• کرم کی بھیک ملے تو حیات بنتی ہے        حضورﷺ آپ نوازیں تو بات بنتی ہے
  • رخِ حضورﷺ کا صدقہ یہ دن چمکتا ہے       آپ ﷺ کی زلفوں کے سائے سے رات بنتی ہے
  • ملے جو اذن ثنا ء کا تو لفظ ملتے ہیں       اگر ہو آپﷺ کی مرضی تو نعت بنتی ہے
  • در حبیبﷺ کی زیارت بڑی سعادت ہے       ہو آپﷺ کا بلاوہ تو برات بنتی ہے
  • جسے وسیلہ بنایا تمام نبیوں نے       اسے وسیلہ بناؤ تو بات بنتی ہے
Madina Munawara
Video Mahafils
الصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہ
صَلَّی اللہُ عَلٰی حَبِیْبِہٖ سَیِّدِنَا مُحَمَّدِ وَّاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمْ
وہ جہنم میں گیا جو ان سے مستغنی ہوا
ہے خلیل اللہ کوحاجت رسول اللہ ﷺ کی
آج لے ان کی پناہ آج مدد مانگ ان سے
پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا
کون دیتا ہے دینے کو منہ چاہیے
دینے والا ہے سچا ہمارا نبی ﷺ
النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ۔ سورۃ احزاب (۶۔۳۳)
یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے

تذکرہ اعلیٰ حضرت

تحریر محمد غفران رضا قادری رضوی تذکرہ اعلیٰ حضرت وحیات وخدمات امام اہلسنت

تذکرہ اعلیٰ حضرت

ہمارے حضرت عالمی ناشر رضویات بین الاقوامی ترجمان مسلک اعلی حضرت سفیر اسلام فطب اعظم ماریشس و افریقہ حضرت علامہ ابراھیم خوشتر علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔

اے رضا مرتبہ کتنا ہوا بالا تیرا

ہند تو ہند عرب میں ہواشہرا تیرا

 اور ایک مقام پر فرماتے ہیں۔

اے امام الہدیٰ شاہ احمد رضا

مرشد الاتقیاء شاہ احمد رضا

اس دار فانی میں جن بزرگانِ دین نے اپنی بزرگیت و تصرفات و کرامت سے ہدایت کا چراغ کو پوری دنیا میں روشن کیا، ان میں سے کچھ ایسی انمول ہستیاں ہیں جنہیں دنیا کبھی ان کی علمی کارناموں سے یاد کرتی ہے تو کبھی تبلیغی خدمات کی حیثیت سے ۔ان بزرگان کو ان کے اخلاق و کردار اور روحانی مقام و مرتبے کے لحاظ سے بھی یا کیا جاتا ہے۔ان بزرگوں نے اپنے علم و علم اور تقوی و پرہیزگاری سے اسلام کی تعلیمات کو عام کیا اور کفر و شرک اور بدعت و خرافات کا قلع قمع کیا۔اس حیثیت سے اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ و الرضوان ایک ممتاز شناخت کے حامل ہیں اور یہی وجہ ہے کہ علماء کرام نے ان کو مجدد دین و ملت مانا ہے۔زیر نظر مضمون میں ان کی حیات و خدمات کے چند اہم گوشوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ولادت با سعادت:آپ کی ولادت با سعادت بریلی شریف کے محلہ جسولی میں ۱۰؍ شوال المکرم ۱۲۷۲ھ بروز ہفتہ بوقتِ ظہر مطابق ۱۴؍ جون ۱۸۵۶ء؁ کو ہوئی۔  (حیاتِ اعلیٰ حضرت، ج۱ ص۵۸ مکتبہ المدینہ، باب المدینہ کراچی)۔

نام ونسب :۔ نام ، محمد ۔ عرفی نام ،احمد رضاخاں ۔بچپن کے نام امن میاں ۔احمد میاں ۔

آپ کاتاریخی نام ،المختار۔۱۲۷۲ ھ۔

 آپ کا اسم گرامی ’’محمد‘‘ ہے۔ اور آپ کے جدا مجد آپ کو احمد رضا کہہ کر پکارا کرتے اور آپ اسی نام سے مشہور ہوئے۔ آپ کا سلسلہ نسب افغانستان کے مشہور و معروف قبیلہ بڑہیچ سے ہے جو افغان کے جدامجد قیس عبدالرشید (جنہیں سرکار دو عالم، نورِ مجسم شاہ نبی آدم صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت عالیہ میں حاضری دے کر دین اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل ہوئی) کے پوتے ’’شرجنون‘‘ الملقب بہ شرف الدین کے پانچ بیٹوں میں سے چوتھے بیٹے بڑہیچ سے جا ملتا ہے۔ گویا آپ ایک صحابی رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اولاد میں سے ہیں۔ (شاہ احمد رضا خان بڑہیچ افغانی از قلم محمد اکبر اعوان مطبوعہ کراچی ، ص۳۵)۔

اس سلسلہ نسب سے آپ خاندان میں صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض جاری وساری ہے آپ کے خاندان کے پہلے جدامجد صحابی تھے۔

ویسے آپ کاسلسلۂ نسب اس طرح ہے امام احمد رضا بن مولانا نقی علی خاں بن مولانا رضاعلی خاں بن حافظ کاظم علی خاں بن محمد اعظم خاں بن سعادت یار خاں بن سعید اللہ خاں ولی عہد ریاست قندھار افغانستان وشجاعت جنگ بہادر علیھم الرحمۃ والرضوان

