام سید قطب الدین اور دوسرے سینکڑوں بزرگ اپنے مرکز سے ہٹ گئے۔ خانقاہوں اور مدرسوں کو چھوڑ کر ان لوگوں کا رخ سیاست کی طرف تھا۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو علماء اور صوفیاء کے کردار نے شدید مایوس کیا۔ نتیجتاً آپ نے ہانسی کو گوشہ عافیت سمجھا اور اسی شہر میں پوری یکسوئی کے ساتھ رشد و ہدایت کا کام جاری رکھا۔
15 رجب 634ھ کو حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے خاتون بیگم کے ساتھ عقد ثانی کیا۔ دوسری شادی کے کچھ دن بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ سلطان الہند رحمتہ اﷲ علیہ کے مزار مبارک کی زیارت کے لئے اجمیر حاضر ہوئے اور آپ نے اعتکاف کیا۔ ’’صندل مسجد‘‘ کے عقب میں ایک زینہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اﷲ علیہ کے خادم مزار کو جاتا ہے۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اسی جگہ اعتکاف (چلہ) کیا تھا۔ وہ کھڑکی اب بند کردی گئی ہے۔ 6 محرم الحرام کو اس زینے کا دروازہ کھولا جاتا ہے اور بے شمار زائرین اس متبرک مقام کی زیارت کرتے ہیں جہاں خاندان چشتیہ کا یہ عظیم فرزند چلہ کش ہوا تھا۔
دوسرے دن حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت سلطان الہند رحمتہ اﷲ علیہ کے روضہ مبارک پر ایک مخصوص نماز ادا کی تھی اور طویل سجود و قیام کئے تھے۔ اس کے بعد آپ جب تک اجمیر شریف میں قیام پذیر رہے‘ بار بار یہی خیال آتا تھا۔
’’خدا جانے میرا کیا حشر ہو اور قیامت کے دن میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو اس اضطراب میں کئی دن گزر گئے تھے کہ ایک رات جب آپ سوئے تو حضرت سلطان الہند رحمتہ اﷲ علیہ کو خواب میں دیکھا خواجہ خواجگان فرما رہے تھے۔
’’مولانا فرید! اتنے آزردہ کیوں ہوتے ہو؟ اس نماز کے پڑھنے والے کا شمار بخشے ہوئے انسانوں میں ہوتا ہے۔ انشاء اﷲ تم بھی سر محشر رحمت باری سے محروم نہیں رہوگے‘‘
اس خواب کے بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو اطمینان قلب حاصل ہوگیا۔ بعض روایات میں درج ہے کہ حضرت سلطان الہند رحمتہ اﷲ علیہ کے مزار مبارک پر اعتکاف کرنے کے بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ دولت روحانی سے مالا مال ہوگئے… اور پھر جب واپسی میں دہلی تشریف لائے تو کیف و جذب کا عالم ہی کچھ اور تھا جس مسلمان پر نظر پڑ جاتی تھی اس کے دل سے دنیا داری کا غبار دھل جاتا تھا۔
لوگوں کا خیال تھا کہ اجمیر سے واپسی کے بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ مستقل طور پر دہلی تشریف لے آئے ہیں۔ اس لئے مقامی عقیدت مندوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ پورے شہر میں ایک جشن کا سا سماں تھا مگر کوئی بھی اس راز سے باخبر نہیں تھا کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اچانک دہلی کیوں تشریف لائے ہیں۔
پیرومرشد کے انتقال کے وقت حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ ہانسی میں مقیم تھے۔ حضرت قلب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نے وصال سے پہلے وصیت فرمائی تھی کہ آپ کی قبر کی سطح زمین کے برابر رکھی جائے۔ جب خدمت گاروں نے اس کا سبب پوچھا تو حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔
’’میرا مزار سطح زمین کے برابر رکھنا کہ شاید کسی بزرگ کا قدم میرے سینے پر پڑے اور میں برکت و سعادت حاصل کرسکوں‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اجمیر سے واپسی پر دہلی اس لئے تشریف لائے تھے کہ پیرومرشد کی قبر مبارک کو ایسا کوئی نمایاں نشان دے دیں جسے دیکھ کر آنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ یہاں حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ آرام فرما ہیں۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بھی دوسرے مریدین کی طرح حکم شیخ سے مجبور تھے۔ اس لئے ذاتی طور پر قبر مبارک کی تعمیر نہیں کرسکتے تھے۔ پھر بھی ایک امید پر پیرومرشد کے قدموں میں پڑے رہتے تھے۔
جب تمام زائرین اور عقیدت مند اپنے گھروں کو واپس چلے جاتے یا تھک کر وہیں سوجاتے تو حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اپنے پیرومرشد کے پائیں مزار بیٹھ کر رونے لگتے۔
’’سیدی! اب مجھ سے مزار مبارک کی یہ بے نشانی نہیں دیکھی جاتی۔ جن لوگوں نے آپ کے قدموں کا غبار اپنے چہروں پر ملا‘ وہ بڑے نشان والے بن گئے… اور جو خود صاحب نشان تھا‘ وہ اس طرح زیر خاک سوگیا کہ قبر کی حدود کا بھی پتہ نہیں۔ بس اب اس غلام پر نظر کرم فرمایئے اور اجازت دیجئے کہ کم سے کم مرقد کو سطح زمین سے بلند کردیا جائے‘‘
یہ التجائے نیم شب اور گریہ و زاری کئی دن تک جاری رہی۔
بالاخر یہ گریہ وزاری رنگ لائی۔ ایک رات حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ سوئے تو آپ نے خواب میں حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کو دیکھا۔ پیرومرشد فرمارہے تھے۔
’’مولانا! تمہاری ضدوں نے مجبور کردیا۔ اب تم نہیں مانتے تو کل عصر و مغرب کے درمیان میری قبر پر مٹی ڈال کر اس کی سطح زمین سے کچھ بلند کردو‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی آنکھ کھلی تو چہرے پر اطمینان اور سرشاری کا ایسا رنگ تھا جیسے دولت کونین میسر آگئی ہو۔ صبح سے عصر تک کا وقت بمشکل گزارا اور پھر عصر کی نماز ادا کرتے ہی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے مٹی لاکر پیرومرشد کی قبر پر ڈالنا شروع کردی۔ تمام مرید اور خدمت گار حیران و پریشان تھے۔ سینکڑوں جان نثاروں نے بیک زبان عرض کیا۔
’’مخدوم! یہ آپ کا کام نہیں ہے۔ غلاموں کو حکم دیں تو پہاڑوں کے سر تراش دیں‘‘
’’نہیں!‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے عجلت میں فرمایا ’’یہ میرا ہی کام ہے مجھے باتوں میں نہ الجھائو‘ اگر وقت گزر گیا تو ساری التجائیں اور دعائیں رائیگاں جائیں گی‘‘
حاضرین اس گفتگو کامفہوم نہیں سمجھ سکے… اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اپنے گردوپیش سے بے نیاز‘ مٹی لا لا کر پیرومرشد کی قبر پر ڈالتے رہے۔ شام ہونے تک آپ کے کاندھے زخمی ہوگئے تھے اور پورا جسم پسینے سے شرابور تھا۔ پھر بھی آپ نے اس کام میں کسی کی شرکت گوارا نہیں کی۔
مرنے سے پہلے اس نے اپنا سارا ہنر اپنے بیٹے کو سکھادیا تھا۔ اب بیٹے نے باپ کی جگہ لے لی تھی اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ جیسے بزرگ بھی اس کے شر سے محفوظ نہیں رہے تھے۔ کسی تاریخی روایت سے یہ پتا نہیں چلتا کہ شہاب ساحرکے لڑکے نے کس کے کہنے سے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ پر جادو کیا تھا یا پھر اس قبیح اور ناپاک فعل میں اس کی ذاتی رنجش شامل تھی۔
’’اگر میرے والد محترم پر جادو کیا گیا ہے تو پھر اس کا رد کیا ہے؟‘‘ شیخ بدرالدین سلیمان رحمتہ اﷲ علیہ نے خواب میں نظر آنے والے بزرگ سے پوچھا۔
بزرگ نے چند کلمات پڑھے اور شیخ بدرالدین سلیمان رحمتہ اﷲ علیہ سے فرمایا ’’ان کلمات کو اچھی طرح یاد کرلو اور پھر شہاب ساحر کی قبر پر جاکر پڑھو انشاء اﷲ سحر باطل ہوجائے گا‘‘
شیخ بدر الدین سلیمان رحمتہ اﷲ علیہ نے بزرگ کے بتائے ہوئے کلمات حفظ کرلئے وہ کلمات اس طرح تھے۔
’’اے وہ شخص جو قبر میں رکھ دیا گیا ہے اور آزمالیا گیا ہے، جان لے کہ درحقیقت تیرے لڑکے نے جادو کیا ہے اور تکلیف پہنچائی ہے لہذا اس سے کہہ دے کہ وہ باز آجائے اور اس سحر کو ہم سے دور کردے۔ اگر تو نہیں کہے گا تو اس چیز سے قریب ہوجائے گا جو چیز ہمارے قریب ہے‘‘(ترجمہ)
صبح ہوئی تو شیخ بدرالدین سلیمان رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ اور دوسرے درویشوں سے رات کا خواب بیان کیا پھر کسی مرید نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں اس خواب کی تفصیل پیش کی۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کو طلب فرمایا۔
’’مولانا! نظام الدین ان کلمات کو اچھی طرح یاد کرلو اور حسب ہدایت شہاب ساحر کی قبر پر جاکر ان کلمات کو پڑھو‘‘
حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ خانقاہ سے باہر آئے اور مقامی لوگوں سے شہاب ساحر کی قبر کے بارے میں پوچھا۔ وہ ایک بدنام شخص تھا، تمام لوگوں نے اس کی قبر کی نشاندہی کردی۔ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ قبرستان پہنچے اور شہاب ساحر کی قبر کے سرہانے بیٹھ کر بزرگ کے بتائے ہوئے کلمات کا ورد کرنے لگے۔ اگرچہ شہاب ساحر کی قبر پختہ کردی گئی تھی لیکن سرہانے پر کچھ مٹی پڑی ہوئی تھی۔ کچھ دیر تک کلمات کا ورد کرنے کے بعد حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے مٹی پر ہاتھ مارا،مٹی نرم تھی۔ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے اسے کریدا۔ آپ کو محسوس ہوا کہ اس مٹی کے نیچے ایک اور مٹی کی تہہ ہے۔ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے مٹی کو مزید کریدا۔ یہاں تک کہ آپ کا ہاتھ کسی ٹھوس چیز سے ٹکرایا حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے اسے باہر نکال لیا۔ وہ آٹے کا بنا ہوا ایک چھوٹا سا مجسمہ تھا۔ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے اس پتلے کو غور سے دیکھا اس کے چاروں طرف سوئیاں چبھی ہوئی تھیں اور گھوڑے کے بال مضبوطی سے باندھ دیئے گئے تھے۔
حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ آٹے کے اس پتلے کو پیرومرشد کے حضور لے گئے اور عرض کیا ’’سیدی! یہی ہے سارے فساد کی جڑ‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے مرید خاص کو حکم دیتے ہوئے فرمایا ’’تمام سوئیاں نکال لو اور سارے بال کھول ڈالو‘‘
حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ ایک ایک سوئی کو نکالتے رہے، دیکھنے والے دیکھ رہے تھے کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو سکون محسوس ہورہا تھا پھر جب ساری سوئیاں نکال دی گئیں اور بال کھول دیئے گئے تو چہرہ مبارک سے بیماری کے سارے آثار غائب ہوگئے۔
پھر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کو حکم دیا کہ اس مجسمے کو توڑ دو اور اس کے ساتھ تمام چیزیں دریا میں ڈال دو‘‘
جب یہ بات حاکم اجودھن کو معلوم ہوئی تو اس نے شہاب ساحر کے لڑکے کو گرفتار کیا اور خود اسے لے کر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔
’’شیخ! آپ کا مجرم موجود ہے اور میری نظر میں یہ شخص واجب القتل ہے‘‘
شہاب ساحر کا لڑکا موت کے خوف سے کانپ رہا تھا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
’’شیخ کا حکم ہو تو اسے قتل کردیا جائے‘‘ حاکم اجودھن نے دوبارہ عرض کیا
’’ہرگز نہیں!‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے شہاب ساحر کے لڑکے کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا ’’حق تعالیٰ نے مجھے صحت بخش دی اس لئے میں نے بھی اسے شکرانے کے طور پر معاف کردیا، اب اسے کوئی کچھ نہ کہے‘‘
دریا دلی کا یہ مظاہرہ دیکھا تو وہ جادوگر لڑکا حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے قدموں پر گر کر معافی مانگنے لگا اور ہمیشہ کے لئے اس کافرانہ فعل سے تائب ہوگیا۔
٭…٭…٭
خدمت خلق حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی زندگی کا مقصد عظیم تھا، فرمایا کرتے تھے کہ اس کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ آپ کا مشہور قول ہے کہ دشمنوں کو نیک مشورے سے شکست دو اور دوستوں کو تواضع سے اپنا گرویدہ بنائو۔
حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ اجودھن میں ایک منشی تھا جو حاکم کی ایذا رسانیوں کے سبب اپنی زندگی سے بیزار رہتا تھا۔ ایک بار وہ منشی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور حاکم اجودھن کے مظالم کی داستان سنا کر عرض کرنے لگا۔
’’شیخ! وہ مجھے ناحق ستاتا ہے۔ میں اس کے آگے ہاتھ جوڑتے جوڑتے تھک گیا مگر وہ باز نہیں آتا۔ میں اس سے جس قدر رحم کی بھیک مانگتا ہوں، وہ اسی قدر ظلم میں اضافہ کردیتا ہے۔ آپ اس سے میری سفارش کردیجئے‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے ایک خادم کو حاکم اجودھن کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا۔ ’’میں نہیں جانتا کہ اس شخص کا کیا معاملہ ہے مگر پھر بھی تم میری خاطر منشی پر رحم کرو‘‘
حاکم اجودھن نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے خادم کی گفتگو سنی مگر کوئی جواب نہیں دیا۔
کچھ دن بعد وہ منشی پھر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور گریہ وزاری کرنے لگا ’’شیخ! حاکم اجودھن پر آپ کی سفارش کا ذرا برابر بھی اثر نہیں ہوا بلکہ وہ مجھے پہلے سے زیادہ ستانے لگا ہے‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے منشی کو مخاطب کرکے فرمایا ’’میں نے حاکم اجودھن سے تیری سفارش کی مگر اس نے نہیں سنی۔ ایسا لگتاہے کہ کبھی کسی نے تجھ سے کسی مظلوم کی سفارش کی ہوگی اور تو نے اپنے کان بند کرلئے ہوں گے‘‘
منشی حیرت زدہ رہ گیا اور پھر یہ کہتا ہوا حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی بارگاہ سے اٹھ گیا ’’میرے لئے دعا فرمایئے۔ آج کے بعد سے کسی کو رنج نہیں پہنچائوں گا اور جہاں تک ممکن ہوگا، مخلوق خدا کی خدمت کروں گا۔ خواہ وہ میرا دشمن ہی کیوں نہ ہو، میں اس کی دلجوئی سے بھی منہ نہیں موڑوں گا‘‘
دوسرے دن حاکم اجودھن نے منشی کو طلب کیا منشی کو یقین تھا کہ اس ظالم نے ایذا رسانی کا کوئی نیا زاویہ تلاش کیا ہوگا مگر اس بار وہ خوف زدہ نہیں تھا بے باکی کے ساتھ حاکم اجودھن کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ ستمگر خلاف عادت مسکرا رہا تھا۔
’’آئو! میرے بھائی آئو!‘‘ حاکم اجودھن نے ایک معمولی منشی کو اس طرح خوش آمدید کہا کہ جیسے وہ اپنے کسی ہم مرتبہ امیر کا استقبال کررہا ہو۔
منشی حیرت و پریشانی کے عالم میں حاکم اجودھن کے قریب جاکر کھڑا ہوگیا
’’بیٹھ جائو!‘‘ ظالم کا لہجہ یکسر بدلا ہوا تھا
منشی حاکم اجودھن کے اس سلوک و ظلم کی نئی چال سمجھ رہا تھا… مگر جب حاکم کی طرف سے اصرار ہوا تو وہ ڈرتے ڈرتے قریب کی کرسی پر بیٹھ گیا۔
پہلے حاکم نے منشی کی مزاج پرسی کی پھر آہستہ لہجے میں بولا ’’تمہیں شیخ کے پاس جانے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘
’’شیخ کی خدمت میں حاضر ہوئے بغیر یہ بگڑا ہوا کام کس طرح بنتا؟‘‘ منشی نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہا
’’تم یہ تو سچ کہتے ہو کہ شیخ کی توجہ کے بغیر بات بنتی نہیں‘‘ حاکم اجودھن نے اعتراف کیا اور پھر منشی کو گھوڑے کے ساتھ ایک قیمتی خلعت پیش کرتے ہوئے بولا ’’اب تم میری طرف سے اپنا دل صاف کرلو‘‘
اس کے بعد حاکم اجودھن حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ کے دست حق پرست پر توبہ کرلی۔
٭…٭…٭
حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کے خلیفہ اکبر حضرت نصیر الدین چراغ دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ کی روایت ہے کہ اجودھن کے اطراف میں ایک گائوں تھا جہاں ایک مسلمان روغن گر (تیلی) رہتا تھا۔ سیاسی اغراض کے پیش نظردیپال پور کے حاکم نے اس گائوں کو تباہ کردیا۔ مقامی باشندوں کے گھر جلادیئے گئے اور ان کا مال و متاع لوٹ لیا گیا۔ روغن گر کی بیوی نہایت حسین و جمیل عورت تھی۔ وہ اپنی شریک حیات سے بے اندازہ محبت کرتا تھا۔ اتفاق سے اس پر کسی فسادی کی نظر پڑگئی اور وہ عورت کو مال غنیمت سمجھ کر لے گیا۔ روغن گر نے بستی بستی اور کوچہ کوچہ اپنی بیوی کو تلاش کیا مگر ناکام رہا۔ یہاں تک کہ بیوی کے غم میں اس کی زندگی اجیرن ہوگئی۔ آخر گائوں والوں نے رحم کھا کر اسے مشورہ دیا
’’تیرے دکھ کا علاج بس ایک شخص کے پاس ہے‘‘
’’مجھے اس کا پتا بتائو‘‘ روغن گر زاروقطار رونے لگا ’’میں اس کے پیروں پر سر رکھ دوں گا اور اس سے اپنے کھوئے ہوئے صبر و قرار کی بھیک مانگوں گا‘‘
’’تو بابا کے پاس چلا جا وہی تیرے درد کی دوا دے سکتے ہیں‘‘ گائوں والوں نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خانقاہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
روغن گر اس حالت میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے حضور پہنچا کہ اس کی آنکھیں ویران تھیں، بال بکھرے ہوئے تھے اور چہرے سے وحشت برس رہی تھی۔ خانقاہ کے خادموں نے اسے پاگل ہی سمجھا مگر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا حکم تھا کہ جو شخص زیادہ پریشان نظر آئے اسے زیادہ اہمیت دی جائے۔ نتیجتاً اسے فورا ہی حضرت شیخ کی خدمت میں پیش کردیا گیا۔
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا اصول تھا کہ جب بھی کوئی پریشان حال شخص آتا، آپ سب سے پہلے اس کے لئے کھانا منگواتے۔ روغن گر کی حاضری کے وقت بھی ایسا ہی کیا گیا۔ خادم نے اس کے سامنے کھانا لاکر رکھا تو وہ نہا یت شکستہ لہجے میں کہنے لگا۔
