الصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہ
وہ جہنم میں گیا جو ان سے مستغنی ہوا
ہے خلیل اللہ کوحاجت رسول اللہ ﷺ کی
آج لے ان کی پناہ آج مدد مانگ ان سے
پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا

  Important Articles - Aqaid AhleSunnah Wa Jammatاہم مضا مین ۔ عقا ئد اہل سنت و جما عت

حضرت خواجہ قطب الدین بختیارکاکی رضی اللہ عنہ
Published Date: Tuesday, January 24, 2017 - 12:00 AM
آپ حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے جلیل القدر خلفاء، اکابر اولیاء اور عظیم القدر صوفیا میں سے تھے اور بڑے مقبول بزرگ تھے، ترکِ دُنیا اور فقر و فاقہ میں ممتاز تھے اور یاد الٰہی میں بڑے مستغفرق اور محو تھے، اگر کوئی آپ سے ملنے کے لیے آتا تو تھوڑی دیر کے بعد افاقہ ہوتا اور آپ اپنے آپے میں آتے، اس کے بعد آنے والے کی طرف متوجہ ہوتے، اپنی یا آنے والے کی بات کہہ سن کر فرماتے کہ اب مجھے معذور رکھو، اور پھر یاد الٰہی میں مشغول ہوجاتے اگر آپ کی کوئی اولاد فوت ہوجاتی تو اس وقت خبر نہ ہوتی تھوڑی دیر کے بعد آپ کو خبر ہوتی۔آپ کے پڑوس میں ایک غلہ بیچنے والا رہتا تھا، شروع شروع میں آپ اس سے قرض لیتے تھے اور اس سے فرما دیتے کہ جب تمہارا قرض تیس درہم تک ہوجائے تو اس سے زیادہ نہ دینا، جب آپ کو فتوحات حاصل ہوتیں تو آپ قرض ادا فرمادیتے، اس کے بعد آپ نے پختہ ارادہ فرمالیا کہ کبھی قرض نہ لوں گا، اس کے بعد اللہ کے فضل و کرم سے ایک روٹی مصلے کے نیچے سے نکل آتی اسی پر تمام گھر والے گزارا کرلیتے، اس بنیے نے خیال کیا کہ شاید حضرت شیخ مجھ سے ناراض ہوگئے جو قرض نہیں لیتے، اس نے اپنی بیوی کو حالات معلوم کرنے کے لیے حضرت خواجہ کے گھر بھیجا، حضرت شیخ کی اہلیہ محترمہ نے صحیح صحیح حالت اس کی بیوی کو بتادی، اس کے بعد سے وہ روٹی ملنا بند ہوگئی (چونکہ آپ کو منجانب اللہ مصلے کے نیچے سے روٹیاں ملا کرتی تھیں جس پر آپ کے گھرانے کی گزر اوقات تھی اس لیے آپ کو کاکی کہتے ہیں کہ کاک افغانی زبان میں روٹی کو کہا جاتا ہے، اور چونکہ آپ بلا دیارا الہند کے قصبہ ازش کے رہنے والے تھے اس لیے آپ کو اوشی کہا جاتا ہے)۔

شیخ نظام الدین اولیاء سے منقول ہے، فرماتے ہیں کہ شیخ معین الدین اجمیری نے شیخ قطب الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو پانچ سو درہم تک قرض لینے کی اجازت دیدی تھی، لیکن جب آپ درجہ کمال پر پہنچے تو اس سے بھی ہاتھ اٹھالیا۔


خواجہ قطب الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے ابتدائی دور میں نیند کے غلبہ کے بعد تھوڑا سولیتے تھے لیکن آخری زمانہ میں یہ بھی بیداری سے تبدیل ہوگیا۔


شیخ محمد نور بخش نے اپنی کتاب سلسلہ الذھب
میں آپ کا ذکر اس طرح کیا ہے کہ بختیار اوشی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بڑے ولی، سالک، مجاہد و ریاضت میں ممتاز اور خلوت و عزلت کو پسند کرنے والے، اپنے چلوں میں کم سونے والے، کم کھانے والے، کم بولنے والے اور ہمیشہ یاد الٰہی میں رہنے والے اور باطنی حالات و مکاشفات میں بڑے بلند پایہ تھے۔

سرکارﷺ کی بارگاہ میں مقبول

آپ ہر رات تین ہزار مرتبہ درود شریف پڑھنے کے بعد سویا کرتے تھے، انہیں ایام میں آپ کا نکاح ہوا، اور تین روز تک درود شریف نہ پڑھ سکے، ایک شخص نے جس کا نام رئیس تھا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا، آپ فرما رہے تھے کہ بختیار کاکی کو ہمارا سلام کہنا اور کہنا کہ ہر رات جو دُرُود و سلام کا تحفہ بھیجا کرتے تھے تین راتوں سے ہمیں وہ تحفہ نہیں پہنچ رہا۔

شیخ علی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مکان پر صحبت احباب گرم تھی، خواجہ بختیار بھی وہاں موجود تھے، اور شیخ علی ایک بزرگ حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے رشتہ دار اور خواجہ قطب الدین کے ہمسایہ تھے ان کا مزار بھی خواجہ صاحب کے مزار کے قریب ہے، اس محفل سماع میں قوال نے شیخ احمد جام کا یہ شعر پڑھا


کشتگان خنجر تسلیم را
ہر زماں از غیب جان دیگر است


خنجر تسلیم و رضا کے شہیدوں کو ہر گھڑی غیب سے ایک نئی زندگی عطا ہوتی ہے



یہ واقعہ ربیع الاول کی چودھویں رات 633ہجری کا ہے اور اسی سال 14 شعبان کو سلطان شمس الدین التمش کی وفات ہوئی۔


خواجہ قطب الدین نے اپنی کتاب دلیل العارفین
میں لکھا ہے کہ جمعرات کے دن اجمیر کی جامع مسجد میں مجھے اپنے پیر صاحب کی قدم بوسی کا شرف حاصل ہوا، مجلس میں درویش، مرید اور عزیزان اہل صفہ حاضر تھے، ملک الموت کے بارے میں بات چیت ہو رہی تھی تو آپ نے فرمایا: موت کے بغیر دنیا کی ذرہ برابر قیمت نہیں
دریافت کیا یہ کیسے؟ فرمایا اس لیے کہ موت ایک پل ہے جیسے عبور کرکے حبیب حبیب سے ملتا ہے
پھر فرمایا کہ دوستی دل سے ہوا کرتی ہے نہ کہ زبان سے، اور جو چیزیں تمہیں معلوم ہیں ان سے خاموشی اختیار کرو تو عرش کے گرد طواف کرنے لگو، فرمایا، کہ عارف کی مثال چمکنے والے آفتاب کی طرح ہے جس کے نور سے پوری دنیا روشن ہے، پھر فرمایا، کہ اے درویش! ہمیں یہاں لایا گیا ہے، ہماری قبر بھی یہیں ہوگی اور چند روز کے اندر ہم سفر آخرت کریں گے، اس کے بعد شیخ علی سنجری سے فرمایا کہ ایک تحریر لکھو کہ قطب الدین دہلی روانہ ہوجائے، ہم نے خلافت سجادہ قطب الدین کو دیدی اور ان کا مقام دہلی ہوگا، جب حکم نامہ مکمل ہوگیا تو اس فقیر (خواجہ بختیار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کو عنایت فرمایا، اس فقیر نے سر تسلیم جھکا دیا، پھر فرمایا، ذرا قریب آجاؤ، میں قریب ہوا تو دستار وکلاہ میرے سر پر رکھ کر خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا عصا عطا فرمایا، اور خرقہ پہنا کر قرآن کریم، جانماز اور نعلین عطا فرمائے اور فرمایا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ امانت مشائخ چشت کے ذریعہ ہم تک پہنچی ہے تم بھی اسے جاری رکھنا تاکہ قیامت کے دن مشائخ کے سامنے شرمندگی اٹھانا نہ پڑے، اس فقیر نے سر جھکادیا، پھر دو رکعت نماز ادا کی، اس کے بعد حضرت مرشد نے میرا ہاتھ پکڑا اور آسمان کی طرف منہ کرکے فرمایا، اب جاؤ اللہ کے سپرد، اللہ تعالیٰ تمہیں منزل پر پہنچائے۔


پھر فرمایا کہ چار چیزیں نفس کا جوہر ہیں، اول درویشی میں تونگری کرنا، دُوم بھوک میں سیر نظر آنا، سوم غم میں مسرور معلوم ہونا، چہارُم دشمن سے بھی درستی کا معاملہ کرنا، پھر فرمایا جہاں بھی جاؤ کسی کا دل نہ دُکھانا، اور جہاں بھی جاؤ مردوں کی طرح رہنا۔


میں دہلی میں آکر قیام پذیر ہوگیا اور تمام حکام و عوام مجھ فقیر کی جانب رجوع ہونے لگے، چالیس روز نہیں گزرے تھے کہ ایک قاصد یہ پیغام لایا کہ حضرت خواجہ معین الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ کے روانہ ہونے کے بیس روز کے بعد وصال فرماگئے ہیں۔ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ


(اخبار الاخیار)
حضرت سلطان المشائخ فرماتے ہیں کہ شیخ قطب الدین رحمۃ اللہ علیہ نے انتہا درجہ کی مشغولی کی وجہ سے سونا بالکل ترک کر دیا تھا یہاں تک کہ بستر راحت پر کبھی کسی نے آپ کو آرام کرتے نہ دیکھا البتہ اول زمانہ میں نیند کے غلبہ کے بعد تھوڑی دیر سو رہتے تھے لیکن آخر عمر میں وہ بھی بیداری سے بدل گیا تھا اور اکثر زبان مبارک پر جاری ہوتا تھا کہ اگر کبھی میں سو جاتا ہوں تو سخت زحمت و تکلیف اٹھاتا ہوں۔ آپ کے شغل حق کی یہاں تک نوبت پہنچ گئی تھی کہ جب کوئی آپ کی زیارت کے لیے آتا تو تھوڑی دیر ٹھہر کر ہوش میں آتے اور پھر مشغول بحق ہوجاتے کبھی اپنے یا آئندہ کے حال میں کچھ فرما دیتے پھر زائرین سے فرماتے مجھے معاف کرو کہ میں ملاقات کی فرصت نہیں رکھتا۔ یہ کہہ کر پھر مشغول ہوجاتے۔ سلطان المشائخ فرماتے ہیں کہ شیخ الاسلام قطب الدین کا چھوٹا صاحبزادہ انتقال کر گیا جب شیخ اسے دفن کر کے واپس آئے تو لڑکے کی ماں کی رونے کی آواز آپ کے کان مبارک میں پہنچی شیخ نے بہت افسوس کیا شیخ بدر الدین غزنوی نے جو اس وقت آپ کی مجلس میں حاضر تھے پوچھا کہ حضرت یہ افسوس کیسا ہے فرمایا مجھے اس وقت یاد آیا کہ میں نے پیشتر فرزند کے بقا کی خدا سے کیوں درخواست نہ کی۔ اگر میں اس وقت اس کی بابت خدا سے درخواست کرتا تو ضرور پاتا یہاں تک پہنچ کر سلطان المشائخ نے فرمایا دیکھو شیخ کا استغراق دوست کی یاد میں اس درجہ پہنچ گیا تھا کہ فرزند کی زندگی و موت کی خبر تک نہ تھی۔

شیخ الاسلام قطب الدین بختیار کا کی قدس اللہ سرہ العزیز کی عظمت و کرامات کا بیان

حضرت سلطان المشائخ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رئیس نامی نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ ایک عظیم الشان قبہ موجود ہے جس کے ارد گر مخلوق کا ایک جمگھٹا لگا ہوا ہے اور ایک ٹھگنا آدمی بار بار قبہ میں آمد و رفت کر رہا ہے اور خلق جو اپنے پیغام دیتی ہے ان کا جواب سناتا ہے رئیس نے کسی سے دریافت کیا کے کہ اس قبہ میں کون ہے اور یہ ٹھگنا آدمی جو بار بار اندر جاتا اور باہر آتا ہے کون ہے۔ جواب دیا کہ اس عالیشان قبہ میں جناب نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے ہیں اور وہ شخص عبد اللہ بن مسعود ہیں۔ رئیس کا بیان ہے کہ میں حضرت عبد اللہ کے پاس گیا اور عرض کیا کہ آپ جناب نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیجیے کہ میں حضور کے دیدار سے مشرف ہونا چاہتا ہوں حضرت عبد اللہ قبہ کے اندر تشریف لے گئے اور باہر آکر فرمایا جناب رسولِ خدا ارشاد فرماتے ہیں کہ ابھی تک تجھ میں میرے دیکھنے کی قابلیت پیدا نہیں ہوئی ہے، لیکن تو بختیار کاکی کے پاس جا کر میرا سلام پہنچا اور کہہ کہ ہر شب کو تیرا بھیجا ہوا تحفہ میرے پاس پہنچتا تھا مگر اب تین روز ہوئے جو تیرا تحفہ میرے پاس نہیں پہنچا اس کی وجہ بجز خیریت کے اور کچھ نہ ہو۔ رئیس کہتا ہے میں بیدار ہوا اور شیخ قطب الدین بختیار کا کی خدمت میں آکر کہا کہ جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو سلام پہنچاتے ہیں شیخ یہ سنتے ہی فوراً کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے جناب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے۔ میں نے عرض کیا آپ فرماتے ہیں کہ جو تحفہ تم ہر شب بھیجا کرتے تھے مجھے برابر پہنچتا تھا لیکن تین راتوں سے نہیں پہنچتا۔ شیخ قطب الدین نے اس وقت اس عورت کو طلب فرمایا جس سے اسی زمانہ میں نکاح کیا تھا اس کا مقررہ مہر حوالہ کیا اور طلاق دے کر رخصت کردیا۔ بعد ازاں فرمایا بے شک تین راتوں سے میں تزویج میں تھا اور جناب رسول خدا کی خدمت میں تحفہ پیش کرنے سے یہ ہی تزویج کا شغل مانع تھا۔ سلطان المشائخ اس واقعہ کی نقل کر کے فرماتے ہیں کہ وہ تحفہ یہ تھا کہ شیخ تین ہزار دفعہ درود پڑھ کر سویا کرتے تھے۔ سلطان المشائخ بھی یہ فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ شیخ قطب الدین بختیار اور شیخ بہاؤ الدین زکریا اور شیخ جلال الدین تبریزی قدس اللہ سرہم العزیز ملتان میں تشریف رکھتے تھے اسی زمانہ میں کفار کا بڑا برار و خوانخوار لشکر قلعہ ملتان کی دیوار کے نیچے آپڑا اور ملتان کی تسخیر کا ارادہ کیا۔ ملتان کا حاکم جو قبائچہ کے نام سے شہرت رکھتا تھا لشکر کفار کے دفاع کے لیے ان بزرگانِ دین کی خدمت میں آیا اور صورت واقعہ عرض کی۔ شیخ قطب الدین قدس سرہ نے ایک تیر قبائچہ کے ہاتھ میں دے کر فرمایا اس تیر کو لشکر کفار کی جانب پھینک دے قبائچہ نے ایسا ہی کیا صبح ہوتے جب لوگوں نے دیکھا کہ وہاں ایک کافر کا بھی پتہ و نشان نہیں تھا۔ حضرت سلطان المشائخ یہ بھی فرماتے ہیں کہ میں شیخ الاسلام قطب الدین بختیار کا کی کی زیارت کے لیے جاتا تھا اثنائے راہ میں میرے دل میں گذرا کہ جو شخص ان بزرگوں کے مرقد کی زیارت کے لیے جاتا ہے انہیں اس شخص کی کچھ خبر بھی ہوتی ہے کہ نہیں؟ یہ بات میرے دل میں کھٹک رہی تھی اور میں شیخ کے مرقد کی طرف چلا جا رہا تھا جب میں روضۂ مقدسہ کے قریب پہنچ کر مشغول ہوا تو اس مشغولی کی اثنا میں روضۂ متبرکہ سے یہ بیت میں نے سنی۔


مراز ندہ پندار چون خویشتن
من آیم بجان گرتو آئی بہ تن

(تو مجھے اپنی طرح زندہ جان اگر تو میری قبر پر جسم کے ساتھ آتا ہے تو میں روح کے ساتھ آتا ہوں)