آپکے اجداد میں سعید اللہ خاں شجاعت جنگ بہادر پہلے شخص ہیں جو قندھار سے ترک وطن کرکے سلطان نادر شاہ کے ہمراہ ہندوستان آئے اور لاہور کے شیش محل میں قیام فرمایا ۔

علامہ حسنین رضاخاں علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ۔

یہ روایت اس خاندان میں سلف سے چلی آرہی ہے کہ اس خاندان کے مورث اعلی والیان قندھار کے خاندان سے تھے ۔شہزادہ سعید اللہ خاں صاحب ولی عہد حکومت قندھار کی والد ہ کا انتقال ہوچکا تھا۔ سوتیلی ماں کا دوردورہ ہوا تو انہوں نے اپنے بیٹے کیلئے ولی عہدی کی جگہ حاصل کر نے کے سلسلے میں ان باپ بیٹوں میں اتنا نفاق کرادیا کہ شہزادہ سعید اللہ خاں صاحب ترک وطن پر مجبور ہوگئے ۔ان کے چند دوستوں نے بھی اس نقل مکانی میں ان کا ساتھ دیا ۔ یہ ساری جماعت قندھار سے لاہور آگئی ۔لاہور کے گورنر نے دربار دہلی کو اطلاع دی کہ قندھار کے ایک شہزادے صاحب کسی کشید گی کی وجہ سے ہجرت کرکے لاہور آگئے ہیں اس کے جواب میں انکی مہمان نوازی کا حکم ہوا اور لاہور کا شیش محل ان کو رہائش کے لئے عطا ہوا جوآج بھی موجود ہے ۔ان کی شاہی مہمان نوازی ہونے لگی ۔انہیں اپنے مستقبل کے لئے کچھ کرنا ضروری تھا وہ جلدی ہی دہلی آگئے یہاں انکی بڑی عزت ووقعت ہوئی ۔

چند ہی دنوں میں وہ فوج کے کسی بڑے عہدے پر ممتاز ہوگئے اور انکے ساتھیوں کو بھی فوج میں مناسب جگہیں مل گئیں ۔یہ منصب انکی فطرت کے بہت مناسب تھا۔ جب روہیل کھنڈ میں کچھ بغاوت کے آثار نمودار ہوئے تو باغیوں کی سرکوبی ان کے سپرد ہوئی ۔ اس بغاوت کے فرو ہونے کے بعد ان کو روہیل کھنڈ کے صدر مقام بریلی میں قیام کرنے اور امن قائم رکھنے کا حکم ہوگیا ۔یہاں انہیں صوبہ دار بنادیا گیا جو گورنر کے مترادف ہے ۔اس ضلع میں انکو ایک جاگیر عطا ہوئی جو غدر

۔۱۸۵۷ ء میں ضبط ہوکر تحصیل ملک ضلع رامپور میں شا مل کردی گئی ہے ۔اس جاگیر کا مشہور اور بڑا موضع وہنیلی تھا جواب موجود ہے ۔بریلی کی سکونت اس لئے مستقل ہوگئی کہ اسی دور میں کوہستان روہ کے کچھ پٹھان خاندان یہاں آکر آباد ہوگئے تھے ۔ان کے لئے ان کا جوار بڑا خوشگوار تھا ۔ اس واسطے کہ ان سے بوئے وطن آتی تھی ۔( سیرت اعلی حضرت۔ مصنفہ علامہ حسنین رضا خانصاحب بریلوی علیہ الرحمہ)۔

سعید اللہ خاں ۔حضرت سعید اللہ خاں صاحب کوشش ہزاری عہدہ بھی ملاتھا اور شجاعت جنگ آپ کو خطاب دیا گیا تھا ۔آپ نے آخر عمر میں ملازمت سے سبکدوشی اختیار کرلی تھی ۔بقیہ زمانہ یاد الہی میں گذارا اور جس میدان میں آپ کا قیام تھا وہیں دفن ہوئے ۔بعد کو لوگوں نے اس میدان کو قبرستان میں تبدیل کردیا جو آج بھی محلہ معماران بریلی میں موجود ہے اور اسی مناسبت سے اسکو شہزادے کا تکیہ کہاجاتا ہے ۔

سعادت یار خاں ۔ آپکے بعد آپکے صاحبزادے سعادت یار خاں نے کافی شہرت پائی بلکہ والد ماجد کی حیات ہی میں اپنی امانت داری اور دیانت شعاری کی وجہ سے حکومت دہلی کے وزیر مالیات ہوگئے تھے ۔شاہی حکومت کی طرف سے آپکو بدایوں کے متعدد مواضعات بھی جاگیر میں ملے تھے ۔

مولانا حسنین رضاخاں تحریر فرماتے ہیں:۔

انہوں نے دہلی میں اپنی وزارت کی دونشانیاں چھوڑیں ۔بازار سعادت گنج اور سعادت خاں نہر ۔نہ معلوم حوادث روزگار کے دست ستم سے ان میں سے کوئی نشانی بچی ہے یانہیں ۔ انکی مہر وزارت بھی اس خاندان میں میری جوانی تک موجودرہی ۔(سیرت اعلی حضرت۔ مصنفہ علامہ حسنین رضا خانصاحب بریلوی علیہ الرحمہ)۔