مرنے سے پہلے اس نے اپنا سارا ہنر اپنے بیٹے کو سکھادیا تھا۔ اب بیٹے نے باپ کی جگہ لے لی تھی اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ جیسے بزرگ بھی اس کے شر سے محفوظ نہیں رہے تھے۔ کسی تاریخی روایت سے یہ پتا نہیں چلتا کہ شہاب ساحرکے لڑکے نے کس کے کہنے سے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ پر جادو کیا تھا یا پھر اس قبیح اور ناپاک فعل میں اس کی ذاتی رنجش شامل تھی۔
’’اگر میرے والد محترم پر جادو کیا گیا ہے تو پھر اس کا رد کیا ہے؟‘‘ شیخ بدرالدین سلیمان رحمتہ اﷲ علیہ نے خواب میں نظر آنے والے بزرگ سے پوچھا۔
بزرگ نے چند کلمات پڑھے اور شیخ بدرالدین سلیمان رحمتہ اﷲ علیہ سے فرمایا ’’ان کلمات کو اچھی طرح یاد کرلو اور پھر شہاب ساحر کی قبر پر جاکر پڑھو انشاء اﷲ سحر باطل ہوجائے گا‘‘
شیخ بدر الدین سلیمان رحمتہ اﷲ علیہ نے بزرگ کے بتائے ہوئے کلمات حفظ کرلئے وہ کلمات اس طرح تھے۔
’’اے وہ شخص جو قبر میں رکھ دیا گیا ہے اور آزمالیا گیا ہے، جان لے کہ درحقیقت تیرے لڑکے نے جادو کیا ہے اور تکلیف پہنچائی ہے لہذا اس سے کہہ دے کہ وہ باز آجائے اور اس سحر کو ہم سے دور کردے۔ اگر تو نہیں کہے گا تو اس چیز سے قریب ہوجائے گا جو چیز ہمارے قریب ہے‘‘(ترجمہ)
صبح ہوئی تو شیخ بدرالدین سلیمان رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ اور دوسرے درویشوں سے رات کا خواب بیان کیا پھر کسی مرید نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں اس خواب کی تفصیل پیش کی۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کو طلب فرمایا۔
’’مولانا! نظام الدین ان کلمات کو اچھی طرح یاد کرلو اور حسب ہدایت شہاب ساحر کی قبر پر جاکر ان کلمات کو پڑھو‘‘
حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ خانقاہ سے باہر آئے اور مقامی لوگوں سے شہاب ساحر کی قبر کے بارے میں پوچھا۔ وہ ایک بدنام شخص تھا، تمام لوگوں نے اس کی قبر کی نشاندہی کردی۔ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ قبرستان پہنچے اور شہاب ساحر کی قبر کے سرہانے بیٹھ کر بزرگ کے بتائے ہوئے کلمات کا ورد کرنے لگے۔ اگرچہ شہاب ساحر کی قبر پختہ کردی گئی تھی لیکن سرہانے پر کچھ مٹی پڑی ہوئی تھی۔ کچھ دیر تک کلمات کا ورد کرنے کے بعد حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے مٹی پر ہاتھ مارا،مٹی نرم تھی۔ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے اسے کریدا۔ آپ کو محسوس ہوا کہ اس مٹی کے نیچے ایک اور مٹی کی تہہ ہے۔ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے مٹی کو مزید کریدا۔ یہاں تک کہ آپ کا ہاتھ کسی ٹھوس چیز سے ٹکرایا حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے اسے باہر نکال لیا۔ وہ آٹے کا بنا ہوا ایک چھوٹا سا مجسمہ تھا۔ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے اس پتلے کو غور سے دیکھا اس کے چاروں طرف سوئیاں چبھی ہوئی تھیں اور گھوڑے کے بال مضبوطی سے باندھ دیئے گئے تھے۔
حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ آٹے کے اس پتلے کو پیرومرشد کے حضور لے گئے اور عرض کیا ’’سیدی! یہی ہے سارے فساد کی جڑ‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے مرید خاص کو حکم دیتے ہوئے فرمایا ’’تمام سوئیاں نکال لو اور سارے بال کھول ڈالو‘‘
حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ ایک ایک سوئی کو نکالتے رہے، دیکھنے والے دیکھ رہے تھے کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو سکون محسوس ہورہا تھا پھر جب ساری سوئیاں نکال دی گئیں اور بال کھول دیئے گئے تو چہرہ مبارک سے بیماری کے سارے آثار غائب ہوگئے۔
پھر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کو حکم دیا کہ اس مجسمے کو توڑ دو اور اس کے ساتھ تمام چیزیں دریا میں ڈال دو‘‘
جب یہ بات حاکم اجودھن کو معلوم ہوئی تو اس نے شہاب ساحر کے لڑکے کو گرفتار کیا اور خود اسے لے کر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔
’’شیخ! آپ کا مجرم موجود ہے اور میری نظر میں یہ شخص واجب القتل ہے‘‘
شہاب ساحر کا لڑکا موت کے خوف سے کانپ رہا تھا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
’’شیخ کا حکم ہو تو اسے قتل کردیا جائے‘‘ حاکم اجودھن نے دوبارہ عرض کیا
’’ہرگز نہیں!‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے شہاب ساحر کے لڑکے کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا ’’حق تعالیٰ نے مجھے صحت بخش دی اس لئے میں نے بھی اسے شکرانے کے طور پر معاف کردیا، اب اسے کوئی کچھ نہ کہے‘‘
دریا دلی کا یہ مظاہرہ دیکھا تو وہ جادوگر لڑکا حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے قدموں پر گر کر معافی مانگنے لگا اور ہمیشہ کے لئے اس کافرانہ فعل سے تائب ہوگیا۔
٭…٭…٭
خدمت خلق حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی زندگی کا مقصد عظیم تھا، فرمایا کرتے تھے کہ اس کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ آپ کا مشہور قول ہے کہ دشمنوں کو نیک مشورے سے شکست دو اور دوستوں کو تواضع سے اپنا گرویدہ بنائو۔
حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ اجودھن میں ایک منشی تھا جو حاکم کی ایذا رسانیوں کے سبب اپنی زندگی سے بیزار رہتا تھا۔ ایک بار وہ منشی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور حاکم اجودھن کے مظالم کی داستان سنا کر عرض کرنے لگا۔
’’شیخ! وہ مجھے ناحق ستاتا ہے۔ میں اس کے آگے ہاتھ جوڑتے جوڑتے تھک گیا مگر وہ باز نہیں آتا۔ میں اس سے جس قدر رحم کی بھیک مانگتا ہوں، وہ اسی قدر ظلم میں اضافہ کردیتا ہے۔ آپ اس سے میری سفارش کردیجئے‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے ایک خادم کو حاکم اجودھن کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا۔ ’’میں نہیں جانتا کہ اس شخص کا کیا معاملہ ہے مگر پھر بھی تم میری خاطر منشی پر رحم کرو‘‘
حاکم اجودھن نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے خادم کی گفتگو سنی مگر کوئی جواب نہیں دیا۔
کچھ دن بعد وہ منشی پھر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور گریہ وزاری کرنے لگا ’’شیخ! حاکم اجودھن پر آپ کی سفارش کا ذرا برابر بھی اثر نہیں ہوا بلکہ وہ مجھے پہلے سے زیادہ ستانے لگا ہے‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے منشی کو مخاطب کرکے فرمایا ’’میں نے حاکم اجودھن سے تیری سفارش کی مگر اس نے نہیں سنی۔ ایسا لگتاہے کہ کبھی کسی نے تجھ سے کسی مظلوم کی سفارش کی ہوگی اور تو نے اپنے کان بند کرلئے ہوں گے‘‘
منشی حیرت زدہ رہ گیا اور پھر یہ کہتا ہوا حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی بارگاہ سے اٹھ گیا ’’میرے لئے دعا فرمایئے۔ آج کے بعد سے کسی کو رنج نہیں پہنچائوں گا اور جہاں تک ممکن ہوگا، مخلوق خدا کی خدمت کروں گا۔ خواہ وہ میرا دشمن ہی کیوں نہ ہو، میں اس کی دلجوئی سے بھی منہ نہیں موڑوں گا‘‘
دوسرے دن حاکم اجودھن نے منشی کو طلب کیا منشی کو یقین تھا کہ اس ظالم نے ایذا رسانی کا کوئی نیا زاویہ تلاش کیا ہوگا مگر اس بار وہ خوف زدہ نہیں تھا بے باکی کے ساتھ حاکم اجودھن کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ ستمگر خلاف عادت مسکرا رہا تھا۔
’’آئو! میرے بھائی آئو!‘‘ حاکم اجودھن نے ایک معمولی منشی کو اس طرح خوش آمدید کہا کہ جیسے وہ اپنے کسی ہم مرتبہ امیر کا استقبال کررہا ہو۔
منشی حیرت و پریشانی کے عالم میں حاکم اجودھن کے قریب جاکر کھڑا ہوگیا
’’بیٹھ جائو!‘‘ ظالم کا لہجہ یکسر بدلا ہوا تھا
منشی حاکم اجودھن کے اس سلوک و ظلم کی نئی چال سمجھ رہا تھا… مگر جب حاکم کی طرف سے اصرار ہوا تو وہ ڈرتے ڈرتے قریب کی کرسی پر بیٹھ گیا۔
پہلے حاکم نے منشی کی مزاج پرسی کی پھر آہستہ لہجے میں بولا ’’تمہیں شیخ کے پاس جانے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘
’’شیخ کی خدمت میں حاضر ہوئے بغیر یہ بگڑا ہوا کام کس طرح بنتا؟‘‘ منشی نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہا
’’تم یہ تو سچ کہتے ہو کہ شیخ کی توجہ کے بغیر بات بنتی نہیں‘‘ حاکم اجودھن نے اعتراف کیا اور پھر منشی کو گھوڑے کے ساتھ ایک قیمتی خلعت پیش کرتے ہوئے بولا ’’اب تم میری طرف سے اپنا دل صاف کرلو‘‘
اس کے بعد حاکم اجودھن حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ کے دست حق پرست پر توبہ کرلی۔
٭…٭…٭
حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کے خلیفہ اکبر حضرت نصیر الدین چراغ دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ کی روایت ہے کہ اجودھن کے اطراف میں ایک گائوں تھا جہاں ایک مسلمان روغن گر (تیلی) رہتا تھا۔ سیاسی اغراض کے پیش نظردیپال پور کے حاکم نے اس گائوں کو تباہ کردیا۔ مقامی باشندوں کے گھر جلادیئے گئے اور ان کا مال و متاع لوٹ لیا گیا۔ روغن گر کی بیوی نہایت حسین و جمیل عورت تھی۔ وہ اپنی شریک حیات سے بے اندازہ محبت کرتا تھا۔ اتفاق سے اس پر کسی فسادی کی نظر پڑگئی اور وہ عورت کو مال غنیمت سمجھ کر لے گیا۔ روغن گر نے بستی بستی اور کوچہ کوچہ اپنی بیوی کو تلاش کیا مگر ناکام رہا۔ یہاں تک کہ بیوی کے غم میں اس کی زندگی اجیرن ہوگئی۔ آخر گائوں والوں نے رحم کھا کر اسے مشورہ دیا
’’تیرے دکھ کا علاج بس ایک شخص کے پاس ہے‘‘
’’مجھے اس کا پتا بتائو‘‘ روغن گر زاروقطار رونے لگا ’’میں اس کے پیروں پر سر رکھ دوں گا اور اس سے اپنے کھوئے ہوئے صبر و قرار کی بھیک مانگوں گا‘‘
’’تو بابا کے پاس چلا جا وہی تیرے درد کی دوا دے سکتے ہیں‘‘ گائوں والوں نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خانقاہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
روغن گر اس حالت میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے حضور پہنچا کہ اس کی آنکھیں ویران تھیں، بال بکھرے ہوئے تھے اور چہرے سے وحشت برس رہی تھی۔ خانقاہ کے خادموں نے اسے پاگل ہی سمجھا مگر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا حکم تھا کہ جو شخص زیادہ پریشان نظر آئے اسے زیادہ اہمیت دی جائے۔ نتیجتاً اسے فورا ہی حضرت شیخ کی خدمت میں پیش کردیا گیا۔
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا اصول تھا کہ جب بھی کوئی پریشان حال شخص آتا، آپ سب سے پہلے اس کے لئے کھانا منگواتے۔ روغن گر کی حاضری کے وقت بھی ایسا ہی کیا گیا۔ خادم نے اس کے سامنے کھانا لاکر رکھا تو وہ نہا یت شکستہ لہجے میں کہنے لگا۔
آخر وہ کونسی دولت ہے؟‘‘ برہمنوں کا لہجہ تحقیر آمیز تھا۔ ’’
وہ ایک سجدہ جو میں نے اﷲ کی ذات کو کیا‘‘ جوگی سرشاری کے عالم میں بول رہاتھا ’’ساری زندگی اپنے ہی ہاتھوں سے تراشے ہوئے بے جان بتوں کو پوجتا رہا۔ افسوس! کیسی گمراہی اور کیسی ہلاکت تھی‘ بس’’
اس کے کرم نے بچالیا‘‘ یہ کہہ کر جوگی چلا گیا اور برہمن پیچ و تاب کھاتے رہے۔
پھر وہ جوگی ایک بھکاری کی طرح حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے آستانہ عالیہ پر پڑا رہا۔ یہاں تک کہ اسے نجات حاصل ہوگئی اور وہ واصلان حق میں شامل ہوا۔
٭…٭…٭
اسلام میں دل آزاری گناہ عظیم ہے۔ یہ بات ہر مسلمان جانتا ہے مگر اکثریت اس پر عمل نہیں کرتی۔ درویش اسے اپنا فرض اولین سمجھتا ہے اور اسی مروت وتواضع کے سبب اسے حق تعالیٰ کی قربت حاصل ہوجاتی ہے۔
ایک بار ایک بوڑھا شخص اپنے بیٹے کے ساتھ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ گفتگو کے دوران لڑکے نے مداخلت کی اور اونچی آواز میں بحث کرنے لگا۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو یہ بات ناگوار گزری مگر آپ رسم میزبانی ادا کررہے تھے۔ اس لئے خاموش رہے۔ زبان دراز لڑکے کی گستاخیاں بڑھتی گئیں اور وہ پورے زوروشور سے بحث کرتا رہا۔
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے چھوٹے صاحبزادے حضرت شیخ شہاب الدین رحمتہ اﷲ علیہ اور حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ حجرۂ  مبارک کے دروازے پر بیٹھے تھے‘ شور کی آواز سنی تو حضرت شیخ شہاب الدین رحمتہ اﷲ علیہ اپنی جگہ سے اٹھے اور حجرے میں داخل ہوگئے۔ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ بھی شیخ زادے کے پیچھے پیچھے تھے۔
حضرت شیخ شہاب الدین رحمتہ اﷲ علیہ نے اندر داخل ہوکر دیکھا کہ ایک نوجوان لڑکا چیخ چیخ کر نہایت گستاخانہ لہجے میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ سے گفتگو کررہا ہے۔ شیخ زادے سے برداشت نہ ہوسکا۔ آپ تیزی کے ساتھ آگے بڑھے اور لڑکے کے منہ پر ایک زوردار تھپڑ مارتے ہوئے کہا۔
بے ادب! تجھے نہیں معلوم کہ تو کس سے ہم کلام ہے؟‘‘’’
لڑکا بھی مقابلے کے لئے کھڑا ہوگیا اور اس نے حضرت شیخ شہاب الدین رحمتہ اﷲ علیہ کو مارنا چاہا مگر حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
دونوں باہم صفائی کرو‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے فرزند شیخ شہاب الدین رحمتہ اﷲ علیہ اور اس لڑکے کو مخاطب کرکے فرمایا۔’’
آخر شیخ زادے کو اس گستاخ لڑکے سے معافی مانگنی پڑی۔ مزید یہ کہ شیخ شہاب الدین رحمتہ اﷲ علیہ نے اسے کچھ رقم بھی دی پھر وہ باپ بیٹے ہنسی خوشی چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے فرزند سے پوچھا۔
شہاب الدین! تم اتنے طیش میں کیوں آگئے تھے کہ آداب میزبانی بھی فراموش کر بیٹھے‘‘’’
بابا! مجھ سے یہ برداشت نہیں ہوا کہ کوئی آپ کی شان میں گستاخی کرے‘‘ شیخ شہاب الدین رحمتہ اﷲ علیہ نے سر جھکالیا۔’’
’’اس نے زبان کا جائز استعمال نہیں کیا کہ وہ بے خبر تھا مگر تم نے ہاتھ کا غلط استعمال کیوں کیا کہ تم تو باخبر تھے‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’فرزند! راہ سلوک میں تو اس سے کہیں زیادہ نازک اور اذیت ناک مقام آتے ہیں۔ اس وقت تم کیا کروگے؟‘‘
حضرت شیخ شہاب الدین رحمتہ اﷲ علیہ سرجھکائے کھڑے رہے۔ آپ کے چہرۂ مبارک پر ندامت کے آثار نمایاں تھے۔
پھر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ سے مخاطب ہوئے ’’اور مولانا نظام الدین! تم نے اس لڑکے کا ہاتھ کیوں پکڑا؟‘‘
سیدی! یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی شیخ زادے پر ہاتھ اٹھائے اور یہ غلام خاموش کھڑا دیکھتے رہے‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے عرض کیا۔’’
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ مسکرائے اور فرمایا ’’نیک نے نیک کام کیا‘‘
٭…٭…٭
سلطان ناصر الدین محمود کے زمانے میں ایک دانشمند فصیح الدین دہلی آیا۔ اس کے علم و فضل کا یہ حال تھا کہ دہلی کے بڑے بڑے علماء اس کے سوالات کا جواب دینے سے عاجز رہتے تھے۔ پھر فصیح الدین کی شہرت دور دور پھیل گئی۔ ایک بار اس کی مجلس میں بیک وقت پانچ عالم موجود تھے اور فصیح الدین سے بحث کررہے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں پانچوں عالم لاجواب ہوگئے۔
کیا دہلی اور اس کے نواح میں ایسا کوئی عالم موجود ہے جس نے مجھ سے بحث نہ کی ہو؟‘‘ فصیح الدین نے فخریہ لہجے میں کہا۔ اسے اپنی علمی فتوحات پر بڑا غرور تھا۔’’
ہاں! ایک بزرگ فرید الدین مسعود ہیں جو اجودھن میں رہتے ہیں‘‘ علماء نے جواب دیا۔’’
میں ان سے بھی ملاقات کروں گا‘‘ فصیح الدین نے اس طرح کہا جیسے وہ اس مرد درویش کو بھی عاجز کردے گا۔’’
پھر کچھ دن بعد فصیح الدین اجودھن پہنچ کر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ اور دوسرے درویش بھی موجود تھے۔
فصیح الدین نے بظاہر عاجزی کا مظاہرہ کیا مگر در پردہ وہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی علمیت کا امتحان لے رہا تھا ’’شیخ! میرے ذہن میں کچھ مسائل الجھ کر رہ گئے ہیں۔ میں اس سلسلے میں بہت دن سے حیران و پریشان پھر رہا ہوں۔ دہلی کے کچھ علماء کا خیال ہے کہ آپ ان مسائل کی گرہ کشائی کرسکتے ہیں‘‘ یہ کہہ کر فصیح الدین نے وہ سوالات حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے سامنے پیش کردیئے جنہیں وہ راستے بھر تراشتا رہا تھا۔
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فصیح الدین کے مسائل سنے مگر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ آپ کے چہرۂ مبارک سے ایسا ظاہر ہورہا تھا جیسے غوروفکر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
سکوت اور خاموشی کا یہ منظر دیکھ کر فصیح الدین کو محسوس ہوا کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بھی اس کے سوالات کا جواب دینے سے قاصر رہیں گے۔ اس احساس کے ساتھ ہی اس کا چہرہ خوشی سے دمکنے لگا… مگر فصیح الدین کی یہ خوشی بہت عارضی تھی۔
’’تمہارے سوالات تو بہت آسان ہیں‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے بجائے حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ فصیح الدین سے مخاطب ہوئے پھر آپ نے اس طرح سارے مسائل حل کردیئے کہ حاضرین مجلس حیران رہ گئے۔