حضرت سلطان المشائخ یہ بھی فرماتے ہیں کہ شیخ قطب الدین بختیار کاکی ابتداء حال میں اوش میں سکونت رکھتے تھے اس شہر میں ایک ویران و غیر آباد مسجد تھی جس میں ایک بلند مینارہ تھا اور اسے ہفت مینارہ کہا کرتے تھے۔ شیخ کو ایک دعا پہنچی تھی جو حقیقت میں تو ایک دعا تھی مگر ہفت دعا کے ساتھ شہرت رکھتی تھی اور جس کی نسبت مشہور تھا کہ جو شخص اسے ہفت منارہ پر جا کر پڑہتا ہے اسے مہتر خضر کی ملاقات میسر ہوجاتی ہے۔ غرض جناب شیخ قطب الدین کو اس بات کا اشتیاق غالب ہوا کہ مہتر خضر سے ملاقات کریں اور اس دُھن میں آپ رمضان المبارک کی رات اس مسجد میں تشریف لے گئے۔ دوگانہ ادا کر کے اس منارہ پر تشریف لے گئے اور ہفت دعا پڑھ کر نیچے تشریف لے آئے جب مسجد سے باہر قدم رکھا تو ایک شخص کو دروازے پر کھڑا دیکھا جس نے شیخ قطب الدین پر ایک چیخ مار کر کہا کہ ایسے بے وقت تو یہاں کیا کر رہا تھا شیخ نے جواب دیا کہ میں یہاں مہتر خضر کی ملاقات کے اشتیاق میں آیا تھا لیکن افسوس کہ دولتِ ملاقات میسر نہیں ہوئی اب میں اپنے گھر جاتا ہوں۔ اس شخص نے کہا تم خضر سے مل کر کیا کرو گے وہ ایک سر گرداں اور سیاح شخص ہے تمہیں اس کے دیکھنے اور ملاقات کرنے سے کیا فائدہ ہوگا۔ اسی اثنا میں اس نے شیخ سے یہ بھی پوچھا کہ کیا تمہیں دنیا کی خواہش ہے اور اس کے تجملات کو اپنا مطیع بنانا چاہتے ہو شیخ نے جواب دیا کہ نہیں۔ کہا کیا تم نے کسی کا کچھ قرض دینا ہے شیخ نے فرمایا نہیں۔ اس شخص نے کہا پھر خضر کی ملاقات کا کیوں مشتاق ہے۔ ان تمام باتوں کے بعد اس نے یہ بھی کہا اسی شہر میں ایک شخص ہے کہ خضر بارہ دفعہ اس کے درِ دولت پر حاضر ہوا ہے اور اندر جانے کی اجازت نہیں پائی ہے۔ ان دونوں حضرات میں یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ ایک مرد نورانی لباس میں سر سے پاؤں تک غرق تھا نمودار ہوا۔ یہ شخص جو ابھی شیخ سے کھڑا باتیں کر رہا تھا بڑی تعظیم و اعزاز کے ساتھ اس کے قریب گیا اور پاؤں میں گرپڑا۔ شیخ قطب الدین قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں کہ جب وہ نورانی لباس سے آراستہ شخص میرے قریب پہنچا تو اس شخص کی طرف متوجہ ہوکر کہا جو ابھی مجھ سے باتیں کر رہا تھا کہ اس درویش کو نہ تو کسی کا قرضہ ہی دینا ہے اور نہ دنیا طلبی کی خواہش ہے بلکہ صرف تیری ملاقات کی آرزو رکھتا ہے۔ شیخ فرماتے ہیں اسی اثناء میں اذان ہوگئی اور ہر طرف سے درویش و صوفی جوق در جوق پیدا ہوگئے جماعت کے لیے صف آرا ہوئے اور تکبیر کہی گئی ایک شخص آگے بڑھا اور نماز پڑھائی۔ ازاں بعد تراویح شروع ہوئی اور قاری نے نہایت خوش الحانی اورقاعدہ کے ساتھ بارہ سیپارے پڑھے اسی اثناء میں میرے دل میں گذرا کہ اگر قاری کچھ اور زیادہ پڑھتا تو بہت بہتر ہوتا۔ جب نماز ہوچکی تو ہر شخص ایک طرف چلا گیا اور میں بھی اپنی جگہ چلا آیا۔ سلطان المشائخ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ جلال الدین رحمۃ اللہ علیہ تبریزی شیخ قطب الدین قدس اللہ سرہ العزیز کے مکان پر آپ کی ملاقات کے لیے آئے شیخ قطب الدین (خدا ان کے مرقد کو منور کرے) شیخ جلال الدین کے استقبال کے لیے گھر سے باہر نکلے۔ شیخ کا مکان گلی کے انتہائی درجہ پر واقع ہوا تھا اور اس سے درے درے بہت سی گلیاں اور مکانات تھے شیخ قطب الدین قدس اللہ جب گھر سے نکلے تو شارع عام کو چھوڑ کر تنگ اور سکڑی گلی میں سے ہو کر باہر آنے لگے ادھر سے شیخ جلال الدین نے بھی شارع عام کو نظر انداز کردیا اور تنگ گلی میں ہوکر شیخ کے مکان کی طرف رخ کیا اور دونوں حضرات باہم ملاقی ہوگئے قدس اللہ سرہما۔ اس کے علاوہ ایک اور دفعہ بھی بادشاہ اعزالدین کی مسجد میں جو حمام کے متصل واقع ہے یہ دونوں حضرات ایک جگہ جمع ہوگئے تھے۔ سلطان المشائخ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت شیخ قطب الدین سرہ العزیز کی خدمت میں گردش فلکی اور افلاس و محتاجی کی شکایت پیش کی آپ نے اس کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا۔ اگر میں تجھ سے یہ کہوں کہ میری نظر خدا کے عرش مجید پر پڑتی ہے تو کیا توا س کو باور کرے گا اس نے کہا کیوں نہیں میں ضرور یقین کے ساتھ کہوں گا کہ آپ اس میں بالکل صادق القول ہیں اس وقت شیخ نے فرمایا کہ جب تو اس قدر جانتا ہے تو پہلے ان چاندی کی اَسّی تھیلیوں کو جو گھر میں مخفی کر رکھی ہیں کھا لے پھر افلاس کی شکایت کی جیو وہ شخص شیخ کی یہ بات سن کر سخت شرمندہ ہوا۔ آپ کے قدموں کی زمین کو بوسہ دیا اور لوٹ گیا۔ منقول ہے کہ شیخ قطب الاسلام حضرت قطب الدین بختیار کاکی قدس اللہ سرہ العزیز فرماتے تھے کہ ایک دفعہ میں اور قاضی حمید الدین ناگوری باہم سفر کر رہے تھے جب ہم دونوں دریا کے کنارے پہ پہنچے تو مجھے بھوک معلوم ہوئی ابھی بہت تھوڑا انتظار کرنا پڑا تھا کہ ایک بکری جَو کی دو روٹیاں منہ میں لیے ہوئے ظاہر ہوئی اور آگے آکر سامنے رکھ دیں اور فوراً چلی گئی ہم نے انہیں سیر ہوکر کھایا اور باہم کہا کہ یہ غیبی بکری تھی اور اس وقت ہمارے کھانے کا سامان غیب سے کیا گیا اسی اثناء میں دیکھتے کیا ہیں کہ ایک بچھو پانی کے قریب بڑی تیزی اور عا جلانہ حرکت کے ساتھ جا رہا ہے لیکن تھوڑی دور پہنچ کر اس نے اپنے تئیں پانی میں ڈال دیا ہم نے سوچ کر کہا کہ اس میں کوئی حکمت ضرور مخفی ہے اس کے پیچھے پیچھے چلیں اور حکمتِ خدا وندی کا تماشا کریں بچھو پانی میں گر کر دریا کے پاٹ کو عبور کر گیا تھا اور اس پار کبھی کا پہنچ چکا تھا ہم دست بدعا ہوئے دریا خدا وندی حکم سے پھٹ گیا بیچ میں خشک اور نہایت صاف و ہموار رستہ ظاہر ہوگیا۔ ہم بہت جلد دریا کو عبور کر کے پار جا پہنچے۔ دیکھتے ہیں کہ ایک درخت کے نیچے کوئی پڑا سوتا ہے اور ایک نہایت زہریلا اور خونخوار سانپ اسے ہلاک کرنے کے لیے آگے بڑھا چلا آ رہا ہے۔ یہ بچھو جس کے پیچھے پیچھے ہم دونوں چلے جا رہے تھے دفعۃً جست کر کے سانپ پر پہنچا اور اسے فنا کر دیا۔ ازاں بعد ہماری نظروں سے غائب ہوگیا۔ ہم باین خیال اس شخص کے پاس گئے کہ اس سے ملاقات کریں۔ کیونکہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بڑا ذی وجاہت اور مقتدر بزرگ ہے۔ پاس جا کر دیکھتے ہیں تو وہ ایک مخمور مست شرابی ہے جو قے کیے ہوئے پڑا ہے۔ ہم یہ صورت دیکھ کر نہایت شرمندہ ہوئے اور باہم کہنے لگے کہ یہ شخص ایسا نا فرمان اور خدا کی اس کے بارہ میں یہ نگاہ داشت۔ بہت ہی تعجب کی بات ہے ہم دونوں آپس میں یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ ہاتفِ غیب نے آواز دی کہ اے عزیزو! اگر ہم صرف پارسا اور نیک کاروں کی ہی حفاظت کریں تو بتاؤ مفسدین اور تباہ کاروں کی کون نگاہ داشت کرے گا۔ اسی اثناء میں وہ شخص بھی نیند سے چونک پڑا ہم تمام کیفیت اس پر دہرائی۔ وہ شرمندہ ہوا اور اس فعل سے توبہ کی اور واصلوں میں سے ایک واصل ہوگیا۔ شیخ الاسلام قطب الدین جب اس واقعہ کو بیان کر کے فارغ ہوئے تو فرمایا اے درویش جب وقت آجاتا ہے اور نسیمِ لطف چلنے لگتی ہے تو گو کوئی لاکھ خراباتی کیوں نہ ہو لیکن وہ سجادہ نشین بن جاتا ہے اور اگر خدا نخواستہ قہری نسیم چلنے لگتی ہے تو اگرچہ کوئی لاکھ سجادہ نشین کیوں نہ ہو مگر اسے رحمت سے دور کر کے خرابات میں ڈال دیتی ہے۔ منقول ہے کہ ملک اختیار الدین ایبک حا جب کچھ نقدی ہدیۃً شیخ الاسلام قطب الدین قدس سرہ کی خدمت میں لایا اور نہایت عاجزی سے پیش کی شیخ الاسلام نے اسے نگاہِ قبول سے نہ دیکھا اور جس بورئیے پر تشریف رکھتے تھے اس کا ایک کونا اٹھا کر ملک اختیار الدین کو دکھایا۔ دیکھتا ہے کہ سونے کے ڈہیروں کا دریا پڑا بہہ رہا ہے ازاں بعد آپ نے فرمایا کہ اسے لے جاؤ کیونکہ میں تمہارے لائے ہوئے ہدیہ کی حاجت نہیں رکھتا۔ منقول ہے کی شیخ الاسلام شیخ معین الدین حسن سنجری رحمۃ اللہ علیہ کے فرزندوں کا اجمیر کا حدود میں ایک گاؤں تھا جو ہمیشہ آباد ہونے کی وجہ سے معقول آمدنی دیتا تھا لیکن وہاں تحصیل دار اور مقطعان مقرر داشت میں مزاحمت کرتے تھے آخر کار شیخ کے فرزندوں نے آپ کو اس بات پر آمادہ کیا کہ دہلی جا کر بادشاہ سے مقرر داشت لے آئیں۔ خواجہ کو مجبوراً اجمیر سے دہلی آنا پڑا جب آپ دہلی میں آئے تو شیخ قطب الدین قدس اللہ سرہ العزیز کے پاس ٹھرے شیخ قطب الدین قدس سرہ نے یہ حال معلوم کر کے خواجہ سے عرض کیا کہ بادشہ کے پاس آپ کے تشریف لے جانے کی ضرورت نہیں ہے آپ مکان پر ہی تشریف رکھیں میں جا کر مقرر داشت لے آتا ہوں چنانچہ جناب شیخ الاسلام حضرت شیخ قطب الدین قدس اللہ سرہ سلطان شمس الدین التمش کے پاس تشریف لے گئے۔ آپ کے اس یکایک اور دفعۃً شاہی دربارہ میں چلے آنے سے سلطان شمس الدین کو نہ صرف تعجب بلکہ تعجب کے ساتھ حیرت ہوئی کیونکہ آپ اس سے پیشتر کبھی سلطان کے پاس نہیں گئے تھے بلکہ چند مرتبہ سلطان آپ کی ملاقات کے لیے آیا تھا اور شرف ملاقات سے مشرف و ممتاز ہونے کی التماس بھی کی۔ لیکن آپ نے اسے اپنے پاس آنے کی اجازت نہیں دی۔ الغرض جب شمس الدین التمش سے آپ کی ملاقات ہوئی تو اس وقت بادشاہ کے حکم سے مقرر داشت کا فرمان لکھا گیا اور اس کے ساتھ اشرفیوں کی چند تھیلیاں آپ کی نذر کی گئیں۔ اس مجلس میں رکن الدین حلوائی جو خطہ اودھ کا مشہور نامور حاکم تھا آیا۔ اور شیخ سے بلند تر مقام پر بیٹھ گیا۔ رکن الدین حلوائی جو خطہ اودھ کا مشہور و نامور حاکم تھا آیا۔ اور شیخ سے بلند تر مقام پر بیٹھ گیا۔ رکن الدین حلوائی کی یہ گستاخی بادشاہ کو سخت ناگوار گزری لیکن شیخ قطب الدین نے نور باطن سے بادشاہ کے تغیر مزاج کو معلوم کر کے فریاد کی کہ یہ کوئی گستاخی اور بے ادبی کی بات نہیں ہے بلکہ نفس الامر میں بات یہ ہے کیونکہ جب حلوا اور کاک ایک جگہ موجود ہوں تو حلوے کو کاک کے اوپر رکھنے کا دستور ہے پھر اگر حلوائی کاکی سے اونچی جگہ بیٹھ جائے تو کون سی گستاخی کی بات ہے۔ الغرض شیخ قطب الدین رحمۃ اللہ علیہ بادشاہ سے رخصت ہوئے اور مقرر داشت کا فرمان اور بادشاہ کا ہدیہ شیخ معین الدین رحمۃ اللہ علیہ کے رو برو رکھ دیا۔ جب شیخ معین الدین نے خلق کے اس اعتقاد اور شہرت کو جو شیخ قطب الدین کے بارہ میں تھی ملاحظہ فرمایا تو ایک دن آپ نے شیخ الاسلام سے فرمایا کہ یہ تم نے کیا کر رکھا ہے تمہارا گمنامی اور گوشہ کے دائرے میں رہنا بہت بہتر اور انسب ہے شیخ قطب الدین نے عرض کیا کہ اس میں بندہ کا کوئی قصور نہیں ہے یہاں کے لوگوں کا حسن ظن ہے۔

حضرت سلطان المشائخ سے لوگ نقل کرتے ہیں کہ جب شیخ معین الدین اجمیر سے دہلی میں رونق افروز ہوئے تو اس زمانہ میں شیخ نجم الدین صغرا بھی دہلی میں موجود تھے اور شیخ معین الدین اور شیخ نجم الدین میں مدت سے سلسلہ محبت قائم تھا چنانچہ جب شیخ معین الدین کو معلوم ہوا کہ شیخ نجم الدین دہلی میں موجود ہیں تو آپ ان کی ملاقات کے لیے تشریف لے گئے اس وقت شیخ نجم الدین اپنے مکان کے صحن میں چبوترا بنوا رہے تھے شیخ معین الدین کی نظر جب ان پر پڑی تو اس گرم جوشی اور محبت سے پیش نہیں آئے جیسا کہ اس پیشتر آئے تھے شیخ معین الدین نے ان کی یہ بے توجہی دیکھ کر فرمایا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شیخ الاسلامی کی شہرت نے تمہارے دماغ کو برہم کردیا ہے۔ شیخ نجم الدین نے جواب دیا کہ حضرت میں تو آپ کا ویسا ہی مخلص اور بے ریا معتقد ہوں جیسا پیشتر تھا لیکن آپ نے اس شہر میں ایک ایسا مرید رکھ چھوڑا ہے جس کے مقابلہ میں میری شیخ الاسلامی کوئی شخص کوئی شخص جَو کے مقدار بھی شمار میں نہیں لاتا۔ شیخ معین الدین رحمۃ اللہ علیہ نے یہ سن کر اول تبسم کیا پھر ارشاد فرمایا کہ تم پریشان و حیران مت ہو میں بابا قطب الدین کو اپنے ہمراہ لیے جاتا ہوں اس زمانہ میں شیخ قطب الدین رحمۃ اللہ علیہ کے کمالات کی شہرت نہایت قوی اور مستحکم ہوگئی تھی اور گھر گھر چرچا پھیلا ہوا تھا۔ تمام اہل شہر کی پر شوق نظریں آپ کے قدموں پر پڑ رہی تھیں اور سب آپ ہی کی طرف متوجہ تھے۔ جب شیخ معین الدین درِ دولت پر تشریف لائے تو فرمایا بختیار تم ایکا ایکی اور دفعۃً اس قدر مشہور ہوگئے ہو کہ خلق تمہارے ہاتھ سے شکایت کرنے لگی ہے اب تم یہاں سے اٹھو اور میرے ساتھ چل کر اجمیر میں رہو تم بیٹھے رہنا اور میں تمہارے آگے کھڑا رہوں گا۔ شیخ قطب الدین نے فرمایا۔ مخدوم! بھلا میری طاقت ہے؟ میرا تو اتنا بھی رتبہ نہیں کہ مخدوم کے آگے کھڑا ہو سکوں پھر یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ حضور کے سامنے بیٹھا رہوں۔ الغرض اس مرتبہ شیخ قطب الدین جناب شیخ معین الدین کے ہمراہ روانہ اجمیر ہوئے۔ اس خبر سے تمام شہر دہلی میں ایک تہلکہ پڑگیا اور ہر طرف کہرام مچ گیا تمام اہل شہر سلطان شمس الدین کے ساتھ آپ کے پیچھے نکلے جس جگہ شیخ قطب الدین رحمۃ اللہ علیہ قدم رکھتے تھے خلائق اس جگہ کی خاک کو تبرکاً اٹھا لیتی تھی اور انتہا درجہ کی بے قراری و زاری کرتی تھی۔ شیخ معین الدین رحمۃ اللہ علیہ نے جب یہ صورت دیکھی تو فرمایا۔ بابا بختیار! تم یہیں رہو کیونکہ خلائق تمہارے جانے سے اضطراب و بے قراری میں ہے میں ہر گز اس بات کو جائز نہیں رکھتا کہ بے شمار دل خراب و کباب ہوں۔ جاؤ میں نے اس شہر کو تمہاری پناہ میں چھوڑا۔ پس سلطان شمس الدین نے شیخ کی سعادت قدم بوسی حاصل کی اور شیخ قطب الدین کے ہمراہ نہایت خوشی و شادمانی کے ساتھ شہر کی طرف متوجہ ہوا ادھر شیخ معین الدین رحمۃ اللہ علیہ نے اجمیر کی طرف عنانِ توجہ مبذول فرمائی۔

شیخ الاسلام قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے دار دنیا سے دارِ عقبیٰ میں انتقال کر جانے کا بیان

حضرت سلطان المشائخ فرماتے تھے کہ عید کا دن تھا شیخ قطب الدین رحمۃ اللہ علیہ عید گاہ سے لوٹ کر آتے تھے رستہ سے اس مقام پر تشریف لے گئے جہاں اب آپ کا روضہ متبرکہ ہے اس سے پیشتر یہ زمین افتادہ اور غیر آباد تھی۔ یہاں کوئی قبر تھی نہ گنبد نظر آتا تھا شیخ جب اس مقام پر آئے تو کھڑے ہوکر متامل ہوئے آپ کے عزیز و اقارب نے جو برابر میں صف آرا تھے التماس کی حضور! آج عید کا دن ہے اور خلق اس بات کی منتظر ہے کہ مخدوم گھر میں تشریف لا کر کھانا تناول فرمائیں آپ کے یہاں ٹھہرنے اور تاخیر کرنے کی کیا وجہ ہے۔ شیخ نے فرمایا کہ مجھے اس سر زمین سے اہل کمال کے دلوں کی بو آتی ہے۔ آپ نے اسی زمانہ میں اس زمین کے مدعی کو بلایا اور خاص اپنے مال میں سے قیمت دے کر اس زمین کو خرید لیا اور فرمایا کہ میرا مدفن یہی زمین ہے۔ حضرت سلطان المشائخ جب اس جملہ پر پہنچے تو آپ کو سخت رقّت ہوئی آنکھوں میں آنسو بھر لائے اور فرمایا کہ شیخ الاسلام باوجود اس بلند اور رفیع مرتبہ کے فرماتے تھے کہ اس زمین سے اہل کمال کے دلوں کی بو آتی ہے دیکھنا چاہیے کہ اس سر زمین میں کون کون لوگ پاؤں پھلائے سوتے ہیں سلطان المشائخ یہ بھی فرماتے تھے کہ شیخ الاسلام قطب الدین قدس سرہ کو انتقال کے زمانہ میں چار شبانہ روز برابر تحیر رہا اور یہ قصہ یوں ہوا شیخ علی سکری رحمۃ اللہ علیہ کی خانقاہ میں محفل سماع گرم تھی جس میں شیخ قطب الدین نور اللہ مرہ قدہ بھی موجود تھے قوال یہ قصیدہ پڑھ رہا تھا۔

کشتگان خنجر تسلیم را
ھر زمان از غیب جانِ دیگر است

(خنجر تسلیم کے مقتولوں کے غیب سے ہر وقت ایک اور ہی روح عنایت ہوتی ہے۔)

شیخ قطب الدین قدس اللہ سرہ العزیز میں اس بیت نے اس قدر اثر کیا کہ آپ مدہوش و متحیر ہوگئے۔ اسی حال میں گھر تشریف لائے اور چار رات دن برابر یہی کیفیت طاری رہی جب آپ کو کچھ ہوش آیا تو اسی بیت کے اعادہ کرنے کا حکم فرماتے۔ حاضرین بار بار پڑھتے اور آپ اس طرح تحیر میں محو ہوجاتے لیکن جب نماز کا وقت ہوتا تو آپ نماز ادا کر کے پھر اسی بیت کو پڑھاتے لوگ بار بار پڑھتے اور شیخ الاسلام تحیر میں مستعرق ہوجاتے اور ایک عجیب و غریب حالت و حیرت پیدا ہوتی۔ چار شبانہ روز یہی کیفیت رہی اور انجام کار پانچویں رات اس فانی اور جلد گذر جانے والی دنیا سے عالم باقی کی طرف رحلت فرما ہوئے۔ شیخ بدر الدین غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جس رات شیخ کا انتقال ہوا میں وہاں موجود تھا جب شیخ کے انتقال کا وقت قریب ہوا تو مجھے یوں ہی غنودگی سے آگئی اس غنودگی میں میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ شیخ اپنے مقام سے نکل کر آسمان کی طرف جاتے ہیں اور مجھ سے فرماتے ہیں بدر الدین! خدا کے دوستوں کو موت نہیں ہوتی جب میں بیدار ہوا تو شیخ دارِ بقا کی طرف رحلت فرما ہوچکے تھے۔ جس مجلس میں شیخ کا واقعہ ہوا تھا شیخ احمد نہروانی رحمۃ اللہ علیہ بھی موجود تھے۔ کاتب حروف نے مولانا فخر الدین زرادی کے ایک رسالہ میں جو آپ نے سماع کے بارہ میں تالیف فرمایا ہے لکھا دیکھا ہے کہ شیخ قطب الدین (خدا ان کے مرقد کو روشن و منور رکھے) مجلس سماع میں عالم تحیر اور مدہوشی میں محو ہوگئے تھے اس زمانہ میں ایک نہایت تجربہ کار اور حاذق طبیب تھا جو شمس الدین کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔ جب شیخ کی یہ حالت ہوئی تو لوگوں نے اسے بلا کر دکھایا تاکہ مرض کی تشخیص کرے اور زحمت کے مادے کو دریافت کر کے علاج کرے لیکن شمس الدین نے آپ کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہی کہہ دیا کہ شیخ کو کوئی جسمانی مرض لاحق نہیں ہوا ہے بلکہ آپ کی نبض مرد می پر دلالت کرتی ہے یعنی آپ کا باطن آتش محبت سے جل گیا ہے اور دل جگر پگھل چکا ہے۔ حقیقت میں طبیب مذکور اپنے اس قول میں نہایت سچا اور استدلال میں بہت ہی مصیب تھا۔ اس بارہ میں جس شخص نے ذیل کے دو شعر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں کہے ہیں وہ بہت ہی خوب اور میعنی خیز ہیں۔

قد لسعت حبۃ الھوی کبدی
الا الحبیب الذی قد شغفت بہ

فلاطبیب لہ ولا راق
فعندہ رقیتی و تریاق

یعنی میرے جگر کو محبت کا ایسا ناگ ڈس گیا ہے جس کے لیے کوئی طبیب ہی کافی ہوسکتا ہے نہ کوئی منتر ہی پڑھنے والا۔ البتہ جس دوست پر میں فریفتہ ہوں اس کے پاس میرا افسون اور تریاق ہے
۔ قاضی محی الدین کا شانی رحمۃ اللہ علیہ حضرت سلطان المشائخ کی خدمت میں بیان کرتے تھے کہ جس سنہ میں سلطان شمس الدین التمش کا انتقال ہوا اسی سال شیخ الاسلام قطب الدین بختیار قدس اللہ سرہ العزیز نے اس دار نا پائدار سے عالم جا ودانی میں انتقال فرمایا۔ نیز اس سنہ میں مولانا قطب الدین کا شانی نے بھی وفات پائی۔ اس نقل سے حضرت سلطان المشائخ نے سلطان شمس الدین التمش کی تاریخ انتقال نکالی اور یہ تاریخی بیت ارشاد فرمائی۔

بسال ششصد و سی وسہ بو داز ھجرت
نماند شا ھجھان شمس دین عالمگیر

(۶۳۳ ہجری میں شاہ جہان۔ شمس دین عالمگیر۔ یعنی شیخ الاسلام نے وفات پائی۔)

لیکن شیخ الاسلام قطب الدین قدس سرہ کا انتقال چودہویں ربیع الاول سنہ مذکورnbsp کو واقع ہوا ہے۔ کاتب حروف نے ایک بزرگ کی زبان سے سنا ہے کہ شیخ الاسلام بختیار نور اللہ مرقدہ کے انتقال کے بعد پورے دس سال تک قاضی حمید الدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ زندہ رہے لیکن جب آپ کی وفات کا زمانہ قریب آیا تو حاضرین کو وصیت کی کہ مجھے شیخ قطب الدین کی پائنیتی میں دفن کرنا چنانچہ جب آپ کا انتقال ہوا تو قاضی حمید الدین ناگوری کے فرزندوں کی ہر گز خوشی نہ تھی کہ آپ کو شیخ قطب الدین کے قدموں میں دفن کریں۔ لیکن قاضی صاحب کو وصیت نے انہیں مجبور کردیا انجام کار بہت حیث و بحث کے بعد شیخ کے قدموں میں قاضی صاحب دفن کیئے گئے۔ لیکن آپ کے فرزندوں نے قبر کا چبوترہ شیخ کے روضۂ متبرکہ سے کسی قدر اونچا بنوایا قاضی حمید الدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے فرزندوں سے خواب میں فرمایا کہ تم نے میری قبر کا چبوترہ بلند کر کے مجھے جناب شیخ الاسلام قطب الدین قدس اللہ سرہ لعزیز کے روے مبارک میں سخت شرمندہ کیا۔ مجھے تمہارے اس خلاف ادب فعل کی وجہ سے شیخ الاسلام کے سامنے اس درجہ ندامت ہوئی ہے کہ آپ کے آگے سر اٹھا نہیں سکتا۔ حضرت سلطان المشائخ فرماتے ہیں کہ میں نے ان دونوں تربتون کے درمیان یعنی جناب شیخ الاسلام قطب الدین قدس سرہ کی پاءینتی اور قاضی حمید الدین ناگوری رحمۃ اللہ کے سرہانے بار ہا نماز پڑھی ہے اور بہت ذوق و راحت پائی ہے۔

