الصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہ
وہ جہنم میں گیا جو ان سے مستغنی ہوا
ہے خلیل اللہ کوحاجت رسول اللہ ﷺ کی
آج لے ان کی پناہ آج مدد مانگ ان سے
پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا

  Important Articles - Aqaid AhleSunnah Wa Jammatاہم مضا مین ۔ عقا ئد اہل سنت و جما عت

حضرت داتا گنج بخش کے چند رفقاء
Published Date: Thursday, May 21, 2015 - 12:00 AM
پیر اقبال فاروقی

حضرت سید ابو الحسن علی ہجویری علیہ الرحمہ اولیاء کرام میں ایک ہردلعزیز اور محترم شخصیت تھے۔ آپ نے اپنی جوانی میں عالم اسلام کی سیروسیاحت میں ایک لمبا عرصہ گزرا۔ خصوصا خراسان جوان دنوں نصف جہان تھا، کے اولیاء کرام سے استفادہ کیا۔ روحانیت کی تربیت و اشاعت میں یہ خطہ خیابان روحانیت کہلاتا تھا، جہاں اولیاء اﷲ کی ایک کثیر تعداد موجود تھی۔ خراسان کے ایک ایک شہر اور ایک ایک قصبے میں بزرگان دین کی روشن خانقاہیں تھیں جہاں سے روحانیت کی ضیاء پھوٹتی تھی۔
حضرت سید ابوالحسن ہجویری علیہ الرحمہ اپنی کتاب کشف المحجوب میں لکھتے ہیں ’’مجھے اس سیاحت میں خراسان کے تین سو اولیاء اﷲ سے مصافحہ کی سعادت نصیب ہوئی تھی اور حاضری کا شرف ملا۔ ان اولیاء کرام میں دنیا اسلام کے جلیل القدر مشائخ اور ارباب کرامت تھے۔ ہم داتا گنج بخش کی اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں جو آپ نے اپنے پیرومرشد ابوالفضل ختلی کی زبانی فرمائی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میرے پیرومرشد حضرت حضرمی علیہ الرحمہ نے خراسان کے ایک جنگل میں ہم عصر اولیاء کرام کو دعوت دی۔ میں نے دیکھا کہ دنیا کے گوشے گوشے سے اولیاء اﷲ کے کاروان آنے شروع ہوئے۔ ہر ایک ولی اﷲ ایک تخت پر بیٹھا فضا میں اڑتا چلا آرہا ہے اور ہر ایک کے ساتھ سو سو زیر تربیت بزرگ آرہے ہیں۔ میرے پیرومرشد نے فضا سے اترنے والے کسی صاحب کرامت بزرگ کی طرف توجہ نہ دی مگر ایک بزرگ جو پیدل چل کر پہنچے تھے، ان کے پائوں کے جوتے ٹوٹ چکے تھے، لباس غبار آلود تھا، چہرہ سفر کی سختیوں سے گرد آلود تھا، آپ آگے بڑھے، استقبال کیا اور بتایا انہیں کسی کرامت کی پرواہ نہیں بلکہ کرامتیں ان کی تلاش میں رہتی ہیں۔
خراسان کی سرزمین میں صاحب کرامت اولیاء اﷲ کی اتنی کثرت ہے، معلوم ہوتا ہے کہ پانچویں صدی کا اسلامی معاشرہ روحانیت کی تربیت میں بے حدخوش قسمت تھا۔ پھر حضرت داتا گنج بخش علیہ الرحمہ جن اصحاب کی نورانی مجالس اور محافل میں نشست و برخاست رکھتے تھے، وہ کتنے صاحب فکر و نظر تھے۔ آپ ایک مقام پر لکھتے ہیںکہ میرے ایک دوست بڑے خدا رسیدہ بزرگ تھے۔ خراسان کے ایک علاقہ کے گورنر نے آپ کو تیس ہزار درہم بطور نذرانہ بھیجے۔ آپ اس وقت ایک حمام میں غسل فرما رہے تھے۔ باہر آئے، نذرانہ قبول کیا اور کھڑے کھڑے غرباء و مساکین میں تقسیم کردیا۔ ایثار و غریب پروری کی یہ مثالیں اہل اﷲ کے ہاں ملتی تھیں۔