فصیح الدین کا چہرہ اتر گیا اور وہ دل میں سوچنے لگا کہ جب شاگرد کا یہ حال ہے تو پھر استاد کا کیا عالم ہوگا؟ فصیح الدین کچھ دیر تک نادم و شرمسار بیٹھا رہا پھر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا شکریہ ادا کرکے مجلس سے اٹھ گیا۔
اس کے جاتے ہی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ پر سخت ناراض ہوئے ’’تم درمیان میں کیوں بول اٹھے؟‘‘
پیرومرشد کے چہرۂ مبارک کا بگڑا ہوا رنگ دیکھ کر حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا۔ آپ نے فورا ندامت سے سرجھکالیا۔
’’کیا میں فصیح الدین کے مسائل کا حل نہیں جانتا تھا؟‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے غضب ناک لہجے میں فرمایا ’’میں نے تو اس لئے خاموشی اختیار کی تھی کہ اس کا دل نہ ٹوٹے۔ تونے نہیں دیکھا کہ وہ بھری محفل میں کیسا نادم و شرمسار بیٹھا تھا اور جب اٹھا تو اس کی حالت کیسی شکستہ تھی۔ میں تجھ سے اس وقت تک راضی نہیں ہوں گا جب تک فصیح الدین خوش نہیں ہوگا‘‘
حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ فورا اٹھے اور فصیح الدین کی تلاش میں نکلے۔ پھر پتا پوچھتے پوچھتے اس سرائے پر پہنچے جہاں وہ دانشمند ٹھہرا ہوا تھا۔ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کو دیکھ کر فصیح الدین کے چہرے پر خوشی کے آثار نمایاں ہوگئے اور پھر وہ بہت دیر تک آپ کے علم و فضل کی تعریف کرتا رہا۔
’’تمہاری وجہ سے حضرت شیخ مجھ پر بہت ناراض ہوئے‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔
’’اس میں تمہاری کیا غلطی تھی؟‘‘ فصیح الدین حیران ہوا۔
 ‘‘پیرومرشد اس لئے ناراض ہوئے کہ میں نے تمہارے سوالوں کے جوابات کیوں دیئے؟ اگر میں خاموش رہتا تو تم خوش ہوجاتے اور اہل مجلس جان لیتے کہ تم بڑے عالم ہو’’
یہ سن کر کچھ دیر کے لئے فصیح الدین کو سکتہ سا ہوگیا پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگا۔ ’’سبحان اﷲ! ایسا علم اور ایسا تحمل کہ کسی کا دل توڑنا گوارا نہیں‘ چاہے اپنی ذات پر حرف آجائے
میرے بھائی مجھے معاف کردو تاکہ پیرومرشد کا غصہ دور ہو اور میری زندگی برباد ہونے سے بچ جائے‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے درخواست کی۔۔’’
میں تم سے خوش ہوں تمہاری طرف سے میری دل میں ذرہ برابر بھی کدورت نہیں‘‘ فصیح الدین نے حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔’’
‘‘تم یہی بات حضرت شیخ کے سامنے کہہ دو‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے التجا کی۔ ’’میری خاطر یہ زحمت گوارا کرلو’’
چلو! میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں‘‘ فصیح الدین نے عجیب سے لہجے میں کہا ’’اب مجھے اور کہاں جانا ہے؟ ‘‘’’
پھر ہندوستان کا سب سے بڑا دانشمند حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کے ساتھ خانقاہ میں داخل اور مودبانہ بولا ’’شیخ مجھے بھی غلامی کا شرف عطا کیجئے ‘‘
میں تمہیں کس طرح بیعت کروں کہ تم علم ظاہری میں بہت مبالغہ کرتے ہو‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا’’
 میں اس علم سے تائب ہوتا ہوں جس نے مجھے حیرت و پریشانی کے سوا کچھ نہیں دیا ‘‘’’
اس اعتراف کے بعد فصیح الدین حلقہ ارادت میں شامل ہوئے اور ساری زندگی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں گزار دی۔
٭…٭…٭
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا مشہور قول ہے۔ ’’حق تعالیٰ سے اپنی بندگی کے رشتے کو مضبوط کر کہ سب اس سے لیتے ہیں اور وہ سب کو دیتا ہے جب وہ کسی کو دیتا ہے تو پھر کوئی اس سے چھیننے والا نہیں‘‘
آخر وہ کونسی دولت ہے؟‘‘ برہمنوں کا لہجہ تحقیر آمیز تھا۔ ’’
وہ ایک سجدہ جو میں نے اﷲ کی ذات کو کیا‘‘ جوگی سرشاری کے عالم میں بول رہاتھا ’’ساری زندگی اپنے ہی ہاتھوں سے تراشے ہوئے بے جان بتوں کو پوجتا رہا۔ افسوس! کیسی گمراہی اور کیسی ہلاکت تھی‘ بس’’
اس کے کرم نے بچالیا‘‘ یہ کہہ کر جوگی چلا گیا اور برہمن پیچ و تاب کھاتے رہے۔
پھر وہ جوگی ایک بھکاری کی طرح حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے آستانہ عالیہ پر پڑا رہا۔ یہاں تک کہ اسے نجات حاصل ہوگئی اور وہ واصلان حق میں شامل ہوا۔
٭…٭…٭
اسلام میں دل آزاری گناہ عظیم ہے۔ یہ بات ہر مسلمان جانتا ہے مگر اکثریت اس پر عمل نہیں کرتی۔ درویش اسے اپنا فرض اولین سمجھتا ہے اور اسی مروت وتواضع کے سبب اسے حق تعالیٰ کی قربت حاصل ہوجاتی ہے۔
ایک بار ایک بوڑھا شخص اپنے بیٹے کے ساتھ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ گفتگو کے دوران لڑکے نے مداخلت کی اور اونچی آواز میں بحث کرنے لگا۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو یہ بات ناگوار گزری مگر آپ رسم میزبانی ادا کررہے تھے۔ اس لئے خاموش رہے۔ زبان دراز لڑکے کی گستاخیاں بڑھتی گئیں اور وہ پورے زوروشور سے بحث کرتا رہا۔
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے چھوٹے صاحبزادے حضرت شیخ شہاب الدین رحمتہ اﷲ علیہ اور حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ حجرۂ  مبارک کے دروازے پر بیٹھے تھے‘ شور کی آواز سنی تو حضرت شیخ شہاب الدین رحمتہ اﷲ علیہ اپنی جگہ سے اٹھے اور حجرے میں داخل ہوگئے۔ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ بھی شیخ زادے کے پیچھے پیچھے تھے۔
حضرت شیخ شہاب الدین رحمتہ اﷲ علیہ نے اندر داخل ہوکر دیکھا کہ ایک نوجوان لڑکا چیخ چیخ کر نہایت گستاخانہ لہجے میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ سے گفتگو کررہا ہے۔ شیخ زادے سے برداشت نہ ہوسکا۔ آپ تیزی کے ساتھ آگے بڑھے اور لڑکے کے منہ پر ایک زوردار تھپڑ مارتے ہوئے کہا۔
بے ادب! تجھے نہیں معلوم کہ تو کس سے ہم کلام ہے؟‘‘’’
لڑکا بھی مقابلے کے لئے کھڑا ہوگیا اور اس نے حضرت شیخ شہاب الدین رحمتہ اﷲ علیہ کو مارنا چاہا مگر حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
دونوں باہم صفائی کرو‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے فرزند شیخ شہاب الدین رحمتہ اﷲ علیہ اور اس لڑکے کو مخاطب کرکے فرمایا۔’’
آخر شیخ زادے کو اس گستاخ لڑکے سے معافی مانگنی پڑی۔ مزید یہ کہ شیخ شہاب الدین رحمتہ اﷲ علیہ نے اسے کچھ رقم بھی دی پھر وہ باپ بیٹے ہنسی خوشی چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے فرزند سے پوچھا۔
شہاب الدین! تم اتنے طیش میں کیوں آگئے تھے کہ آداب میزبانی بھی فراموش کر بیٹھے‘‘’’
بابا! مجھ سے یہ برداشت نہیں ہوا کہ کوئی آپ کی شان میں گستاخی کرے‘‘ شیخ شہاب الدین رحمتہ اﷲ علیہ نے سر جھکالیا۔’’
’’اس نے زبان کا جائز استعمال نہیں کیا کہ وہ بے خبر تھا مگر تم نے ہاتھ کا غلط استعمال کیوں کیا کہ تم تو باخبر تھے‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’فرزند! راہ سلوک میں تو اس سے کہیں زیادہ نازک اور اذیت ناک مقام آتے ہیں۔ اس وقت تم کیا کروگے؟‘‘
حضرت شیخ شہاب الدین رحمتہ اﷲ علیہ سرجھکائے کھڑے رہے۔ آپ کے چہرۂ مبارک پر ندامت کے آثار نمایاں تھے۔
پھر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ سے مخاطب ہوئے ’’اور مولانا نظام الدین! تم نے اس لڑکے کا ہاتھ کیوں پکڑا؟‘‘
سیدی! یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی شیخ زادے پر ہاتھ اٹھائے اور یہ غلام خاموش کھڑا دیکھتے رہے‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے عرض کیا۔’’
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ مسکرائے اور فرمایا ’’نیک نے نیک کام کیا‘‘
٭…٭…٭
سلطان ناصر الدین محمود کے زمانے میں ایک دانشمند فصیح الدین دہلی آیا۔ اس کے علم و فضل کا یہ حال تھا کہ دہلی کے بڑے بڑے علماء اس کے سوالات کا جواب دینے سے عاجز رہتے تھے۔ پھر فصیح الدین کی شہرت دور دور پھیل گئی۔ ایک بار اس کی مجلس میں بیک وقت پانچ عالم موجود تھے اور فصیح الدین سے بحث کررہے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں پانچوں عالم لاجواب ہوگئے۔
کیا دہلی اور اس کے نواح میں ایسا کوئی عالم موجود ہے جس نے مجھ سے بحث نہ کی ہو؟‘‘ فصیح الدین نے فخریہ لہجے میں کہا۔ اسے اپنی علمی فتوحات پر بڑا غرور تھا۔’’
ہاں! ایک بزرگ فرید الدین مسعود ہیں جو اجودھن میں رہتے ہیں‘‘ علماء نے جواب دیا۔’’
میں ان سے بھی ملاقات کروں گا‘‘ فصیح الدین نے اس طرح کہا جیسے وہ اس مرد درویش کو بھی عاجز کردے گا۔’’
پھر کچھ دن بعد فصیح الدین اجودھن پہنچ کر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ اور دوسرے درویش بھی موجود تھے۔
