الصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہ
وہ جہنم میں گیا جو ان سے مستغنی ہوا
ہے خلیل اللہ کوحاجت رسول اللہ ﷺ کی
آج لے ان کی پناہ آج مدد مانگ ان سے
پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا

  Important Articles - Aqaid AhleSunnah Wa Jammatاہم مضا مین ۔ عقا ئد اہل سنت و جما عت

حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی رضی اللہ عنہ
Published Date: Wednesday, January 25, 2017 - 12:00 AM
کشو ر ِ ولا یت کے نیر تا با ں.... آ فتا بِ شریعت و طر یقت.... تا جد ا ر علم و معر فت .... مجدد دِین و ملت حضر ت پیر سید مہر علی شا ہ چشتی گولڑ وی رحمتہ اللہ علیہ یکم رمضا ن المبا رک 1275ھ بہ مطابق4 اپریل 1859ءبہ ر و ز سو مو ا ر اس گلشن ہستی میں رو نق افر و ز ہو ئے۔ آ پ کے و ا لد محتر م کا نا م سید نذر دین شا ہ ابن سید غلا م شا ہ ابن سید رو شن دین شا ہ ہے جبکہ آپ کی وا لدہ محتر مہ کا نا م حضر ت معصو مہ مو صو فہ بنت پیر سید بہا در شا ہ ہے ۔ آپ کا سلسلہ نسب 25وا سطو ں سے حضرت سید نا شیخ عبدا لقا در جیلا نی المعر و ف غو ث الاعظم رحمتہ اللہ علیہ سے اور 36 وا سطو ں سے حضر ت سیدنا اما م حسن رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔

ابتدائی تعلیم اورقوتِ حافظہ
حضر ت پیر مہر علی شا ہ صا حب نے صرف چار سال کی عمر میں پڑھنا شروع کر دیا اور نا ظر ہ قر آن مجید پڑھنے کیلئے آپ کو خا نقا ہ کی در س گا ہ میں اور اردو ، فا رسی وغیر ہ کی تعلیم کے لئے مدر سہ میں دا خل کر دیا گیا، قو ت حا فظہ کا یہ عالم تھا کہ قرآن مجید کا سبق رو زا نہ آپ حفظ کر کے سُنا دیا کر تے تھے ۔ جب قرآن حکیم نا ظر ہ ختم کیا ،تو اس وقت آپ کو پو را قرآ ن کر یم حفظ بھی ہوچکا تھا۔

عر بی ، فا رسی اور صر ف ونحو کی تعلیم کے لئے مو لا نا محی الدین کے سامنے ذا نو ئے تلمذ تہہ کئے، آپنے ”کافیہ “ تک اپنے اُستا ذ سے تعلیم حا صل کی اور اس کے بعد مزید تعلیم کے لئے حسن ابدا ل کے نو اح میں مو ضع ” بھو ئی “ کے مو لا نا محمد شفیع قریشی صا حب کے درس گا ہ میں دا خل ہو ئے اور دو ، اڑھا ئی سال میں رسا ئل ِمنطق میں سے قطبی تک اور نحو اور اصول کے در میا نی اسبا ق تک تعلیم حا صل کی ۔

شرف بیعت
بھو ئی کے در س سے فا رغ ہو کر مزید تعلیم کے لئے آپ نے مو ضع ’انگہ ‘ (علا قہ سو ن ضلع شا ہ پو ر ) کا سفر اختیا ر کیا اور وہا ں پر مو لا نا حا فظ سلطا ن محمو د کے سا منے زا نو ئے تلمذتہہ کئے۔’انگہ“ میں قیا م کے دو را ن اپنے استا ذ محتر م کے ہمرا ہ ”سیا ل شریف‘ ضلع سر گو دھا ، اُن کے پیرو مرشد حضر ت خو اجہ شمس الدین سیا لو ی چشتی رحمتہ اللہ علیہ کی زیا ر ت کے لئے جا یا کر تے تھے اور حضر ت خو ا جہ سیا لو ی رحمتہ اللہ علیہ آپ پر خصو صی شفقت و محبت فر ما تے تھے۔ چنا نچہ اسی شفقت و محبت کی بہ دو لت حضرت پیر سید مہر علی شاہ صاحب سلسلہ چشتیہ نظا میہ سلیما نیہ میں حضر ت خو اجہ شمس الدین سیا لو ی سلیما نی رحمتہ اللہ علیہ کے دست حق پر ست پردولت بیعت سے فیض یاب ہو ئے ۔۔۔