ازاں بعد آپ نے فرمایا کہ یہ اثر قبروں اور مکانات کا نہیں ہے بلکہ ان دونوں بزرگوں کا اثر ہے کیونکہ ایک جانب ایک شاہِ اسلام پڑا سوتا ہے اور دوسری طرف دوسرا بادشاہ دین آرام فرما ہے۔

(سیر الاولیاء)

آں نازنین رأیت رَبی، صدر نشین محفل مشاہدات غیبی، طاہر ہوائے لامکانی سائر عمانِ سبحانی، ذبیح خنجر رضا وتسلیم جریح من اتی اللہ بہ قلب سلیم مبعوث بہ کمال تنزیہہ وپاکی، محبوب حق، حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی قدس سرہٗ کا شمار نازنینان بارگاہ کبریا وساداتِ اولیاء میں ہوتا ہے۔ آپ مقام ترک و ترجید میں راسخ، ریاضات و مجاہدات میں بے نظیر وقت بیان نکات حقائق وتوحید میں بے ہمتا، استغراق فنائے احدیت میں اکابر مشائخٰ میں ممتاز مرتبہ قطب کبریٰ پر فائز اور ذات بحت کے مشاہدہ میں علی الدوام مستغرق تھے اور غیر سے بالکلیہ آزاد ہوکر دوست کے ساتھ مقام یک رنگی حاصل کر چکے تھے۔ جو شخص آپ کی صحبت اختیا رکرتا صاحبِ ولایت ہوجاتا تھا۔ آپ جس شخص پر نظر فرماتے اُسے عرش ے تحت الثریٰ تک کشف حاصل ہوجاتا تھا آپ کے تمام مریدن صاحب کرامات اور اہل نعمت تھے۔ آپ حضرت خواجہ بزرگ قدس سرہٗ کے محبوب ترین خلیفہ تھے۔

حسب ونسب

آپکے والد ماجد کا اسم گرامی سید کمال الدین احمد بن موسیٰ اوشی تھا۔ جو قصبہ اوش واقعہ ملک ماوراء النہر کے رہنے والے تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ اوش علاقہ فرغانہ میں ہے۔ آپ کا اسم شریف قطب الدین اور القاب کا کی اور بختیار تھے۔ سیر الاقطاب میں لکھا ہے کہ آپ کا پہلا نام بختیار تھا۔ اور جناب حق تعالیٰ سے آپ کو قطب الدین کا خطاب ملا تھا۔ لیکن مراۃ الاسرار کی مطابق حضرت خواجہ غریب نواز آپ کو ازراہ مہربانی قطب الدین بختیار کہا کرتے تھے۔ اُسی وقت سے آپ آپ کا لقب بختیار ہوگیا۔ آپ کا سلسلۂ نسب سیر الاقطاب کی روایت کے مطابق حضرت امام حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اس طرح جا ملتا ہے۔ کہ قطب الاقطاب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار اب سید کمال الدین احمد ابن سید موسیٰ اوشی، ابن سید محمد ابن سید احمد ابن سید اسحاق، ابن سید معروف ابن سید احمد چشتی ابن سید احمد ابن سید حسام الدین ابن سید رشید الدین، ابن سید جعفر، ابن امام محمد تقی الجواد ابن امام علی الرضا ابن امام موسیٰ کاظم ابن امام جعفر صادق ابن امام باقر ابن امام زین العابدین ابن امیر المومنین حضرت امام حسین سید الشہداء ابن امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ۔

تعلیم و تربیت

آپ قصبۂ اوش میں بوقت نیم شب پیدا ہوئے۔ پیدائش کی وقت انوار و برکات کا اس قدر نزول ہوا کہ آپ کی والدہ ماجدہ نے سمجھا کہ آفتاب طلوع ہوا ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ پیدا ہوتے ہی آپ سجدہ میں چلے گئے اور اللہ، اللہ کہہ رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر آپ حیران ہوئیں اور ڈرنے بھی لگیں۔ اس کے بعد آپ نے سر اوپر اٹھایا اور رفتہ رفتہ وہ نور کم ہوگیا۔ غیب سے آواز آئی کہ یہ نور جو تم نے دیکھا ہے۔ ہمارے رازوں میں سے ایک راز تھا۔ جو ہم نے تمہارے بیٹے کے قلب میں رکھا ہے۔ آپ کی والدہ ماجدہ فرماتی ہیں کہ جب حضرت خواجہ میرے پیٹ میں تھے تو میں تہجد کے وقت اٹھتی تھی۔ اور نماز پڑھتی تھی۔ اور میرے پیٹ جنبش ہوتی تھی۔ ذکر کی آواز آتی تھی۔ ایک پھر تک یہی ہوتا رہا کتاب سبع سنابل اور سیر الاقطاب میں لکھا ہے کہ جب حضرت قطب الاقطاب کی عمر ڈیڑھ برس کی ہوئی تو اُن کے سالد ماجد کا انتقال ہوگیا۔ اور پرورش کی ذمہ داری والد پر عائد ہوئی۔جب اپ کی عمر چار سال، چار ماہ اور چار دن ہوئی۔ اور دوسری روایت کے مطابق جب آپ کی عمر پانچ سال ہوئی تو والدہ ماجدہ نے آپ کو حضرت خواجہ معین الدین قدس سرہٗ کی خدمت میں بھیجا۔ اُس وقت آپ نے اُن کے لیے تختی پر کچھ لکھنا چاہا تو غیب سے آواز آئی کہ اے معین الدین کچھ دیر ٹھہر جاؤَ حمید الدین ناگوری آرہا ہے۔ ہمارے قطب کو وہی تعلیم دے گا۔ اس روز خواجہ قطب الدین اوش میں تھے ۔ اور قاضی حمید الدین ناگوریناگور میں۔ ہاتف نے اواز دی کے اے حمید الدین جلد جاؤ۔ ہمارے قطب کی تختی لکھو۔ اور ان کو دینی علم سکھاؤ۔ قاضی صاحب نے کہا یا الٰہی آپ کا قطب کہاں ہے۔ آواز آئی کہ اوش میں ہے۔ چنانچہ انہوں نے آنکھیں بند کیں اور فوراً اوش میں پہنچ گئے۔ اس کے بعد آپ حضرت خواجہ معین الدین چشتی قدس سرہٗ کی خدمت میں پہنچے اور تختی ہاتھ میں لے کر پوچھا کے اے قطب الدین کیا لکھوں۔ آپ نے جواب دیا کہ لکھو سبحان الذی اسرٰ بِعَبْدِہٖ لَیلاً من المسجد الحرام۔قاضی صاحب نے کہا یہ پندرھواں پارہ ہے۔ آپ نے قرآن پہلے کہاں پرھا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ میری والدہ کوپندرہ پارے یاد ہیں۔ میں نے والدہ کے پیٹ میں اُن کے قلب پر نظر ڈالی۔ حق تعالیٰ کے کرم سے یاد کرلیے ہیں۔ چنانچہ قاضی حمید الدین نے تختی پر لکھا۔ سبحان الذی اسری۔۔۔۔۔۔ تا آخر سورت چار روز میں قاضی صاحب نے آپ کو قرآن ختم کرالیا۔ اوع فرمایا کہ بابا قط ب الدین تجھے حق تعالیٰ نے تمام علم بچپن میں پڑھادیا ہے۔ اس وجہ سے کہ تم خدا تعالیٰ کے دوستوں میں سے ہو۔ اس کے بعد انہوں نے خواجہ قطب الدین حضرت خواجہ بزرگ کے حوالہ کیا اور کہا کہ یہ آپ کے مرید ہیں۔ آپ ہی ان کی تربیت فرمانویں۔ لیکن مراۃ الاسرار میں آپ کی تحصیل علم کی حکایت دوسرے طریقے سے بیان کی گئی ہے۔ وہ یہ کہ آپ کی والدہ صاحبہ نے آپ کو ایک ہمسایہ بنام ابراہیم کے ذریعے استاد کے پاس بھیجا۔ راستے میں ایک نورانی شکل کے بزرگ ملے۔ وہ خواجہ قطب الدین کا ہاتھ کمال شفقت سے پکڑ کر حضرت شیخ ابو حفص سے کہا کہ ان کو اچھی طرح تعلیم دیں کیونکہ یہ اکابر اولیاء میں سے ہونگے اور مشائخ روزگار میں ان کا شمار ہوگا۔ شیخ ابو حفص نے خواجہ علیہ رحمۃ سے پوچھا کہ کیا تم اس بزرگ کو جانتے ہو۔ آپ نے کہا نہیں۔ فرمایا یہ خضر علیہ السلام تھے۔ جنہوں نے آپ کی تعلیم کا معاملہ میرے سپرد کیا۔

حضرت شیخ نصیر الدین چراغ دہلوی خیر المجالس میں فرماتے ہیں کہ حضرت شیخ ابا حفص کے فیض صحبت سے حضرت قطب الاقطاب کو تہذیب الاخلاق ظاہری وباطنی اور ارادت شریعت و طریقت بکمال حاصل ہوئی۔ اور آپ کا ظاہر وباطن آراستہ وپیراستہ ہوگیا۔ چنانچہ آپ کی ریاضات و مجاہدات سے ایک ساعت کے لیے فارغ نہیں ہوتے تھے۔ اور ہر شب وروز دو سو پچاس رکعت نماز کمال نیاز کے ساتھ گذارتے تھے۔ اور ہمہ تن حق تعالیٰ کے ساتھ مشغول رہتے تھے۔

بیعت

آپ نے ماہ رجب ۵۱۲؁ھ میں شہر بغداد امام ابو اللیث سمر قندی کی مسجد میں شیخ شہاب الدین سہروردی، شیخ اوحد الدین کرمانی، شیخ برہان الدین چشتی اور شیخ محمود اصفہانی کی موجودگی حضرت خواجہ معین الدین چشتی قدس سرہٗ سے بیعت کا ترف حامل لیا اور آپ کے حکم سے کافی عرصہ تک بغداد میں ریاضت شاقہ میں مشغول رہے۔ حضرت خواجہ بزرگ کےلطف و کرم سے اپ نے تھوڑے عرصے میں سلوک تمام کرلیا۔ رُشد و ہدایت کے مقام تک پہنچ گئے اور خلافت سے بہرہ ور ہوئے۔ روایت ہے۔ کہ حضرت خواجہ غریب نواز کو چالیس شب تک متواتر حضرت سرور کائنات کی بمع دیگر مشائخ عظام عالم ارواح میں زیارت ہوئی اور آنحضرتﷺ نے فرمایا اے معین الدین، قطب الیدن خدا کاد وست ہ۔ اُسے خرقۂ خلافت پہناؤ آنحضرتﷺ کے حکم کے مطابق آپ کو خرقۂ خلافت پہنایا گیا۔ اور فرمان الٰہی کےمطابق ولایت دہلی آپکے سپرد ہوئی۔ اور حضرت خواجۂ بزرگ کے ساتھ آپ بھی بغداد سے ہندوستان کے سفر میں شریک رہے۔ اور دہلی سکونت اختیار کی۔ اس کا مفصل ذکر بعد میں آرہا ہے۔

اکثر کتابون میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ جب حضرت خواجہ قطب الدین مرید ہوئے تو آپکی عمر اٹھار ہ سال تھی۔ اور بیس سال کی عمر میں آپ کی خلافت حاصل کر کےاپنے مریدین کی تربیت میں مشغول ہوگئے۔

سیر الاولیاء میں حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء قدس سرہٗ سے روایت ہے کہ سوتے وقت حضرت خواجہ قطب الدین ہر رات تین ہزار بار درود شریف پڑھتے تھے۔ جب اوش میں اپ کی شادی ہوئی تو تین شب درود قضا ہوگیا۔ آپ کے ایک مرید بنام احمد رئیس نے خواب میں دیکھا کہ آنحضرتﷺ فرمارہے ہیں کہ بختیار کاکی کو میرا سلام پہنچاؤ اور اس سے کہو کہ جو تحفہ تم میرے پاس بھیجتے ہو پہنچ جاتا ہے۔ لیکن تین روز سے نہیں ملا۔ خواب سے بیدار ہوکر انہوں نے آنحضرتﷺ کا سلام اور پیغام حضرت خواجہ قطب الدین کوپہنچایا۔ آپ نے فوراً بیوی کو بلاکر اس کا حق المہر ادا کیا اور رخصت کردیا۔

اس کے بعد آپ ہندوستان کی طرف روانہ ہوئے۔ اور ملتان میں ان تینوں بزرگوں کے درمیان گرما گرم مجالس ہوئیں۔ نیز سیر الاولیاء میں سلطان المشائخ سے نقل ہے کہ جب حضرت کواجہ قطب الدین بختیار اوشی حضرت شیخ بہاؤ الدین ذکریا اور شیخ جلال الدین تبریزی ملتان میں اکٹھے تھے تو کفار کا قلعہ ملتان پر حملہ ہوگیا۔ والیئ ملتان قباچہ بیگ نے دفع حملہ کے لیے ان بزرگوں کی طرف درخواست کی۔ حضرت خواجہ قطب الدین نے قباچہ کے ہاتھ میں ایک تیردیکر فرمایا کہ یہ تی لشکر کفار کی طرف پھینک دو۔ اس نے حکم کی تعمیل کی۔ جب صبح ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ ایک کافر بھی موجود نہ تھا حضرت شیخ فرید الدین گنج شکر پہلی بار حضرت خواجہ قطب الدین بختیارکی صحبت سے ملتان ہی میں بہرہ ور ہوئے۔ اس کا مفصل ذکر آپ کے حالات میں آرہا ہے۔

روایت ہے کہ حضرت خواجہ قطب الدین کے دہلی پہنچنے سے پہلے حضرت قاضی حمید الدین ناگوری نے عالم معاملہ میں دیکھا گویا آفتاب عالمتاب کا دہلی میں نزول ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے تمام ملک روش ہوگیا ہے۔ اس کے بعد آفتاب نے حضرت قاضی صاحب کے گھر جاکر کہا کہ اب میں تمہارے گھر میں رہونگا۔ قاضی صاحب نے اس سے یہ تعبیر لی کہ کوئی ولئ کامل دہلی میں وارد ہوکر میرے گھر میں سکونت اختیار کرے گا۔ اس واقعہ کو دو دن نہ ہوئے تھے کہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار قدس سرہٗ دہلی میں تشریف لائے اور ایک نان بائی کے ہاں ملازمت اختیار کی یہ قحطکا زمانہ تھا۔ شہزادہ سعید الدین کی ح کومت کی طرف سے چند سیر آتا اس نان بائی کے پاس آتا تھا۔ جسکی روٹی پکا کر وہ واپس بھیجا کرتا تھا۔ ایک دن وہ نان بائی روٹی تنور میں لگا کر سوگیا۔ جب بیدار ہوا تو تمام روٹیاں جل کر راکھ ہوچکی تھیں۔ یہ دیکھ کر بادشاہ کے ملازمین نے نان بائی کےگلے میں کپڑا ڈال کر گھسیٹنا شروع کیا ور کہا کہ قحط کے زمانے م یں تم نے اس قدر آتا ضائع کردیا ہے۔ حضرت خواجہ قطب ادین قدس سرہٗ نے فرمایا بھائی اس کو چھوڑ دو میں تمہاری روٹیاں ٹھیک کی دیتا ہوں۔ انہوںن ے اسکو چھوڑدیا اور حضرت اقدس سے کہا کہ اچھا آپ ہماری روٹیا ٹھیک کریں۔ آپ نےتمام روٹیاں تنور میں ڈال دیں۔ تھوڑی دیر کے بعد باہر نکالیں تو سب کی سب سفید اور صحیح سلامت تھیں۔جب بادشاہ کو اس بات کا علم ہوا تو حضرت اقدس کی ملاقات کیلئے حاضر ہوا۔ آپ نے فرمایا اے عزیزی میں بیچارہ کون ہوں کہ تم مجھے ملنے آیا ہے۔ بادشاہ نے کہا حضور آپ تمام صاحب نعمت درویشوں کے سرادار ہیں۔ بس حضرت اقدس سے اس تھوڑی سی ہمکلامی کا یہ اثر ہوا کہ دنیا کی محبت بادشاہ کے دل سے جاتی رہی۔ ولیئ کامل ہوگیا۔ اور عرش سے تحت الثریٰ تک اس کی نظر پہنچ گئی۔ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کو کاکی اسی وجہ سےکہتےہیں۔

جب اس کرامت کی خبر لوگوں تک پہنچی تو جوق در جوق حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہونے لگے یہ دیکھ کر آپنے نام بائی کی دوکان سے بھاگ گئے اور قاضی حمید الدین ناگوری قدس سرہٗ کے گھر چلےگئے۔اس سےقاضی صاحب بہت خوش ہوئے اور ان کو گلے سے لگاکر کہنے لگے کہ میں آپ کی آمد کیلئے تڑپ رہا تھا۔ چند روز ہوئے آپ کی خوشبو سےمعطر ہوا تھا۔ بعض مشائخ چشت کےملفوظات میں ہے کہ جونہی حضرت اقدس قاضی حمید الدین کے مکان پر پہنچے تو انہوں نے فوراً قوالوں کو طلب کر کے محفل سماع منعقد کرائی حضرت اقدس اور قاضی صاحب نے سماع سنا۔ دیگر لوگ بھی بہت جمع ہوگئے تھےسماع کے بعد لوگوں نے حضرت قاضی صاحب سے عرض کیا کو چھوٹے بڑے بہت لوگ جمع ہوگئے تھے سماع کے بعد لوگوں نے حضرت قاضی صاحب سے عرض کیا کہ چھوٹے بڑے بہت لوگ جمع ہوگئے ان کے لیے طعام ضروری ہے۔ قاضی صاحب نے اس بات کا ذکر حضرت خواجہ قطب الدین نے اپنے دونوں آستین ہلائے تو ہر شخص کے سامنے دور روٹی اور گرم حلوہ موجود تھا۔ چنانچہ ہر شخص کے سامنے دو روٹی اور گرم حلوہ موجود تھا۔ چنانچہ ہر شخص نے پیٹ بھر کر کھایا۔ اس کے بعد مولانا مجد الدین عرف موج نے حضرت قاضی صاح سے کہا کہ کھانے کے بعد شربت بھی لازمی ہے۔ ایک شخص نے دو ڈھائی سیر شکر حضرت قاضی صاح﷜ کو پیش کی تھی۔ انہوں نے اُسے برتن میں ڈال کر سات پیالے پانی ڈالا۔ اس کے بعد تمام لوگوں نے شربت پینا شروع کیا۔ جب سب لوگ اچھی طرح سیر ہوچکے تو شربت کی وہی مقدار بھی باقی تھی۔

سیر الاقطاب میں لکھا ہے کہ ایک شخص نے حضرت سلطان المشائخ سے دریافت کیا کہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کو کاکی کس وجہ سے کہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ایک دن حضرت اقدس اپنے اصحاب کے ساتھ حوض شمسی پر بیٹھے تھے۔ کہ ایک آدمی نے کہا کہ کیاہہی اچھا ہوتا کہ اس سرد ہوا کے ساتھ نان گرم بھی مل جاتی۔ حضرت خواجہ نے اپنا ہاتھ حوض میں ڈال کر نان گرم نکالے اور اصحاب کے سامنے رکھ دیے۔ اور سب نے سیر ہوکر کھائے۔ اوس روز سے آپ کو لوگ کاکی کہنے لگے۔ اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک دفعہ سلطان شمس الدین التمش نے حضرت اقدس سے طعام غیب کی التجا کی۔ آپ نے فوراً اپنے دونوں آستین ہلائے تو نہایت عمدہ اور گرم کاک (نان) بر آمد ہوئے بادشاہ نے نہایت ہی عجز و نیاس سے نان کھائے اور مشکور ہوا۔ اس وجہ سے آپ کا لقب
کاکی مشہور ہوگیا۔

کتاب مراۃ الاسرار میں لکھا ہے کہ حضرت سلطان المشائخ فرماتے ہیں کہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار قدس سرہٗ فتوحات غیبی کی طرف کم توجہ فرماتے تھے۔ اس وجہ سے آپ کے گھر میں تنگی رہتی تھی۔ حضرت خواجہ بزرگ خواجہ معین الدین قدس سرہٗ نے آپ کو اجازت دے رکھی تھی کہ بوقت ضرورت پانچ سو درہم تک قرض لے کر ضروری حاجت پوری کر سکتے ہیں۔ چنانچہ جب دو تین متواتر فاقوں تک نوبت پہنچ جاتی تھی تو حضرت قطب الاقطاب اپنے ایک ہمسایہ شرف الدین بقال سے کم از کم رقم قرضہ لے لیتے تھے۔ اور متعلقین کی بسر اوقات فرماتے تھے۔ ایک دن شرف الدین بقال کی عورت نے کہا کہ اگر ہم یہاں نہ ہوتے تو ان لوگوں کا کیا حال ہوتا۔ یہ بات حضرت اقدس کی اہلیہ صاحبہ نے آپ تک پہنچادی۔ آپ نے فرمایا آج کے بعد اُن سے قرض لینا بند کردو۔ آپ کے حجرہ مبارک میں ایک طاق تھا۔ آپ نے اس طاق کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ جس قدر ضرورت ہو بسم اللہ پڑھ کر یہاں ہاتھ ڈال کر اٹھالیا کرو۔ چنانچہ آپ جس وقت طاق میں ہاتھ ڈالتی تھیں گرم نان مل جاتے تھے۔ ایک اور روایت کے مطابق حضرت اقدس روزانہ ایک نان مصلے کے نیچے سے اٹھاتے تھے۔ بحر حال اُسی دن سے آپ کا لقب
کاکی ہوگیا بعض معتبر کتابوں میں اس فقیر نے یہ بھی دیکھا کہ کہ
کاک فارسی کالفظ ہے جس کے معنی ہیں۔ کلچہ یا نانِ تنور، اور عربی میں اُسے
کعک کہتے ہیں۔