فصیح الدین نے بظاہر عاجزی کا مظاہرہ کیا مگر در پردہ وہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی علمیت کا امتحان لے رہا تھا ’’شیخ! میرے ذہن میں کچھ مسائل الجھ کر رہ گئے ہیں۔ میں اس سلسلے میں بہت دن سے حیران و پریشان پھر رہا ہوں۔ دہلی کے کچھ علماء کا خیال ہے کہ آپ ان مسائل کی گرہ کشائی کرسکتے ہیں‘‘ یہ کہہ کر فصیح الدین نے وہ سوالات حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے سامنے پیش کردیئے جنہیں وہ راستے بھر تراشتا رہا تھا۔
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فصیح الدین کے مسائل سنے مگر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ آپ کے چہرۂ مبارک سے ایسا ظاہر ہورہا تھا جیسے غوروفکر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
سکوت اور خاموشی کا یہ منظر دیکھ کر فصیح الدین کو محسوس ہوا کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بھی اس کے سوالات کا جواب دینے سے قاصر رہیں گے۔ اس احساس کے ساتھ ہی اس کا چہرہ خوشی سے دمکنے لگا… مگر فصیح الدین کی یہ خوشی بہت عارضی تھی۔
’’تمہارے سوالات تو بہت آسان ہیں‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے بجائے حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ فصیح الدین سے مخاطب ہوئے پھر آپ نے اس طرح سارے مسائل حل کردیئے کہ حاضرین مجلس حیران رہ گئے۔
فصیح الدین کا چہرہ اتر گیا اور وہ دل میں سوچنے لگا کہ جب شاگرد کا یہ حال ہے تو پھر استاد کا کیا عالم ہوگا؟ فصیح الدین کچھ دیر تک نادم و شرمسار بیٹھا رہا پھر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا شکریہ ادا کرکے مجلس سے اٹھ گیا۔
اس کے جاتے ہی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ پر سخت ناراض ہوئے ’’تم درمیان میں کیوں بول اٹھے؟‘‘
پیرومرشد کے چہرۂ مبارک کا بگڑا ہوا رنگ دیکھ کر حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا۔ آپ نے فورا ندامت سے سرجھکالیا۔
’’کیا میں فصیح الدین کے مسائل کا حل نہیں جانتا تھا؟‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے غضب ناک لہجے میں فرمایا ’’میں نے تو اس لئے خاموشی اختیار کی تھی کہ اس کا دل نہ ٹوٹے۔ تونے نہیں دیکھا کہ وہ بھری محفل میں کیسا نادم و شرمسار بیٹھا تھا اور جب اٹھا تو اس کی حالت کیسی شکستہ تھی۔ میں تجھ سے اس وقت تک راضی نہیں ہوں گا جب تک فصیح الدین خوش نہیں ہوگا‘‘
حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ فورا اٹھے اور فصیح الدین کی تلاش میں نکلے۔ پھر پتا پوچھتے پوچھتے اس سرائے پر پہنچے جہاں وہ دانشمند ٹھہرا ہوا تھا۔ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کو دیکھ کر فصیح الدین کے چہرے پر خوشی کے آثار نمایاں ہوگئے اور پھر وہ بہت دیر تک آپ کے علم و فضل کی تعریف کرتا رہا۔
’’تمہاری وجہ سے حضرت شیخ مجھ پر بہت ناراض ہوئے‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔
’’اس میں تمہاری کیا غلطی تھی؟‘‘ فصیح الدین حیران ہوا۔
 ‘‘پیرومرشد اس لئے ناراض ہوئے کہ میں نے تمہارے سوالوں کے جوابات کیوں دیئے؟ اگر میں خاموش رہتا تو تم خوش ہوجاتے اور اہل مجلس جان لیتے کہ تم بڑے عالم ہو’’
یہ سن کر کچھ دیر کے لئے فصیح الدین کو سکتہ سا ہوگیا پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگا۔ ’’سبحان اﷲ! ایسا علم اور ایسا تحمل کہ کسی کا دل توڑنا گوارا نہیں‘ چاہے اپنی ذات پر حرف آجائے
میرے بھائی مجھے معاف کردو تاکہ پیرومرشد کا غصہ دور ہو اور میری زندگی برباد ہونے سے بچ جائے‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے درخواست کی۔۔’’
میں تم سے خوش ہوں تمہاری طرف سے میری دل میں ذرہ برابر بھی کدورت نہیں‘‘ فصیح الدین نے حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔’’
‘‘تم یہی بات حضرت شیخ کے سامنے کہہ دو‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے التجا کی۔ ’’میری خاطر یہ زحمت گوارا کرلو’’
چلو! میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں‘‘ فصیح الدین نے عجیب سے لہجے میں کہا ’’اب مجھے اور کہاں جانا ہے؟ ‘‘’’
پھر ہندوستان کا سب سے بڑا دانشمند حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کے ساتھ خانقاہ میں داخل اور مودبانہ بولا ’’شیخ مجھے بھی غلامی کا شرف عطا کیجئے ‘‘
میں تمہیں کس طرح بیعت کروں کہ تم علم ظاہری میں بہت مبالغہ کرتے ہو‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا’’
 میں اس علم سے تائب ہوتا ہوں جس نے مجھے حیرت و پریشانی کے سوا کچھ نہیں دیا ‘‘’’
اس اعتراف کے بعد فصیح الدین حلقہ ارادت میں شامل ہوئے اور ساری زندگی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں گزار دی۔
٭…٭…٭
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا مشہور قول ہے۔ ’’حق تعالیٰ سے اپنی بندگی کے رشتے کو مضبوط کر کہ سب اس سے لیتے ہیں اور وہ سب کو دیتا ہے جب وہ کسی کو دیتا ہے تو پھر کوئی اس سے چھیننے والا نہیں‘‘
>’’مجھے بھوک نہیں ہے۔ زمانہ ہوا کہ میں نے کھانا چھوڑ دیا ہے‘‘ روغن گر کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
>حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو اس کی شدت غم کا احساس ہوا تو آپ نے فرمایا ’’تو اس حالت تک کس طرح پہنچا؟‘‘
>روغن گر نے اپنی بیوی کے بچھڑنے کا پورا واقعہ سناتے ہوئے کہا ’’اس کے بغیر یہ زندگی ایک عذاب ہے۔ اگر آپ کے پاس بھی میرے غموں کا علاج نہیں ہے تو میں چلا جاتا ہوں‘‘
>’’تم کھانا تو کھاؤ‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اس کا حال زار سن کر فرمایا ’’عجیب نہیں کہ حق تعالیٰ تمہاری ساری پریشانیاں دور فرمادیں‘‘
>روغن گر نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے اصرار پر دوچار لقمے حلق سے اتارے مگر اس طرح کہ جیسے وہ کانٹے نگل رہا ہو۔ کھانے کے بعد اس نے وحشت زدہ لہجے میں پوچھا ’’اب میں کیا کروں؟ کہاں جائوں؟‘‘
>’’صبر کرو…!‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔
>’’بابا…! اب مجھ سے صبر نہیں ہوتا‘‘ روغن گر حضرت شیخ کے قدموں سے لپٹ کر رونے لگا۔
>’’صبر تو تمہیں کرنا ہی پڑے گا‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اسے تسلی دی ’’کچھ دن تک میرے پاس رہو‘‘
>روغن گر کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ مجبورا خانقاہ کے ایک گوشے میں جاپڑا مگر اس طرح کہ ہر گھنٹے کے بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے پاس آتا اور فریاد کرتا کہ ابھی تک اس کی بیوی نہیں ملی۔
>حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ ہر بار خندہ پیشانی کے ساتھ اس وارفتہ شوق کو تسلی دیتے اور پھر اپنے مریدوں کو مخاطب کرکے فرماتے ’’تم لوگ دیکھ رہے ہو کہ عشق کی آگ کس انداز سے بھڑک رہی ہے۔ بے چارے کی روح تک جلی جاتی ہے اگرچہ یہ دنیا کے عشق میں مبتلا ہے لیکن اس کا عشق سچا ہے‘‘
>آخر اسی کشمکش میں دو دن گزر گئے۔ روغن گر کی مایوسی اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی پھر تیسرے دن ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ دیپال پور کے حاکم نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ اجودھن کے منشی کو پکڑ کر اس کے سامنے پیش کریں اگرچہ منشی بے قصور تھا لیکن کچھ مخبروں نے حاکم دیپال پور کو اطلاع دی تھی کہ وہ اس کے خلاف سازشیں کررہا ہے، نتیجتاً منشی کو گرفتار کرلیا گیا پھر جب اسے دیپال پور لے جایا جانے لگا تو اس نے سپاہیوں سے درخواست کرتے ہوئے کہا۔
>’’اگر تم لوگ مجھے کچھ دیر کے لئے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں لے چلو تو میں تمہیں ایک قیمتی چیز پیش کروں گا‘‘
>’’تو وہاں جاکر کیا کرے گا؟‘‘ حاکم دیپال پور کے سپاہیوں نے پوچھا
>’’بس چند لمحوں کی بات ہے‘‘ منشی نے بڑے عاجزانہ لہجے میں کہا ’’میں حضرت شیخ کی خدمت میں سلام پیش کروں گا اور پھر تم لوگوں کے ساتھ دیپال پور روانہ ہوجائوں گا‘‘
>سپاہی ویسے تو شاید انکار کردیتے مگر بڑی رقم کے لالچ نے انہیں منشی کی بات ماننے پر مجبور کردیا۔
>پھر اجودھن کا منشی اسی حالت میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے پاس پہنچا کہ وہ زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔
>’’اے شخص! یہ کیا ماجرا ہے؟‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے منشی سے دریافت کیا۔
