الصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہ
وہ جہنم میں گیا جو ان سے مستغنی ہوا
ہے خلیل اللہ کوحاجت رسول اللہ ﷺ کی
آج لے ان کی پناہ آج مدد مانگ ان سے
پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا

  Important Articles - Aqaid AhleSunnah Wa Jammatاہم مضا مین ۔ عقا ئد اہل سنت و جما عت

حضرت سلطان باہو رضی اللہ عنہ
Published Date: Tuesday, January 24, 2017 - 12:00 AM

ولادت

سلطان العارفین سخی سلطان باہو یکم جمادی الثانی 1039ھ (17جنوری1630ء) بروز جمعرات بوقت فجر شاہجہان کے عہدِ حکومت میں قصبہ شورکوٹ ضلع جھنگ ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔

شجرہ نسب

آپ اعوان قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں اور اعوانوں کا شجرہ نسب علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے جا ملتا ہے۔ اعوان علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی غیر فاطمی اولاد ہیں۔سخی سلطان باہو کے والد بازید محمد پیشہ ور سپاہی تھے اور شاہجہان کے لشکر میں  ممتاز عہدے پر فائز تھے۔ آپ ایک صالح، شریعت کے پابند، حافظِ قرآن فقیہ شخص تھے۔ سخی سلطان باہو کی والدہ بی بی راستی عارفہ کاملہ تھیں اور پاکیزگی اور پارسائی میں اپنے خاندان میں معروف تھیں۔ سخی سلطان باہو کی پیدائش سے قبل ہی بی بی راستی کو ان کے اعلیٰ مرتبہ کی اطلاع دے دی گئی تھی اور ان کے مرتبہ فنا فی ھُو کے مطابق ان کا اسمِ گرامی باھُو الہاماً بتا دیا گیاتھا جیسا کہسخی سلطان باہو فرماتے ہیں:
  • نام باہومادر باہو نہاد
  • زانکہ باہودائمی باہو نہاد
ترجمہ:باہوکی ماں نے نام باہورکھا کیونکہ باہوہمیشہ ہو کے ساتھ رہا۔

پیدائشی ولی

سخی سلطان باہو پیدائشی عارف باللہ تھے۔ اوائل عمری میں ہی آپ وارداتِ غیبی اور فتوحاتِ لاریبی میں مستغرق رہتے۔ آپ نے ابتدائی باطنی و روحانی تربیت اپنی والدہ ماجدہ سے حاصل کی۔ آپکی پیشانی نورِ حق سے اس قدر منور تھی کی اگر کوئی کافر آپکے مبارک چہرے پر نظر ڈالتا تو فوراً کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جاتا۔

تلاش مرشد

آپ اپنی کتب میں بیان فرماتے ہیں کہ میں تیس سال تک مرشد کی تلاش میں رہا مگر مجھے اپنے پائے کا مرشد نہ مل سکا۔ یہ اس لیے کہ آپ فقر کے اس اعلیٰ ترین مقام پر فائز تھے جہاں دوسروں کی رسائی بہت مشکل تھی۔ چنانچہ آپ اپنا ایک کشف اپنی کتب میں بیان فرماتے ہیں کہ ایک دن آپ دیدارِ الٰہی میں مستغرق شورکوٹ کے نواح میں گھوم رہے تھے کہ اچانک ایک صاحبِ نور، صاحبِ حشمت سوار نمودار ہوئے جنہوں نے اپنائیت سے آپ کو اپنے قریب کیا اور آگاہ کیا کہ میں علیؓ ابنِ طالبؓ ہوں اور پھر فرمایا کہ آج تم رسول اللہﷺ کے دربار میں طلب کیے گئے ہو۔ پھر ایک لمحے میں آپ نے خود کو آقا پاک ﷺ کی بارگاہ میں پایا۔ اس وقت اس بارگاہ میں ابوبکر صدیق ،عمر، عثمان غنی اور تمام اہلِ بیت حاضر تھے۔ آپ کو دیکھتے ہی پہلے ابوبکر صدیق نے آپ پر توجہ فرمائی اور مجلس سے رخصت ہوئے، بعد ازاں عمر اور عثمان غنی بھی توجہ فرمانے کے بعد مجلس سے رخصت ہو گئے ۔ پھر آنحضرت ﷺ نے اپنے دونوں دستِ مبارک میری طرف بڑھا کر فرمایا میرے ہاتھ پکڑو اور مجھے دونوں ہاتھوں سے بیعت فرمایا۔ بعد ازاں آقائے دو جہاں ﷺ نے آپ کو غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی کے سپرد فرمایا۔ آپ فرماتے ہیں جب فقر کے شاہسوار نے مجھ پر کرم کی نگاہ ڈالی تو ازل سے ابد تک کا تمام راستہ میں نے طے کر لیا۔ پھر عبدالقادر جیلانی کے حکم پر سخی سلطان باہو نے دہلی میں عبدالرحمن جیلانی دہلوی کے ہاتھ پر ظاہری بیعت کی اور ایک ہی ملاقات میں فقر کی وراثت کی صورت میں اپنا ازلی نصیبا ان سے حاصل کر لیا۔