آپکے تین صاحبزادے تھے ۔محمد اعظم خاں ،محمد معظم خاں ،محمد مکرم خاں ۔

محمد اعظم خاں ۔آپکے بڑے صاحبزادے تھے ۔سلطنت مغلیہ کی وزارت اعلی کے عہدے پر فائز ہوئے ۔کچھ دن اس عہدہ پر فائز رہنے کے بعد سلطنت کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوگئے تھے ۔آپ نے ترک دنیا فرماکر عبادت وریاضت میں ہمہ وقت مشغولی اختیار فرمائی ۔ آپ بھی بریلی محلہ معماران میں اقامت گزیں رہے ۔

آپکے صاحبزادے حضرت حافظ کاظم علی خاں ہرجمعرات کو سلام کیلئے حاضر ہوتے اور گرانقدر رقم پیش کرتے ۔ایک مرتبہ جاڑے کے موسم میں جب حاضر ہوئے تودیکھا کہ آپ ایک الائو (دہرے) کے پاس تشریف فرماہیں ۔اس موسم سرما میں کوئی سردی کا لباس جسم پر نہ دیکھ کر اپنا بیش بہا دوشالہ اتار کر والد ماجد کو اڑھادیا ۔حضرت موصوف نے نہایت استغناء سے اسے اتار کر آگ کے الائو میں ڈالدیا ۔ صاحبزادے نے جب یہ دیکھا تو خیال پیدا ہوا کہ کاش اسے کسی اور کو دیدیتا تو اسکے کام آتا ۔

آپکے دل میں یہ وسوسہ آنا تھا کہ حضرت نے اس آگ کے دھر ے سے دوشالہ کھینچ کر پھینک دیا اور فرمایا : فقیر کے یہاں دھکر پھکر کا معاملہ نہیں ،لے اپنا دوشالہ ۔دیکھا تو اس دوشالہ پر آگ کا کچھ اثر نہیں تھا ۔(حیات اعلی حضرت۔ مصنفہ ملک العلماء علامہ ظفر الدین صاحب بہاری علیہ الرحمہ)۔

حافظ کاظم علی خاں :۔ حافظ کاظم علی خاں شہر بدایوں کے تحصیلدار تھے اور یہ عہدہ آج کے زمانہ کی کلکٹری کے برابر تھا ۔دوسو سواروں کی بٹالین آپکی خدمت میں رہا کرتی تھی ۔آپ کو سلطنت مغلیہ کی طرف سے آٹھ گائوں جاگیر میں پیش کئے گئے تھے ۔

سیرت اعلی حضرت میں ہے: ۔

حافظ کاظم علی خاں صاحب مرحوم کے دور میں مغلیہ حکومت کازوال شروع ہوگیا تھا ہرطرف بغاوتوں کا شوراور ہرصوبے میں آزادی وخودمختاری کا زور ہورہاتھا۔ اس وقت جب کوئی تدبیر کار گر نہ ہوئی توحافظ کاظم علی خاں صاحب دہلی سے لکھنؤ آگئے ۔ادھر انگریزوں کا زور بڑھ رہا تھا اور حکومت میں تعطل پیدا ہوگیا تھا ۔اودھ کی سلطنت میں بھی کارہائے نمایاں انجام دیئے ان کو بھی یہاں دوباراودھ سے ایک جاگیر عطاہوئی جو ہم لوگوں تک باقی رہی اور ۱۹۵۴ء میں جب کانگریس نے دیہی جائداد یں ضبط کیں تو ہماری معافی بھی ضبطی میں آگئی ۔(سیرت اعلیٰ حضرت)

ملک العلماء حضرت مولانا ظفرالدین بہاری علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :۔

آپ اس جدوجہد میں تھے کہ سلطنت مغلیہ اور انگریزوں میں جو کچھ مناقشات تھے ان کا تصفیہ ہوجائے ۔چنانچہ اسی تصفیہ کیلئے آپ کلکتہ تشریف لے گئے تھے۔(حیات اعلیٰ حضرت)۔قطب وقت مولانا رضاعلی خاں ۔ آپکے بڑے صاحبزادے ہیں اور سید نا اعلی حضرت قدس سرہ کے حقیقی دادا۔

آپکی ولادت ۱۲۲۴ھ میں ہوئی ۔شہر ٹونک میں مولوی خلیل الرحمن صاحب علیہ الرحمہ سے علوم درسیہ حاصل کئے ۔۲۲؍ سال کی عمر میں ۱۲۴۷ھ سند فراغ حاصل کی ۔اپنے زمانہ میں فقہ وتصوف میں شہرت خاص تھی ۔تقریر نہایت پرتاثیر ہوتی ،آپکے اوصاف شمار سے باہر ہیں ، نسبت کلام ،سبقت سلام ،زہد وقناعت ،حلم وتواضع اور تجرید وتفرد آپکی خصوصیات سے ہیں ۔

مولانا حسنین رضا خاں صاحب لکھتے ہیں: ۔

یہ پہلے شخص ہیں جو اس خاندان میں دولت علم دین لائے اور علم دین کی تکمیل کے بعد انہوں نے سب سے پہلے مسند افتاء کو رونق بخشی ، تو اس خاندان کے ہاتھ سے تلوار چھوٹی اور تلوار کی جگہ قلم نے لے لی ۔اب اس خاندان کا رخ ملک کی حفاظت سے دین کی حمایت کی طرف ہوگیا ۔وہ اپنے دور میں مرجع فتاوی رہے۔ انہوں نے خطب جمعہ وعیدین لکھے جو آج کل خطب علمی کے نام سے ملک بھر میں رائج ہیں ۔یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اس خاندان کے مورث اعلی مولانارضاعلی خاں صاحب کے خطبے جو خطب علمی کہلاتے ہیں۔