زیارتِ حرمین طیبین
1890 /1307ءمیں حضر ت پیر سید مہر علی شاہ گولڑ وی رحمتہ اللہ علیہ زیا رت حر مین طیبین کیلئے حا ضر ہو ئے تو جب مکہ مکرمہ میں عارفِ ربانی حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ اس وقت ”مثنو ی رو م “ کا در س دے رہے تھے، ایک شخص مثنو ی کے ایک شعر کے با رے میں مزید اطمینا ن و تشفی حا صل کر نا چا ہتا تھا، چنا نچہ حا جی صا حب کی اجا زت سے آفتا ب علم و فضل حضر ت پیر مہر علی شا ہ صا حب رحمتہ اللہ علیہ نے اس شعر کی ایسی عا رفا نہ اور فا ضلا نہ تو ضیح و تشریح بیا ن کی کہ حا جی صا حب و جد میں میں آگئے اور آپ کو ”سلسلہ چشتیہ صا بریہ“ میں اجازت وخلا فت عطا فرمائی ۔

فتنہ قادیانیت کی پیشین گوئی
حضرت پیر سید مہر علی شا ہ صا حب قد س سر ہ العزیز جب حر مین شریفین کی زیا ر ت سے مشر ف ہو ئے تو دل میں خیا ل آیا کہ دیا رِ حبیب ﷺ میں ہی مستقل قیا م کیا جا ئے مگر حا جی امدا د اللہ مہا جر مکی رحمتہ اللہ علیہ نے وا پس ہندو ستا ن جا نے کامشو رہ دیا اور فر ما یا کہ ہند میں ایک بہت بڑا فتنہ رو نما ہو نے وا لا ہے اور اس فتنہ کا سدبا ب اور قلع قمع صر ف آپ کی ذا ت گرا می سے ہو گا۔

چنانچہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمتہ اللہ علیہ کی پیشین گوئی کے مطابق پیر مہر علی شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی مسا عئی جمیلہ نے نے ”فتنہ قا دیا نیت “ کی مکرو ہ و مذمو م سا زشو ں پر پا نی پھیر دیا ، جو اس خطے میں انگریزوں کی سر پر ستی میں کی جا رہی تھیں ۔چنا نچہ 1899ءمیں آپ نے”شمس الہدیتہ“ لکھ کر ’ ’حیا ت ِ مسیح علیہ السلام‘ ‘ پر قرآن و حدیث سے بھر پو ر دلا ئل و برا ہین پیش کئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کو زبردست طریقے سے ثابت فرمایا ، کیو نکہ مر زا غلا م احمد قا دیا نی ، حضر ت عیسٰی علیہ السلا م کے وفا ت پا نے اور اُن کی” کشمیر “ میں قبر کی مو جو دگی پر انتہا ئی بے ہو دہ ،بے سر و پا اور لغو د لیلیں دے رہا تھا۔

مرزا قادیانی کا چیلنج مناظرہ اور راہِ فرار
مر زا غلا م احمد قا دیا نی نے آفتاب شریعت وطریقت حضرت علامہ پیر سید مہر علی شاہ صا حب رحمتہ اللہ علیہ کو منا ظرہ کا بھی چیلنج کر دیا ۔ چنا نچہ 25اگست 1900ءکو پیر مہر علی شاہ تو علما ءکر ام ، مشا ئخ عظا م اور اپنے احباب کے جم غفیر کے ہمر ا ہ ” شا ہی مسجد لا ہو ر “ میں منا ظرہ کیلئے تشریف لے آئے ، لیکن مکر و ہ فر یب اور دجل وکذب کے حا مل مر زا صا حب نے سا منے آنے کی جرات نہیں کی اور منا ظرہ اور حق و سچا ئی کا سا منا کر نے سے راہ فر ار اختیا ر کی ۔۔

1900ءمیں ہی مر زا غلا م احمد قا دیا نی نے ایک تفسیر ” اعجا ز المسیح“ کے نام سے عر بی زبان ‘ میں سور ة الفا تحہ “ کی تفسیر لکھی اور اُس کے متعلق یہ دعویٰ بھی کر دیا کہ یہ تفسیر ” الہا می “ ہے ۔1902ء میں تا جدا ر علم و معرفت فا تح قا دیانیت حضر ت پیر سید مہر علی شاہ چشتی گو لڑوی رحمتہ اللہ علیہ نے’ ’سیف چشتیا ئی “ کے نا م سے مرزا صا حب کی اس نام نہاد مز عو مہ الہا می تفسیر کا انتہائی لاجواب اور مسکت کا جو ا ب دیا اور مر زا صا حب کی ’ ’عر بی دا نی “ کی بھی قلعی کھو ل دی اور مختلف قدیم عربی کتب سے اُس میں نقل کر دہ عبا دا ت کی نشا ن دھی کر کے اُ س کے مذمو م و مز عو م مقا صد اور مکرو فریب کا قلع قمع کر دیا ۔