سلسلہ نسبت

سخی سلطان باہوکا تعلق سلسلہ سروری قادری سے ہے۔ سلسلہ قادری کا آغاز عبدالقادر جیلانی سے ہوا اور اس کی دو شاخیں سروری قادری اور زاہدی قادری ہیں۔ سخی سلطان باہو کا سلسلہ سروری قادری ہے اور آپ سروری قادری طریقہ کو ہی اصل قادری یا کامل قادری تسلیم کرتے ہیں۔ آپ  فرماتے ہیں: قادری طریقہ بھی دو قسم کا ہے، ایک سروری قادری اور دوسرا زاہدی قادری۔ سروری قادری مرشد صاحبِ اسم اللہ ذات ہوتا ہے اس لیے وہ جس طالبِ اللہ کو حاضراتِ اسمِ اللہ ذات کی تعلیم و تلقین سے نوازتا ہے تو اسے پہلے ہی روز اپنا ہم مرتبہ بنا دیتا ہے جس سے طالبِ اللہ اتنا لایحتاج و بے نیاز متوکل الی اللہ ہو جاتا ہے کہ اس کی نظر میں مٹی و سونا برابر ہو جاتا ہے۔ زاہدی قادری طریقے کا طالب بارہ سال تک ایسی ریاضت کرتا ہے کہ اس کے پیٹ میں طعام تک نہیں جاتا، بارہ سال کی ریاضت کے بعد شیخ عبدالقادر جیلانی اس کی دستگیری فرماتے ہیں اور اسے سالک مجذوب یا مجذوب سالک بنا دیتے ہیں اس کے مقابلے میں سروری قادری کا مرتبہ محبوبیت کا مرتبہ ہے۔ [1] آپ سروری قادری مرشد کا مرتبہ یوں بیان فرماتے ہیں: سروری قادری کی ابتداء کیا ہے؟ قادری کامل (سروری قادری) نظر سے یا تصورِ اسمِ اللہ ذات سے یا ضربِ کلمہ طیب سے یا باطنی توجہ سے طالبِ اللہ کو معرفتِ الٰہی کے نور میں غرق کر کے مجلسِ محمدیﷺ کی حضوری میں پہنچا دیتا ہے کہ طریقہ قادری میں یہ پہلے ہی روز کا سبق ہے۔ جو مرشد اس سبق کو نہیں جانتا اور طالبوں کو مجلسِ محمدی ﷺ کی حضوری میں نہیں پہنچاتا وہ قادری کامل ہرگز نہیں۔ [1] سلطان العارفین سخی سلطان باہو اسی اعلیٰ ترین پائے کے مرشد کامل اکمل ہیں۔ آپ فرماتے ہیں
  • ہر کہ طالب حق بود من حاضرم
  • زابتداء تا انتہاء یکدم برم
  • طالب بیا طالب بیا طالب بیا
  • تا رسانم روز اول باخدا
ترجمہ: ہر وہ شخص جو حق تعالیٰ کا طالب ہے میں اس کے لیے حاضر ہوں۔ میں اسے ابتدا سے انتہا تک فوراً پہنچا دیتا ہوں۔ اے طالب آ۔ اے طالب آ۔ اے طالب آ تاکہ میں تجھے پہلے ہی دن اللہ تعالیٰ تک پہنچا دوں۔