وہ مولانا رضاعلی خاں صاحب کے ہی تصنیف کر دہ ہیں اور کم وبیش ایک صدی سے سارے ہندوستان کے طول وعرض میں جمعہ وعیدین کو پڑھے جاتے ہیں ۔اور ہر مخالف وموافق انہیں پڑھتا ہے ۔ان کو شہرت سے انتہائی نفرت تھی اس لئے انہوں نے خطبے اپنے شاگرد مولانا علمی کودے دیئے مولانا علمی نے خود بھی اس طرف اشارہ کیا ہے البتہ خطب علمی میں اشعار مولانا علمی کے ہیں اور مولانا رضا علی خاں صاحب مرجع فتاوی بھی رہے ۔

خطب علمی کو رب العزۃ نے وہ شان قبولیت عطافرمائی کہ آج تک کوئی خطبہ اس کی جگہ نہ لے سکا ۔اس دور میں بہت سے خطبے لکھے گئے عمدہ کرکے چھاپے گئے کوشش سے رائج کئے گئے مگر وہ قبول عام کسی کو آج تک نصیب نہ ہوا اورنہ آئندہ کسی کو امید ہے کہ وہ خطب علمی کی جگہ لے سکے گا ۔جب انکے بیٹے مولانا نقی علی خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے سند تکمیل حاصل کرلی تو افتاء اور زمینداری یہ دونوں کام مولانا نقی علی خاں کے سپرد ہو گئے ۔(سیرت اعلیٰ حضرت)۔

۔۱۲۸۲ھ میں وصال ہوااور سٹی قبرستان میں مدفون ہوئے ۔

کشف وکرامات 

حضرت کا گذر ایک روز کوچہ سیتارام کی طرف سے ہوا ہنود کے تہوارہولی کا زمانہ تھا ایک ہندنی بازاری طوائف نے اپنے بالا خانہ سے حضرت پر رنگ چھوڑدیا یہ کیفیت شارع عام پر ایک جوشیلے مسلمان نے دیکھتے ہی بالا خانہ پر جاکر تشدد کرنا چاہا مگر حضور نے اسے روکا اور فرمایا : بھائی کیوں اس پر تشدد کرتے ہو اس نے مجھ پررنگ ڈالا ہے۔خدا اسے رنگ دے گا۔ یہ فرمانا تھا کہ وہ طوائف بیتابانہ قدموں پر گر پڑی اور معافی مانگی اور اسی وقت مشرف باسلام ہوئی حضرت نے وہیں اس نوجوان سے اس کا عقد کردیا ۔

۔۱۸۵۷ء کے بعد جب انگریزوں کا تسلط ہوا اور انہوں نے شدید مظالم کئے تو لوگ ڈر کے مارے پریشان پھرتے تھے ۔بڑے لوگ اپنے اپنے مکانات چھوڑ کر گائوں وغیرہ چلے گئے لیکن حضرت مولانا رضاعلی خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ محلہ ذخیرہ اپنے مکان میں برابر تشریف رکھتے رہے اور پنج وقتہ نمازیں مسجد میں جماعت کے ساتھ ادا کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت مسجد میں تشریف رکھتے تھے کہ ادھر سے گوروں کا گزرہوا خیال ہوا کہ شاید مسجد میں کوئی شخص ہوتو اس کو پکڑ کر پیٹیں، مسجد میں گھسے ادھر ادھر گھوم آئے بولے مسجد میں کوئی نہیں ہے حالانکہ حضرت مسجد میں تشریف فرماتھے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اندھا کردیا کہ حضرت کو دیکھنے سے معذوررہے ۔

رئیس الاتقیاء مولانا نقی علی خاں

ولادت ،یکم رجب ۱۲۴۶ھ کو بریلی میں ہوئی ۔اپنے والد ماجد قطب زماں حضرت مولانا رضاعلی خاں صاحب قبلہ علیہ الرحمہ سے اکتساب علم کیا ۔آپ بلند پایہ عالم اور بہت بڑےفقیہ تھے ۔

مولانا عبدالحی رائے بریلوی لکھتے ہیں :۔

الشیخ الفقیہ نقی علی خاں بن رضاعلی خاں بن کاظم علی خاں بن اعظم خاں بن سعادت یار الافغانی البریلوی احد الفقہا ء الحنفیۃ اسند الحدیث عن شیخ احمد بن زین دحلان الشافعی ۔(فقیہ اسلام۔ مقالہ ڈاکٹریٹ مولانا حسن رضا خاں، پٹنہ)۔

امام احمد رضا قدس سرہ فرماتے ہیں: ۔

جو دقت انظار وحدت افکار وفہم صائب ورائے ثاقب حضرت حق جل وعلا نے انہیں عطا فرمائی ان دیار وامصار میں اس کی نظیر نظر نہ آئی۔ فراست صادقہ کی یہ حالت تھی کہ جس معاملہ میں جو کچھ فرمایا وہی ظہور میں آیا ۔عقل معاش ومعاد دونوں کا بروجہ کمال اجتماع بہت کم سنا یہاں آنکھوں دیکھا ۔علاوہ بریں سخاوت وشجاعت، علو ہمت وکرم ومروت ،صدقات خفیہ ومبرات جلیہ،بلندی اقبال ودبدبۂ وجلال ،موالات فقرا ء اور امر دینی میں عدم مبالات باغنیاء، حکام سے عزلت و رزق موروث پر قناعت ،وغیرہ ذلک فضائل جلیلہ وخصائل جمیلہ کا حال وہی