مجددیت کا درخشاں سورج
آفتا ب علم و معر فت ، مجد دین و ملت پیر سید مہر علی شا ہ صا حب چشتی گو لڑوی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے دور پر فتن کی ضر و رت وا ہمیت کے پیش نظر اور ملک و ملت کے عظیم ترمفا د و را ہنما ئی کی خا طر نہا یت اہم اور بلند پا یہ کتب بھی تصنیف فر ما ئی تھیں، جن میں الفتو حا ت الصمدیہ ، سیف چشتیا ئی ، شمس الہدا یتہ فی اثبا ت حیا ت المسیح، تحقیق الحق فی کلمة الحق ، اعلا ءِکلمةالہٰ فی بیا ن ما اُھل بہ لغیر اللہ، تصفیہ ما بین سنی و شیعہ اور فتا ویٰ مہریہ وغیر ہ نما یا ں ہیں۔

چنانچہ آپ کی ان ہی خدما ت عظیمہ پر اور ملک و ملت کے عظیم تر مفا د اور راہبری و را ہنما ئی کرنے اور ان تصا نیف جلیلہ کی بناء پر آپ کو چو دھویں صدی کا ” مجد د “ کہا جا تا ہے ۔

”مہر منیر “ کے مصنف کے مطا بق حر و ف ابجد کی رو سے ”سیدنا مہر علی شا ہ “کے اعدا د ”۶۸۷“نکلتے ہیں، جو ” بسم اﷲ الر حمن الرحیم “ کے اعدا د بھی ہے ۔ نیز آنجنا ب کے متذکر ہ اسم گر امی سے اگر بہ طریق ِعلم ِجفر ، حر و ف ”ی اور الف اور ہ “ کو جو مکر ر آتے ہیں ، حذف کر دیا جا ئے تو ۰۷۷(سا ت سو سترّ ) اعدا د رہ جا تے ہیں، جو ”مجدو د قر ن را بع عشر “ (چو دھو یںصدی کا مجدّد ) کے حر و ف مکر رہ یعنی ”د ، ر ، ع “حذف کر نے کے بعد کے حر و ف کے اعدا د ہیں“۔۔ (مہر منیر : صفحہ63)

تبلیغ واشاعت اسلام
اقلیم ولا یت کے نیر اعظم پیر سید مہر علی شا ہ صا حب چشتی گو لڑ وی کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اور ایک ایک لحظہ قرآن و سنت کی پیر وی میں گزر ا۔ آپ نے تما م عمر شریعت و طریقت کی پا س دا ر ی اور ملک و ملت کی بے مثا ل خدما ت انجا م دینے میں بسر کی ۔ ابتدا ئی عمر سے لے کر آخر ی و قت تک آپ کی زندگی سے منسو ب کئی ایسے نا در و عجیب وا قعا ت اور کر اما ت کا ظہور ہو ا کہ انسا نی عقلیں دنگ رہ جا تی ہے ۔تعلیم و تدریس کے دو را ن آپ کے معا ملا ت اور وا قعا ت سے معلو م ہو تا ہے کہ اللہ تعا لیٰ کا آپ پر خصو صی فضل وکر م اور آقا ئے دو جہا ں اما م الانبیا ءحضو ر سیدِ عالم ﷺ کی خا ص نظر کر م ہے ۔

مجدد دین و ملت حضر ت پیر سید مہر علی شا ہ صا حب چشتی گو لڑ وی قدس سر ہ العز یز نے تبلیغ اسلا م ، احیا ئے سنت وا حیا ئے ملت ، احقا قِ حق اور اذہا ق با طل اور تزکیہ نفس کا عظیم فر یضہ جس مو ثر اور دلآویز اندا ز میں سر انجا م دیا ، وہ تا ریخ اسلا م میں سنہر ی حر و ف سے لکھا جا ئے گا ،چو دھویں صدی ہجری میں آپ اپنی دینی و ملی، ملکی اور مسلکی خدما ت کی بہ دو لت ایک ممتاز اور منفرد مقا م ر کھتے ہیں۔ اشا عتِ دین،اصلا حِ خلق ، احیا ئِ سنت وازالہ بدعت ، اعلاء کلمتہ الحق ، دین حق کی سر بلندی اور کفر کی سر کو بی اور اسلا می اقدار کا فر وغ اوربا طل و مفسد تحریکوں کے قلع قمع کے لئے آپ کی عظیم خدما ت اظہر من الشمس ہیں اور یہی وہ کا رہا ئے نما یا ں ہیں،جنہیں انجا م دینے ہی کے بعد کو ئی فر دِ کا مل مجد د یت کے عظیم منصب پر فا ئز ہو سکتا ہے ۔