سلطان الفقر

فقر میں سخی سلطان باہو کا مقام و مرتبہ ہر کسی کے وہم و گمان سے بھی بالا تر ہے۔آپ سلطان الفقر پنجم کے مرتبہ پر فائز ہیں۔ آپ کو وہ خاص روحانی قوت حاصل ہے کہ آپ قبر میں بھی زندوں کی طرح تصرف فرماتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں جب سے لطفِ ازلی کے باعث حقیقتِ حق کی عین نوازش سے سربلندی حاصل ہوئی ہے اور حضور فائض النور نبی اکرم ﷺسے تمام خلقت، کیا مسلم، کیا کافر، کیا بانصیب کیا بے نصیب، کیا زندہ کیا مردہ سب کو ہدایت کا حکم ملا ہے، آپ ﷺنے اپنی زبانِ گوہر فشاں سے مجھے مصطفی ثانی اور مجتبیٰ آخرزمانی فرمایا ہے۔ [2] سخی سلطان باہو نے ہر لمحہ استغراقِ حق میں مستغرق رہنے کی وجہ سے ظاہری علم حاصل نہیں کیا لیکن پھر بھی آپ نے طالبانِ مولیٰ کی رہنمائی کے لیے ایک سو چالیس کتب تصنیف فرمائیں۔ آپ کی تمام کتب علمِ لدّنی کا شاہکار ہیں۔ ان کتب کا سب سے بڑا  معجزہ یہ ہے کہ انہیں ادب اور اعتقاد سے پڑھنے والے کی مرشدِ کامل اکمل تک راہنمائی ہو جاتی ہے۔ اپنی تمام کتب میں آپ نے معرفتِ الٰہی کی منازل طے کرنے کے لیے راہِ فقر اختیار کرنے اور مرشدِ کامل کی زیرِ نگرانی ذکر و تصور اسمِ ذات کی تلقین کی ہے۔ آپ ذکر و تصورِ اسمِ ذات کو قلب (باطن) کی کلید فرماتے ہیں جس کے ذریعے تزکیہ نفس اور تجلیۂ روح کے بعد طالبِ مولیٰ کو دیدارِ الٰہی اور مجلسِ محمدی ﷺ کی حضوری کے اعلیٰ ترین مقامات عطا ہوتے ہیں۔ سخی سلطان باہو فرماتے ہیں کہ میں تیس سال ایسے طالبِ حق کی تلاش میں رہا جسے میں وہاں تک پہنچا سکتا جہاں میں ہوں لیکن مجھے ایسا طالبِ حق نہ مل سکا۔ چنانچہ آپ امانتِ فقر کسی کے بھی حوالے کیے بغیر وصال فرما گئے۔