مراۃ الاسرار میں یہ بھی آیا ہے۔ کہ جب حضرت اقدس دہلی پہنچے تو سلطان شمس الدین مقدم نے اس بات کو سعادت مندی دارین سمجھ کر آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ اور ہفتے میں ایک بار شرف زیارت حاصل کرتا تھا۔ن یز شیخ جمال الدین محمد بسطامی جو ان دنوں دہلی کےشیخ الاسلام تھے بھی آپ کےمعتقد ہوگئے۔ علاوہ ازیں حضرت شیخ محمد عطاء المعروف قاضی حمید الدین ناگوری جو حضرت اقدس سے بغداد اور اوش میں مانوس اور معتقد ہوچکے تھے۔ وہ بھی آپ کے ساتھ اکثر رہتے تھے۔ اور بعض اوقات دونوں بزرگ سفر بھی مل کر کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت قطب الاقطاب خود فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں اور قاضی حمید الدین ناگوری سفر کر رہے تھے۔ جب ہم دریا کےکنارہ پر پہنچے بھوک کی وجہ سے بے حال ہورہےتھے۔ کیا دیکھتےہیں کہ ایک بکری دو ۲ روٹیاں منہ میں لیے ہوئے غیب سےپیدا ہوئی۔ اور روٹیاں ہمارے سامنے رکھ کر چلی گئی۔ ہم نے کھانا کھالیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بہت بڑا بچھو نکلا اورپانی میں چلا گیا جب ہم دریا کے کنارے پر پہنچے تو خداوند تعالیٰ کی قدرت سے دریا کے درمیان ایک راستہ پیدا ہوگیا اور پار پہنچ گئے۔ وہاں جاکر دیکھا کہایک آدی درخت کےنیچےسویا ہوا ہے۔ اور ایک سانپ اُسے کاٹنے کےلیے قریب بیٹاھ ہے سانپ کو دیکھ کر وہ بچھو اس پر کود پڑا اور اُسے مار ڈالا۔ اس کے بعد ہماری نظروں سے غیب ہوگیا۔ یہ دیکھ کر ہم اس آدمی کے قریب پہنچے تاکہ معلوم کریں کہ کون بزرگ ہیں۔ کیا دیکھتےہیں۔ کہ وہ ایک شرابی ہے۔ اور شراب سے بدمست ہوکر پڑا ہے اور اس کے پاس اس کی قے بھی پڑی ہے۔ یہ دیکھ کر ہمیں شرمندگی حاصل ہوئی کہ ایک آدمی اس قدر بے فرمان ہے۔ اور حق تعالیٰ کس قدر نگاہبان ہے۔ غیب سے آواز آئی کہ اے عزیزی ان اگر ہم نیک و پاک لوگوں کی حفاظت کریں تو بروں اور گناہ گاروں کی کون حفاظت کرے گا۔ اس اثنا میں وہ آدمی بیدار ہوا جب ہمنےیہ سارا ماجرا اس سے بیان کیا تو وہ سخت شرمندہ ہوا اور گناہ سے توبہ کر کےواصلانِ حق کے مرتبہ پر جا پہنچا۔

اس کتاب میں سیر العارفین سے یہ روایت بھی درج ہے کہ جب حجرت خواجہ قطب الدین بختیار قدس سرہٗ نے دہلی میں سکونت کرلی تو وہاںکے تمام اکابر، امراء ورؤ ساء اور عوام آپ نیک صورت اور نیک سیرت پر والہ و شیدا ہوگئے۔ ان ایام میں حضرت شیخ بدر الدین غزنوی بھی آپ کے ساتھ بیعت سے مشرف ہوئے اور ساری زندگی آپ کی خدمت میں گذاردی۔ ایک دن حضرت اقدس نے اپنے پیر ومرشد حضرت خواجۂ بزرگ کی خدمت میں خط لکھا اگر اجازت ہو تو حاضر ہوکر شرف قدم بوسی حاصل کروں۔ حضرت خواجہ غریب نواز قدس سرہٗ نے جواب میں لکھا کے المرءُ مع من اَحَبّ (آدمی اسکے ساتھ ہوتا ہے۔ جس سے اُسے محبت ہو) قرب جانیکےلیے بعد مکانی مانع نہیں ہے (یعنی روحانی طور پر میں آپ کے ساتھ ہوں۔ جسمانی دوری سے اس قرب میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔) آپ اپنےمقام پرمقیم رہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ کچھ عرصہ بعد میں خود دہلی آوں گا۔ یہ جواب سن کرآپ نے اجمیر شریف جانے کا ارادہ ترک کردیا۔ اس فقیر راقم الحروف کا خیال ہے۔ کہ حضرت خواجۂ بزرگکے الفاظ
قرب جانی را بُعد مکانی مانع نیست کے یہ معنی ہیں کہ میری روحانی صورت ہر وقت اور ہر حال میں آپ کے ساتھ ہے۔ اور ہر کام میں آپ کی ممدو معاون ہے۔ اور میری جسمانی صورت کا بعید ہونا میری روحانی صورت کے قریب ہونے میں خلل انداز نہیں ہوسکتا۔ یا اس کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زات لاکیف میں جو عروج میری روح مراتب ذات میں ایک دوسرے کے قریب اور متحد ہیں۔ اس قرب واتحاد کی بنا پر ہماری جسمانی صوروں کےدرمیان جو بُعد ہدایت خلق کی مصلحت کی وجہ سے پیدا ہوگیا ہے۔ وہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اس بات کو وہ حضرت اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ جن کو معرفت حاصل ہے۔ یا اس قول کامطلب یہ بھی ہوسکتا ہے۔ کہ مقام بے رنگی اور اطلاق میں ہم دونوں یک رنگ ہوگئے ہیں اور یہ بُعد جو بہ اعتبار رنگ و تقلید موجود ہے۔یک رنگی میں مزاحمن ہیں ہے

غرضیکہ جب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی نے دہلی میں سکونت اختیار کرلی تو ان دنوں شیخ الاسلام جمال الدین محمد بسطامی نے وفات پائی چنانچہ سلطان شمس الدین التمش نے حضرت اقدس کی خدمت میں درخواست کی کہ ملک کی شیخ الاسلامی قبول فرمادیں۔ لیکن آپ نے اس کی طرف ذرہ بھر توجہنہ فرمائی۔ اس کے بعد بادشاہ نے شیخ نجم الدین صغراء کو شیخ الاسلام مقرر کیا اس عہدے سے پہلے شیخ نجم الدین کے حضرت قطب الاقطاب سے اچھے تعلقات تھے۔ لیکن اس کے بعد دنائے دون نے ان کے دل میں رعونت پیدا کردی۔ چونکہ سلطان شمس الدین التمش حضرت اقدس کامرید ہوکر غلامی قبول کرچکا تھا۔ اس سے اس کے دل میں حسد کی آگ او ربھی تیز ہوگئی۔ جب حضرت خواجہ معین الدین اجمیری قدس سرہٗ دہلی تشریف لائے۔ تو آپنے حضرت خواجۂ قطب الاقطاب کے ہاں قیام فرمایا۔ اس سے آپ بے حد خوش ہوئے۔ اور سجدۂ شکر بجالائے۔ آپ نے چاہا کہ خواجہ بزرگ کی تشریف آوری کی اطلاع بادشاہ کو دی جائے۔ لیکن حضرت خواجۂ غریب نواز نے فرمایا کہ میں فقط تمہارے ملنے کے لیے آیا ہوں اور دو تین دن کے بعد چلا جاؤں گا۔ لیکن خلق خدا کو۔

شیخ الاسلام نجم الدین صغراء کی رعونت

جب اس بات کا علم ہوا تو آمد ورفت کا سلسلہ جاری ہوگیا۔ لیکن شیخ نجم الدین صغراء آپ کو ملنے کے لیے نہ آیا حالانکہ اس سے قبل خراسان میں وہ حضرت خواجہ بزرگ کا بہت معتقد تھا۔ اور بے حد عاجزی وانکساری سے پیش آتا تھا۔ ایک دن حضرت خواجہ غریب نواز خود شیخ نجم الدین کے ہاں تشریف لے گئے۔ اس وقت وہ اپنا مکان بنوارہا تھا۔ اور حضرت اقدس کی طرف چنداں توجہ نہ کی۔ یہ دیکھ کر آپنے فرمایا۔ اے نجم الدین تجھے کیا ہوگیا ہے۔ شاید اس شیخ الاسلامی سے تمہاری حالت بگڑ گئی ہے یہ سنکر وہ بہت نادم ہوا اور سر شرمندگی سے نیچا کر کے کہنے لگا کہ میں وہی مخلص اور خادم ہوں۔ لیکن یہ جو آپنے اپنا مرید دہلی میں بھیج دیا ہے۔ اس کے مقابلے میں میر شیخ الاسلامی کو کوئی نہیں پوچھا۔ خواجہ بزرگ نے تبسم کرتےہوئے فرمایا کہ فکر مت کو۔ میں اس مرتبہ بابا قطب کو اپنے ساتھ لے جارہا ہوں۔ اس کے بعد آپ حضرت خواجہ قطب الاقطاب کے مکان پر تشریف لے گئے۔ اس کے چند روز بعد شیخ نجم الدین گ گیا۔ اور ہلاک ہوگیا۔ اس کی تفصیل سیر العارفین اور مراۃ الاسرار میں درج ہے۔

حضرت خواجۂ بزرگ کی حضرت بابا فرید الدین سے ملاقات

مراۃ الاسرار میں یہ بھی لکھا ہے کہ ان دنوں حضرت شیخ فرید الدین گنج شکر قدس سرہٗ بھی حضرت خواجہ قطب الاقطاب کے ہمراہ دہلی میں رہتے تھے۔ اور حضرت خواجہ بزر گ قدس سرہٗ کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ خواجہ بزرگ نے حضرت شیخ فرید الدین کو دیکھ کر کمال مہربانیسے فرمایا کہ بابا قطب الدین تم نے ایسے شاہباز عظیم کو قید کرلیا ہے۔ جو سوائے سدرۃ المنتہیٰ کے کسی دوسری جگہ آشیانہ نہیں بناتا۔ یہ فرید ایک ایسی شمع ہے جو خانوادہ درویشان کو منو رکرے گا۔ چنانچہ جس طرح حضرت خواجہ بزرگ کےلیے حضرت خواجہ قطب الدین سے بہترکوئی مرید وخلیفہ نہ تھا حضرت خواجہ قطب الاقطاب کےلیے بھی حضرت بابا فرید الدین قدس سرہٗ سے بہتر کوئی مرید وخلیفہ نہ تھا۔

غرضیکہ چند ایام کے بعد حضرت خواجہ بزرگ دہلی سے اجمیر تشریف لےجانے لگے تو حضرت خواجہ قطب الاقطاب کو بھی ساتھ لےجانے لگے۔ یہ دیکھ کر خلق خدا میں شور برپا ہوا اور تمام خاص وعام بمع سلطان شمس الدین ماتم کرتے ہوئے ان کے پیچھےپیچھے روانہ ہوئے۔ حضرت خواجہ قطب الدین جس جگہ قدم رکھتےتھے لوگ وہاں کی خاک اٹھاکر منہ پر م لتے تھے۔ جب حضرت خواجہ غریب نواز نے یہ ماجرا دیکھا تو فرمایا بابا قطب الدین تم اسی جگہ پر رہ جاؤ۔ تمہارے چلے جانے سے خلق خدا پریشان اور بے حال ہے۔ مجھے یہ بات پسند نہیں کہ تمہاری جدائی میں اتنے د ل جل کر کباب ہوجائیں۔ جاؤ۔ میں نے اس شہر کو تمہاریپناہ میں دے دیا۔ خواجہ قطب الدین کو رخصت کر کے حضرت خواجہ بزرگ اجمیر تشریف لے گئے۔ اس کے بعد ایک مرتبہ اور بھی حضرت خواجہ بزرگ اپنےبیٹے کا پروانہ موضع ماند ودرست کرانے کے لیے دہلی تشریف لائے تھے۔ جیسا کہ آپ کے حالات میں لکھا جا چکا ہے۔

سیر الاقطاب میں لکھا ہےکہ جب حضرت خواجہ قطب العالم دہلی تشریف لائے حضرت قاضی حمید الدین ناگوری کے ہمراہ متواتر سماع سننے لگے۔ سلطان شہاب الدین کو اس بات کی خبر ہوئی تو اُسے ناگوار گذری اور کہنے لگا کہ یہ کون ہیں۔ جو سماع سنتے ہیں۔ جب حضرت خواجۂ کو معلوم ہوا کہ بادشاہ یہ کہتا ہے تو آپنے کہلا بھیجا کہ اے سیارہ رو اور سیاہ دل تجھے سماع کی قدر کا کیا علم۔ یہہمارے لیےمباح ہے اور تمہارے حرام۔ بادشاہ یہ بات سن کر آگ بگولہ ہوگیا اورکہنے لگا کہ اچھا اگر ان لوگوں نے اب سماع سنا تو پھانسی پر لٹکادونگا یا عین القضات کی طرح زندہ جلادونگا۔ آپ نے یہ خبر سن کر فرمایا کہ تم سلامت رہوگے تو ہمیں دار پر لٹکاؤ گے یا آگ میںجلاؤ گے۔ چنانچہ اُسی ماہ وہ دہلی سے خراسان چلا گیا اور سلطان شمس الدین التمش بادشاہ بن گیا۔ یہ بادشاہ جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا۔ حضرت اقدا کا بکمال صدق واخلاص معتقد و مرید تھا۔

لیکن قاضی صادق اور قاضی عماد جن کا شمار دہلی کے علماء میں ہوتا تھا۔ حضرت خواجہ قطب العالم سے مخالفت رکھتے تھ۔ انہوں نے بادشاہ کےپاس جاکر شکایت کی کہ خواجہ قطب الدین اور قاضی حمید الدین رات دن سماع سنتے ہیں۔ اور سماع شریعت میں رحرام ہے اور خواجہ قطب کی تو ابھی ڈاڑھی بھی نہیں نکلی یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ سماع سنتے رہیں۔ بادشاہنے کہا میں تو ان کو منع نہیں کر سکتا۔ تم جو کچھ جانتے ہو ان کو جاکر کہو۔ غرضیکہ قاضی صادق اور قاضی عماد حضرت خواجہ کی خدمت میں روانہ ہوئے۔ جب وہاں پہنچے تو مجلس سماع گرم تھی۔ قاضی حمید الدین حالتِ وجد میں تھے۔ اور حضرت خواجہ ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔ قاضی عماد نے حضرت خواجہ سے کہا کہ بے ریش کے لیے مجلس سماع میںشامل ہونا جائز نہیں ہے۔ حضرت اقدس نے بسم اللہ پڑھ کر دونوں ہاتھ اپنے منہ مبارک پر پھیرے تو اُسی وقت ڈاڑھی ظاہر ہوگئی۔ آپ نے فرمایا ہاں بے ریش کے لیے مجلس سماع میں حاضر ہونا جائز نہیں اور ہم تو اہل سماع ہیں۔ ہم سماع کو مباح سمجھتے ہیں۔ لوگوں نے جب آپ کی یہ کرامت دیکھی تو پہلے سے بھی زیادہ معتقد ہوگئے وہ دونوں معترض سیاہ دل دہشت زدہ ہوکر واپس چلے گئے۔ اور بادشاہ کے پاس جاکر واقعہ بیان کیا۔ یہ سن کر باداہ بھی پہلے سے زیادہ معتقد ہوگیا اور ان دونوں کو منع کیا کہ آئندہ ان کو منع نہ کرنا۔ لیکن انہوںنے کہا کہ ہم صاحبِ شریعت ہیں اورہمارے نزدیک سماع جائز نہیں ہے۔ اپ ہمیں قضا کا عہد دین کہ ہم ان کو سماع سے باز رکھ سکیں۔ بادشاہنے اس خیال سے کہ اُسے شریعت کے معاملہ میں قاصر نہ سمجھا جائے قاضی ادق کو منصب قضا اور قاضی عماد کو منصب سدر جہانی تفویض کیا۔ اس کے بعد انہوں نے حضرت خواجۂ اور قاضی حمید الدین ناگوری کو کہلا بھیجا کہ ہم قضا اور صدر جہان بن چکے ہیں تم ہماری عدالت میں حاضر آؤ۔ اور سماع کے جواز میں حجت شرعی پیش کرو۔ یا اس سے توبہ کرو۔ یہ بات سنتے ہی حضرت خواجہ قطب الاقطاب نے فرمایا اے گدھو کیا تم یہ چاہتے ہوکہ زندہ زمین میں دھنس جاؤ۔ قاضی حمید الدین نے حضرت اقدس کے منہ پر ہاتھ دیا (کہ بات مت کہیں) آپ نے فرمایا قاضی صاحب تیر نشانہ پر لگ چکا ہے۔ چنانچہ آپ نے جواب میں یہ کہلا بھیجا کہ کل ہمارے شیخ علیہ رحمہ کا عرس ہے۔ کل تک ہمیں مہلت دیں۔ پرسوں تمام علماء کو جمع کو۔ اگر ہم نے سماع کو جائز ثابت کردیا توسنتے رہیں گے ورنہ اس سے توبہ کریں گے۔ جب قاضی اور مفتی نے یہ بات سنی تو کہا کہ اچھا ہم نے مہلت دی۔ لیکن حضرت خواجہ قطب الدین اور قاضی حمید الدین کے سوا اور کوئی شخص سماع نہیں سُنے گا اس زمانے میںقلعہ دہلی کے دو دروازے تھے۔ ایک مشرق کی جانب اور دوسرا جنوب کی طرف اور ان دونوں بزرگوں کی خانقاہ قلعہ کے اندر تھی۔ قاضی صادق اور عماد نے دونوں اور دروازوں پر ایک ایک سو آدمی بیٹھادیئے۔ تاکہ کسیکو اندر نہآنے دیا جائے۔ جب یہ خبر حضرت خواجہ اور قاضی حمید الدین تک پہنچی تو فرمایا کہ کس کی مجال ہے کہ خلق خدا کو ہماری مجلس سے منع کرے۔ شاید قاضی صادق اور عماد اپنی ج ان سے تنگ آچکےہیں۔اور چاہتےکہ جلدی اس جہان سے کوج کریں۔ اس کے بعد قاضی حمید الدین ناگوری نے دوگانہ نماز ادا کر کے فرمایا کہ ابھی میرے بھائی شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی آرہے ہیں۔ اس وقت آپ مشرقی دروازے سے داخل ہورہے تھے۔ لیکن دربانوں کو خدا نے اندھا کردیا تھا۔ اسی طرح حضرت خواجہ قطب الاقطاب نےفرمایا برادرم شیخ جلال الدین تبریزی آرہے ہیں۔ وہ جنوبی دروازے پر پہنچ چکےتھے۔ ان کو بھی دربان نہ دیکھ سکے۔ اس کے بعد خلق خدا دونوں دروازوں سے داخل ہونے لگے لیکن نہ ان کو کسی نے نہ دیکھا نہ منع کیا۔ اس کے بعد مجلس سماع گرم ہوئی۔ اور اس قدر شور و غل پیدا ہوا کہ آواز قاضی صادق اور عماد کے کانوں تک پہنچ رہی تھی۔ انہوں ایک آدمی کو اس غرض سے بھیجا کہ حال معلوم کرے۔ آدمی نےجاکر دیکھا کہ اس قدر لوگ جمع ہیں کہ پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں ہے۔ اور مجلس سماع گرم ہے جب قاضی صادق اور عماد کو اس بات کا علم ہوا تو فوراً سپاہ لے کر موقعہ پر پہنچ گئے۔ تاکہ سماع سے سن کو منع کیا جائے۔ اس وقت حضرت خواجہ پر حالت طاری تھی۔ قاضی حمید الدین دست بستہ کھڑے تھے اور خلقت پر گریہ طاری تھی جب حضرت خواجہ قطب العالم کی نظر قاضی صادق اور عماد پر پڑی تو فرمایا اے سنگ دلو! وہیں رُک جاؤ۔ جونہی یہ بات آپ کی زبان مبارک سے نکلی۔ ان دونوں کے پاؤں اس طرح جم گئے کہ حرکت کرنےکی طاقت نہ رہی۔ اور جب تک حضرت اقدس سماع سنتے رہے وہ اسی طرح کھڑے رہے۔ جب حالت افاسقہ ہوا تو حضرت خواجہ نے ان دونوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اندر آجاؤ اور سماع کی لذب حاصل کرو تاکہ تمہارے دلوں میں حسرت نہ رہ جائے۔ آپ کی اس بات کا ان پر ایسا اثر ہوا کہ گریہ طاری ہوگیا اور سماع میں شامل ہوگئے۔شامل ہوتھے ہی ان پر وجد طاری ہوا اور دیر تک رقص کرتے رہے۔ جب افاقہ ہوا تو سر زمین پر رکھ کر کہنے لگے کہ واللہ! ہم رموز سماع سے آگاہ نہیں تھے۔ یہ حق تعالیٰ کی نعمتوں میں سے بڑی نعمت ہے۔ اور نا اہل اسے حرام کہتے ہیں۔ حضرت اقدس نے فرمایا اب اقرار سے کیا فائدہ جب تیر ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ چنانچہ پیشمانی کی حالت میں وہ دونوں بادشاہ کی دربار میں گئے اور تمام ماجرا بیان کیا۔ بادشہا نے ان کو ملامت کی اور اپنےنزدیک آنے منع کردیا۔ اسی سراسیمگی کی حالت میں وہ گھر گئے اور وہاں پہنچتے ہی مرگئے۔ جب اس بات کی بادشاہ کو اطلاع ہوئی تو کہنے لگا کہ حضرت خواجہ صاحب نےنہیں فرمایا تھا کہ گملوگ جان سےتنگ آکر اس جہان سے کوچ کرنا چاہتےہو۔ چنانچہ آپ نے جو کچھ کہا پورا ہوا۔ راقم الحروف کا خیال ہے کہ یہ حکایت بھی غرائیب سے خالی نہیں اور ضیعف معلوم ہوتی ہے۔ بلکہ اس کی کوئی اصل بھی معلوم نہیں ہوتی جیسا کہ کتب تواریخ، سوانح وملفوظات خواجگان چشت کے جاننے والوں سے مخفی نہیں ہے۔