کچھ جانتا ہے جس نے اس جناب کی برکت صحبت سے شرف پایا ہے: ۔  ع ایں نہ بحریست کہ در کوزئہ تحریر آید

مگر سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ اس ذات گرامی صفات کو خالق عزوجل نے حضرت سلطان رسالت علیہ افضل الصلوۃ والتحیۃ کی غلامی وخدمت اور حضور اقدس کے اعداء پر غلظت وشدت کے لئے بنایا تھا۔ بحمد اللہ ان کے بازوئے ہمت و طنطنۂ صولت نے اس شہر کو فتنۂ مخالفین سے یکسر پاک کردیا ۔کوئی اتنا نہ رہا کہ سر اٹھا ئے یا آنکھ ملائے یہاں تک کہ ۲۶؍ شعبان ۱۲۹۳ھ کو مناظرئہ دینی کا عام اعلان بنام تاریخی’’ اصلاح ذات بین‘‘ طبع کرایا اور سوا مہر سکوت یا عار فرار وغوغائے جہال وعجز واضطرار کے کچھ جواب نہ پایا ،فتنۂ شش مثل کا شعلہ کہ مدت سے سر بفلک کشیدہ تھا۔

 اور تمام اقطار ہند میں اہل علم اس کے اطفا پر عرق ریز وگردیدہ ،اس جناب کی ادنی توجہ میں بحمد اللہ سارے ہندوستان سے ایسا فرو ہوا کہ جب سے کان ٹھنڈے ہیں۔ اہل فتنہ کا بازار سرد ہے ،خود اس کے نام سے جلتے ہیں، مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ خدمت روز ازل سے اس جناب کے لئے ودیعت تھی جس کی قدرے تفصیل رسالہ’’ تنبیہ الجہال بالہام الباسط المتعال ‘‘میں مطبوع ہوئی :۔وذلک فضل اللہ یؤ تیہ من یشاء ۔

آپکی تمام خوبیوں کے درمیان سب سے بڑی خوبی اور علمی شاہکار اعلی حضرت قدس سرہ کی تعلیم وتربیت ہے جو صدیوں ان کا نام نامی زندہ رکھنے کے لئے کافی ہے ۔

امام احمد رضا:۔ امام احمد رضا قدس سرہ نے اپنی سنہ ولادت کا استخراج اس آیت کریمہ سے فرمایا: ۔ اولٰئک کتب فی قلوبہم الایمان واید ھم بروح منہ۔

اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو اللہ ورسول کے دشمنوں کو کبھی اپنا دوست نہیں بناتے اور اپنا رشتۂ ایمانی اسی وقت مضبوط ومستحکم جانتے ہیں جب اعدائے دین سے کھلم کھلا عداوت ومخالفت کا اعلان کریں اگرچہ وہ دشمنان دین انکے باپ داداہوں خواہ اولاد اور دیگر عزیز واقارب ہوں ۔جب کسی مومن کا ایمان ایسا قوی ہوجاتا ہے تو اسکے لئے وہ بشارت ہے جو آیت کریمہ میں بیان فرمائی ۔

سیدنا اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کی پوری حیاتِ طیبہ تعلیمات اسلام کا آئینہ تھی ۔ حسن اتفاق کہ اعلی حضرت جس ساعت میں پیدا ہوئے اس وقت آفتاب منزل غفر میں تھا جواہل نجوم کے یہاں مبارک ساعت ہے ۔ اعلیٰ حضرت نے خود بھی اس کی طرف یوں اشارہ فرمایاہے :۔

دنیا مزار حشر جہاں ہیں غفو ر میں

ہرمنزل اپنے ماہ کی منزل غفر کی ہے

 

تکمیل تعلیم و فتوٰی نویسی : ۔

رسم بسم ﷲ خوانی کے بعد ہی دورِ تعلیم کا آغاز ہوگیااورصغر سنی می یعنی چار برس کی عمر میں قرآن مجید کا ناظرہ ختم کرلیا اور اپنے ہم عمر بچے سے آگے نکل گئے۔ آپ کی خدادادذہانت حاصل تھی اسی وجہ سے چھ سال کے عمر میں ہی آپ نے بریلی شریف میں منعقدہ جلسہ موسوم بہ ’’محفلِ میلاد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم‘‘ میں میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر ایک عظیم الشان خطاب فرمایا۔ پھر آپ نے اردو، فارسی اورعربی کی ابتدائی کتابیں حضرت مرزا غلام قادر بیگ صاحب سے حاصل کیں اور اکیس علوم کی تعلیم آپ نے اپنے والد ماجد مولانا نقی علی خان سے حاصل کی ۔

 ان میں سے کچھ رقم قلم ہیں۔ علم تفسیر، علم حدیث، علم العقائد و الکلام، علم فلسفہ، کتب فقیہ حنفی و شافعی مالکی و حنبلی، اصولِ فقیہ ، اصولِ حدیث، علم تکسیر، علم نجوم وغیرہ ۔اور آٹھ سال کی عمر میں آپ نے فن نحو کی مشہور و معروف کتاب ’’ہدایہ النحو‘‘ کی عربی شرح لکھی۔ تیرہ برس دس مہینے پانچ دن کے عمر میں یعنی ۱۴؍ شعبان المعظم ۱۲۸۶ھ؁ بمطابق ۱۹؍ نومبر ۱۸۶۹ء؁ کو جملہ مروجہ علوم و فنون

سے فارغِ التحصیل ہوئے اور ’’العلماء ورثتہ الانبیاء‘‘ کا تاج آپ کے سر پر رکھا گیا۔