وصال

آپ کا وصال یکم جمادی الثانی 1102ھ (بمطابق یکم مارچ1691ء) بروز جمعرات بوقت عصر ہوا۔ سلطان العارفین سخی سلطان باہو کا مزار مبارک گڑھ مہاراجہ ضلع جھنگ پاکستان میں ہے۔ آپ کا عرس ہر سال جمادی الثانی کی پہلی جمعرات کو منایا جاتا ہے۔http://www.sultanulfaqr.com/urdu/sakhi-sultan-bahoo.php
پنجابی کے صوفی شاعر۔جس چیز نے ان کو شہرت دوام بخشی وہ (ابیات باہو) ہے۔ اس کے ہر مصرعے کے بعد (ہو) کے آتا ہے۔ جو ذات باری تعالٰی کے لیے مخصوص ہے۔ یہ خاص رنگ سخن باہو کے ساتھ ہی مخصوص ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ مادر زاد ولی تھے۔ آپ کی تمام شاعری تصوفسے مملو ہے۔ کرامات باہو جب آپ شور کوٹ میں کاشتکاری کرتے تھے تو افلاس اور ناداری سے تنگ ایک سفید پوش عیال دار سیّد صاحب بزرگوں اورفقیروں کی تلاش میں مارے مارے پھرا کرتے تھے کہ کہیں سے کوئی اللہ کا بندہ مل جائے او راس کی دعا سے میری غربت اورتنگدستی دور  ہوجائے ۔اسی طلب میں وہ ایک فقیر کی خدمت میں رہنے لگا او را س کی جان توڑ خدمت کی ایک دن فقیر کو اس کے حال پر رحم آیا اور پوچھا تیری مراد اور حاجت کیا ہے ؟ اس سیّد نے عرض کی کہ میرا بڑا بھاری کنبہ ہے اور قرض بہت ہوگیا ہے جوان لڑکیاں اور لڑکے ہیں افلاس اور تنگدستی کی وجہ سے ان کی شادی بھی نہیں کرسکتا ۔ ظاہری اسباب ختم ہوچکے ہیں اب تو غیبی مدد کے سوا میری تنگدستی کا علاج ناممکن ہے؟ تب اس فقیر نے کہا کہ میں تجھے ایک مردِ کامل کا پتہ بتا دیتا ہوں سوائے اس کے تیرا علاج کسی کے پاس نہیں ہے۔ توسخی سلطان باہوکے پاس شور کوٹ (جھنگ ) چلا جا اور ان کی بارگاہ میں عرض پیش کر ۔ وہ پریشان حال سیّد صاحب سلطان العارفین کے پاس پہنچ گئے لیکن ان کی مایوسی کی کوئی حد نہیں رہی جب دیکھا کہ آپ کھیتوں میں ہل چلا رہے ہیں اور پھر انہیں ارد گرد سے پتہ چل چکا تھا کہ لوگ آپ کو فقیر کی حیثیت سے نہیں یہاں تو کسان کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ یہ حالت دیکھ کر مایوس ہو کر واپس مڑنے ہی والے تھے کہ سلطان العارفین نے، جو ان کی قلبی کیفیت سے آگاہ ہوچکے تھے، ان کو آواز دی ۔ آپ کی آواز سن کر ان سیّد صاحب کی کچھ ڈھارس بندھی اور دل میں کہنے لگے کہ اب خود بلایا ہے تو عرض پیش کرنے میں کیا ہرج ہے ؟ سیّد صاحب نے قریب آکر سلام کیا آپنے سلام کا جواب دے کر پوچھا کہ کس ارادے سے یہاں آئے ہو ۔ سیّد صاحب نے اپنی ساری سرگذشت سنا دی۔ آپ نے فرمایا شاہ صاحب مجھے پیشاب کی حاجت ہے آپ میرا ہل پکڑ کر رکھیں میں پیشاب سے فارغ ہولوں ۔ غرض آپ نے پیشاب کیا اور مٹی کے ڈھیلے سے استنجا کرنے کے بعد وہ ڈھیلا ہاتھ میں لیے سیّد صاحب سے مخاطب ہوئے ۔ ” شاہ صاحب آپ نے مفت تکلیف اٹھائی میں تو ایک جٹ آدمی ہوں” ۔ سیّد صاحب کا دل پہلے ہی سفر کی محنت اور مایوسی سے جلا ہوا تھا طیش میں آکر بولے کہ ہاں یہ میری سزا ہے کہ سیّدہو کر آج ایک جٹ کے سامنے سائل کی حیثیت سے کھڑا ہوں ۔سلطان العارفین کو جلال آیا اور اپنی زبان مبارک سے یہ شعر پڑھتے ہوئے وہ پیشاب والا ڈھیلا زمین پر دے مارا ۔ نظر جنہاں دی کیمیا سونا کردے وٹ قوم اتے موقوف نہیں کیا سید کیا جٹ آپ کے پیشاب والا ڈھیلا اسی جُتی ہوئی زمین پر دور تک لڑھکتا چلا گیا اور زمین کے جن جن مٹی کے ڈھیلوں سے لگتا گیا وہ سونے کے بنتے چلے گئے۔ سیّد صاحب یہ حالت دیکھ کر دم بخود رہ گئے اور آپ کے قدموں پر گر کر رونے لگے اور معافیاں مانگنے لگے ۔ آپ نے فرمایا شاہ صاحب یہ وقت رونے کا نہیں یہ ڈھیلے چپکے سے اُٹھا لو اور چلتے بنو ورنہ لوگوں کو پتہ لگ گیا تو نہ تیری خیر ہے اور نہ میری ۔ چنانچہ اس سیّد صاحب نے ان سونے کے ڈھیلوں کو جلدی سے اپنی چادر میں لپیٹ لیا اور آپ کے پاؤں چومتے ہوئے وہاں سے چل دئیے۔[3]