سیر الاقطاب میں لکھا ہے۔ کہ ہندوستان میں سماع کی بنا قاضی حمید الدین ناگوری نے ڈالی۔ چنانچہ حضرت خواجہ عثمان ہارونی کے قول سے یہ بات ثابت ہے وہ اس طرح ہے کہ جب خلیفہ وقت نے آپ کو سماع سے منع کیا

اور آپ غالب آگئے تو مریدوں نے عرض کیا۔ کہ
حضور جب آپ کو اس قدر وقوت او تصرف باطنی حاصل ہے تو آپ سماع کی بنیاد کیوں نہیں رکھتے؟ آپ نے فرمایا کہ ہندوستان میں ایک مرد خدا پیدا ہوگا جس کا نام محمد اور لقب قاضی حمید الدین ناگوری ہوگا۔ وہ طریقت اور معرفت میں راسخ ہوگا اور سماع کی بنیاد ڈالے گا۔ اور وہ مرد سہروردی ہوگا۔ حبل طرح سہروردی حضرات سماع سے منع کرتے ہیں۔ سماع کی بن یاد بھی انہی سے قائم ہوگی۔ تاکہ چشتیوں کی ان کی ان کی قدر معلوم ہو۔

اس کتاب میں یہ بھی لکھاہے۔ کہ قاضی حمید الدین ناگوری قدس سرہٗ جب حضرت خواجہ قطب الاقطاب سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد اوش سے دہلی آرہےتھے۔ تو انکا گذر ایک ایسے مقام سے ہوا جہاں ایکپرندہ رہتا تھا جس کا نام طوننس تھا۔ اسے ککس بھی کہتے ہیں۔ اس پرندے کی چونچ میں ایک ہزار دو سو سوراخ تھے۔جب وہمست ہوتا تھا۔ تو وہ ہر سوراخ سے مختلف آوازیں نکالتا تھا۔ حضرت قاضی صاحب نے جب اس پرندے کی آوازسنی تو مست اور بے خود ہوکر وجد میں آگئے۔ اگر چہ وہ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی قدس سرہٗ کے مرید اور خلیفہ تھے۔ لیکن حضرت خواجہ معین الدین چشتی قدس سرہٗ کی صحبت کا اثر ان پر غالب آچکا تھا۔ اور کافی دیر تک اسی ذوق سماع میں مست رہے۔ جب افاقہ ہوا تو خواجہ خضر علیہ السلام پہنچ گئے۔ اور فرمایا اے حمید الدین یہ سماعجو آپ نے سنا ہے۔ تمام سابقہ مشائخ کبار نے سُناہے۔ شیخ جنید بغدادی نےسماع اس لیے ترککردیا تھا۔ کہ ان کو اخوان سماع نہیں ملے تھے۔ قاضی صاحب نے کہا میں خود بھی سماع کا شیفتہ ہوں۔ اور اگر قوال میسر آئیں تو ضرور مسنون ہوگا۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا، اےحمید الدینج ب سے شیخ جنید بغدادی نےسماع ترک کیا ہے۔ جو شخص بھی سنتا ہے۔ اسے پھانسی دے دیتے ہیں۔ اور تمام قوالوں کےلیے خلیفۂ وقت بہت المال سے وظائف مقررکردیئے ہیں۔ تاکہ بسر اوقات کرتےرہیں۔ اور کسی کی مجلس سماعکے محتاج نہ ہوں۔ لیکن شیخ جنید کے بعد خواجہ ناصر الدین ابو یوسف چشتی۔ خواجہ مودود چشتی۔ خواجہ حاجی شریف زندنی اور خواجہ عثمان ہارونی نے بہت سماع سُنا ہے۔ اور کسی کی مجال نہیں تھی کہ ان کو سماع سےمنع کرتا۔جب قاضی صاحب نے یہ بات سُنی تو خاموش ہوگئے۔ اور شہر میں آکر بازار سے سات غلام خریدے اور ہر ایک کو غزل خوانی سکھائی چنانچہ چند روز میں وہ ماہر فن ہوگئے۔ اس کے بعد قاضی صاحب نے متواتر سماع سننا شروع کردیا۔ یہ خبر سارے شہر میں مشہور ہوگئی۔ اور اس وقت کے علماء مثل قاضی سعد الدین، قاضی منہاج سراج، قاضی عماد، سید مبارک غنزوی اور مولانا مجد الدین وغیرہنےکہنا شروع کیا۔ کہ دیکھو قاضی حمید الدین اپنے مشائخ کے مسلک کےخلاف سماع سننا ہے۔ قاضی صاحب نے جب یہ بات سنی تو فرمایا کہ میں نے مشائخ چشت کا دامن پکڑا ہوا ہے۔ اور ان کی درگاہ کی خاکرو بی سے مجھے وہ نعمت عظیم ملی ہے۔ کہ شرح وبیان سے باہر ہے۔ میرے لیے ان کی پیروی فرض اور لازم ہے۔ کچھ عرصے کے بعد حضرت قاضی حمید الدین بغداد واپس چلے گئے۔ اور ایسے مرید کےہاں ٹھہرے جو صاحب حال تھے۔ ان کے گھر میں چالیس کمرے تھے۔ اور تمام کمرے قاضی صاحب کے حوالے کردیئے۔ سوائے ایک کمرے کے۔ جب قاضی صاحب نے پوچھا کہ یہ حجرہ کس لیے نہیں کھولا۔ تو اس نے کہا کہ اس حجرے میں ایک شخص رہتا ہے۔ جو نے نواز (بانسری بجانے والا) ہے میں نے خلیفہ وقت کے خوف سے اسے چھپا رکھا ہے۔ کیوں کہ خلیفہ جہاں بھی اہل سماع اور قوال کو دیکھتا ہے۔ قتل کردیتا ہے۔ قاضی صاحب نے فرمایا۔
بھائی میں سماع کا عاشق ہوں اسے لے آو اور کسی بات کا فکر مت کرو۔چنانچہ وہ مرید نےنواز کو قاضی صاحب کی خدمت میں لے آیا۔ آپنےفرمایا۔ کہ بانسری بجاؤ۔ جب اس نے حکم کی تعمیل کی تو قاضی صاحب پر حالت طاری ہوگئ۔ یہ باع علمائے شہر تک پہنچ گئی۔ ایک آدمی کو بھیجا۔ کہ قاضی حمید الدین کو محکمہ شریعت میں حاضرکرو۔ تاکہ وہ ہمارے ساتھ مناظرہ کرے۔ اگر ملزم ثابت ہوا تو اسے پھانسی دے دیجائے گی ۔ جب وہ آدمی قاضی صاحب کے مکان پر پہنچا تو دیکھا کہ آپ سماع میں مشغول ہیں۔ اس سے اس کے دل میں بڑی ہیبت طاری ہوئی۔ اور خاموش کھڑا ہوگیا۔ جب قاضی صاحب کو افاقہ ہوا تو اس نے علماء کا وہ پیغام سنایا۔ قاضی صاحب نے فرمایا۔ کہ سماع ہر شخص کے لیے حرام نہیں ہے بعض حضرات نے اسے حرام کہا ہے اور بعض نے جن پر عنایت ایزدی ہوئی ہے۔ سماع کو حلال قرار دیا ہ۔ یہ فرماکر چند قدم آگے بڑے اور پھر کھڑے ہوکر فرمایا۔ کہ اے عزیزی قاضی شہر اور تمام مفتی صاحبان سے جاکر کہہ دو۔ کہ کل تم علماء کو جمع کریں۔ یہ فقیر بھی پہنچ جائے گا۔ اگر یہ درویش اہل سماع ہے تو سماع سُنے گا۔ ورنہ جہاں اور لوگوں کو تختہ دار پر لٹکایا گیا ہے حمید الدین کو بھی لٹکادینا۔ اس شخص نے جاکر حقیقت حال بیان کی۔ اور سب لوگوں نے یہ بات قبول کرلی۔ اس کے بعد قاضی صاحب نے اپنے مرید سے فرمایا کہ کل تم قاضی شہر اور تمام علماء کو اپنے گھر پر دعوت دو۔ وہ مرید دولت ند آدمی تھا۔ اس نے سب کو دعوت دے دی۔ اس کے بعد قاضی صاحب نے فرمایا کہ چونکہ شہر میں قوال گم ہوچکے ہیں۔ جس قدر مضامیر (باجے) حاصل ہوسکیں جمع کرو۔ چنانچہ بہتر مزا امیر جمع ہوگئے۔ انہوں نےان مزا میر کو صحن خانہ میں رکھ کر اوپر کپڑا ڈال دیا۔ دوسرے دن شہر کا قاضی اور تمام علماء اس مرید کی دعوت پر پہنچ گئے۔ اور دریافت کیا۔ کہ حمید الدین کہاں ہے۔ جس نے یہ فتنہ برپا رکھا ہے۔ قاضی صاحب مجود تھے۔ انہوں نے کہا میں ہوں حمید الدین۔ جو سماع سنتا ہے اور اسے مباح کہتا ہے ۔ میں درد دلکا مریض ہوں۔ اور سماع اس درد کی دوا ہے۔ امام ابو حنیفہ کوفی رحمۃ اللہ علیہ نے مریض کے علاج کے لیے شراب کو بھی جائز قرار دیا ہے اسی طرح میرے لادا امرض کی دوا بھی سماع سرود ہے۔ پس سماع کا سننا میرے لیے مباح ہے۔ اور آپ کیلئے حرام ہے نیز امام شافعی نے بھی حزم دل کے دفعیہ کیلئے سماع سردو کو مباح قرار دیا ہے۔ غرضیکہ جب حضرت قاضی صاحب نے ان کو واضح عقلی و نقلی دلائل سے خاموش کردیا۔ اور وہ لاجواب ہوگئے۔ اور کہنے لگے۔ کہ اگر آپ اپنی ولایت کا کوئی ثبوت پیش کریں تو ہم معتقد سماع اور اہل سماع ہوجائیں گے۔ یہ سنتے ہی قاضی صاحب نے مزا میر کو اشارہ کیا اور ہر ایک باجہ خود بخود بجنے لگا۔ باجوں کا بجنا تھا کہ قاضی حمید الدین پر وجد طاری ہوگیا اور عین وجد کی حالت میں ایک نگاہ کرم علماء پر ڈالی اور فرمایا کہ آؤ سماع میں شامل ہوجاؤ۔ آپ کی دعوت کا اس قدر اثر ہوا کہ تمام علماء پر سماع میں شامل ہوتےہی وجد طاری ہوگیا اور کافی دیر تک ذوق و شوق کے عالم میں رقص کرتے رہے۔ جب افاقہ ہوا تو حضرت قاضی حمید الدین کے پاؤن پر گر پڑے اپنے کیے پر نادم ہوئے۔ اور سب نے اقرار کیا کہ واقعی سماع اہل سماع کیلئے مباح ہے۔

اس کے بعد حضرت قاضی صاحب دہلی کی طرف روانہہوئے۔ یہ حکایت بھی راقم الحروف کےنزدیک سقم اور ضعف سے خالی نہیں۔ جیسا کہ فن تاریخ اور سوانح مشائخ میں مہارت رکھنے والوں پر عیاں ہے۔

مراۃ لاسرار میں لکھا ہے۔ کہ قاضی حمید الدین ناگوری قدس سرہٗ سیر کرتے ہوئے سلطان شمس الدین التمش کے عہد حکومت میں دہلی پہنچے اور اس کےبعد حضرت خواجہ قطب الدین بختیار قدس سرہٗ کی صحبت میں داخل ہوگئے اور حیات و ممات میں اُن سے جدا نہ ہوئے۔

اس کتاب میں اخبار الاخیار سے یہ روایت بھی نقلکیگ ئی ہے کہ قاضی حمید الدین ناگوری حضرت خواجہ قطب الدین قدس سرہٗ کےخاص مصاحبین میں سے تھے۔ اگر چہ کہتےہیں کہ آپ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی قدس سرہٗ کے مرید و خلیفہ تھے۔ لیکن آپ نےمشرب میں سماع غالب تھا۔ آپ کے زمانے میں کسی شخص کو سماع میں وہ غلو نہیں تھا۔ جو آپ کو تھا چنانچہ علمائے وقت نے آپ کو محضر میں پابند کیا۔ جس کا بیان اوپر ہو چکا ہے۔

لطائف اشرفی<a href="#_ftn1" name="_ftnref1">[1]</a> میں آیا ہے۔ کہ حضرت خواجہ قطب الاقطاب نےخرقۂ خلافت حضرت قاضی حمید الدین ناگوری کو بھی عطا فرمایا تھا۔ اور یہ وجدو ذوق اسی نسبت چشتیہ کا نتیجہ ہے۔ نیز مراۃ الاسرار میں حضرت سلطان المشائخ سے روایت درج ہے کہ سلطان شمس الدین التمش کےعہد میں ایک درویش کےگھر پر مجلس سماع گرم تھی جس میں حضرت خواجہق طب الاقطاب قاضی حمید الدین اور دیگر بزرگ شامل تھے۔ سب لوگ سماع میںم شغول تھے۔ کہ شیخ علی شوریدہ سر پہنچ گئے۔ اور خواجہ قطب الاقطاب سے کہنے لگے کہ مولانا رکن الدینسمر قندی انے طالب علموں اور خدمت گاروں سمیت آرہے ہیں تاکہ آپ حضرات کو سماع سے باز رکھیں۔ قاضی حمید الدین نے صاحب خانہ سے کہا کہ آپ کسی جگہ چھپ جائیں اور جو شخص آپ کو بلائے ہر گز باہر نہ جانا۔ اگر کوئی شخص بلا اجازت گھر کے اندر داخل ہوا تو پھر وہ مجرم ثابت ہوگا۔ یہ کہہ کر سماع میںمشغول ہوگئے۔ مولانا رکن الدین نے آکر صاحب خانہ کو طلب کیا لیکن وہ باہر نہ آئے۔ ناچار ان کو واپس جانا پڑا۔

اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے۔ کہ شیخ نصیر الدین اودھی (چراغدہلی) قدس سرہٗ فرماتے ہیں کہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار اوشی قدس سرہٗ کےوصال کے بعد دہلی میں خشک سالی واقع ہوئی۔ اور غلہ بے حد مہنگا ہوگیا۔ اور لوگ مرنے لگے۔یہ دیکھ کر سلطان شمس الدین التمش نے حضرت قاضی حمید الدین اور دیگر درویشوں سے گذارش کی کہ توجہ فرمائیں تاکہ باران رحمت ہو۔ قاضی حمید الدین نے جواب میں کہلا بھیجا کہ مجلس سماع آراستہ کرو تاکہ درویش ذوق سماع میں مشغول ہوں اور حق تعالیٰ باران رحمت نازل فرمائے۔ چنانچہ بادشاہ نے حکم کی تعمیل کرتےہوئے مجلس سماع کرائی تو بارش شروع ہوگئی۔ اس کتاب میں حضرت سلطان المشائخ سے یہ روایت بھی درج ہے کہ قاضی حمید الدین ناگوری حضرت خواجہ قطب الدین قدس سرہٗ کے وصال کے بعد دسل سال زندہ رہے۔ اور ماہ رمضان کی پانچویں شب تراویح اور وترادا کرنے کے بعد آپ نے سر سجدے میں رکھا اور جان حق تعالیٰ کے مشاہدہ میں تسلیم کردی۔آپ کا وصال ۶۴۳؁ھ میں سلطان ناصر الدین بن سلطان شمس الدین التمش کےعہد میں دار الخلافہ دہلی میں واقعہ ہوا۔ اور آپ کی وصیت کے مطابق آپ کو حضرت خواجہ قطب الدین بختیار قدس سرہٗ کی پائنتی میں دفن کیا گیا۔

میر سید محمد جعفر مکی اپنی کتاب بحر المعانی میں لکھتےہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روحانیت نے حضرت خواجہ قطب الاقطاب کو عالم معاملہ میں سماع کا حکم فرمایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ شب وروز سماع میں مشغول رہتے تھے۔

اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ جس دن حضرت خواجہ قطب الدین بختیار حضرت خواجہ بزرگ کی اجازت سے دہلی تشریف لائے تو سید مبارک غزنوی جو دہلی کے اکابر میں سے تھے۔ نے جامع مسجد دہلی میں جمعہ کےدن آپ سے ملاقات کی آپنے سید مبارک سےکہا کہ میری خواہش ہے کہ اس شہر میں سماع سنوں اور آپ بھی شامل ہوں۔ انہوں نے جواب دیا کہ جب تک مجھے حضرت رسالت پناہ صلی اللہ سے اجازت نہ ہوگی حاضرنہ ہوں گا۔ حضرت کواجہ قطب الاقطاب نے فرمایا۔ کہ آج رات آپ کو اجازت مل جائے گی۔ چنانچہ یہی ہوا۔ کہ رات کو آنحضرتﷺ نے کواب میں سید مبارک سے فرمایا کہ اے فرزند قطب الدین بختیار سماع سنیں گے۔ تم بھی ان کی مجلس میں شامل ہوجانا سماع منعقد ہوئی۔ پس اس سے سمجھ لینا چاہئے۔ کہ جس چیز کی جناب رسالت پنہا نے اجازت فرمائی ہے۔ وہ کیوں نہ روز بروز ترقی کرے۔

حضرت شاہ اشرف جہانگیر صمدانی قدس سرہٗ اپنے مکتوبات میں فرماتے ہیں کہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار اوشی جب دوران سفر ملتان پہنچے اور ایک مسجد میں قیام فرمایا۔ تو حضرت شیخ بہاؤ الدین ذکریا کو نور فراست سے اس بات کا علم ہوگیا۔ چنانچہ آپ نے حضرت خواجہ کی طرف ایک خادم بھیجا۔ اس وقت آپ وضو فرمارہے تھے۔ خادم نے دیکھا کہ زمین پر پانی کا کوئی قطرہ نہیں گرنے پاتا تھا۔ بلکہ ملائکہ طبقول میں لے کر آسمان کی طرف چلے جاتے تھے۔ ایک اور روایت میں آیا ہے۔ کہ جس وقت حضرت خواجہ وضو فرماتےتھے۔ آپ کےاعضا سے جو پانی کےقطرےنیچے گرتےتھے۔ موتی بن جاتے تھے۔ اور ملائکہ ان کو خوانچوں میں بھر کر اوپر لے جاتے تھے۔ بہر حال خادم نے جو کہ اہل بصیرت تھا۔ جب یہ معاملہ دیکھا تو واپس جاکر حضرت شیخ سے بیان کیا۔ حضرت شیخ بہاؤ الدین دو پالکیاں لے کر حضرت خواجہ علیہ رحمت کی خدمت میں پہنچے۔ ان میں سے ایک پالکی حضرت شہاب الدین سہروردی سےملی تھی۔ ایک پالکی پر خود سوار ہوئےاور دوسری پالکی پر جو حضرت شیخ الشیوخ سےملی تھی۔ حضرت خواجہ قطب الاقطاب کو سار کر کے اپنی خانقاہ میں لائےاور نہایت ہی شاندار ضیافت کا انتظامکیا۔ جس میں ہر قسم کے کھانے موجود تھے۔ طعام کے بعد حضرت خواجہ قطب الاقطاب نے تبسم کر کے فرمایا۔ کہ بھائی بہاؤ الدین آپ نے دعوت تو دی لیکن خشک تھی۔ حضرت شیخ بہاؤ الدین سمجھ گئے۔ کہ آپ کی مراد سماع سے ہے۔ آپ نےفوراًقوالوں کو طلب فرمایا۔ اور حضرت خواجہ صاحب کے حوالے کر کے خود عصا ہاتھ میں لے کر خانقاہ کےدروزہ پر کھڑے ہوگئے جب سماع کی مجلس گرم ہوئی اور ھا وھو کےنعرے بند ہوئے اور درویش وجد و رقص میں مشغول ہوئے تو اس بات کی خبر سلسلہ سہروردیہ کے درویشوں تک پہنچ گئی۔ انہوں نےموقع پر پہنچ کر حضرت شیخ بہاؤ الدین سے شدت سے کہا کہ ملتان کی خانقاہ میں پانچ سو ۵۰۰ سال کے بعد شریعت کی مخالفت کی گئی ہے۔ حضرت شیخ نے فرمایا۔ کہ تم عجیب لوگ ہوکہ جس چیز کی دربانی بہاؤ الدین کر رہا ہے۔ اسے تم خلاف شرع کہہ رہے ہو۔ غرضیکہ کافی گفت وشنید کے بعد حضرت شیخ بہاؤ الدین نےفرمایا کہ اگر تم سے ہوسکتا ہے تو جاؤ اور درویشوں کو منع کرو۔ وہ لوگ غصے سے بھرے ہوئے خانقاہ کے اندر داخل ہوئے تاکہ درویشوں کو سماع سے منع کریں۔ لیکن جونہی اندر داخل ہوئے۔ آتش عشق ان کےدلم یں ایسی شعلہ زن ہوئی۔ او چشتیوں کی صحبت نے ان پر ایسا اثر کیا۔ کہ انپر بھی وہی حالت طاری ہوگئ۔ اور ہوش و حواس گم کر بیٹھے

رباعی

چناں در گرفت آتش تیر تر!
کہ از خشک وتردر زماں سوختہ
سوزندۂ آتش کہ بر زد فرد
چہ خشکے کہ ترہم بر افروختہ
آتش عشق نے ایسا کام کیا کہ خش اور تر کو اس وقت جلادیا۔ آتش عشق نے ایسے شعلے بلند کیے کہ خش و تر جو بھی تھا سب جل کر راکھ ہوگیا۔

اس کےبعد جب ان کی حالت میں افاقہ ہوا۔ تو وہی لوگ جو سماع کی بندش کےلیے آئے تھے۔ ذوق شوق میں سر گرم ہوگئے اور وہ لوگ جو مرید ہوچکے تھے۔ خلافت کےحقدار ہوئے۔ اور جو مرید نہیں ہوئے تھے انہوںنے مرید ہونے کی درخواست کی۔ حضرت خواجہ قطب الاقطاب نے فرمایا۔ کہ جسےکچھ حاصل کرنا ہے ہمارےساتھ ہوجائے۔ چنانچہ وہ سب لوگ مقام ہانسی تک آپ کے ہمراہ چلے آئے۔ہانسی پہنچ کر آپ نے فرمایا کہ ملتانی بھائیوں میں سے جو شخص مرید ہونے یا خلافت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تو سانے آئے اور اپنا مقصود حاصل کرے۔ مارے ہانسی آنے کا سبب یہ تھا۔ کہ خطۂ ہانسی ولایت اکابر چشتیہ وسہروردیہ کی سرحد ہے۔ اس سے قبل مرید کرنا یا خلاف دینا ادب کے خلاف تھا۔