اسی دن آپ نے رضاعت کے متعلق پہلا فتوی لکھا، جواب بالکل درست تھا، والد ماجد علامہ نقی علی بریلوی (م۱۲۹۷ھ؁ )نے خوش ہوکر فتوی نویسی کی اجازت دے دی اور مسند افتا پر بٹھا دیا۔ پروفیسر محمود احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں: ’’مولانا احمد رضا خاں رحمۃﷲ علیہ نے تیرہ سال دس مہینے اور چار دن کی عمر میں ۱۴ شعبان ۱۲۸۶ھ؁ کو اپنے والد ماجد مولانا نقی علی خان کی نگرانی میں فتوی نویسی کا آغاز کیا۔سات برس بعد تقریباً ۱۲۹۳ھ؁ میں فتوی نویسی کی مستقل اجازت مل گئی۔

 پھر جب ۱۲۹۷ھ؁ میں امام المتکلمین تاج المفتیین سلطان المفسرین والمحدثین امام العارفین حضرت علامہ مولانا مفتی نقی علی خان کا انتقال ہو تو کلی طور پر امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان قادری  بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فتوی نویسی کے فرائض انجام دینے لگے۔ آپ کے فتاوں کا انداز آپ کی کتب سے کیا جاسکتا ہے خاص کر فتاویٰ رضویہ شریف سے۔ (حیات مولانا احمد رضا خان بریلوی، از پروفیسر ڈاکٹر مسعود احمد، مطبوعہ کراچی ص۵۶)۔

سلسلہ ارادت و طریقت

۔ ۱۲۹۴ھ؁ / ۱۸۷۷ء؁ کو بغرض بیعت اپنے والد محترم کے ہمراہ کا شانہ مرشد حضرت آلِ رسول مارہروی (علیہ رحمتہ و الرضوان، م ۱۸۷۸ء؁) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلسلہ قادریہ میں بیعت سے مشرف ہوکر اجازت و خلافت سے بھی نوازے گئے۔ اعلیحضرت نے اپنے دیوان میں مرشد کے شان میں ایک منقبت لکھی جس کا مطلع یہ ہے۔

خو شاد لے کہ دہند ولائے آلِ رسول

خوشامردے کہ کنندس فدائے آلِ رسول

آپ کو مندرجہ ذیل سلاسل میں اجازت تھی۔

سلسلہ قادریہ برکاتیہ جدیدہ ، سلسلہ قادریہ آبابیہ قدیمہ، سلسلہ قادریہ الھدیہ، سلسلہ قادریہ رزاقیہ، سلسلہ قادریہ منوریہ، سلسلہ چشتیہ محبوبیہ و احدیہ، سلسلہ چشتیہ نظامیہ قدیمہ، سلسلہ سہروردیہ واحدیہ ، سلسلہ سہروردیہ فضلیہ، سلسلہ علویہ منائبہ، سلسلہ بدیعیہ مداریہ، سلسلہ نقشبندیہ علائیہ صدیقیہ، سلسلہ نقشبندیہ علائیہ علویہ۔ان سلاسل میں اجازت کے علاوہ اربعہ مصافحات کی بھی سند ملی۔

زیارت حرمین شریفین

ذو الحجہ ۱۲۹۴ھ؁ مطابق دسمبر ۱۸۷۷ء؁ میں پہلی بار آپ نے زیارت حرمین شریفین اور طوافِ کعبہ فرمایا۔ اسی موقع پر امام شافعیہ حسین ابن صالح نے آپ کو دیکھکر فرمایا تھا ’’انی لاجد نورﷲ من ھذا الجبین‘‘ اور آپ کو سلسلہ قادریہ کی سند اپنے دستخط خاص کے ساتھ عطا فرمائی ،نیز صحاح ستہ کی بھی سند مرحمت فرمائی۔ دوسری بار آپ نے ربیع الاوّل ۱۳۲۴ھ؁ بمطابق اپریل ۱۹۰۶ء؁ کو بارگاہِ رسالت میں حاضری دی۔

 ایک ماہ تک مدینہ طیبہ میں قیام رہا۔ اسی دوران بڑے بڑے علماء آپ کی علمی کمالات اور دینی خدمات کو دیکھکر آپ کی نورانی ہاتھوں پر مرید ہوئے اور آپ کو استاد وپیشوا مانا۔ اس سفر مبارک میں جو تین اہم کارنامے منظر عام پر آئے وہ یہ ہیں ۔ (۱) بحالت بیداری آقاۓ دو جہاں شہنشاہ خوباں والشمس و الضحیٰ چہراہ پاک والے مصطفٰی علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت ہوئی۔

۔(۲) ۲۵؍ ذی الحجہ کو آپ رحمۃ ﷲ نے علماء نجد کی طرف سے آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے علم غیب کے متعلق پانچ سوالات کے جواب میں شدت بخار کے باوجود بغیر کسی کتب کو دیکھے صرف آٹھ گھنٹوں میں عربی زبان کے اندر ایک کتاب موسوم بہ الدولہ المکیہ بالمادۃ الغیبیہ لکھی، جس پر علماے عرب نے نہ صرف داد سے نوازابلکہ شریف مکہ نے وہ کتاب سطر بہ سطر لفظ بہ لفظ سماعت کی۔