حضرت داتا گنج بخش کشف المحجوب میں لکھتے ہیں:
’’ایک بوڑھے درویش کو کوفہ کے بازار میں دیکھا جو کئی دنوں سے بھوکے اور پیاسے تھے اور سفر کی پریشانیوں سے نڈھال تھے۔ ہاتھ پر ایک خوبصورت چڑیا بٹھا رکھی تھی اور آواز لگا رہے تھے ’’ہے کوئی جو یہ چڑیا خریدے تاکہ میں کھانا کھا سکوں‘‘ لوگ ان کے اردگرد جمع ہوگئے اور انہیں سمجھانے لگے، آپ اﷲ کے نام پر روٹی مانگیں، لوگ دیںگے۔ آپ نے فرمایا ’’میں روٹی کے لئے خدا کا نام نہیں بیچ سکتا‘‘
حضرت ابوالقاسم امام قشیری حضرت داتا گنج بخش علیہ الرحمہ کے استاد مکرم تھے۔ آپ اپنے زمانہ کے نادر الوجود اور بلند قدر ولی اﷲ تھے۔ زمانے کے حالات و اقعات سے باخبر تھے۔ دنیا کے واقعات پر بڑی گہری نظر رکھتے تھے۔ وہ ہر موضوع پر بڑی عمدہ گفتگو فرمایا کرتے۔ آپ کی تصانیف و تالیفات اہل علم و عرفان کے لئے روحانی دولت کا سامان تھیں۔ صاحب ’’خزینۃ الاولیائ‘‘ نے آپ کا سن وصال 465ھ لکھا ہے۔ حضرت داتا گنج بخش علیہ الرحمہ نے آپ کے علمی اور روحانی انوار سے بڑا فائدہ اٹھایا۔ آپ لکھتے ہیں کہ مجھے ایک مسئلہ درپیش تھا۔ میں نے اس کے حل کے لئے بڑی تگ و دو کی مگر کامیابی نہ ہوئی۔ آخر میں اپنے استاد گرامی کی خدمت میں ’’طوس‘‘ پہنچا۔ حضرت امام قشیری علیہ الرحمہ اس وقت اپنی مسجد میں اکیلے بیٹھے مسجد کے ستون کو وہ مسئلہ سمجھا رہے تھے جس کی تلاش میں مجھے اتنا لمبا سفر کرنا پڑا۔ میں آپ کے پاس بیٹھ گیا۔ آپ ستون سے ہم کلام رہے۔ جب آپ گفتگو کے بعد خاموش ہوئے تو میں نے سلام عرض کیا اور دریافت کیا ’’حضرت ستون سے گفتگو کا کیا معنی؟‘‘ آپ نے فرمایا۔ ابھی ابھی اس ستون نے مجھ سے یہ مسئلہ دریافت کیا تھا میں اس کی وضاحت کررہا تھا۔ حضرت داتا گنج بخش علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ آپ نے میرا مشکل مسئلہ حل کردیا تھا اور میں مطمئن ہوگیا۔
حضرت داتا گنج بخش علیہ الرحمہ کے پیرومرشد حضرت شیخ ابوالفضل ختلی علیہ الرحمہ اپنے وقت کے بلند پایہ شیخ طریقت اور زبردست عالم تفسیر و احادیث تھے۔ آپ حضرت حضرمی علیہ الرحمہ کے محرم راز مرید تھے۔ آپ نے زندگی کے ساٹھ سال بیابان و جنگلات میں بسر کئے۔ لوگوں سے دور رہے اور عالمانہ لباس اور مشائخ کا جبہ و دستار نہیں پہنا، حضرت داتا صاحب فرماتے ہیں۔ میں نے ساری عمر اتنا نفیس اور دبدبے والا بزرگ نہیں دیکھا۔ وہ دمشق کے قصبہ ’’بیت الجن‘‘ میں رہتے تھے۔ لوگ دور دراز سے چل کرآپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ کی توجہ سے بے پناہ فائدہ اٹھاتے۔ حضرت داتا گنج بخش علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے پیرومرشد کو وضو کرا رہا تھا۔ میرے دل میں خیال آیا جب اﷲ تعالیٰ نے ہر ایک کی تقدیر اور مقدر لکھ دیا ہے تو پھر یہ نمازیں، روزے، ریاضتیں اور استاد، پیرومرشد کی خدمات کا کیا فائدہ؟ حضرت نے میرے دلی خدشات کو پالیا اور خود ہی فرمایا ’’بیٹا! تمہارے دل میں جو خیالات آرہے ہیں، میں ان سے واقف ہوں۔ یاد رکھو! اس دنیا میں ہر کام کا ایک سبب ہوتا ہے۔ جب اﷲ تعالیٰ کسی انسان کو اپنی قربت اور غفلت سے نوازتا ہے تو اسے پہلے گناہوں سے توبہ کی توفیق دیتا ہے پھر اسے اپنے بندوں کی خدمت میں لگا دیتا ہے۔ وہ خلق خدا کی خدمت کرکے اﷲ کا محبوب بن جاتا ہے۔ اس طرح اﷲ تعالیٰ کے انعامات اور اعزازات حاصل کرتا جاتا ہے اور یہی نوشتہ تقدیر ہے‘‘ داتا صاحب فرماتے ہیں کہ میرے پیرومرشد ابوالفضل ختلی علیہ الرحمہ وصال سے پہلے اپنے گھر ’’بیت الجن‘‘ میں تشریف فرما تھے۔ میں بھی آپ کے حجرے میں موجود تھا۔ حضرت کا سر میرے پہلو میں تھا اور میری نگاہیں آپ کے چہرے پر تھیں۔ اس طرح میں نے عالم روحانیت کے سورج کو غروب ہوتے دیکھا۔ آپ نے نزع کے عالم میں مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ’’بیٹے! دنیا کی تمام چیزیں خواہ اچھی ہوں یا بری، اﷲ نے بنائی ہیں۔ تم اچھی چیزوں کواپنالو مگر بری چیزوں سے جھگڑا مت کرو کیونکہ یہ بھی اﷲ تعالیٰ کی مخلوق ہیں‘‘
حضرت داتا گنج بخش علیہ الرحمہ ایک سفر کے دوران چین مں فرغانہ کے قصبہ میں جا پہنچے۔ فرغانہ کے پاس ہی ایک گائوں تھا جس کا نام ’’ساتک‘‘ تھا۔ وہاں ایک بزرگ رہتے تھے جن سے آپ کو ملنے کا اشتیاق تھا۔ داتا صاحب لکھتے ہیں۔ یہ بزرگ اوتاد کے منصب پر فائز تھے۔ اہل اﷲ انہیں ’’اوتاد الارض‘‘ کہا کرتے تھے۔ مقامی بزرگ لوگ آپ کو ’’باب العمود‘‘ کہہ کر یاد کیا کرتے تھے۔ آپ جس گھر میں رہتے تھے وہاں آپ کی ضعیف العمر بیوی فاطمہ کے علاوہ اور کوئی نہ رہتا تھا۔ اس ’’اوزخیز‘‘ سے چل کر صرف اس بزرگ کی زیارت کو آیا تھا۔ مجھے دیکھتے ہوئے فرمایا ’’تم کیوں آئے ہو؟‘‘ میں نے عرض کی حضور کے چہرہ انور کے زیارت کو حاضر ہوا ہوں۔ فرمانے لگے بیٹا! یہ سفر و سیاحت بچوں کا کھیل ہے، اب مجھے ملنے کے لئے سفر کی ضرورت نہیں۔ جہاں توجہ دوگے مجھے سامنے پائوگے‘‘ اسی اثناء میں آپ نے بیوی فاطمہ کو آواز دے کر مہمان کے لئے کچھ لانے کو کہا۔ وہ ایک طشتری میں نہایت عمدہ انگور اور تر کھجوریں لائیں۔ نہ وہ انگور کا موسم تھا نہ وہاں تازہ کھجوریں ملتی تھیں۔ میں ان کی تواضع کا آج تک لطف محسوس کرتا ہوں۔