سیر العارفین میں لکھا ہے کہ سلطان شمس الدین التمش کا مدت سے ارادہ تھا کہ شہر کے قریب ایک حوض تعمیر کیا جائے تاکہ خلق خدا کو آرام پہنچنے ایک رات اس نے خواب میں دیکھا۔ کہ حضرت رسالت پناہﷺ ایک مقام پر سوار ہوکر کھڑے ہیں۔ اور فرمارہے ہیں کہ اے شمس الدین کہ اگر خلق خدا کے فائدے کےلیے حوض بنانا چاہتےہو تو یہاں بناؤ۔ جہاں میں کھڑا ہوں۔ جب بادشاہ نیند سے بیدار ہوا۔ تو اسے وہ مقام یاد نہ رہا۔ پریشان کی حالت میں اس نے حضرت خواجہ قطب الاقطاب کی خدمت اقدس میں کہلا بھیجا کہ میں نے رات خواب دیکھا ہے۔ اگر اجازت ہو تو حاضر ہوکر عرض کروں۔ آپ نے فرمایا ہاں آجاؤ۔ مجھے معلوم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بادشاہ کو حوض کی تعمیر کا اشارہ فرمایا ہے۔ میں وہاں جاتا ہوں جہاں آنحضرت سوار ہوکر کھڑے تھے بادشاہ سے کہو کہ فوراً وہاں پہنچ جائے۔ چنانچہ حضرت خواجہ قطب الاقطاب نے ا مقام پر پہنچ کر دوگانہ نفل ادا کیا۔ اس اثنا میں بادشاہ بھی وہاں پہنچ گیا۔ اور اس جگہ کو دیکھ کر پہچان لیا۔ نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےگھوڑے کے سم کا نشان بھی وہاں موجود تھا۔ اور اس قسم کے نشان سے قدرے پانی بھی نکل رہا تھا۔ چنانچہ بادشاہ نے وہاں حوض تعمیر کرایا اور آنحضرت کے گھوڑے کے سم کے نشان پر اس نے ایک گنبد ترمیر کیا۔ سبحان اللہ۔ عجب پر فیض مقام ہے۔ اور اس وقت کئی اولیائے کرام کےمزار وہاں موجود ہیں۔ اکثر اوقات حضرت خواجہ قطب الاقطاب اور قاضی حمید الدین اس مقام پر جاکر مشغول ہوتے تھے۔ اور خضر علیہ السلام اور دیگر مردان غیر کے ساتھ صحبت ہوتی تھی۔ بعض ملفوظات میں اس فقییر نے یہ بھی لکھا دیکھا ہے۔ کہ جو شخص حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت سے مشرف ہونا چاہئے۔ تو اسے حوض شمسی اور پرانی عیدگاہ کے پیچھے عبادت و شغل باطن میں مشغول ہونا چاہئے۔ خصوصاً مراقبہ خجر میں۔ کیونکہ یہ دونوں مقامات حضرت خضر علیہ السلام کی حضوری کے مقامات ہیں۔ اور حضرت قطب الاقطاب اور قاضی حمیدالدین ناگوری عیدگاہ کہنہ کے پیچھے اکثر مشغول ہوا کرتےتھے۔ اور عالم ارواح کےعجائب و غرئاب کا مشاہدہ کرتےتھے۔ اور اب بھی جو شخص دین یا دینوی مقاصد کے لیے ان دو مقامات پر شغل باطن اور اسمائے اوعیہ میں مشغول ہو تو اس کی مراد پوری ہوگی۔ لیکن حضرت خواجہ قطب الدین قدس سرہٗ کے مزار مبارک پر مشغول باطن ظاہر و باطنی مقاصد کے حصول کے لیے کبریت (تریاق) یا (کیمیا )کا اثر رکھتی ہے۔ چنانچہ کاتب حروف بھی ایک دن مزار مبارک پر مشغول تھا۔ کہ یکا یک بے خودی کا عالم طاری ہوگیا۔ اور ایسا معلوم ہوتا تھا۔ کہ حضرت اقدس کا مزار مبارک پھٹ گیا ہے۔ اور اندر سے آپ کی روحانتی نکل کر کھڑی ہوگئی ہے۔ اس کےبعد اولیائے کرام جوق در جوق آنا شروع ہوئے۔ حتیٰ کہ مزار شریف کا سارا علاقہ پُر ہوگیا۔ اس وقت اس فقیر نے یہ دیکھا کہ حضرت اقدس کی دائیں آنکھ میں صورت احمدی اور بائیں آنکھ میں سورت محمدی اور پیشانی میں کمالات صور محمدی واحمدی کی جامعہ صورت نظر آرہی ہے۔ اس وقت حضرت اقدس نے اس فقیر کی جانب متوجہ ہوکر فرمایا۔ کہ میری دائیں آنکھ میں جو صورت دیکھ رہے ہو۔ مرتبہ قطب مدارکی شکل ہے۔ بعض اولیاء اس صورت سےفیض حاصل کرتےہیں۔ اور بائیں آنکھ میں جو صورت دیکھ رہے ہو یہ مرتبہ فردیت و قطب حقیقت کی شکل ہے۔ بعض اولیاء اس صورت سےفیض حاصل کرتے ہیں۔ اور جو صورت میری پیشانی میں ہے۔ یہ حقیقت محمدی اور مقام محبوبیت کی صورت ہے۔ اس صورت سے بہت کم اولیاء فیض حاصل کرتے ہیں۔ یعنی وہ اولیاء اللہ جن کو ولایت محمدی اور فنائے محمدی حاصل ہے۔ میں نے حق تعالیٰ سےتمہارےلیے اس صورت کے فیض کی درخواست کی ہے انشاء اللہ حاصل ہوگا۔ ان تینوں صورتوں کےحسن و جمال کا یہ عالم تھا کہ اگر اس کا ایک ذرہ برابر بھی اس جہان میں ظاہر ہو تو غلبۂ شوق سےتمام کائنات مرجائے۔ اس کے بعد حضرت اقدس نے اس فقیر کو نور صفات کا ایسا گلدستہ عطا فرمایا جس پر سورہ اخلاص منقش تھی اور دوسرا نور ذات کا گلدستہ عطا فرمایا جو صورۃ مزمل سے مزین تھا۔ اس کے بعد فرمایا یہ دونوں گلدستے نسب عاشقی و معشوقی کی صورتیں ہیں جو میں نے تجھے بخشی ہیں۔ علاوہ ازیں آپ نے اس فقیر کو تین شغل تلقین فرمائے۔ جن میں سے ایک کا نام بار قتہ الالنوار ہے۔ دوسرے کا نام خشام الاسرار ور تیسرے کا نام معدن محبت ہے۔ اس کے بعد حضرت اقدس کی توجہ باطنی سےاس فقیر پر عالم ذاتیہ کے اسرار منکشف ہوئے۔ کہ اگر اس کا ایک ذرہ بھی ظاہر ہوجائے تو کائنات زیروزبر ہوجائے یہی وجہ ہے کہ اس کے متعلق مزید کچھ نہیں لکھا جاتا۔ اس نیاز مند کو حضرت خواجہ قطب الاقطاب کےساتھ روحانی طور پر نسبت اویسی حاصل ہے۔ اور آناً فاناً حضرت اقدس کی روحانیت سے اس فقیر کو فیض پہنچ جاتا ہے۔ اور یہ نیاز مند تمام ظاہری اور باطنی امور میں ہمیشہ حضرت اقدس کی طرف رجوع کرتا ہے اور حضرت اقدس کی اعانت سے مسلسل فیضیات ہوتا ہے اس نعمت کا شکر کس زبان سےادا کیا جائے۔ الحمد لللّٰہ علی ذالک۔

کتاب مراۃ الاسرار میں سیر العارفین سے نقل ہے۔ کہ آخر عمر میں حضرت خواجہ قطب الدین بختیار قدس سرہٗ دہلی میں متاہِل ہوئے۔ اور دو فرزند وجود میں آئے۔ ایک کا اسم گرامی شیخ احمد ہے۔ جو آپ کے پہلو میں دفن ہیں آپ بڑے صاحب کمال بزرگ تھے۔ اور عام طور پر آپ کو خواجہ احمد تماچی کہتےتھے۔ آپ حضرت سلطان المشائخ کے زمانے تک زندہ رہے۔ دوسرے کا اسم گرامی شیخ محمد ہے۔ جو ایام طفلی میں رحلت فرماگئےتھے۔

روایت ہے کہ حضرت خواجہ قطب الاقطاب پر اکثر استغراق طاری رہتا تھا۔ جب کوئی شخص زیارت کے لیے حاضر ہوتا تھا تو آپ کو دیر کے بعد اس کی خبر ہوتی تھی۔ اور اس کی خاطر ایک دو باتیں کر کے رخصت کردیتے تھے۔ اور اس کی معذرت بھی کردیتے تھے۔ فنائے احدیت میں آپ اس قدر مستغرق تھے۔ کہ اپنےفرزند کی وفات کی بھی آپ کو خبر نہ ہوسکی۔ کتاب سیر الاولیاء میں حضرت سلطان المشائخ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ عید کے دن حضرت قطب الاقطاب عید گاہ سے واپس آتے ہوئے۔ اس مقام پر پہنچےجہاں اب روضۂ اقدس ہے۔ اس وقت وہاں کوئی قبر وغیرہ نہیں تھی۔ آپ اس مقام پر کھڑے ہوگئے اور دیر تک سوچتے رہے۔ مریدین نےعرض کیا کہ حضور آج عید کا دن ہے۔ مخلوق خدا انتظار کر رہی ہوگی۔ بہتر ہے کہ آپ گھر تشریف لےچلیں۔ آپ نےفرمایا کہ مجھے اس زمین سےعشق کی بو (بوئے دلہا) آرہی ہے۔ چنانچہ آپ نےمالک زمین کو بلاکر اپنے مدفن کے لیے زمین خرید کرلی۔ یہ بات کہہ کر حضرت سلطان المشائخ آبدیدہ ہوگئے اور فرمایا کہ جیسا کہ حضرت اقدس نے فرمایا تھا۔ کہ اس زمین سے عشق کی بو آتی ہے۔ سبحان اللہ کیسے کیسے بزرگ وہاں مدفون ہیں اور خلق خدا کو فیض پہنچارہے ہیں۔

کتاب مرأۃ الاسرار میں لکھا ہے کہ کتاب دلیل العارفین سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ اخر وقت میں حضرت خواجہ قطب الاقطاب حضرت خواجہ بزرگ کی زندگی م یں ایک مرتبہ اجمیر شریف گئے تھے۔ اور وہاں سے رخصت ہوکر جب دہلی پہنچے تو بیس دن کے بعد حضرت خواجہ غریب نواز رحلت فرماگئے۔ اس کےبعد حضرت صاحب قطب کچھ عرصہ زندہ رہے۔ اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت خواجہ گنج شکر فوائد السالکین میں لکھتے ہیں۔ کہ ایک دفعہ حضرت خواجہ قطب الاقطاب کی زیارت نصیب ہوئی۔ ہمارے بہت سے دوست مثل قاضی حمید الدین ناگوری، سید نور الدین مبارک اور مولانا علاؤ الدین کرمانی وغیرہ جن کے لیے عرش سے تحت السریٰ تک کوئی حجاب نہ تھا۔ حضرت اقدس کی مجلس میں حاضر تھے۔ حج کا ذکر ہورہا تھا۔ حضرت قطب الاقطاب نے فرمایا کہ بعض خدا تعالیٰ کےایسے بندےہیں جو اپنے گھر میں بیٹھے ہوتے ہیں اور خانہ کعبہ کو حکم ہوتا ہے۔ کہ وہاں جاکر ان کا طواف کرے۔ یہ بات سنکر حاضرین مجلس پر بیہوشی کا عالم طاری ہوگیا۔ اس وقت ہم سب نے اپنی آنکھوں سے کعبہ کی زیارتکی اور طواف کی تمام شرائط بجالائے اس کےبعد ہاتف نے آواز دی کہ اے عزیزان ہم نےتمہارا حج قبول کیا۔ جب فارغ ہوئے۔ تو اس دعا گونے اٹھ کر اپنا سر زمین پر رکھا اور ہانسی جانے کی اجازت طلب کی۔ حضرت اقدس دعا گو کو دیکھ کر آبدیدہ ہوگئے۔ اور فرمایا کہ بابا فرید تم جانا چاہتے ہو؟ میں نے دوبارہ سر زمین پر رکھ کر عرض کیا کہ جیسے فرمان ہو۔ آپ نےفرمایا اچھا جاؤ مقدر میں یہی لکھا ہے کہ تم میرے آخری سفر کےوقت میرے ساتھ نہیں ہوگے۔ جس طرح کے میں حضرت خواجہ بزرگ قدس سرہٗ کے وصال کے وقت حاضر نہیں ہونگے اسکے بعد حضرت اقدس نے یاران مجلس کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اس درویش یعنی خواجہ گنج شکر کی دینی۔ دنیاوی اور فقر کی نعمت کے لیے سورۃ فاتحہ اور اخلاص پڑھو۔ فاتحہ کے بعد آپ نے مصلیٰ اور عصا دعا گو کو عطا فرمایا۔ اور فرمایا کہ ایک دوگانہ پڑھو۔ میں نے حکم کی تعمیل کی۔اس کے بعد فرمایا کہ میں تیری امانت یعنی سجادہ۔ دستار، خرقہ، اور نعلین قاضی حمید الدین ناگوری کے سپرد کردوں گا۔ جو میرے انتقال کے چوتھے۔ یا پانچویں دن تم کو دے دیں گے۔ تم ان کو لے لینا اور ہمارا مقام تمہارا مقام ہے۔ جب خواجہ قطب الاقطاب نے یہ بات فرمائی تو مجلس میں نعرہ بلند ہوا۔۔ اس کے بعد جب فرمایا کہ مرید کو چاہئے کہ اپنے مشائخ کی سنت پر چلتا رہے۔ اور ذرہ بھر تجاوز نہ کرے تاکہ کل قیامت کے دن ان کے سامنےشرمندہ نہ ہو، اس کے بعد اس دعا گو سے بغلگیر ہوکر فرمایا۔

ھَذا فراقٌ بینی بینک
یہ ہمارے درمیان فراق کا وقت ہے۔
پھر فرمایا کہ جاؤ تمہیں خدا کے سپرد کیا۔ اور تمہارے مقام پر پہنچادیا۔ اس دعا گو نے دوبارہ سر زمین پر رکھا اور ہانسی کا سفر اکتیار کیا۔

حضرت خواجہ قطب الاقطاب کے کمالات اور کرامت اس قدر ہیں۔ کہ اس مختصر کتاب میں ان کی گنجائش نہیں۔ سیر الاقطاب میں لکھا ہے۔ کہ اختیار الدین صاحب نےکچھ نقدی نیاز حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کی تو آپ نےق بول نہ فرمائی انہوں نےبہت منت سماجت کی کہ اس میں سے کچھ قبول فرمالیں تو آپ نے جس بویے پر تشریف رھتےتھے اس کا کونہ اٹھایا۔ اور فرمایا کہ دیکھو کیا دیکھتے ہیں کہ سونے کےسکون کی ایک نہر بہہ رہی ہے۔ یہ دیکھ کر وہ حیران ہوئے تو حضرت خواجہ نے فرمایا۔ جس شخص کو حق تعالیٰ نے یہ تصرف عطا فرمایا ہے۔ اسے تمہاری نذر و نیاز کی کیا ضرورت ہے۔

اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے۔ کہ ابتدائے حال میں حضرت خواجہ قدس سرہٗ خضر علیہ السلام کی صحبت کے لیے ایک مسجد میں نماز اور وظائف پڑھا کرتےتھے۔ ایک دنمردان غیب میں سے ایک روشن جبین نوجوان نمودار ہوا۔ او سلام کر کے کہا کہ اس مسجد میں کس بات کےلیے آپ مشغول بیٹھےہیں۔ آپ نےفرمایا اس وجہ سے کہ خضر علیہ السلام سےملاقات ہوجائے۔ اس نے کہا۔ آپ دنیا کےلیے یا دین کے لیے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ آپ نےجواب دیا۔ ان دونوں مطالب میں مجھے کس کی خواہش نہیں ہے۔ میںانہیں محض خدا تعالیٰ کے لیےدوست رکھتا ہوں۔ اس وقت حضرت خضر علیہ السلام پہنچ گئے۔ اور حضرت خواجہ کے ساتھ بیٹھے رہے۔

اس کےبعد بھی اکثر حضرت خواجہ علیہ الرحمۃ کے ساتھ صحبتیں رہتی تھی اور آخر میں تو حضرت خواجہ صاحب علیہ الرحمۃ کا یہ مقام ہوگیا تھا۔کہ مہتر خضر علیہ السلام باہا آپ کی ملاقات کےلیے آتےتھے۔ اور باریابی نہیں ہوتی تھی۔

کتاب مراۃ الاسرار میں لکھا ہے۔ کہ حضرت سالار مسعود غازی کو حضرت قطب الاقطاب کی روحانیت سے بہت فیض پہنچا۔ جیسا کہ ان کو حضرت خواجہ بزرگ کی روحانیت سے پہنچا تھا۔ بلکہ حضرت خواجہ قطب الاقطاب کی نیابت اور حکم سے حضرت سالار مسعود نےخلق خدا کو بہت فیض پہنچایا اور امداد کی۔ چنانچہ میر سید سلطان کے ملفوظات میں لکھا ہے کہ وہ کافی سفر کے بعد حضرت خواجہ علاؤ الدین چشتی قدس سرہٗ کی اجازت سے بارہ سال تک دہلی میں حوض شمسی کےکنارے پر کہنہ قبرستان کے وسط میں حضرت خواجہ قطب الاقطاب کے آستانہ سے متصل ریاضات و مجاہدات کرتے رہے۔ ایک دن ایک قبر کے رہانے مشغول بیتھے تھے دیکھا کہ ایک بیمار آدمی جو مرض برض میں مبتلا تھا۔ راستے میں جارہا ہے۔ اس وقت اچانک ایک نہایت خوبصورت جوان گھوڑے پر سوار ظاہر ہوا۔ اس نے اس بیمار کو کوڑے لگانا شروع کیے۔ جس سے وہ زمین پر گر پڑا۔ جی بیمار نے بہت ہاتھ پاؤں مارےلیکن وہ سوار اسی طرح کوڑے مارتا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ اس کا چمڑا جسم سے جدا ہوگیا۔ اور تازہ اور نیا چمڑہنکل آیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ بیمار ہی نہیں تھا میر سید سلطان یہ واقعہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔ اور اس جوان کےہاں جاکر واقعہ دریافت کیا۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس مریض نے حضرت خواجہ قطب الاقطاب کے آستانہ پر جاکر التجا کی تھی اور حضرت اقدس نے مجھے حکم فرمایا تھا۔ چنانچہ میں نے یہاں پہنچ کر اسے بیماری سےنجات دلائی ہے۔ اس کے بعد انہوں نےپوچھا کہ آپ کس جماعت سے تعلق رکھتےہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سالار مسعود کہتےہیں اور میرا مقام وڑائچ ہے۔ اور لوگوں کی امداد کرنا میرا کام ہے یہ کہہ کر وہ گم ہوگئے۔

مراۃ الاسرار میں سیر العارفین سے یہ روایت بھی نقل کی گئی ہے کہ حضرت سلطان المشائخ قدس سرہٗ نےفرمایا کہ ایک دن شیخ علی سنجری کی خانقہ میں مجلس سماع ہورہی تھی۔ درویشان صاحب حال واہل کمال حاضر تھے۔ حضرت قطب الاقطاب بھی وہاں تشریف فرما تھے۔ قوال شیخ احمد جام قدس سرہٗ کی یہ غزل گارہے تھے۔؎

کشتگان خنجر تسلیم را
ہر زمان از غیب جان دیگر است
اس شعر پر حضرت خواجہ قطب علیہ رحمۃ پر حال طاری ہوگیا۔ اور ہوش حواس مطلقاً جاتےرہے۔ شیخ احمد عطا عرف قاضی حمید الدین ناگوری اور شیخ بدر الدین غزنوی، حضرت خواجہ علیہ رحمۃ کو گھر پر لے آئے۔ قوال بھی ساتھ چلے آئےاور تین شبانہ روز تک آپ پر وہی حال طاری رہا۔ قوالوں کو اسی ایک شعر کا حکم فرماتے رہے اور وجد کرتےرہے۔ اس سےآپ کی ہڈیاں بے جا ہوگئیں تیسرے دن استغراق کا غلبہ اور بھی بڑھ گیا۔ تو قاضی حمید الدین اور شیخ بدرالدین نے عرض کیا کہ آپ کے خلفاء میں سے آپ کا سجادہ نشین کون ہوگا۔ آپنے فرمایا کہ دستار، خرقہ، مصلے نعلین چوبیں جو حضرت خواجہ بزرگ سے مجھے ملے وہ شیخ فرید الدین مسعود کو پنچادینا۔ وہی ہمارا سجادہ نشین ہے۔ یہ فرمایا اور جان مشاہدہ حق میں تسلیم کردی۔ سیر الاقطاب میں حضرت اقدس کے وصال کا قصہ یوں درج ہے۔ کہ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے آپ تین دن متواتر وجد کرتےرہے۔ اس کے بعد آپ کے ہر بال سے صدائےاللہ، اللہ، سنائی دیتی تھی اور ہر بال سےخون کے قطرے نکل رہے۔ اور جو قطرہ خون کا نکلتا تھا۔ اس سےزمین پر نقش اللہ پیدا ہوجاتا تھا۔ اور اس نقش سے اللہ، اللہ کی آواز بھی سنائی دیتی تھی۔ دوسرے دن آپ کے ہر بال سے سبحان اللہ کی آواز سنائی دیتی تھی۔ اور خون کے جو قطرے گرتے تھے ان سے لفظ سبحان اللہ لکھا جاتا تھا۔ اور ہر لفظ سے سبحان اللہ کی آواز بھی سنائی دیتی تھی۔ لیکن اس عرصے میں آپ کی کوئی نماز فوت نہ ہوئی۔ اور آپ شب وروز سماع میں مستغرق رہے۔ جس وقت قوال پہلا م صرعہ پڑھتے تھے تو آپ کا وصال ہوجاتا تھا۔ جب دوسرا مصرع پڑھتےتھےتو آپ زندہ ہوکر رقص کرنے لگے تھے۔ آخر ۱۴ ماہ ربیع الاول ۶۳۵؁ھ بوقت چاشت آپ نے قوالوں کو مصرع ثانی پڑھنے سے منع فرمادیا۔ اور نعرہ مارکر جان عزیز جمال دوست کے سامنے قربان کردی لیکن سیر الاقطاب کی یہ روایت ضعف اور سقم سے خالی نہیں۔ معناً وصورتاً جیسا کہ اہل ذوق وعرفان سے مخفی نہیں۔