 ۔(۳) اور آپ کو علماء عرب نے ’’مجدّد ماء ۃ حاضرۃ‘‘ کے لقب سے نوازا ۔

علوم و فنون میں مہارت :ایک سو پانچ علوم پر آپ کو مہارت تھی۔ سید ریاست علی قادری صاحب نے اپنے مقالہ ’’امام احمد رضا کی جدید علوم و فنون پر دسترس‘‘ میں جدید تحقیق و مطالعہ ثابت کیا ہے کہ اعلیٰ حضرت کو ۱۰۵ علوم و فنون پر دسترس و مہارت تامہ و کاملہ حاصل تھی۔اس کی زندہ مثال آپ کی تصنیف کردہ کتب سے ملتی آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ہر ایک موضوع پر ایک دو کتابیں لکھ کر پیش کرکے اس فن کے امام ہونے کا لوہا منوایا ہے۔

اور بعض تذکرہ نگاروں نے ٢٠٠ سے بھی زائد علوم و فنون گناۓ ہیں۔

علمی آثار

حضرت امام احمد رضا خان رحمۃﷲ علیہ ایک کثیر التصانیف بزرگ تھے ۔ آپ کی ایک ہزار سے بھی زائد تصانیف ہیں۔ عربی، فارسی، اردو، ہندی زبان میں مختلف فنون پر آپ کی ۵۵۰ سے زائد کتب کے نام منظر پر آچکی ہیں۔ ان میں چند مندرجہ ذیل ہیں۔

العطا یا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ : یوں تو آپ نے ۱۲۸۶ھ؁ سے ۱۳۴۰ھ؁ تک ہزاروں فتوٰے لکھے۔ لیکن سب کو نقل نہ کیا جاسکا۔ جو نقل کرلئے گئے تھے ان کا نام العطا یا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ رکھا گیا۔ فتاوٰی رضویہ جدید کی ۳۳ جلدیں ہیں جن کے کل صفحات ۲۲۰۰۰ سے زیادہ، کل سوالات مع جوابات ۶۸۴۷ اور کل رسائل ۲۰۶ہیں۔ ہر فتوے میں دلائل کا سمندر موجذن ہے۔ قرآن و حدیث، فقہ، منطق اور علم کلام سے مزین ہے۔

نزول آیات فرقان بسکون زمین و آسمان

۔( الفوز المبین) اس کتاب میں آپ نے سائنس دانوں کے اس نظریہ کو رد فرمایا جو زمیں کی گردش کے بارے میں ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ امام اہلسنت صرف تفسیر وتحقیق وحدیث وفقہ ہی کے امام نہیں تھے بلکہ سائنس کے بھی امام تھے۔ اگر آپ کو جاننا ہے کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کسی کسی علم و فن کے امام تھے تو آپ فقہ انسائیکلوپیڈیا فتاویٰ رضویہ شریف کا مطالعہ ضرور کریں۔

جدا لممتار علی الدرالمختار: علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ الباری کی رد المختار شرح ’’در مختار‘‘ پر عربی حواشی ہیں۔

الدولۃ المکیہ بالمادۃ الغیبہ: دوسری بار حج میں آپ نے ۸ گھنٹے میں لکھی۔ کفل الفقیہ الفاہم فی احکام قرطاس الدراھم (۱۹۰۶ء؁) : جوکاغذی کرنسی سے متعلق علماء حرمین کے سوالات کے جوابات پر مشتمل ہیں۔ جسکی برکتوں سے دنیا آج بھی فائدہ اٹھا رہی ہے،

کنز الایمان

اعلیٰ حضرت رحمۃ ﷲ علیہ کی تفسیری مہارت کا ایک شاہکار آپ کا ترجمہ قرآن ’’کنز الایمان ‘‘ بھی ہے۔ آپ نے عشق و محبت میں ڈوب کر قرآن مجید کا عمدہ اور مثالی ترجمہ کیا جس کے بارے میں محدث اعظم فرماتے ہیں: علم قرآن کا اندازہ صرف اعلیٰ حضرت کے اس اردو ترجمہ سے کیجئے جو اکثر گھروں میں موجود ہے اور جس کی مثال سابق نہ عربی میں نہ فارسی میں نہ اردو زبان میں ہے، اور جس کا ایک ایک لفظ اپنے مقام پر ایسا ہے کہ دوسرا لفظ اس جگہ لایا نہیں جاسکتا، جو بظاہر محض ترجمہ ہے مگر در حقیقت وہ قرآن کی صحیح تفسیر اور اردو زبان میں قرآن (کی روح) ہے۔ 

(جامع الاحادیث ،ج ۸م از حنیف خان رضوی، مطبوعہ مکتبہ شبیر برادرز، لاہور، ص۱۰۱)

کیوں رضا آج گلی سونی   از   قلم  عبد المبین نعمانی قادری

نعتیہ کلام

۔ ۱۳۲۵ھ؁ سے ۱۹۰۷ء؁۔ آپ نے اردو، فارسی، عربی سنسکرت کئی زبانوں میں نعت گوئی و منقبت، قصیدہ نگاری کی۔ آپ کا نعتیہ دیوان حدائق بخشش تین جلدوں میں ہے۔ پہلی دو جلدیں آپ کی حیات طیبہ میں اور تیسری بعد وفات شائع ہوئی۔ حدائق بخشش اردو نعتیہ شاعری کا ایک انمول تحفہ ہے

جس نے بعد میں آنی والی نسل کے نعت گو شعراء کو بہت ہی متأثر کیا۔آپ کے دیوان کایہ شعر جو استاذ الشعراء علامہ داغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے خود آپ کے مقطع میں لکھے ہے۔ 