حضرت عبداﷲ رودباری علیہ الرحمہ صوفیاء کرام میں بلند مقام والے بزرگ تھے۔ دریائے دجلہ کے کنارے ایک گائوں ’’صور‘‘ میں رہتے تھے۔ بڑے صاحب کرامت اور ماہر علوم شریعت تھے۔ حضرت داتا گنج بخش علیہ الرحمہ نے آپ کو اپنی ابتدائی زندگی میں دیکھا تھا۔ آپ کا ایثار و تقویٰ اس قدر قوی تھا کہ آپ اپنے مریدوں کو بھی ایثار اور سخاوت کا نمونہ بنادیتے تھے۔ حضرت داتا گنج بخش علیہ الرحمہ آپ کا ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ آپ اپنے رئیس اور امیر مرید کے گھر آئے۔ گھر دنیاوی اشیاء سے بھرا پڑا تھا مگر مرید گھر میں موجود نہ تھا۔ آپ نے غرباء و مساکین کو بلایا اور مرید کا سارا گھر لٹادیا۔ ہر چیز کو غرباء میں تقسیم کردیا۔ مرید آیا، اس نے گھر کو خالی پایا۔ حضرت مرشد کو دیکھا تو اطمینان حاصل ہوا اور اﷲ کا شکر ادا کیا کہ:
اب بے نیاز گردش دوراں ہوئے تو ہیں
مرید کی بیوی نے اپنے زیورات اور ریشمی ملبوسات بھی حضرت عبداﷲ کے حوالے کردیئے کہ یہ بھی گھر کا سامان ہے، اسے بھی مساکین میں تقسیم کردیں۔ مرید نے دیکھا تو بیوی کو ڈانٹ کر کہا یہ کیا  تکلف ہے۔ بیوی نے کہا جو کچھ شیخ نے کیا وہ ’’جود‘‘ ہے اور جو کچھ میں نے کیا وہ تکلف ہے۔ جود و تکلف دونوں اﷲ کو پسند ہیں۔ یہ تھے مرشد اور یہ تھے مرید۔ سب کچھ اﷲ کی راہ پر لٹا کر مطمئن تھے۔
حضرت الشیخ ابوالقاسم گورگانی علیہ الرحمہ اپنے وقت کے بے مثل بزرگ تھے۔ اپنے زمانہ کی لاثانی شخصیت، آپ کی توجہ نے ہزاروں طالبان حق کو واصل باﷲ کردیا تھا۔ شیخ بوعلی فارمدی علیہ الرحمہ جیسے صاحب کرامات بزرگ آپ کے خلیفہ  تھے۔ حضرت داتا گنج بخش علیہ الرحمہ نے آپ کی مجالس سے بڑا روحانی فیض پایا تھا۔ آپ ’’کشف المحجوب‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ایک دن مجھے حضرت کی مجلس میں حاضری کا اتفاق ہوا تو میں نے اپنے احوال کی تفصیلات بیان کرناشروع کیں۔ میں جواں سال تھا اور مراحل سلوک طے کررہا تھا۔ اس لئے اپنے تجربات اور احوال بیان کرتے وقت بڑا پرجوش تھا اور اپنی منازل طے کرنے پر فخر و غرور کا اظہار بھی کررہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ حضرت میری باتیں سن رہے ہیں، مگر نہایت سکون اور خاموشی سے۔ میرے دل میں خیال آیا کہ آپ کو میری باتوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ یہ بڑے بزرگ ابتدائی تجربات اور مشکلات سے ناواقف ہوتے ہیں۔ اس لئے میرے احوال کی قدر نہیں کرتے۔ حضرت نے میرے ان قلبی خدشات کو بھانپ لیا۔ فرمانے لگے ’’بیٹا! یہ انکسار اور عاجزی تمہارے لئے نہیں ہے۔ یہ تمہارے احوال و مقامات کے لئے ہے۔ میں تو اس ذات کے لئے عجز کررہا ہوں، جو احوال کو تبدیل کرنے والا ہے۔ پھر ہر طالب کے لئے بھی انکسار اور عجز اختیار کرتاہوں جو مقامات سلوک سے گزرتا ہے‘‘
حضرت داتا گنج بخش علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ میں حضرت کی یہ بات سن کر دم بخود ہوگیا۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسے میرے قدموں تلے سے زمین نگل گئی ہے۔ آپ نے فرمایا ’’بیٹے! طریقت میں جب بندے کو ان حالات سے شکایت ہوتی ہے تو اس کو اس کی گمان میں بند کردیا جاتا ہے، جب انسان اپنے آپ میں بند ہوجاتا ہے، وہ اپنی نفی کردیتا ہے تو اﷲ تعالیٰ میں فنا ہوکر اپنے تمام گمانوں اور دعوئوں سے خالی ہوجاتا ہے۔ اس مقام پر اس کے سامنے بس اﷲ کی ذات ہوتی ہے جس کی اطاعت کرتا ہے‘‘