>’’سرکار! میں بے قصور ہوں مگر حاکم دیپال پور کے سپاہی مجھے گرفتار کرکے لے جارہے ہیں‘‘ منشی رونے لگا۔ ’’میرے پاس کسی اعلیٰ افسر کی سفارش نہیں اگر کچھ ہے تو بس آپ کی دعائوں کا سہارا ہے‘‘
>حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ چند لمحوں تک کچھ سوچتے رہے پھر منشی کو مخاطب کرکے فرمایا ’’اگر وہ حاکم جس نے تیری گرفتاری کا حکم جاری کیا ہے تجھ پر مہربان ہوجائے تو کیا شکرانہ پیش کرے گا‘‘
>’’میرے پاس جس قدر مال و اسباب ہے، وہ سب آپ کی خدمت میں پیش کردوں گا‘‘ منشی نے دست بستہ عرض کیا۔
>’’وہ شکرانہ بھی میں نے تجھے بخش دیا‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’مجھے اپنے اﷲ کے کرم پر یقین ہے کہ وہ فتنہ پرداز حاکم تجھے آزاد کردے گا۔ خلعت فاخرہ سے نوازے گا اور تحفے کے طور پر تجھے ایک کنیز بھی دے گا مجھ سے وعدہ کرکہ تو اس کنیز کو روغن کے حوالے کردے گا‘‘
>’’میں وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کے ایک ایک حکم پر دل وجان سے عمل کروں گا‘‘ منشی نے عرض کیا
>پھر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے روغن گر کو اپنی خدمت میں طلب کیا اور منشی کو مخاطب کرکے فرمایا ’’حسب وعدہ تم کنیز کو اس شخص کے حوالے کردوگے‘‘
>منشی نے روغن گر سے کہا ’’میرے ساتھ چلو کہ یہی حکم شیخ ہے‘‘
>روغن گر منشی کی بات سن کر رونے لگا… ’’شیخ! میرے پاس اتنی دولت ہے کہ آٹھ خوبصورت کنیزیں خرید سکتاہوں… مگر میں ایسا نہیں کروں گا مجھے صرف اپنی بیوی سے عشق ہے۔ اس کے سوا کسی عورت کی رفاقت گوارا نہیں‘‘
>حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے مسکراتے ہوئے فرمایا ’’تو اﷲ کا نام لے کر منشی کے ساتھ دیپال پور جا، پھر دیکھ کہ پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟‘‘
>مجبورا وہ روغن گر منشی کے ساتھ چلا گیا مگر اسے اپنی بیوی کے ملنے کی امید نہیں تھی۔
>سپاہیوں نے منشی کو لے جاکر حوالات میں بند کردیا اور روغن گر شدید مایوسی کے عالم میں قید خانے کے باہر بیٹھ گیا۔
>دوسرے دن منشی کو حاکم دیپال پور کے سامنے پیش کیا گیا۔ لوگوں کا خیال تھا کہ اجودھن کا منشی حاکم کے قہروغضب سے محفوظ نہیں رہے گا اور اسے سخت ترین سزا دی جائے گی۔ خود حاکم دیپال پور کا یہ حال تھا کہ وہ منشی کے آنے سے پہلے سخت پیچ و تاب کھا رہا تھا پھر جیسے ہی منشی کو اس کے سامنے پیش کیا گیا، صورتحال یکسر بدل گئی، حاکم دیپال پور نے اپنے قیدی کی طرف دیکھا اور بے اختیار کہنے لگا۔
>’’تم سازشی نہیں ہوسکتے، یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں‘‘
>پھر حاکم نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ منشی کی زنجیریں کھول دی جائیں۔ وہاں موجود تمام لوگ حیرت زدہ تھے کہ ایک معتوب شخص چند لمحوں میں بے قصور کیسے ثابت ہوگیا؟ حاکم نے منشی کے لئے کرسی منگوائی اور اسے اپنے قریب بٹھایا۔ کچھ دیر تک معذرت کرتا رہا پھر اس نے منشی کو قیمتی خلعت سے نوازا اور ایک اعلیٰ نسل کا گھوڑا دیا۔ جب منشی انعام لے کر جانے لگا تو حاکم دیپال پور نے ایک برقع پوش خاتون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
>’’اور یہ کنیز تیری خدمت کے لئے ہے‘‘
>منشی پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے۔ وہ پتھر کے کسی ستون کے مانند ساکت کھڑا تھا۔ مگر اس کا ذہن ایک درویش کے کوچے میں بھٹک رہا تھا۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی زبان مبارک سے ادا ہونے والے الفاظ مجسم ہوگئے تھے۔
>’’کیا کچھ اور چاہتا ہے؟‘‘ منشی کو گم صم پاکر حاکم دیپال پور نے پوچھا۔
>منشی اپنے تصورات کے حصار سے باہر نکل آیا اور شکر گزاری کے لہجے میں کہنے لگا
>’’میرے لئے آپ کی یہی عنایت بہت ہے‘‘ اب وہ کسے بتاتا کہ حاکم دیپال پور کی نفرت محبت میں کیسے بدل گئی… اور یہ کس کی دعائوں کا صدقہ ہے۔
>منشی حاکم کے دربار سے باہر آیا۔ برقع پوش کنیز اس کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی۔ پھر جب منشی حوالات کے قریب پہنچا تو روغن گر سر جھکائے اداس بیٹھا تھا، یکایک کنیز دوڑی اور روغن گر سے جاکر لپٹ گئی۔
>روغن گر نے ایک نامحرم عورت کو اتنے قریب پایا تو گھبرا کر کھڑا ہوگیا ’’دور ہوجا مجھ سے، مجھے اپنی بیوی کے سوا کسی عورت کی طلب نہیں‘‘
>’’میں ہی تمہاری بیوی ہوں‘‘ یہ کہتے ہوئے کنیز نے اپنے چہرے سے نقاب الٹ دیا۔
>روغن گر کو سکتہ سا ہوگیا پھر کچھ دیر بعد وہ چیخیں مار کر رونے لگا ’’بابا! بابا!‘‘ روغن گر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو یاد کررہا تھا۔
>’’تم کسے پکار رہے ہو؟‘‘ بیوی نے حیرت زدہ ہوکر پوچھا
>’’اسے آوازیں دے رہا ہوں جس کی دعائوں کے طفیل مجھے تیرا دیدار نصیب ہوا ہے‘‘ روغن گر زاروقطار رو رہا تھا ’’اگر اس کی نگاہ کرم نہ ہوتی تو میں آتش فراق میں جل کر راکھ ہوچکا ہوتا‘‘
>منشی نے پورا واقعہ سنا تو اس کی آنکھیں بھیک گئی ’’خدا شیخ کو سلامت رکھے کہ انہیں دیکھ کر ہماری بے قرار دل سکون پاتے ہیں‘‘
>اجودھن پہنچ کر روغن گر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے قدموں سے لپٹ گیا۔
>’’اب کیا چاہتا ہے؟‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے پوچھا
>’’عشق کی وہ آگ چاہتا ہوں جو کبھی نہ بجھے‘‘ روغن گر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی ایک نظر خاص کی بھیک مانگ رہا تھا۔
>’’اﷲ تیرا شعلۂ عشق کو اور بھڑکادے‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے دعا دی۔
>پھر وہ روغن گر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے حلقہ ارادت میں شامل ہوکر عشق مجازی سے عشق حقیقی تک پہنچا۔
>حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کی مجلس وعظ آراستہ تھی، آپ الہام اور خبر کے موضوع پر تقریر فرما رہے تھے۔ پھرجب درس ختم ہوا تو ایک مرید نے اپنی نشست پر کھڑے ہوکر عرض کیا۔
>’’بہائو  الدین خالد کہا کرتا تھا کہ وہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اسے شیخ العالم کے دیدار کا بہت شوق تھا۔ اس وقت حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اﷲ علیہ اجودھن کی جامع مسجدمیں تشریف فرما تھے۔ بہائو الدین خالد نے آگے جانے کی بہت کوشش کی مگر لوگوں نے اسے راستہ نہیں دیا۔ مجبورا وہ محراب کے سامنے بیٹھ گیا۔ محراب میں ایک شگاف تھا، اچانک بہائو الدین خالد کی نظر کاغذ کے ایک ٹکڑے پر پڑی۔ اس نے وہ کاغذ اٹھالیا۔ کاغذ پر واضح حروف میں عبارت تحریر تھی۔
>’’خالد کو فرید کی طرف سے سلام پہنچے‘‘
>یہ واقعہ سن کر دوسرے مرید نے حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ سے عرض کیا ’’یہ کاغذ کوئی لکھتا ہے یا بارگاہ الٰہی سے آتا ہے؟‘‘
>’’مجھے بھوک نہیں ہے۔ زمانہ ہوا کہ میں نے کھانا چھوڑ دیا ہے‘‘ روغن گر کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
>حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو اس کی شدت غم کا احساس ہوا تو آپ نے فرمایا ’’تو اس حالت تک کس طرح پہنچا؟‘‘
>روغن گر نے اپنی بیوی کے بچھڑنے کا پورا واقعہ سناتے ہوئے کہا ’’اس کے بغیر یہ زندگی ایک عذاب ہے۔ اگر آپ کے پاس بھی میرے غموں کا علاج نہیں ہے تو میں چلا جاتا ہوں‘‘
>’’تم کھانا تو کھاؤ‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اس کا حال زار سن کر فرمایا ’’عجیب نہیں کہ حق تعالیٰ تمہاری ساری پریشانیاں دور فرمادیں‘‘
>روغن گر نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے اصرار پر دوچار لقمے حلق سے اتارے مگر اس طرح کہ جیسے وہ کانٹے نگل رہا ہو۔ کھانے کے بعد اس نے وحشت زدہ لہجے میں پوچھا ’’اب میں کیا کروں؟ کہاں جائوں؟‘‘
>’’صبر کرو…!‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔
>’’بابا…! اب مجھ سے صبر نہیں ہوتا‘‘ روغن گر حضرت شیخ کے قدموں سے لپٹ کر رونے لگا۔
>’’صبر تو تمہیں کرنا ہی پڑے گا‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اسے تسلی دی ’’کچھ دن تک میرے پاس رہو‘‘
>روغن گر کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ مجبورا خانقاہ کے ایک گوشے میں جاپڑا مگر اس طرح کہ ہر گھنٹے کے بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے پاس آتا اور فریاد کرتا کہ ابھی تک اس کی بیوی نہیں ملی۔
>حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ ہر بار خندہ پیشانی کے ساتھ اس وارفتہ شوق کو تسلی دیتے اور پھر اپنے مریدوں کو مخاطب کرکے فرماتے ’’تم لوگ دیکھ رہے ہو کہ عشق کی آگ کس انداز سے بھڑک رہی ہے۔ بے چارے کی روح تک جلی جاتی ہے اگرچہ یہ دنیا کے عشق میں مبتلا ہے لیکن اس کا عشق سچا ہے‘‘
>آخر اسی کشمکش میں دو دن گزر گئے۔ روغن گر کی مایوسی اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی پھر تیسرے دن ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ دیپال پور کے حاکم نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ اجودھن کے منشی کو پکڑ کر اس کے سامنے پیش کریں اگرچہ منشی بے قصور تھا لیکن کچھ مخبروں نے حاکم دیپال پور کو اطلاع دی تھی کہ وہ اس کے خلاف سازشیں کررہا ہے، نتیجتاً منشی کو گرفتار کرلیا گیا پھر جب اسے دیپال پور لے جایا جانے لگا تو اس نے سپاہیوں سے درخواست کرتے ہوئے کہا۔
>’’اگر تم لوگ مجھے کچھ دیر کے لئے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں لے چلو تو میں تمہیں ایک قیمتی چیز پیش کروں گا‘‘
>’’تو وہاں جاکر کیا کرے گا؟‘‘ حاکم دیپال پور کے سپاہیوں نے پوچھا
>’’بس چند لمحوں کی بات ہے‘‘ منشی نے بڑے عاجزانہ لہجے میں کہا ’’میں حضرت شیخ کی خدمت میں سلام پیش کروں گا اور پھر تم لوگوں کے ساتھ دیپال پور روانہ ہوجائوں گا‘‘
>سپاہی ویسے تو شاید انکار کردیتے مگر بڑی رقم کے لالچ نے انہیں منشی کی بات ماننے پر مجبور کردیا۔
>پھر اجودھن کا منشی اسی حالت میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے پاس پہنچا کہ وہ زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔
>’’اے شخص! یہ کیا ماجرا ہے؟‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے منشی سے دریافت کیا۔
>’’سرکار! میں بے قصور ہوں مگر حاکم دیپال پور کے سپاہی مجھے گرفتار کرکے لے جارہے ہیں‘‘ منشی رونے لگا۔ ’’میرے پاس کسی اعلیٰ افسر کی سفارش نہیں اگر کچھ ہے تو بس آپ کی دعائوں کا سہارا ہے‘‘
>حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ چند لمحوں تک کچھ سوچتے رہے پھر منشی کو مخاطب کرکے فرمایا ’’اگر وہ حاکم جس نے تیری گرفتاری کا حکم جاری کیا ہے تجھ پر مہربان ہوجائے تو کیا شکرانہ پیش کرے گا‘‘
>’’میرے پاس جس قدر مال و اسباب ہے، وہ سب آپ کی خدمت میں پیش کردوں گا‘‘ منشی نے دست بستہ عرض کیا۔
>’’وہ شکرانہ بھی میں نے تجھے بخش دیا‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’مجھے اپنے اﷲ کے کرم پر یقین ہے کہ وہ فتنہ پرداز حاکم تجھے آزاد کردے گا۔ خلعت فاخرہ سے نوازے گا اور تحفے کے طور پر تجھے ایک کنیز بھی دے گا مجھ سے وعدہ کرکہ تو اس کنیز کو روغن کے حوالے کردے گا‘‘
>’’میں وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کے ایک ایک حکم پر دل وجان سے عمل کروں گا‘‘ منشی نے عرض کیا
>پھر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے روغن گر کو اپنی خدمت میں طلب کیا اور منشی کو مخاطب کرکے فرمایا ’’حسب وعدہ تم کنیز کو اس شخص کے حوالے کردوگے‘‘
>منشی نے روغن گر سے کہا ’’میرے ساتھ چلو کہ یہی حکم شیخ ہے‘‘
>روغن گر منشی کی بات سن کر رونے لگا… ’’شیخ! میرے پاس اتنی دولت ہے کہ آٹھ خوبصورت کنیزیں خرید سکتاہوں… مگر میں ایسا نہیں کروں گا مجھے صرف اپنی بیوی سے عشق ہے۔ اس کے سوا کسی عورت کی رفاقت گوارا نہیں‘‘
>حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے مسکراتے ہوئے فرمایا ’’تو اﷲ کا نام لے کر منشی کے ساتھ دیپال پور جا، پھر دیکھ کہ پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟‘‘
>مجبورا وہ روغن گر منشی کے ساتھ چلا گیا مگر اسے اپنی بیوی کے ملنے کی امید نہیں تھی۔
>سپاہیوں نے منشی کو لے جاکر حوالات میں بند کردیا اور روغن گر شدید مایوسی کے عالم میں قید خانے کے باہر بیٹھ گیا۔
>دوسرے دن منشی کو حاکم دیپال پور کے سامنے پیش کیا گیا۔ لوگوں کا خیال تھا کہ اجودھن کا منشی حاکم کے قہروغضب سے محفوظ نہیں رہے گا اور اسے سخت ترین سزا دی جائے گی۔ خود حاکم دیپال پور کا یہ حال تھا کہ وہ منشی کے آنے سے پہلے سخت پیچ و تاب کھا رہا تھا پھر جیسے ہی منشی کو اس کے سامنے پیش کیا گیا، صورتحال یکسر بدل گئی، حاکم دیپال پور نے اپنے قیدی کی طرف دیکھا اور بے اختیار کہنے لگا۔
>’’تم سازشی نہیں ہوسکتے، یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں‘‘
>پھر حاکم نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ منشی کی زنجیریں کھول دی جائیں۔ وہاں موجود تمام لوگ حیرت زدہ تھے کہ ایک معتوب شخص چند لمحوں میں بے قصور کیسے ثابت ہوگیا؟ حاکم نے منشی کے لئے کرسی منگوائی اور اسے اپنے قریب بٹھایا۔ کچھ دیر تک معذرت کرتا رہا پھر اس نے منشی کو قیمتی خلعت سے نوازا اور ایک اعلیٰ نسل کا گھوڑا دیا۔ جب منشی انعام لے کر جانے لگا تو حاکم دیپال پور نے ایک برقع پوش خاتون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
>’’اور یہ کنیز تیری خدمت کے لئے ہے‘‘
>منشی پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے۔ وہ پتھر کے کسی ستون کے مانند ساکت کھڑا تھا۔ مگر اس کا ذہن ایک درویش کے کوچے میں بھٹک رہا تھا۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی زبان مبارک سے ادا ہونے والے الفاظ مجسم ہوگئے تھے۔
>’’کیا کچھ اور چاہتا ہے؟‘‘ منشی کو گم صم پاکر حاکم دیپال پور نے پوچھا۔
>منشی اپنے تصورات کے حصار سے باہر نکل آیا اور شکر گزاری کے لہجے میں کہنے لگا
>’’میرے لئے آپ کی یہی عنایت بہت ہے‘‘ اب وہ کسے بتاتا کہ حاکم دیپال پور کی نفرت محبت میں کیسے بدل گئی… اور یہ کس کی دعائوں کا صدقہ ہے۔
>منشی حاکم کے دربار سے باہر آیا۔ برقع پوش کنیز اس کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی۔ پھر جب منشی حوالات کے قریب پہنچا تو روغن گر سر جھکائے اداس بیٹھا تھا، یکایک کنیز دوڑی اور روغن گر سے جاکر لپٹ گئی۔
>روغن گر نے ایک نامحرم عورت کو اتنے قریب پایا تو گھبرا کر کھڑا ہوگیا ’’دور ہوجا مجھ سے، مجھے اپنی بیوی کے سوا کسی عورت کی طلب نہیں‘‘
>’’میں ہی تمہاری بیوی ہوں‘‘ یہ کہتے ہوئے کنیز نے اپنے چہرے سے نقاب الٹ دیا۔
>روغن گر کو سکتہ سا ہوگیا پھر کچھ دیر بعد وہ چیخیں مار کر رونے لگا ’’بابا! بابا!‘‘ روغن گر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو یاد کررہا تھا۔
>’’تم کسے پکار رہے ہو؟‘‘ بیوی نے حیرت زدہ ہوکر پوچھا
>’’اسے آوازیں دے رہا ہوں جس کی دعائوں کے طفیل مجھے تیرا دیدار نصیب ہوا ہے‘‘ روغن گر زاروقطار رو رہا تھا ’’اگر اس کی نگاہ کرم نہ ہوتی تو میں آتش فراق میں جل کر راکھ ہوچکا ہوتا‘‘
>منشی نے پورا واقعہ سنا تو اس کی آنکھیں بھیک گئی ’’خدا شیخ کو سلامت رکھے کہ انہیں دیکھ کر ہماری بے قرار دل سکون پاتے ہیں‘‘
>اجودھن پہنچ کر روغن گر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے قدموں سے لپٹ گیا۔
>’’اب کیا چاہتا ہے؟‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے پوچھا
>’’عشق کی وہ آگ چاہتا ہوں جو کبھی نہ بجھے‘‘ روغن گر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی ایک نظر خاص کی بھیک مانگ رہا تھا۔
>’’اﷲ تیرا شعلۂ عشق کو اور بھڑکادے‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے دعا دی۔
>پھر وہ روغن گر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے حلقہ ارادت میں شامل ہوکر عشق مجازی سے عشق حقیقی تک پہنچا۔
>حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کی مجلس وعظ آراستہ تھی، آپ الہام اور خبر کے موضوع پر تقریر فرما رہے تھے۔ پھرجب درس ختم ہوا تو ایک مرید نے اپنی نشست پر کھڑے ہوکر عرض کیا۔
>’’بہائو  الدین خالد کہا کرتا تھا کہ وہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اسے شیخ العالم کے دیدار کا بہت شوق تھا۔ اس وقت حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اﷲ علیہ اجودھن کی جامع مسجدمیں تشریف فرما تھے۔ بہائو الدین خالد نے آگے جانے کی بہت کوشش کی مگر لوگوں نے اسے راستہ نہیں دیا۔ مجبورا وہ محراب کے سامنے بیٹھ گیا۔ محراب میں ایک شگاف تھا، اچانک بہائو الدین خالد کی نظر کاغذ کے ایک ٹکڑے پر پڑی۔ اس نے وہ کاغذ اٹھالیا۔ کاغذ پر واضح حروف میں عبارت تحریر تھی۔
>’’خالد کو فرید کی طرف سے سلام پہنچے‘‘
>یہ واقعہ سن کر دوسرے مرید نے حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ سے عرض کیا ’’یہ کاغذ کوئی لکھتا ہے یا بارگاہ الٰہی سے آتا ہے؟‘‘

 

Murshid-e-Kamil

URS MUBARIK complete List