مراۃ الاسرار میں لکھا ہے کہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیارہ قدس سرہٗ کا وصال شب دو شنبہ بتاریخ ۱۴ماہ ربیع الاول ۶۳۳؁ھ کو اور دوسری روایت کے مطابق ۶۳۵؁ھ مین سلطان التمش کے زمانے میں ہوا۔ اس وقت آپ کی عمر پچاس۵۰ برس تھی۔ ایک اور روایت کے مطابق ۵۲ سال اور تیسری روایت کے مطابق ۴۷ سال تھی۔ ایک روایت کے مطابق آپ کی عمر ۳۰ سال بھی پوری نہ ہوئی تھی۔ آپ کا مدفن حوض شمسی کے قریب دہلی میں ہے۔ سیر الاقطاب کے نزدیک دوسری روایت صحیح ہے۔ سیر الاقطاب موجود تھے۔ مولانا بو سعید نے کہا کہ خواجہ صاحب نے فرمایا تھا۔ کہ میری نماز جنازہ وہ شخص پڑھائے۔ کہ جس سے حرام صادر نہ ہوا ہوا۔ اور نمازِ عصر سے پہلے سنت اور تکبیر اولیٰ بھی فوت نہ ہوئیہو۔ شمس الدین التمش کافی دیر تک خاموش کھڑے دئیں بائیں دیکھتے رہے۔ تاکہ اس صفت کا کوئی بزرگ سامنے آجائے۔ لیکن کوئی شخص باہر نہ آیا۔ ناچار بادشاہ نے خود باہر آکر کہا۔ کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے حال سے کوئی شخص مطلع ہو۔ لیکن چونکہ حضرت شیخ کا یہی حکم ہے۔ میرے لیے اس کےسوا کوئی چارہ نہیں رہا چنانچہ انہوں نےنماز جنازہ پڑھائی اور اپنی طرف سے کندھا لگاکر جنازہ اٹھایا۔ اور دوسری طرف سےتین اکابر اولیاء جنازہ اٹھارہے تھے۔ اسی طرح مدفن تک لےگئے اور دفن کردیا۔

شیخ بدر الدین غزنوی فرماتے ہیں کہ حضرت خواجہ رحمہ اللہ علیہ کےوصال کی رات مجھ پر ذرا غنودگی طری ہوئی۔ اور میں نےدیکھا کہ کواجہ صاحب اوپر کی جانب جارہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ اے بدر الدین حق تعالی کے دوستوں کو موت نہیں آتی۔ جب میں بیدار ہوا تو دیکھا کہ خواجہ صاحب کا وصال ہوچکا تھا۔

کتاب سبع سنابل میں قاضی حمید الدین ناگوری سے روایت ہے کہ دفن کے بعد میں حضرت قطب الاقطاب کے مزار پر حاضر تھا۔ میں نے دیکھا کہ منکر ونکیر آئے۔ اور حجرت اقدس کے سامنے ادب سے بیٹھ گئے۔ اس اثنا میں اور فرشتے آے۔ حضرت اقدس کو حق تعالیٰ کا سلام پہنچایا اور سب روشنائی میں لکھا ہوا ایک خط نکال کر حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کےہاتھ میں دیا۔

اس خط میں یہ لکھا تھا۔

کہ اے قطب الدین میں تجھ سے خوش ہوں اور تری برکت سے امت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے تمام گنہگاروں کی قبروں سے عذاب اٹھالیا ہے۔ اس وجہ سے کہ زندہ لوگوں ے تجھ سے فائدہ اٹھایا ہے۔ مردہ بھی فائدہ حاصل کریں اور ان کو تمہاری قدر معلوم ہوجائے۔

اس کے بعد اور فرشتے پہنچے اور حضرت اقدس کو حق تعالیٰ کا سلام دے کر منکر نکیر سے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ کہ میرے قطب سے کوئی سوال نہ کرنا میں نے اپنے قطب سے خود سوال کیا ہے۔ اور انہوں نے میرےسوال کا جواب دے دیا ہے۔ پس تم واپس آجاؤ۔

کتاب سیر لاقطاب میں    لکھا ہے۔ کہ حضرت خواجہ قطب الاقطاب کے ۲۲خلفاء تھے۔ شیخ فرید الدین گنج شکر شیخ بدردالدین غزنوی، قاضی حمید الدین ناگوری، سلطان شمس الدین التمش بابا بحری بحردویا، مولانا فخر الدین حلوائی، خواجہ پیرو شیخ سعد الدین خلیفہ، شیخ محمود بہاری، مولانا محمد حاجری، سلطان ناصر الدین غازی، شیخ محمد، مولانا برہان الدین حلوائی، شیخ احمت تماجی، شیخ ستی، شیخ حسین، شیخ فیروز، شیخ بدر الدین موئے تاب، شاہ خضرقلندر، اور شیخ نجم الدین قلندر۔ شیخ برہان الدین بلخی، شیخ ضیاء الدین رومی۔
راقم الحروف کہتا ہے کہ سیر الاقطاب میں سلطان شمس التمش اور سلطان ناصر الدین غازی کو حضرت اقدس کے خلفاء کی فہرست میں درج کیا گیا ہے۔ یہ ضعف سے خالی نہیں۔ البتہ یہ صحیح ہے کہ سلطان شمس الدین بادشاہ عادل ولی اللہ تھا۔

مراۃ الاسرار میں لکھا ہے کہ سلطان شمس الدین گویا ایک درخت تھا۔ جو خواجہ قطب الاقطاب کی مہربانی سے پرورش اور زندگی رکھتا تھا۔ حضرت قطب صاحب کے وصال کے بعد وہ بھی اس سال بتاریخ ۸ماہ شعبان جہان فانی سے کوچ کرگئے۔ سلطان شمس الدین کی وفات کے بعد ان کا بیٹا سلطان فیروز شاہ تخت پر بیٹھا۔ جسے اس کی بہن رضیہ بیگم نے گرفتار کر کے قید خانے میں ڈال دیا اور وہیں اس کا انتقال ہوا۔ اس کے بعد سلطانہ رضیہ دختر شمس الدین التمش مردانہ لباس پہن کر تخت نشین ہوئی۔ اور تین سال حکومت کرنے کے بعد قتل ہوگئی۔ اس کے بعد سلطان معز الدین بہران ابن شمس الدین التمش تخت پر بیٹھا۔ اور دو سال ایک ماہ پندرہ دن حکومت کرنے کے بعد اپنے وزیر نظام الملک کے ہاتھوں قتل ہوگیا۔ اسکے بعد سلطان علاؤ الدین مسعود بن فیروز شاہ بن شمس الدین اپنے چچے کی بجائے تخت پر بیٹا اور ۵سال سلطنت کرنے کے بعد ناصر الدین محمود کے حکم سے گرفتار کیا گیا اور قید خانہ میں مرا اس کےبعد سلطان ناصر الدین محمود جو سلطان شمس الدین کا سب سے چھوٹا بیٹا اور بھرائج کا حاکم تھا۔ تخت نشین ہوا۔ اور بڑی شان شوکت سے حکومت کی۔ تاریخ طبقات ناصری اس کے نام پر تصنیف کی گئی ہے۔یہ بادشاہ بہت حلیم طبع اور عبادت گذار تھا۔ اور قرآن شریف لکھ کر روزی کماتا تھا۔ آپ کو حضرت خواجہ گنج شکر سے بے حد عقیدت تھی۔ ۱۹سال تین ماہ حکومت کر کے بتاریخ ۱۱جمادی الاول ۶۶۴؁ء وفات پای۔ اسے سلطان ناصر الدین غازی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ خاندان شمسیہ کی حکومت ان پر ختم ہوئی۔ اس بیان سے معلوم ہوا کہ سلطان ناصر الدین غازی نے حضرت خواجہ قطب الاقطاب کا زمانہ نہیں پایا تھا۔ اس لیے وہ آپ کے خلفاء میں کیسے شمار ہوسکتا ہے۔ نیز اسے حضرت اقدس کی خلافت کی قابلیت کہاں سے نصیب ہوئی۔ البتہ وہ ایک مرد صالح اور پار سا تھا۔ اور یہی سعادت اسکے لیے کافی ہے۔ کہ سلسۂ چشتیہ میں مرید تھا۔

اللّٰھم صَلّے عَلیٰ مُحمد وَآلہٖ وَاَصْحَابہٖ اَجمَعیْن۔

شعر
ازر ہگذر خاک سر کوئے شمابود
ہر نافہ کہ دردست نسیم سحر افتاد
;[1]</a> ۔لطائف اشرفی حضرت شیخ اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہٗ کے ملفوظات کا مجموعہ ہے۔ آپ حضرت شیخ علاؤ الدین قدس سرہٗ کےخلیفہ تھے جو حضرت خواجہ اخی سراج الدین کےخلیفہ تھے اور آپ حضرت سلطان المشائخ محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاء کےخلیفہ تھے۔

(اقتباس الانوار)

آپ وقت کے اکابر اولیا اور اجل اصیفا میں سے شمار ہوتے تھے بڑے عظیم الشان ولی اللہ اور مستجاب الدعوات تھے، آپ کی زبان مبارک سے جو کچھ نکلتا اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہوتا تھا، آپ کو خرقۂ ارادت و خلافت حضرت خواجہ معین الدین سنجری اجمیری قدس سرہ نے عطا فرمایا تھا۔ آپ سادات اوش میں سے تھے۔ اوش ماورا النہر میں ایک قصبہ ہے۔ آپ حسینی سیّد تھے، آپ کا نسب حضرت امام جعفر صادق تک یوں پہنچتا ہے۔ خواجہ قطب الدین بختیار اوشی۔ سید کمال الدین بن سید موسیٰ بن سید احمد اوشی بن سید کمال الدین بن سید محمد بن سید احمد بن سید اسحاق بن سید احسن بن سید معروف بن سید احمد حسینی بن سید رضی الدین بن سید حشام الدین بن سید رشیدالدین بن سید امام جعفر رضی اللہ عنہم۔

حضرت خواجہ قطب الدین ابھی ایک سال چھ ماہ کے تھے کہ آپ کے والد ماجد انتقال فرماگئے۔ آپ کی والدہ ماجدہ نے اسے اپنے سایۂ عاطفت میں پرورش کی، پانچ سال کے ہوئے تو آپ کی والدہ نے اپنی ایک نیک سیرت ہمسائی کے زیر تربیت کردیا اور تھوڑی سی شیرینی بھی دے دی، اور فرمایا میرے بیٹے کو ایسے معلم کے حوالے کرنا جو ظاہری اور باطنی علوم سے واقف ہو وہ عورت آپ کو لے کاوش سے روانہ ہوئی، راستہ میں ایک پیر روشن ضمیر سے ملاقات ہوئی انہوں نے اس بی بی سے دریافت کیا کہ اس بچے کو کہاں لے جا رہی ہو، بتایا کہ کسی اچھے سے مکتب میں داخل کرانے جا رہی ہوں، آپ نے فرمایا اسے میرے سپرد کردو، میں خود ہی اسے معلم کے پاس لے جاؤں گا جو اسے علوم میں درجۂ کمال تک پہنچا دے گا وہ بزرگ اس بچے کو حضرت شیخ ابوحفص اوشی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں لے گئے اور عرض کی مجھے احکم الحاکمین کا حکم ہوا ہے کہ آپ اس بچے کی تعلیم و تربیت فرمائیں، حضرت خواجہ شیخ ابوحفص نے بچے کے سر پر دست شفقت رکھا اور اس بزرگ کو رخصت کردیا بچے کو فرمایا بیٹا! تم بڑے صاحب بخت (بختیار) ہو کہ خضر علیہ السلام نے خود آکر میرے حوالے کیا ہے اور اللہ کا حکم سنایا ہے کہ تمہاری تربیت کی جائے حضرت خواجہ چار دنوں میں قرآن پاک حفظ کرگئے۔ تھوڑے ہی دنوں میں علوم ظاہری میں کمال حاصل کرلیا، آپ بالغ ہوئے تو باطنی علوم کی تلاش ہوئی اور حضرت خواجہ معین الدین سنجری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پہنچے۔ حضرت خواجہ نے سترہ سال کی عمر میں خرقۂ خلافت عنایت فرمادیا۔ اور آپ اپنے پیر روشن ضمیر کے ارشاد دہلی کی قطبیت پر فائز ہوگئے۔ آپ دہلی پہنچے مخلوق کی اصلاح میں مشغول ہوگئے۔

حضرت خواجہ قطب الدین اوشی نے مصروفیت کی بنا پر رات کو سونا ترک کردیا پانچ دنوں بعد ایک بار افطار کرتے چونکہ خلق محمدی کا پیکر تھے دہلی کے لوگ جوق در جوق مجلس میں حاضر ہونے لگے آپ بھی ہر ادنیٰ اعلیٰ پرتوجہ فرماتے اور اس طرح ہزاروں لوگ راہ ہدایت پر چلنے لگے۔

حضرت خواجہ بختیار اوشی رحمۃ اللہ علیہ کا بیٹا شیخ محمد نامی تھا۔ سات سال کی عمر میں انتقال کرگیا۔ اس کی والدہ اس بیٹے کی وفات پر بڑی دردناک آواز میں رو رہی تھی۔ حضرت خواجہ نے آواز سنی تو لوگوں سے دریافت کیا کہ یہ جانگداز آواز کس کی ہے؟ بتایا گیا حضور آپ کا سات سالہ بیٹا شیخ محمد انتقال کرگیا ہے اس کی والدہ رو رہی ہیں، آپ نے فرمایا: انا للہ وانا الیہ راجعون کاش مجھے اس بیتے کی بیماری کی پہلے اطلاع ہوتی تو میں اپنے اللہ سے اس کی صحت کی دعا کرتا۔

جن دنوں حضرت خواجہ معین الدین اجمیری سجستان سے برصغیر ہندوستان تشریف لائے، تو اتفاقاً حضرت خواجہ بختیار اوشی اور شیخ جلال الدین تبریزی دونوں ایران سے چل کر حضرت خواجہ بہاؤالدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کی ملاقات کو برصغیر میں آئے ہوئے تھے ایک دن یہ تینوں روحانی بزرگ ایک مجلس میں بیٹھے تھے کہ حاکم ملتان قباچہ خان مجلس میں آیا اور عرض کی حضور تاتاری مغلوں کا ایک لشکر ملتان کی طرف بڑھ رہا ہے اور شہر کو تاخت و تاراج کرنا چاہتا ہے چونکہ تاتاریوں کا لشکر بڑا زبردست ہے مجھے مقابلہ کی تاب نہیں آپ حضرات توجہ فرمائیں تاکہ ملتان بچ جائے۔ حضرت قطب الدین بختیار کے ہاتھ میں ایک تیر تھا، فرمایا یہ تیر لے لو، اور مقابلہ کے وقت تاتاریوں کے لشکر کی طرف پھینکنا۔ قباچہ نے وہ تیر لیا اور تاتاریوں کے لشکر کی طرف پھینکا کہتے ہیں دوسرے دن تاتاریوں کے لشکر سے ایک بھی سپاہی ایسا نہ بچا تھا جو تیرے کے زخم سے زخمی نہ ہوا ہو، وہ ملتان کا محاصرہ چھوڑ کر واپس آگئے۔

حضرت خواجہ قطب الدین بختیار دہلی پہنچے تو آپ نے اپنے پیرو مرشد کی خدمت میں ایک عریضہ لکھا کہ مجھے اجمیر میں حاضری کی اجازت دی جائے جواب میں ارشاد ہوا کہ آپ کو دہلی کی قطبیت دی گئی ہے وہاں رہ کر کام کیا جائے ہم ان شاء اللہ خود دہلی آئیں گے۔ حضرت خواجہ ابتدائی طور پر ایک نانبائی کے ہاں رہائش پذیر ہوئے مگر کچھ دنوں بعد حضرت خواجہ حمیدالدین ناگوری کی استدعا پر ان کے گھر منتقل ہوگئے، ہزاروں طالبان حق جوق در جوق حاضر ہونے لگے اور سلسلۂ ارشاد جاری ہوا۔

حضرت خواجہ کا معمول تھا کہ آپ کسی سے نذرانہ قبول نہیں فرمایا کرتے تھے آپ کے گھر کے قریب ہی ایک سبزی فروش تھا، اس سے قرض لے کر خرچ کرلیا کرتے تھے۔ ایک دن آپ کے دل میں خیال آیا کہ آئندہ کسی سے قرض بھی نہیں لینا چاہیے یہ بات بھی توکل کے خلاف ہے اس دن سے ہر روز آپ کے مصلے کے نیچے سے ایک بڑی اور گرم روٹی برامد ہوتی آپ خود بھی کھاتے اور دوسرے احباب کو بھی اس روٹی سے کھلاتے سبزی فروش سے قرضہ لینا بند ہوا تو اسے تشویش ہوئی، شاید حضرت خواجہ مجھ سے ناراض ہیں اس نے اپنی بیوی کو حضرت کے گھر بھیجا۔ اس نے ساری صورتحال دیکھی تو واپس آکر تمام واقعہ سنادیا، اس دن سے دلی میں آپ کاکی (روٹی والا) مشہور ہوگئے۔

ایک دن حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی حوض شمسی کے کنارے تشریف فرما تھے دوستوں نے روٹی کھانے کی درخواست کی، آپ نے حوض کے پانی میں ہاتھ ڈالا اور گرم روٹی باہر نکال کر دے دی، اور دوستوں کو خوش کردیا۔

ایک دن بادشاہ دہلی حضرت سلطان شمس الدین نے (جو آپ کا مرید بھی تھا) حضرت کی کرامت دیکھنے کے لیے روٹی کی گزارش کی، آپ نے اپنی آستین جھاڑی اور چند گرم گرم روٹیاں نکال کر دے دیں۔

ایک دن حضرت خواجہ حمیدالدین ناگوری کے گھر مجلس سماع ہوئی، مجلس ختم ہوئی تو ایک خادم نے کہا مجلس کے بعد طعام نہایت ضروری ہے اس وقت خواجہ حمیدالدین کے پاس کھانا موجود نہیں تھا، بڑی تشویش ہوئی، مگر حضرت خواجہ قطب الدین نے فرمایا تمام مہمانوں کو صفوں میں بٹھادیں خواجہ خود ہر مہمان کے قریب جاکر اپنے آستین سے دو دو گرم روٹیاں اور حلوہ رکھ دیتے تمام اہل مجلس سیر ہوگئے کھانا کھانے کے بعد اہل مجلس نے شربت طلب کیا، فرمایا جس نے آپ لوگوں کو روٹیاں دی ہیں شربت بھی دے گا تھوڑی دیر بعد ایک ناواقف شخص آیا اور اس نے دو سری شکر پیش کی، آپ نے فرمایا: اس شکر کا شربت بنایا جائے اور تمام مہمانوں کو پلایا جائے آپ خود اٹھے ہر ایک مہمان کو شربت پلاتے جاتے تمام سیر ہوگئے شربت کا کوزہ ابھی تک بھرا ہوا تھا۔

ایک زمانہ آیا کہ دلی قحط کی زد میں آگیا گندم کے دانے موتیوں کے بھاؤ بکنے لگے شاہزادہ سعدالدین نے اپنے سرکاری کارندوں کو چند سیر آٹا دے کر کہا کہ تنور سے روٹیاں تیار کرالاؤ، دربار کے سپاہی آئے اور اس نانبائی کو روٹیاں پکانے کو کہا، نانبائی نے تنور میں روٹیاں تو لگادیں مگر خود کسی اور کام میں مشغول ہوگیا حتی کہ تمام روٹیاں جل کر خاکستر ہوگئیں، سپاہی غصے سے لال ہوگئے نانبائی کو پکڑا، اس کی پگڑی گردن میں ڈالی، دونوں بازو باندھ دیے اور شاہزادے کے پاس لے چلے، اتفاقاً اسی راستہ سے حضرت خواجہ قطب الدین کا گزر ہوا، نانبائی کو اس حالت میں دیکھا تو سپاہیوں کو کہنے لگے، اس بے چارے کو چھوڑ دو، تمہاری روٹیاں تیار ہوجاتی ہیں، آپ کی یہ بات سن کر سپاہی ہنس دیے اور کہنے لگے یہ شخص دیوانہ ہے جلی ہوئی روٹیاں کون درست کرتا ہے، آپ نے فرمایا تمہیں اس سے کیا، مجھے وہ تنور دکھاؤ تنور پر پہنچے آپ نے تنور میں ہاتھ ڈال کر تمام روٹیاں نکال دیں، جب اس واقعہ کی اطلاع شاہزادہ سعدالدین کو ملی، دوڑا دوڑا آیا، اور مرید ہوکر کمالات روحانی پر فائز ہوگیا۔