پیر سید مہر علی شا ہ صا حب رحمتہ اللہ علیہ خو د شریعت وطریقت کے عظیم الشا ن عالم و فا ضل تھے، اس لئے شر یعت مطہر ہ کی سختی سے پابند تھے اور اپنے مریدین و معتقدین کو بھی شریعت کی پاسداری کی تاکیدو تلقین فر ما تے ،آپ کی زندگی اور سیرتِ مبا رکہ قرآن و سنت کا قا بل رشک اور کا مل نمو نہ تھی، آپ کی زندگی تر ویج و اشا عت دین، اصلا ح و تر بیت مسلمین ، تعمیر ملک و ملّت اور خدمت خلق کیلئے وقف تھی۔

علا مہ غلا م رسو ل سعیدی صاحب کے الفا ظ کے آئینے میں : ”حضر ت پیر مہر علی شا ہ ! عا لم و فا ضل ،عا بد و زا ہد ، فیا ض اور جو ّا د ، ان کا چہر ہ خو ف الہٰی سے زرد اور محبت رسو ل سے رو شن رہتا تھا، اُن کے فیضا ن کا جو سلسلہ اُن کی زندگی میں قا ئم ہوا تھا، مسلسل بڑھ رہا ہے ، اصول و فر وع اور عقا ئد و اعما ل میں اُمت مسلمہ کو صر اط ِ مستقیم پر جو استقا مت اور تصلّب حا صل ہے ، اس میں پیر صا حب کا وا فر حصہ ہے ، انہو ں نے آیا ت قرآن کا صحیح محمل بیا ن کیا، احا دیثِ رسو ل ﷺ کی وضا حت کی ، اُن کے حلقے میں شریک ہو کر نجا نے کتنے افرا د دنیا ئے شریعت وطر یقت میں امر ہو گئے ، انہو ں نے ذر و ں کو اُٹھا یا تو رشکِ ما ہتا ب بنا دیا ، ننگِ انسا نیت کو فخر ِملا ئکہ بنا دیا ۔

سلا م ہو ! اس رجل عظیم پر! جس نے جھلملا تے چرا غو ں کو سو ر ج کی تو ا نا ئیا ں بخشیں ، آفرین ہو ! اُس مر د کا مل پر! جس نے علو م اسلا میہ کو رعنا ئیا ں دیں .... آج ” سلسلہ چشتیہ“ میں اُنہی کے فیض کے دھا رے بہہ رہے ہیں، انہو ں نے اللہ تعا لیٰ کے دین کی اشاعت کی ، اللہ عزوجل نے اُن کے ذکر کو ایک عالم میں پھیلا دیا ، دِلو ں میں اُن کی محبت وعقیدت کے چر اغ رو شن کر دئیے جب تک مکا تب ومدارس میں وقیل وقا ل “ کی محفل سجی رہے ، جب تک خا نقا ہو ں میں خر قہ پو شو ں کی مجلس جمی رہے ،آسما ن رحمت سے اُن کی قبر پر انو ار و تجلیا ت کی بر سا ت ہو تی رہے اور جن وا نس کا ایک جہا ں پیر مہر علی شا ہ کو سلا م عقیدت ومحبت پیش کر تا رہے “۔

وصال مبا رک
آسما نِ ولا یت کے ما ہتا ب ، چو دھویں صدی کے عظیم مجدد، اسلا م کے عظیم مبلغ، تا جدا ر علم و معر فت پیکرعلم وفضل۔آفتاب رشدوہدایت المخدو م السید پیر مہر علی شا ہ چشتی گو لڑ وی رحمتہ اللہ علیہ 29صِفر المظفر 1356ھ11/مئی 1937ءبرو ز منگل اس عالم فا نی سے کو چ کر کے اپنے خا لق حقیقی سے وا صل ہو ئے۔ آپ کا مزارِا قدس ”گو لڑہ شریف “ میں مر جع خلا ئق ہے ۔ گو لڑہ شریف راول پنڈی سے تقریبا ً گیا رہ میل کے فا صلہ پر ایک قصبہ ہے ، جو آپ ہی کے قدوم میمنت کی بر کت سے مشہو ر و معر و ف ہے ۔

 

Murshid-e-Kamil

URS MUBARIK complete List