حضرت داتا گنج علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ اس دن کے بعد میں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتا تو خاموش بیٹھا رہتا اور احوال بیان کرنے کی بجائے اسرارورموز سے دامن بھرتا۔ میں نے آپ کی مجالس سے وہ اسرارورموز پائے کہ اگر بیان کروں تو دریا ٹھاٹھیں مارنے لگیں۔
شیخ ابو احمد المظفر بن حمدون علیہ الرحمہ خراسان کے ایک صوبے کے گورنر تھے۔ جذب حقیقی نے اپنی طرف کھینچا تو تخت شاہی پر ہی مقامات و مراتب طے ملے جو سالوں کی ریاضتوں اور حیلوں سے نہیں ملتے۔ اقتدار اور حکومت پر رہتے ہوئے آپ نے مقامات سلوک حاصل کئے۔ سلطان المشائخ شیخ ابو سعید ابو الخیر فرمایا کرتے تھے، ہم تو اﷲ کی بندگی اختیار کرکے اس تک پہنچے مگر خواجہ مظفر کو تاج تخت پر بیٹھے بیٹھے دولت روحانیت مل گئی۔ ہم مجاہدہ کرتے رہے وہ مشاہدہ سے بلند مقام ہوگئے۔ حضرت داتا گنج بخش علیہ الرحمہ فرماتے ہیں، اگر مجھے حضرت ابو احمد المظفر کی مجالس سے زیاددہ استفادہ کا موقع نہیں ملا مگر آپ کے بیٹے خواجہ احمد نے مجھے بتایا کہ ایک دن خواجہ مظفر کے پاس سیتاپور سے چند ایسے ولی اﷲ آئے جنہیں اپنی اولیائی پر بڑا ناز تھا۔ ایک نے مجلس میں کہا ’’پہلے فنا ہے پھر بقائ‘‘ شیخ خواجہ مظفر نے فرمایا کہ اگر فنا ہے تو بقاء کی ضرورت ہی کیاہے۔ بقاء قائم ہوگی تو فنا ختم ہوگی۔
حضرت داتا گنج بخش علیہ الرحمہ فرماتے ہیں، میں نوعمر تھا مجھے سفر کی گرمی نے ستایا ہوا تھا۔ میں طویل سفر کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ لباس گرد آلود تھا۔ چہرے اور سر کے بال پراگندہ تھے۔ مجھے دیکھ کر فرمانے لگے ابو الحسن اپنی قلبی حالت بیان کرو اور یہ بتائو کہ تمہاری کیا تمنا ہے؟ میں نے عرض کی، حضرت میرا دل چاہتا ہے کہ سماع سنوں، آپ نے ایک خادم کو حکمدیا کہ گھر سے قوالوں کو بلا لائو، قوال آئے سماع شروع ہوا۔ کئی لوگ مجلس میں جمع تھے۔ میرے اندر جوانی کی آگ بھڑگ رہی تھی۔ باطنی ارادت کی وجہ سے سماع سے بڑا لطف اندوز ہوا۔ حضرت نے مجھ سے پوچھا ’’سنائو ابوالحسن مجلس سماع کیسی رہی؟‘‘ میں نے عرض کی حضور بڑا لطف آیا۔ سفر کی تھکان جاتی رہی اور روح کو تازگی ملی۔ کچھ عرصے کے بعد میرا جوش اور سماع کا اشتیاق ٹھنڈا پڑنے لگا تو آپ نے مجھے اپنے پاس بلایا اور فرمایا۔ ابوالحسن ایک وقت آئے گا کہ قوالی اور کوے کی آواز میں تمہیں کوئی فرق محسوس نہ ہوگا کیونکہ سماع کا اشتیاق اسی وقت تک رہتا ہے جب تک انسان کو مشاہدہ حاصل نہیں ہوتا۔ مشاہدے کے بعد سماع اور دوسری ریاضتیں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔
حضرت داتا گنج بخش علیہ الرحمہ کے احباب میں شخ ذکی ابن علاء شیخ ابو جعفر، صیدلانی، شیخ ابوالقاسم سری، شیخ الشیوخ ابوالحسن ابن سابعہ، ابو اسحاق، شہریار، ابوالحسن علی بن بکران، شیخ شفیق فرج زنجانی، شیخ ابو طاہر مکثوف، شیخ عبداﷲ جنیدی، خواجہ حسن سمنانی، شیخ محمد بن سلح، خواجہ ابو جعفر، محمد الحواری، خواجہ محمود نیشاپوری، خواجہ رشید، مظفر ابو سعید، شیخ احمد نجار سمرقندی اور ابو الحسن ابی طالب الاسود علیہم الرحمہ جیسے جلیل القدر صوفیاء عصر کے اسمائے گرامی ملتے ہیں۔ نجاران بزرگان دین کے علاوہ سینکڑوں باکمال صوفیاء آپ کے دوست تھے، جو دنیائے تصوف میں آفتاب و ماہتاب بن کر چمکتے رہے ہیں۔ یہ حضرات شام، عراق، فارس، آزربائیجان، طبرستان، کرمان، خراسان ، مادرالنہر، غزنیں اور ایران کے مختلف شہروں میں پھیلے ہوئے تھے۔
حضرت حماد اور شیخ ابو سعید آپ کے خصوصی دوست تھے۔ جلیس مجالس اور شریک سفر وحضر تھے۔ حضرت داتا گنج بخش علیہ الرحمہ غزنی سے لاہور آئے تو آپ بھی حضرت کے ہمرکاب تھے۔ قیام لاہور کے دوران آپ کے ساتھ رہے۔ حضرت داتا گنج بخش علیہ الرحمہ کی معرکۃ الآرا کتاب کشف المحجوب شیخ ابو سعید کی فرمائش پر لکھی تھی بلکہ فاضل مصنف نے آپ کے بعض سوالات کے جواب میں آپ کو مخاطب فرما کر یہ گراں مایہ کتاب ترتیب دی۔ شیخ ابو سعید ایک بلند پایہ عالم اور صوفی تھے۔ وہ ایک زیر تربیت سالک کی حیثیت سے حضرت داتا گنج بخش کی صحبت میں رہے، لاہور میں ابتدائی دنوں میں جن مصائب اور ناموافق حالات کا سامنا کرنا پڑا، اس میں شیخ ابو سعید نہ صرف برابر کے شریک تھے بلکہ حضرت داتا گنج بخش علیہ الرحمہ کے لئے ایک رفیق غمگسار رہے، ان مشکلات کے بعد جن کامیابیوں نے حضرت داتا گنج بخش علیہ الرحمہ کے قدم چومے، ان میں شیخ ابو سعید کا باقاعدہ حصہ ہے۔
صاحب کشف المحجوب نے اپنی کتاب میں جہاں تصوف کے اسرار ورموز کو بیان کیا ہے، وہاں آپ نے اپنے سفر اور بزرگان دین سے ملاقاتوں کی تفصیل بھی بیان کی ہیں پھر جن بزرگان دین سے استفادہ کیا ہے ان کا تذکرہ بڑے خوبصورت انداز میں کیا ہے۔ صرف افراد ہی نہیں آپ نے اکثر بزرگان دین کے مزارات سے بھی استفادہ کیا اور روحانی برکات حاصل کیں۔ آپ اپنی کتاب میں ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ مجھے بعض مشکل مسائل کا سامنا تھا۔ میں نے بڑی کوشش کی مگر میری قلبی مشکلات حل نہ ہوسکیں۔ میں حضرت بایزید بسطامی علیہ الرحمہ کے مزار پر تین ماہ تک ٹھہرا رہا مگر مسائل اور مشکلات جوں کی توں رہیں۔ آخر میں نے خراسان جانے کا ارادہ کیا اور پھر ’’کش‘‘ کے ایک قریبی گائوں میں رات گزارنے کا فیصلہ کیا۔ اس گائوں میں کسی ولی اﷲ کا مزار تھا۔ اس خانقاہ پر کئی گدڑی پوش صوفیائے کرام قیام پذیر تھے۔ میں نے اس دن ایک کھدری گدڑی پہنی ہوئی تھی۔ میرے پاس کوئی سامان نہیںتھا۔ صرف ایک کوزہ اور ایک ڈنڈا تھا۔ ان صوفیوں نے مجھے اس لباس میں دیکھا تو حقارت سے نظر انداز کردیا اور کہنے لگے تم ہم میں سے نہیں ہو۔ میں واقعی ان میں سے نہیں تھا۔ رات کا ایک حصہ گزرا تو مجھے کہنے لگے تم اس اونچی جگہ لیٹے رہو۔ وہ خود ایک چبوترے پر جا بیٹھے۔ انہوں نے مجھے ایک باسی اور بدبودار سوکھی روٹی دی اور خود اعلیٰ قسم کے کھانے کھانے لگے۔ مجھے ان کے کھانوں کی خوشبو آرہی تھی اور ان کے چٹخاروں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ وہ کھانے کھاتے رہے اور مجھ پر طنز بھی کرتے جاتے۔ کھانا کھانے کے بعد وہ خربوزے کھانے لگے اور خربوزوں کے چھلکے مجھ پر پھینکتے جاتے اور قہقہے لگاتے جاتے۔ میں نے دل میں کہا اے اﷲ! اگر یہ لوگ تیرے نیک بندوں کے لباس میں نہ ہوتے تو میں ان کی وہ خبر لیتا کہ وہ یاد رکھتے۔ اس کے باوجود ان کی زبانیں طنز کرنے اور ہاتھ چھلکتے پھینکنے سے نہ رکے۔ میں ان کی یہ حرکات برداشت کرتا رہا، اپنے نفس کی انا کو دباتا رہا۔ ان کی ملامت پر ضبط کرتا رہا۔ اﷲ تعالیٰ نے اس برداشت کی وجہ سے میری قلبی مشکلات آسان فرمادیں اور میرے مسائل حل ہوگئے۔ اب مجھے معلوم ہوا کہ   اولیاء اﷲ بعض مجہول اور جاہل قسم کے لوگوں کو اپنے ساتھ کیوں رکھتے ہیں۔
حضرت داتا گنج بخش علیہ الرحمہ نے دوران سفر کئی ایسے اولیاء اﷲ سے ملاقات کی جو واقعی اﷲ کی راہ میں درویش بے نوا کی حیثیت سے زندگی بسر کررہے تھے۔ آپ کشف المحجوب کے صفحہ 636 پر لکھتے ہیں کہ میں نے ایک بیابان میں ایک ایسے شخص کو دیکھا جو سال میں چالیس چالیس روز متواتر کھائے پئے بغیر رہتا تھا۔ شیخ دانش ابو محمد باغری علیہ الرحمہ جب دنیا سے رخصت ہونے لگے تو میں وہاں موجود تھا۔ سابقہ ستر اسی دن سے آپ نے کچھ نہ کھایا تھا۔ پھر اتنے عرصہ میں آپ نے ایک نماز بھی قضا نہیں کی تھی۔ میں نے ایک درویش کو دیکھا جو اسی دن تک روزے سے رہا اور تمام نمازیں باجماعت ادا کرتا رہا۔ مرد کے علاقہ میں مجھے ایسے دو بزرگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ ایک کا نام مسعود تھا اور دوسرے کا نام شیخ ابو علی سیاہ تھا۔ حضرت مسعود نے شیخ ابوعلی کو بلایا اور کہا آئو آج سے چالیس دن کا چلہ کریں اور کچھ نہ کھائیں اور نہ پئیں۔ ابو علی سیاہ نے جواب دیا کہ میرے پاس آجائیں اور ہر روز خوب پیٹ بھر کر مرغن کھانا کھائیں مگر چالیس روز تک ایک ہی وضو سے تمام نمازیں ادا کریں۔ حضرت داتا گنج بخش علیہ الرحمہ ایسے ہزاروں مردان خدا کو ملتے تھے اور ان کی مجالس و صحبت سے استفادہ کرتے تھے۔

 

Murshid-e-Kamil

URS MUBARIK complete List