قاضی صادق اور قاضی عمار دہلی کے مشہور علماء تھے۔ ابھی انہیں منصب قضا نہیں ملا تھا۔ انہوں نے بادشاہ دہلی کو بتایا کہ اس شہر میں شیخ قطب الدین بختیار اور شیخ حمید الدین ناگوری نے سماع کو اتنا رواج دیا ہے کہ عنقریب تمام دہلی کے مسلمان اسی کام میں لگ جائیں گے اگر آپ کی اجازت ہو تو ہم اس سماع کو بند کردیں۔ بادشاہ نے کہا شرعی معاملات میں اجازت کی ضرورت نہیں، لیکن میرا خیال ہے تم دونوں حضرات اس معاملہ میں پشیمان ہوگئے۔ ایک دن دونوں قاضیان شہر حضرت خواجہ حمیدالدین ناگوری کے گھر پہنچے دیکھا دیکھا کہ مجلس سماع گرم ہے حمید الدین وجد کی حالت میں ہیں قطب الاقطاب دست بستہ کھڑے ہیں۔ ان دنوں دونوں حضرات کی داڑھی نہیں آئی تھی، ان قاضی حضرات نے آگے بڑھ کر کہا اہل تصوف کے ہاں بے ریش لڑکوں کو مجلس سماع میں نہیں آنا چاہیے دونوں خواجگان نے اپنا دست مبارک منہ پر پھیرتے ہوئے کہا ہم لڑکے نہیں داڑھی والے ہیں قاضیوں نے دیکھا تو چہروں پر داڑھیاں تھیں ، دونوں اس کرامت کو دیکھ کر شرمسار ہوئے اور واپس آگئے۔

دوبارہnb بادشاہ کی خدمت میں پیش ہوکر کہنے لگے کہ اگر بادشاہ ہمیں قاضی شرع (محتسب) مقرر کردے تو ہم دونوں کو ایوان قضا میں طلب کرکے سماع کے مسئلہ پر مباحثہ کرکے شکست دے سکتے ہیں، بادشاہ نے ملا صادق کو قاضی شرع مقرر کردیا اور عماد کو صدر جہاں کے عہدہ پر مقرر کردیا، دونوں کو اپنی مرضی کے مطابق عہدے مل گئے اب وہ سیاسی قوت کے ساتھ مضبوط ہوگئے دونون کو پابند کردیا گیا کہ محل کے دیوان قضا میں پیش ہوکر مسئلہ سماع پر مباحثہ کریں۔ حضرت قطب الاقطاب نے فرمایا کل تو ہمارے خواجہ عثمان ہارونی کا سالانہ عرس ہے ہم اس سے غیر حاضر نہیں رہ سکتے۔ عرس کی مجالس میں سماع بھی منعقد ہوں گی اگر کوئی اور دن مقرر کرلیا جائے تو ہم مباحثہ کرنے کو تیار ہیں۔ قاضی نے اس شرط پر مہلت دی کہ عرس کی تقریبات پر مجالس سماع منعقد نہیں کی جائیں گے اور لوگوں کا اجتماع نہ ہونے پائے صرف آپ دونوں یعنی خواجہ قطب الدین بختیار اور خواجہ حمیدالدین ایک مجلس میں بیٹھ رک سماع کرلیں ان دنوں دہلی کے قلعہ مشرقی اور جنوبی دروازے تھے۔ ان دونوں بزرگوں کے گھر ان ہی دروازوں میں واقع تھے، قاضی نے ان دونوں دروازوں پر تند خو اور سخت گیر سپاہیوں کا پہرہ بٹھادیا کہ کوئی شخص اندر نہ آنے پائے خواجہ کتنا ہی قریب اور عزیز ہو ادھر حضرت خواجہ قطب الدین نے بھی سارے شہر میں اعلان کروادیا کہ ہمارے تمام خادم اور دوست مجلس میں شرکت کریں۔ بلکہ اپنے اپنے احباب کو بھی دعوتِ شرکت دیں۔ دوسری طرف حضرت خواجہ نے اپنے خادموں کو حکم دیا کہ عام تقریبات عرس کے برعکس کے کھانے کا زیادہ اہتمام کریں اور کسی پہرے دار یا پاسبان کی پرواہ نہ کریں۔ ان شاء اللہ ان پہرے داروں کی آنکھیں کسی آنے والے کو دیکھ نہیں سکیں گی، عرس کے دن دہلی کے لوگ جوق در جوق آنے لگے، سپاہی کھڑے رہے مگر کسی کو نہ روکا گیا، ہزاروں مرید، طالب اور خادم مجلس سماع میں شریک ہوئے۔ اتفاقاً اسی دن حضرت شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی اور شیخ جلال الدین تبریزی ملتان سے چل کر دہلی پہنچے تھے۔ ان دونوں حضرات کی تشریف آوری سے مجلس کی رونق دوبالا ہوگئی۔ قوالوں کے کلام اور وجد کرنے والوں کی رقت سے سارا قلعہ گونج اُٹھا دونوں قاضی اس غلغلہ اور ہنگامہ کی آواز سے چونک اٹھے دروازے کے نگہبانوں کو طلب کرکے ڈانٹا۔ انہوں نے معذرت کرتے ہوئے قسم کھاکر کہا کہ ہم نے کسی کو اندر جاتے نہیں دیکھا، ہم نہیں جانتے اتنا ہجوم کدھر سے آگیا۔

قاضیوں نے ایوان صدر میں مقدمہ کرنے کی بجائے یہ خیال کیا کہ آج بہت بڑا اجتماع ہے اس میں پہنچ کر مباحثہ لیا جائے اور حرمتِ سماع پر فیصلہ ہوجائے چنانچہ دونوں قاضی حضرت خواجہ کی مجلس میں جا پہنچے۔ انہوں نے دیکھا کہ قطب الاقطاب خواجہ قطب الدین تو وَجد کر رہے ہیں اور خواجہ حمیدالدین دست بستہ سامنے کھڑے ہیں۔ اچانک خواجہ حمیدالدین کی نگاہ دونوں پر پڑی، آپ نے فرمایا یہ مجلس سماع تم جیسے منکرانِ سماع اور دشمنان در ویشاں نہیں ہے، تم وہاں ہی کھڑے رہو، اگرچہ ان دونوں قاضیوں نے آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ مگر ان کے قدم نہ اٹھ سکے۔ چنانچہ ساری مجلسِ سماع کھڑے کھڑے سنتے رہے، جب حضرت قطب الدین وَجد سے رکے اور مجلس میں خاموشی چھاگئی تو آپ نے قاضی عماد اور قاضی صادق کو مخاطب کیا اور فرمایا آؤ اے بھائیو! آگے بڑھو آج تمہاری الوداعی تقریب ہے تم سفرِ آخرت پر جانے والے ہو، آخری بار سماع کی لذت حاصل کرلو، تمہیں حسرت اور افسوس نہ رہے، دونوں حضرات خواجہ کے کہنے پر مجلس میں آئے قوالوں کے اشعار اور بزرگان دین کے تصرف سے دونوں مدہوش ہوگئے، محفل ختم ہوئی تو دونوں نے معذرت کی اور اپنے اعمال پر پشیمان ہوکر خواجگان چشت کے قدم بوس ہوگئے اور معافی کے خواستگار ہوگئے۔ حضرت خواجہ نے فرمایا اب تیر کمان سے نکل گیا ہے تیر جستہ باز کے آید زراہ
اب تم لوگ سفرِ آخرت کی تیار کرو، دونوں اس مجلس سے پریشان و پشیمان اٹھے۔ اور سیدھے بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رات کی ساری سر گزشت سنادی بادشاہ نے ان کی باتیں سن کر انہیں سرزنش کی اور بڑے غصے سے صدر جہاں اور عہدۂ قضا سے معطل کردیا، اسی رات دونوں صدمہ سے مرگئے۔

اخبار الاخیاراور سیرالاقطاب میں درج ہے کہ حضرت خواجہ بختیار کے ایک مرید رئیس نامی نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ ایک عالی شان درگاہ ہے اور اس میں بے پناہ مخلوق جمع ہے۔ ایک شخص پست قد بار بار بارگاہ کے اندر جاتا ہے اور پھر باہر آجاتا ہےا ور بادشاہ کے فرمان و پیغام لالاکر لوگوں تک پہنچاتا ہے رئیس نے اس بارگاہ مجلس اور صاحب دربار اور اندر باہر آنے جانے والے شخص کے بارے میں پوچھا، لوگوں نے بتایا یہ سرکار دو عالم جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ ہے یہ کوتاہ قد حضرت عبداللہ مسعود (رضی اللہ عنہ) ہیں لوگوں کے پیغامات اندر لے جاتے ہیں، اور حضور کا فرمان باہر لاکر پہنچاتے ہیں رئیس آگے بڑھے۔ حضرت عبداللہ مسعود کو کہا برائے مہربانی، حضور کی خدمت میں گزارش کریں کہ آپ کا ایک امتی رئیس جو خواجہ قطب الدین بختیار کا خادم ہے زیارت کا خواہاں ہے وہ دروازے پر حاضر ہے آپ کرم فرمائیں، حضرت عبداللہ مسعود نے تھوڑی دیر باہر آکر فرمایا، حضور فرماتے ہیں کہ تمہیں ابھی تک زیارت کی اہلیت نہیں ہوئی ہمارا سلام خواجہ قطب الدین کو پہنچانا، اور کہنا کہ تم ہر رات ہمیں تحفہ پہنچایا کرتے تھے، تین راتیں گزر گئی ہیں، تمہاری طرف سے تحفہ نہیں پہنچا، خدا خیر کرے کونسی چیز مانع ہے رئیس صبح اٹھے دوڑے دوڑے حضرت خواجہ کی خدمت میں حاضر ہوکر بادیدۂ پر آب پیغام پہنچایا، حضرت خواجہ اسی وقت اٹھے، تازہ وضو کیا تین ہزار بار درود پاک پڑھا، حضور کی بارگاہ میں ہدیہ کیا، آپ نے تین روز قبل درود نہیں پڑھا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت خواجہ نے شادی کرلی تھی، تین راتیں اسی شادی میں مصروف رہے۔ درود پاک ترک رہا، اس درود پاک میں تاخیر اور تعطل اس شادی کی وجہ سے تھا حضرت خواجہ اٹھے اور اپنی بیوی کو طلاق دے کر آزاد کردیا اور ہمہ تن درود پاک میں مشغول ہوگئے۔

فوائد الفواد میں لکھا ہے کہ حضرت خواجہ نظام الدین دہلوی بسا اوقات غیاث پور سے چلتے اور حضرت خواجہ بختیار کے روضہ کی زیارت کے لیے دہلی جاتے ایک دن آپ کے دل میں خیال آیا، خدا معلوم میری حاضری سے حضرت خواجہ آگاہ بھی ہوتے ہیں یا نہیں، آپ حضرت کے مزار پر انوار کے نزدیک پہنچے دیکھا کہ حضرت خواجہ مزار کے تعویذ پر تشریف فرما ہیں اور تبسم فرماتے ہوئے یہ شعر پڑھ رہے ہیں۔

مرا زندہ پند ارچوں خویشتن
من آیم بجاں گر بیائی بہ تن

جن دنوں حضرت خواجہ دہلی میں قیام فرما تھے، مرید اور طالب جوق در جوق آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ان لوگوں میں روساء مملکت اعیان سلطنت اور سپہ سالاران افواج بھی ہوتے تھے انہی دنوں خواجہ نجم الدین صغریٰ جو خواجہ عثمانی ہارونی کے خلیفہ اور حضرت خواجہ معین الدین اجمیری کے خواجہ تاش تھے، آپ کو اس رونق اور ہجوم پر سخت حسد ہوا، وہ پریشان تھے کہ سارے لوگ حضرت خواجہ قطب الدین کے پاس ہی جاتےہیں کچھ دنوں بعد حضرت خواجہ معین الدین اجمیری دہلی میں رونق افروز ہوئے تو خواجہ نجم الدین صغیری نے اپنے تاثرات سے آگاہ کیا اور کہا، حضور آپ نے اپنے مرید خاص قطب الدین کو دہلی میں چھوڑ دیا ہے، شہر کے تمام لوگ انہی کی طرف رجوع کرتے ہیں ہمیں تو برگ سبز کی بھی حیثیت نہیں دی جاتی۔ حضرت خواجہ معین الدین کو خواجہ نجم الدین کی بات اچھی نہ لگی اور خواجہ قطب الدین کو فرمایا۔ بابا! تم ہمارے ساتھ اجمیر چلے چلو، بعض لوگوں کو دہلی کے قیام سے تکلیف ہے، خواجہ قطب الدین حضرت خواجہ بزگ کا حکم سنتے ہی فوراً تیار ہوگئے، اور دوسرے دن ساتھ چل پڑے، دہلی کے اکابر و اصاغر عورت و مرد اس صورت حال سے آگاہ ہوئے، تو وہ قافلے کے پیچھے بھاگے، اور حضرت خواجہ کی خدمت میں فریاد کرنے لگے کہ خدا کے لیے خواجہ قطب الدین کو دہلی سے نہ لے جائیں، ہم غریب لوگ انہی کے سہارے زندہ ہیں کہیں خواجہ کی جدائی کی تاب نہیں ہے، آپ نے لوگوں کا خلوص اور بے چینی دیکھ کر فرمایا بابا قطب الدین! تم یہاں ہی رہو، دہلی کے لوگ تمہیں نہیں جانے دیتے، چنانچہ خواجہ قطب الدین پھر دہلی میں رہ گئے۔

چند سال اسی طریقے پر گزرے تو حضرت خواجہ معین الدین اجمیری نے خواجہ قطب الدین کو اجمیر بلایا اور دستار اور کلاہ عنایت فرمائے، شیخ عثمانی ہارونی کا عصاء مبارک دیا، قرآن پاک کا ایک نسخہ اور مصلی عنایت فرماتے ہوئے خرقۂ خلافت عطا فرمایا، اور فرمایا یہ امانتیں سید المرسلین جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہی ہمیں پہنچیں تھیں، ہم نے ان امانتوں کو تمہارے حوالے کرکے اپنا حق ادا کردیا ہے تم بھی ان کا حق ایسا ادا کرنا کہ قیامت کے دن مجھے سید الانبیاء کے سامنے شرمسار نہ ہونا پڑے، ان تبرکات کے سپرد کرنے کے بعد آپ کو دہلی جانے کی رخصت دی کہتے ہیں اس دن سے آٹھ روز بعد حضرت خواجہ معین الدین اجمیری کا وصال ہوگیا۔

ایک شاعر ناؔصر تخلص کیا کرتا تھا وہ ماورالنہر سے چل کر دہلی آیا، سلطان شمس الدین التمش کے لیے ایک قصیدہ لکھا، حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کی خدمت میں پیش کرکے عرض کی، حضور میرے لیے دعا کریں کہ یہ قصیدہ بادشاہ کو پسند آجائے مجھے جس قدر انعام ملے گا آدھا خانقاہ کے درویشوں کے اخراجات کے لیے پیش کروں گا، حضرت خواجہ نے دعا کی، ناصر شاعر نے بادشاہ کے حضور قصیدہ پڑھا تو اسے اشعار کی تعداد اٹھاون پر اٹھاون ہزار روپیہ انعام دیا گیا۔ ناصر انعام پاکر دربار میں حاضر ہوا اور نصف انعام خدمت میں نذر کیا، آپ نے قبول نہ کیا اور ارشاد فرمایا یہ سارا تم ہی لے جاؤ۔

یاد رہے کہ حضرت قطب الاقطاب کے اعلیٰ و اکبر خلیفہ حضرت خواجہ مسعود شکر گنج ہیں۔ ان کے بعد دہلی کے شہنشاہ سلطان شمس الدین التمش۔ شیخ بابا سنجری سجر دریا، مولاان فخر الدین حلوائی شیخ احمد حاجی، شیخ حسین، شیخ فیروز شیخ بدرالدین مرتاب برادر شیخ شاہی موتاب شاہ خضر قلندر، شیخ نجم الدین قلندر خواجہ سپرد ، شیخ سعدالدین شیخ محمود بہاری، مولانا جار خبری، سلطان نصیرالدین غازی قاضی حمیدالدین ناگوری، مولانا شیخ محمد، مولانا برہان الدین حلوائی، شیخ شرف الدین بو علی قلندر، مولانا خضر معین مولانا سید شیخ صوفی بدہنی، شیخ جلال الدین ابوالقاسم تبریزی (آپ نے ابوسعید تبریزی سے بھی خرقۂ خلافت حاصل کیا تھا) شیخ نظام الدین ابوالموید، شیخ تاج الدین منوراوشی رحمۃ اللہ علیہم اجمعین ان تمام بزرگوں کو حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ سے خرقۂ خلافت ملا پھر انہوں نے سلسلہ چشتیہ کی اشاعت میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔

ایک دن حضرت خواجہ قطب الدین ایک بھیلی پر بیٹھے شہر سے باہر تشریف لے جا رہے تھے جب اس جگہ پہنچے جہاں ان دنوں آپ کا روضۂ منورہ ہے بہیلی کو کھڑا کیا، دیر تک مراقبہ میں رہے فرمایا اس جگہ سے مجھے بوئے محبت آ رہی ہے ، زمین کے مالک کو بلایا اور بہت سی قیمت اور انعام ادا کرکے زمین خرید لی فرمایا ہماری قبر اس زمین میں ہوگی، ان شاء اللہ۔

سیرالاقطاب میں لکھا ہے کہ حضرت خواجہ کا وصال خاص حالات میں ہوا تھا، آپ اپنی خانقاہ میں مجلس سماع میں تشریف فرما تھے، ہنگامہ سماع زوروں پر تھا، قوال یہ شعر پڑھ رہے تھے۔

عاشق رویت کجا بلیند بکس
نستۂ مویت کجایا بد خلاص

حضرت خواجہ یہ شعر سن کر وجد میں آگئے قوالوں کو اپنے سامنے بلایا پھر وجد کرنے لگے۔ اسی دوران صلاح الدین پسر کریم الدین۔ نصیرالدین غزل خواں بھی موجود تھے۔ انہوں نے یہ شعر اٹھایا۔

کشتگانِ خنجر تسلیم را
ہر زمان از غیب جانِ دیگر است

یہ شعر سننا تھا کہ آپ کی حالت دگر گوں ہوگئی۔ تمام مجلس پر رقت طاری ہوگئی، بہت سے وجد کرنے لگے، حضرت قطب الاقطاب اس وجد کی حالت میں جَست لگاتے تھے، تو دس دس گز اوپر کو اچھلتے، یہ معاملہ تین دن رات تک جاری رہا، حضرت خواجہ کے بال بال سے اسم ذات کی تسبیح جا ری تھی، خون کے قطرے بہنے لگے۔ ان قطرات میں سے ایک قطرہ زمین پر ٹپکتا تو اللہ کے نام کا نقش بن جاتا، چوتھے دن آپ کے انگ انگ سے سبحان اللہ کی آوازیں سنائی دینے لگیں، خون کے قطروں سے بھی کلمہ سبحان اللہ کی آواز آتی، جس وقت غزل خواں یہ شعر پڑھتے

کشتگانِ خنجر تسلیم را

تو محسوس ہوتا کہ حضرت خواجہ اس جہاں سے چلے گئے ہیں۔ مگر جب قوال

ہر زمان از غیب جان دیگر است

پڑھتے تو پھر زندہ ہوکر جست لگاتے اور مرغ بسمل کی طرح فرش پر تڑپتے آخر کار مورخہ چودہ ربیع الاول کو جب کہ سماع کا پانچوں دن تھا، قوالوں کو مصرع ثانی پڑھنے پر منع کردیا گیا، آپ نے نعرہ مارا اور واصل بحق ہوگئے، حاضرین میں شور مچا، لوگ مجلس سے اٹھے، آپ کا جنازہ تیار ہوا، ہندوستان کا بادشاہ سلطان شمس الدین التمش خود حاضر ہوا، آپ کے خلفاء مرید اور مشائخ شاہی خواتین اور عوام الناس جمع ہوگئے، سارا دہلی شہر ٹوٹ پڑا۔

خواجہ ابوسعید نے اٹھ کر اعلان کیا کہ حضرت خواجہ قطب الاقطاب قطب الدین بختیار نے وصیت کی تھی کہ میرا جنازہ وہ شخص پڑھائے، جس نے ساری عمر اپنے آپ کو زنا سے محفوظ رکھا ہو، بلوغت سے لے کر آج تک عصر کی سنتیں قضا نہ کی ہوں، فرائض نماز کی تکبیر اولیٰ سے محروم نہ ہوا ہو، یہ اعلان سنتے ہی تمام حاضرین دنگ رہ گئے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، آخر حضرت سلطان التمش آگے بڑھے اور فرمایا میں چاہتا تھا کہ میرے ان مشاغل سے کسی کو خبر نہ ہو، مگر آج میرے پیر و مرشد کی وصیت نے مجھے آشکارا کردیا، آپ نے نماز جنازہ کی امامت کرائی، نماز جنازہ کے بعد ایک طرف خود کندھا دیا، باقی تین پائیوں کو اس وقت کے نامور اولیاء اللہ نے اٹھایا اور آپ کے مدفن تک لے گئے۔

قطب الاقطاب حضرت قطب الدین بختیار کاکی اوشی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات بتاریخ چودہ ماہ ربیع الاوّل ۶۳۴ھ کو ہوئی۔ یہ تاریخ سفینۃ الاولیاء اخبار الاولیاء، معراج الولایت اور دوسرے تذکروں میں لکھی پائی گئی۔ وفات کے وقت آپ کی عمر باون سال تھی۔ مخبرالواصلین میں آپ کا سن وصال ۶۳۳ھ لکھا ہوا ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک پہلا قول صحیح ہے۔

جناب شیخ قطب الدین اوشی
کہ بود او مقتدائے شیخ وہم شاب
عجب تاریخ وصلش یافت سرور
ز قطب الدین مقدس قطب الاقطاب[۱]
۶۳۴ھ

[۱۔ حضرت مفتی غلام سرور لاہوری قدس سرہ نے اس تاریخ وصال کے علاوہ مندرجہ ذیل تواریخ بھی کہیں ہیں: جنت مقام (۶۳۴ھ) دوبار عالم الاسرار (۶۳۴ھ) نور علی نور (۶۳۴) خلد (۶۳۴) قطب الدین (۶۳۴)

Ref: https://www.ziaetaiba.com/ur/scholar/hazrat-khwaja-syed-muhammad-qutbuddin-bakhtiyar-kaki

 

Murshid-e-Kamil

URS MUBARIK complete List