بچپن ہی میں آپ کے روحانی کمالات کے ظہور سے آئندہ زندگی کی تصویر نمایاں تھی آپ اپنی والدہ ماجدہ قدس سرہا کا دودھ رمضان المبارک میں سحری سے لے کر شام تک نہیں پیتے تھے۔ یعنی اپنے والدین کی طرح صائم رہتے تھے جب دایہ آپ کو سیر و تفریح کے لئے گھر سے باہر لے جاتی تو آپ کے نورانی چہرہ کو دیکھ کر اکثر ہندو لوگ کلمہ طیب پڑھ لیتے تھے۔ چنانچہ منقول ہے کہ ایک روز شہر کے تمام ہندو اکٹھے ہو کر آپ کے والد ماجد بازید محمد قدس سرہ کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ دایہ آپ کے فرزند ارجمند کو وقت بے وقت باہر لانے سے ہمارے دین کا سخت نقصان کرتی ہے آپ مہربانی فرما کر اپنے برخوردار کے لئے سیر و تفریح کا وقت مقرر کر دیں ہم اپنے دین کی حفاظت کے لئے منادی کرنے والے ملازم رکھ لیں گے آپ نے ان کی درخواست منظور فرما لی چنانچہ ہندوؤں نے اس کام کے لئے نوکر مقرر کر لئے اور انہیں تاکید کر دی کہ جس وقت بازید محمد قدس سرہ کا صاحبزادہ محمد باہو قدس رہ گھر سے باہر تشریف لائے فورا با آواز بلند منادی کر دیں ہ جب نوکر منادی کرتے تو ہندو لوگ فورا اپنے دکانوں یا مکانوں کے اندر گھس جاتے۔ سلطان الاولیاء امام الاتقیا شیخ سلطان حامد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد ماجد سلطان شیخ غلام باہو قدس سرہ کی زبان درفشاں سے خاص وقتوں میں جب کہ آپ اسرار بیان فرمایا کرتے تھے۔ یہ سنا کہ شروع سے لر کر آخر تک سلطان العارفین سلطان باہو کی نگاہ مبارک جس غیر مسلم پر پڑی وہ فورا کلمہ طیب پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔ سبحان اللہ یہ کتنا بڑا فضل خداوندی ہے کہ اس نے اپنے حبیب علیہ الصلوٰۃ والسلیمات کی امت کے اولیاء کی نظر میں اتنی تاثیر کر دی۔ نظر جناندی کیمیا سونا کر دے وٹ رب دیاں دتیاں ذاتاں کیا سید کیا جٹ بچپن میں ایک دفعہ جب آپ بیمار ہوئے تو آپ کی اجازت سے لوگ ایک برہمن طبیب کوبلانے کے لئے اس کے گھر گئے۔ برہمن نے کہا میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں وہاں گیا تو مسلمان ہو جاؤں گا بہتر یہی ہے کہ آپ کا کرتا یہاں لے آئیں۔ مریدوں نے ایسا ہی کیا جب اس برہمن طبیب نے کرتا کو دیکھا تو بے ساختہ اس کی زبان سے کلمہ طیبہ جاری ہو گیا۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ آپ کی یہ کرامات گرو و نواح میں ابھی تک مشہور ہے اور یہ تو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور ہزاروں خاص و عام دیکھتے ہیں اور انشاء اللہ العزیز قیامت تک دیکھتے رہیں گے کہ جس وقت لوگ آپ کے مزار مقدس کی زیارت کے لئے خانقاہ شریف کے اندرداخل ہوتے ہیں اور مزار شریف کو دیکھتے ہی بے اختیار ذات الٰہی کے شوق سے رونے لگ جاتے ہیں اور ذکر بہران کی زبان پر جاری ہو جاتا ہے سینکڑوں بانصیب آدمی صاحب حال زندہ دل صاحب تاثیر ذاکر روحی ہو جاتے ہیں۔ یہ محض کمال اطاعت محمد رسول اللہ ﷺ و سلم کا نتیجہ ہے۔

 

 

Murshid-e-Kamil

URS MUBARIK complete List