 ملکِ سُخن کے شاہی تم کو رضا مسلم۔۔۔۔۔  جس سمت آگئے ہو سکّے بٹھا دیئے ہے (داغ دہلوی)۔

آپ کے مشہور و معروف القابات و آداب

علمائے عرب و عجم، قلم کاروں و دانشوروں نے جن القابات و آداب سے آپ کو یاد فرمایا ہے ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔ عالم اہلسنت ، امام و پیشوا، استاد معظم، سیدنا مرشد، یکتائے زمانہ، ایسے وقت کا یگانہ ، صاحب تحقیق و تدقیق و تنفیح ، علم و فضل کے دائر کا مرکز، حجۃ ﷲ فی الارضین ، آیات من آیات رب العالمین، معجزات من معجزات خاتم النبیین، شیخ الاسلام و المسلمین

فخر السلف، بقیۃ الخلف، مجدد اعظم، ، امام اہلسنت، عظیم العلم، موئید ملت طاہرہ، مجدد ملت حاضرہ محدث بریلوی، فقیہ العصر، سرتاج الفقہاء ۔ نائب امام اعظم ابو حنیفہ، ’’اعلیٰحضرت ‘‘ کا لقب آپ کو ہندوستان میں سلطان العارفین حضرت سید وارث علی شاہ حضور وارث پاک رحمۃ اللہ علیہ نے دیا تھا۔

 آپ کے علاوہ بھی عرب و عجم کے کئی اکابر علماء کا ذکر بھی ملتا ہے جنہوں نے آپ کو “اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام عشق و محبت” کے بھاری بھرکم القابوں سے یاد کیا(چہرہ والضحٰی از مولانا الہی بخش قادری ، مطبوعہ غلامانِ قطب مدینہ، لاہور ، ص ۱۰۵ / سوانح اعلیٰحضرت)

مجدد ماء ۃ حاضرہ

۔ ۱۳۱۸ھ بمطابق ۱۹۰۰ء؁ کو پٹنہ کے مقام پر عظیم الشان فقیدالمثال جلسئہ عام میں آپکو علماء بر صغیر ہند کی موجودگی میں ’’مجدد مائۃ حاضرہ‘‘ کا لقب دیا گیا جسکی تائید ہندوستان کے تمام علماء متفقہ طور پر کی۔ (سوانح اعلیٰحضرت)۔

تقویٰ و پرہیز گاری :  شہزادہ استاذزمن حضرتِ مولانا حسنین رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ ان کے ہم عمروں سے اور بعض بڑوں کے بیان سے معلوم ہواکہ وہ بدو (ابتدائے) شعور ہی سے نمازِ با جماعت کے سخت پابند رہے۔ گویا قبل بلوغ ہی وہ اصحاب ترتیب کے ذیل میں دخل ہوچکے تھے اور وقتِ وفات تک صاحب ترتیب ہی رہے اور ساتھ ہی محافظت روزہ اور نگاہ کی حفاظت فرمائے۔ (سیرت اعلیٰحضرت از مولانا حسنین رضا خان، مطبوعہ کراچی۔ ص۴۸)

وفات حسرت آیات

اعلیٰ حضرت رحمۃﷲ علیہ نے اپنی وفات سے ۴ ماہ ۲۲ دن قبل خود اپنے وصال کی خبر دے کر ایک آیت قرآنی سے سال وفات کا استخراج فرمایا تھا۔ وہ آیت مبارکہ یہ ہے ۔  وَیُطَافُ عَلَیْہِمْ بِاٰنِیَۃٍ مِّنْ فِضَّۃٍ وَّاَکْوَابٍ ۔(پارہ ۲۹، سورۃ دہر، آیت ۱۵، سوانح امام احمد رضا، ص۳۸۴، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر )۔

پھر یوں ہوا کہ ۲۵؍ صفر المظفر ۱۳۳۰ھ بمطابق ۱۹۲۱ء؁ کو بروز جمعۃ المبارک ۲ بج کر ۳۸ منٹ پرجب مؤذن نے کہا ’’حی علی الفلاح‘‘ تو ادھر اعلیٰحضرت عظیم البرکت کی روح اقدس مسلسل کئی سال تک محنت کرنے کے بعد کامیابی کی طرف بڑھنے لگی اور اس آیت کریمہ کا مصداق بن گئی۔ یا ایتھاالنفس المطمئنہ ارجعی الیٰ ربک راضیۃ مرضیۃ۔

خلفاء و تلامذہ

 اس بر صغیر میں آپکے تقریباً ۷۷خلفاء ہیں جبکہ تلامذہ کی تعدادبے شمار ہے۔ جس کا ذکر سوانح اعلیٰحضرت میں مفصل ہے۔ اور ملک العلماء علامہ ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ الباری کی تصنیف حیات اعلی حضرت کا مطالعہ کریں۔ اللہ پاک ہمیں اپنے امام کے کے مسلک پر سختی سے عمل پیرا رکھے اور آپ کے بتائے ہوئے راستے پر ہمیشہ گامزن رکھے آمین یارب العالمین بجاہ

Ref: تذکرہ اعلیٰ حضرت

 

Bayans Murshid-e-Kamil

Annual Mehfil e Milad
Birthday Mehfil
Milad un Nabi Lahore
Milad un Nabi Lahore

Urs Mubarik complete List

Golden Sayings

Read Golden Sayings of Murshid E Kamil

Books & Booklets

Download Murshid E Kamil Books & Booklets

Waseel-e-Nijaat Part-47

Most Authenticated Book on Aqaid Ahle Sunnah