الصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہ
وہ جہنم میں گیا جو ان سے مستغنی ہوا
ہے خلیل اللہ کوحاجت رسول اللہ ﷺ کی
آج لے ان کی پناہ آج مدد مانگ ان سے
پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا

  Important Articles - Aqaid AhleSunnah Wa Jammatاہم مضا مین ۔ عقا ئد اہل سنت و جما عت

کرامات حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ
Published Date: Friday, May 22, 2015 - 4:15 PM
اناساگر ایک کوزہ میں
ایک مرتبہ حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے ایک خادم انا ساگرسے وضو کے لئے پانی لینے گئے تو وہاں خلاف معمول راجہ کے سپاہی پہرہ دے رہے تھے،جب خادم نے کوزہ میں پانی بھرنا چاہاتوسپاہیوں نے سختی سے منع کردیااور کہا کہ اب تم اس کو نہیں چھوسکتے ہو‘ تالاب کے پانی کو گندہ مت کرو۔ خادم نے کہا کہ پانی تو جانوروں پر بھی بند نہیں کیا جاتا‘ ہم تو انسان ہیں ۔
اس پرسپاہیوں نے کہا کہ تم حیوانوں سے بھی بدترہو۔ خادم نے آکر جب آپ کو سارا ماجرا سنایا تو آپ نے فرمایاکہ سپاہیوں سے کہو کہ اس مرتبہ ایک کوزہ پانی لے لینے دو پھر ہم اپنا کوئی اور انتظام کرلیں گے۔ آپ کے حکم پر جب خادم دوبارہ تالاب پر پانی لینے گیا توسپاہیوں نے تمسخر اڑاتے ہوئے کہا کہ آج کوزہ بھر لو اس کے بعد تمہیں یہاں سے پانی لینے کی اجازت نہیں ہو گی۔ چنانچہ خادم نے حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے حکم کے مطابق وہ کوزہ بھر لیا۔راجپوت سپاہیوں کیساتھ ساتھ مسلمان خادم پر بھی حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ گئے وہ یہ دیکھ کر تعجب میں پڑگئے کہ اناساگر تالاب کا سارا پانی ایک چھوٹے سے برتن میں سمٹ کر آگیا۔ جس تالاب پرسپاہی تکبر کر رہے تھے وہ پانی سے خالی ہو چکا تھا۔ اس قوم کے نزدیک یہ جادوگری کا ایک عظیم الشان مظاہرہ تھا۔ یہ دیکھ کر راجپوت سپاہی وہاں سے خوفزدہ ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ آپ کے خادم بھی حضرت کی خدمت میں واپس آئے اور آپ کوسارا واقعہ سنایا۔ پورے شہر اجمیرمیں ہنگامہ برپا تھا اناساگر تالاب کے خشک ہونے کی خبر سب کیلئے حیران کن تھی۔ پرتھوی راج مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو ہر صورت میں روکنا چاہتا تھا‘ مشیروں نے اسے مشورہ دیا کہ اس مسلمان فقیر کا مقابلہ ہندو جادوگر ہی کر سکتے ہیں ۔​ ​ ​لیکن اس سے پہلے شہر اجمیر کے چند معززین اناساگر تالاب کی سابقہ پوزیشن بحال کرنے کی استدعا لیکر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ اگرتالاب کا پانی اسی طرح خشک رہا تو بہت سارے انسان پانی کے بغیر مر جائیں گے۔ چنانچہ آپ نے اسلام کی رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا:یہ تو حق کے نافرمانوں کیلئے ایک چھوٹی سی جھلک ہے،ورنہ ہمارا مذہب تو کسی کتے کوبھی پیاس سے تڑپتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔ یہ فرما کر آپ نے اپنے خادم کو حکم دیا کہ برتن کا پانی تالاب میں واپس ڈال دیا جائے۔جب کوزہ کا پانی آپ کے حکم سے تالاب میں ڈالا گیا تولوگ دیکھ کر یہ حیران رہ گئے کہ تالاب ایک بارپھر پانی سے لبالب اوربھرا ہوا ہے۔​ ​ بت پرستوں اور پرتھوی راج کیلئے حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی جانب سے یہ ایک بہت بڑا پیغام تھا،جسے سمجھنے اوراس پرعمل کرنے کے بجائے وہ سرکشی پر اتر آیااسلام اور اہل اسلام کے خلاف سازشیں رچانے لگا‘حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کی خدمت میں رہنے والے درویشوں پر زیادتیاں کرنے لگا۔​
لشکر اسلام کو ہند میں آنے کی اجازت​
جب پرتھوی راج اپنے بغض وعناد سے باز نہیں آیا اور مظالم کی انتہاء کردی تو حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی روحانی قوت کے ذریعہ ظلم و جبر کی سلطنت کا تختہ الٹ دیا اورسرزمین ہندمیں امن وآشتی کی فضاہموارکرتے ہوئے حکومت کی باگ ڈور سلطان معز الدین عرف شہاب الدین غوری کے حوالہ فرمادی اور قوم کوپِرتھوی راج کی بربریت سے نجات دلادی،جیسا کہ شیخ محقق حضرت عبد الحق محد ث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :آپ پتھورا رائے(پرتھوی راج)کے دور حکومت میں اجمیر تشریف لائے اور عبادت الہی میں مشغول ہوگئے ،پتھورا رائے اس زمانہ میں اجمیر میں ہی مقیم تھا،ایک روز اس نے آپ کے ایک مرید کو کسی وجہ سے ستایا،آپ نے کہلا بھیجا کہ اسے مت ستاؤ!لیکن اس کاسر غرور وتکبر سے بھرا ہوا تھا ،وہ بازنہ آیا اور اس مرید کے بارے میں ناشائستہ کلمات کہے تو آپ نے فرمایا:پتھورا را زندہ گرفتہ بدست لشکر اسلام دادم یعنی پتھورا کو زندہ گرفتار کرکے میں نے لشکر اسلام کے ہاتھ میں دے دیا ،انہی ایام میں شہاب الدین غوری لشکر لیکر غزنی سے ہندوستان پر حملہ آور ہوئے ، پتھورا نے مقابلہ کیا لیکن اللہ کے حکم سے زندہ گرفتار ہوگیا۔اخبار الاخیار،ص:55،مراٰۃ الاسرار،ص :599، سیرالاولیاء ۔ص 56​
مشت خاک کی کرامت​
جوں جوں اسلام عام ہوتاگیا‘مخالفین اسلام کے دلوں میں آتش غیظ وغضب بھڑک اٹھی، ایک شخص ناپاک ارادہ سے آپ پر حملہ آورہوا‘اس وقت آپ نماز میں مشغول تھے، نماز سے فراغت کے بعد جب خادموں نے اطلاع دی تو آپ اٹھے اور مٹھی بھر مٹی اٹھاکر اس پر آیۃالکرسی دم کی اور دشمنوں کی طرف پھینک دی ، وہ مٹی جس شخص پر پڑی اس کا جسم خشک ہوگیا ، اوروہ بے حس ہوکر رہ گیا ، یہ دیکھ کر سب لوگ وہاں سے بھاگ گئے ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت غریب نواز کی ولایت محمدی تھی، غرض یہ کہ جب دشمنوں نے دیکھا کہ حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کا مقابلہ ممکن نہیں تو انہوں نے لڑائی ترک کردی۔اقتباس الانوار۔362/363​

 

Murshid-e-Kamil

URS MUBARIK complete List