الصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہ
وہ جہنم میں گیا جو ان سے مستغنی ہوا
ہے خلیل اللہ کوحاجت رسول اللہ ﷺ کی
آج لے ان کی پناہ آج مدد مانگ ان سے
پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا

  Important Articles - Aqaid AhleSunnah Wa Jammatاہم مضا مین ۔ عقا ئد اہل سنت و جما عت

حضرت داتا گنج بخشؒ کی حیات و تعلیمات
Published Date: Wednesday, May 20, 2015 - 12:00 AM
تحریر: علامہ عبدالمصطفیٰ چشتی
حضرت داتا علی ہجویریؒ کا نام سید ابوالحسن علی بن عثمان ہے اور آپ حسنی حسینی سید ہیں۔ آپ کی والدہ بہت بڑی ولی اور ماموں بھی بہت بڑے ولی تھے اور تاج اولیاء کے لقب سے جانے جاتے تھے۔ آپ کی والدہ اور ماموں کا مزار افغانستان میں مرجع خلائق ہے وہاں لوگ کثیر تعداد میں حاضری دیتے ہیں۔ حضرت داتا گنج بخشؒ 401ھ یا 440ھ میں غزنی افغانستان میں پیدا ہوئے۔ حضرت سیدنا داتا علی ہجویریؒ کے پیرومرشد کا نام سید ابوالفضلؒ اور سلسلہ جنیدی تھا۔ داتا گنج بخشؒ نے دین کی طرف بہت رغبت و محبت پائی۔ علم دین کے حصول کے لئے بہت کوششیں کیں اور جید مشائخ عظام علمائے کرام کی خدمت میں حاضر ہو کر علم و فیض حاصل کیا اور خوب سیاحت کی۔ بزرگوں کی تاریخ دیکھی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ بہت سفر کرتے ہیں۔ بزرگوں کی سنت ہے کہ علم و فیض حاصل کرنے کے لئے مختلف ملکوں شہروں میں سفر اور بزرگوں کی زیارت کرتے اور مزارات پر حاضری دیتے ہیں۔ بزرگوں کی سوانح حیات پڑھیں تو سفر ہی سفر ملتے ہیں۔ خواجہ غریب نوازؒ سفر کرتے ہوئے لاہور تشریف لائے تھے۔ سیدنا غوث پاکؒ نے کتنے سفر کئے۔ جنگلوں اور بیابانوں میں جا کر عبادات کیں۔ امام شافعی نے بھی اسی طرح سفر کیا اور علم دین حاصل کیا۔ داتا گنج بخشؒ بھی سفر کرتے کرتے ملک شام پہنچ گئے۔ شام میں ہمارے دلوں کی دھڑکن اور جن کا نام لے کر دلوں کو بڑا سکون ملتا ہے، یعنی حضرت بلال حبشیؓ کا مزار ہے۔ داتا گنج بخشؒ فیض حاصل کرنے کے لئے حضرت بلال حبشیؓ کے مزار پرحاضر ہوئے تھے۔ لاہور بڑا مقدس شہر ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی اپنے مکتوبات حصہ اول میں فرماتے ہیں یہ شہر لاہور ہندوستان کے تمام شہروں میں قطب ارشاد کی طرح ہے۔ اس شہر کی برکت تمام ہندوستان کے شہروں میں پھیلی ہوئی ہے۔ مجدد الف ثانیؒ کے نزدیک پاک و ہند کے سارے شہروں میں شہر لاہور افضل ہے۔ اس مناسبت سے یہ شرافت اور عظمت والا شہر ہے اور ہماری خوش قسمتی کہ لاہور پاکستان میں شامل ہوا۔ اتنا بڑا ولی آپ کے شہر میں جلوہ افروز اور سایہ فگن ہے۔ یہاں ایک ایسا اللہ کا ولی سویا ہوا ہے جس کی برکت حاصل کرنے کے لئے خواجہ غریب نوازؒ سفر کرتے ہوئے حاضر ہوئے اور داتا گنج بخشؒ کے مزار پر انہوں نے چلہ کیا۔ داتا صاحب کی بڑی عظمت ہے۔ داتا گنج بخش 451ھ میں لاہور تشریف لائے۔ اس وقت لاہور میں جوگیوں اور جادوگروں کو بڑے بڑے نذرانے اور بھینٹ چڑھتے تھے۔ جو ان جادوگروں کی خاطر مدارت نہ کرے اسے جادو کے ذریعے نقصان پہنچاتے۔ اللہ کے کرم سے داتا گنج بخشؒ کے قدم لاہور کی دھرتی پر پڑے۔ آپ نے ایک بوڑھی عورت سے دودھ خریدنا چاہا وہ وہم پرست تھی ڈر گئی کیونکہ وہ لوگ مسلمان کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔ اس بڑھیا نے انکار کیا اور کہا میں دودھ آپ کو بیچوں گی تو جادوگر مجھے مار دے گا۔ میری بھینسوں سے خون آئے گا۔ آپ نے اسے تسلی دے کر سمجھایا انشااللہ ایسا نہیں ہو گا۔ وہ سمجھ گئی۔ دودھ بیچ کر وہ اپنے گھر پہنچی۔ اب جو اس نے اپنے مویشیوں کا دودھ دھویا تو اتنا دودھ نکلا کہ اس کو سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ تب دوسرے گوالوں کو پتہ چلا کہ ان میں بڑی کرامات ہیں۔ دودھ میں برکت کے لئے آنے والا ایمان کی برکت لے کر جاتا۔ آپ کی نیکی کی دعوت سے پورے لاہور میں ہلچل مچ گئی۔ وہاں کے بہت بڑے جادوگر کو پتہ چلا جو کہ گورنر کا نائب تھا اس کی شہرت اور وقار خطرے میں پڑ گیا تو وہ ہنستا اور طعنہ کشی کرتا ہوا اور آپ کے پاس حاضر ہوا۔ بولا کہ میرے ساتھ مقابلہ کرو۔ آپ نے اس کو سمجھانے کی کوشش کی۔ لیکن وہ نہ مانا۔ آپ ٹالتے رہے۔ وہ آپ کی ٹال مٹول سے یہ سمجھا کہ آپ ڈر گئے اور آپ میں مقابلے کی طاقت نہیں ہے۔ اس نے جادو دکھانا شروع کر دیے اور ہوا میں اڑنا شروع کر دیا تاکہ زیادہ ڈر جائیں۔ آپ نے اپنی پاپوش (جوتی مبارک) کو حکم دیا اس کو مزہ چکھا تو جوتی نے ہوا میں پرواز کی اور جادوگر کے سر پر پڑنے لگیں۔ اس کو مارتے ہوئے داتا صاحب کے قدموں میں ڈال دیا۔ قدموں میں گرتے ہی آپ سے معافی مانگی۔ آیا تھا آپ سے لڑنے کے لئے مگر ہار کر آپ کی غلامی قبول کر لی اور مسلمان ہو گیا اور ظاہری اور باطنی علوم کی تربیت کے بعد اسلام کا مبلغ بن گیا۔ اس کے قبول اسلام سے ہلچل مچ گئی۔ جادو گروں کا جادو ماند پڑ گیا۔ اس کے اسلام لانے کی خبر دور دور اطراف میں پھیل گئی۔ اس کا حلقہ بہت بڑا تھا۔ لوگ اس سے متاثر تھے تو دھڑا ادھڑ پنجاب سے ہندو آتے جاتے آپ پر نظر ڈال کر مسلمان ہوتے جاتے۔ اسلام کی روشنی لاہور میں خوب پھیلی۔ اس کا نام رائے راجو تھا۔ بعد میں شیخ ہندیؒ کے نام سے مشہور ہو گئے۔ ان کا مزار بھی داتا صاحب کے احاطے میں موجود ہے۔ داتا گنج بخشؒ نے جہاں آپ کا مزار ہے مکان بنایا اور مسجد کی بنیاد رکھی مگر اس کی محراب جانب جنوب رکھی۔ علماء وقت نے اعتراض کیا کہ قبلہ سے ہٹ کر ہے۔ ایک دن سارے علمائے کو اکٹھا کیا۔ نماز پڑھائی۔ نماز پڑھنے کے بعد آپ نے کہا کہ میں نے اس سمت میں نماز پڑھائی ہے۔ ذرا دیکھو ادھر کیا ہے؟ لوگوں نے دیکھا نہ محراب ہے نہ محراب کی دیوار۔ سب نے کعبہ شریف کا جلوہ دیکھا۔ بڑے کفار نے داتا صاحبؒ کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا آپؒ کی کتاب کشف المحجوب ہے اس کے معنی ہیں چھپے ہوئے کو ظاہر کرنے والی، اللہ کرے ہر مسلمان اس کا مطالعہ کرے اور پڑھ کر اپنی اصلاح کرے۔ آپؒ نے اور بھی کتابیں لکھی ہیں۔ میں شروع میں بیان کر چکا کہ ہمارے بزرگان دین سفر بہت کرتے تھے تو غریب نوازؒ سفر کرتے ہوئے داتا صاحبؒ سے فیض حاصل کرنے کے لئے حاضر ہوئے۔ یہاں چلہ کاٹا۔ آپؒ 588ھ میں تشریف لائے اور 589ھ میں چلے گئے۔ داتا اور غریب نواز کے معنی قریب قریب ہیں۔ داتا کے معنی ہیں دینے والا اور غریب نواز کے معانی غریبوں کو نوازنے والا۔ غریب نوازؒ نے آپ سے متاثر ہو کر ایک شعر کہا
گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا
ناقصاں را پیر کامل کاملاں را رہنما

 

Murshid-e-Kamil

URS MUBARIK complete List