• کرم کی بھیک ملے تو حیات بنتی ہے        حضورﷺ آپ نوازیں تو بات بنتی ہے
  • رخِ حضورﷺ کا صدقہ یہ دن چمکتا ہے       آپ ﷺ کی زلفوں کے سائے سے رات بنتی ہے
  • ملے جو اذن ثنا ء کا تو لفظ ملتے ہیں       اگر ہو آپﷺ کی مرضی تو نعت بنتی ہے
  • در حبیبﷺ کی زیارت بڑی سعادت ہے       ہو آپﷺ کا بلاوہ تو برات بنتی ہے
  • جسے وسیلہ بنایا تمام نبیوں نے       اسے وسیلہ بناؤ تو بات بنتی ہے
Madina Munawara
Video Mahafils
الصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہ
صَلَّی اللہُ عَلٰی حَبِیْبِہٖ سَیِّدِنَا مُحَمَّدِ وَّاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمْ
وہ جہنم میں گیا جو ان سے مستغنی ہوا
ہے خلیل اللہ کوحاجت رسول اللہ ﷺ کی
آج لے ان کی پناہ آج مدد مانگ ان سے
پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا
کون دیتا ہے دینے کو منہ چاہیے
دینے والا ہے سچا ہمارا نبی ﷺ
النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ۔ سورۃ احزاب (۶۔۳۳)
یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے
مرشد (شیخ طریقت) کی ضرورت
دنیا کے ہر کام ، ہر فن اور پیشہ کی طرح فن روحانیت یعنی سلوک الی اللہ طے کرنے اور حق تعالیٰ کا قرب و معرفت حاصل کرنے کے لیے استاد کی ضرورت ہے۔ علم تصوف کی اصطلاح میں ایسے روحانی استاد کو شیخ (مرشد) کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔
*۔لفظ شیخ کی اصل:
*۔ لفظ شیخ کی اصل یہ حدیث نبوی ﷺ ہے:
’’الشیخ فی قبیلۃ کالنبی فی امۃ‘‘
’’اپنے قبیلہ میں شیخ اسی طرح ہے جس طرح ایک نبی اپنی امت میں ہے‘‘۔(حدیث امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ)
*۔ امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمۃفرماتے ہیں کہ:
’’جاننا چاہیے کہ شیخ بننے اور حق کی طرف خلق کو دعوت دینے کا مقام بہت عالی ہے۔ آپ نے سنا ہوگا۔ ’’الشیخ فی قبیلۃ کالنبی فی امۃ‘‘۔شیخ اپنی قوم میں ایسا ہے جیسے نبی اپنی امت میں ہے۔ مکتوبات شریف دفتر اول مکتوب۲۲۴)
جس طرح خدا تک پہنچنے کے لیے پیغمبر کی ضرورت ہے اسی طرح رسول ﷺ تک پہنچنے کے لیے مرشد (شیخ طریقت) کی حاجت ہے اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ دنیا کسی وقت بھی اہل اللہ سے خالی نہیں ہوتی۔ آج بھی بندگان خدا ایسے ہیں جن کی ذات اور صفات سے ان مبارک سلسلوں (سلاسل تصوف ) کی آبرو قائم ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:یٰٓا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُو ااتَّقُو اللّٰہَ وَ کُونُوْ ا مَعَ الصَّادِقِیْنَ(سورۃ توبہ:آیت۱۱۹)
’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور صادقین کے ساتھ رہو‘‘۔
قارئین محترم! قرآن پاک ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صادقین ہر دور میں موجود رہیں گے اسی لیے ان کی رفاقت اور معیت اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے اگر وہ بالکل ختم ہوجائیں تو پھر یہ آیت قرآنی ساقط العمل ہوجائے گی اور یہ قرآن کی شان کے خلاف ہے۔
*۔ صاحب ’’کتاب اللمع‘‘ لکھتے ہیں کہ:
قرآن مجید کے الفاظ صادقین، مقربون، متوکلین۔ مخلصین، سارعین الی الخیرات ، اولیاء، ابرار، اور شاہدین سے صوفیاء (اہل اللہ) ہی مراد ہیں۔ اور اہل طریقت کی حقانیت پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جناب خضر علیہ السلام سے یوں مستدعی ہونا۔ ھل اتبعک علی ان تعلمنی مما علمت رشدا۔آیا میں آپ کی پیروی کروں اس شرط پر کہ آپ اپنے خداداد علم سے مجھے اصلاح و تقویٰ کی تعلیم دیں۔
کسی دنیاوی غرض پر مبنی نہ تھا۔ بلکہ یہ واقعہ اس بات پر دلالت ہے کہ جس طرح علم شریعت حاصل کرنا فرض ہے اسی طرح علم حقیقت و معرفت حاصل کرنا بھی فرض ہے۔ اور یہ علم (سلوک و معرفت) کسی شیخ کامل کی صحبت اور اس کی رشدو ہدایت ہی سے حاصل ہوتا ہے۔
*۔ضرورت شیخ طریقت:

قرآن حکیم میں اللہ جل شانہ نے ضرورت شیخ کو یوں بیان فرمایا ہے:
یٰا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمنُو اتَّقُواللّٰہَ وَابْتَغُوْ آ اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ وَ جَاھِدُوْ فِی سَبِیلِہٖ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْن(سورۃ مائدہ۔آیت۳۵)
’’اے ایمان والو! ڈرو اللہ سے اور تلاش کرو وسیلہ اس تک رسائی کے لیے اور اسکی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ‘‘۔
اس آیت مبارکہ سے دو باتوں کا حکم نازل ہوا۔ اول۔حق تعالیٰ تک رسائی حاصل کرنا۔ اور دوسرا۔ اس تک رسائی کرنے کے لیے وسیلہ تلاش کرنا۔
*۔وسیلہ سے مرادوہ ہادی ، مرشد یا پیر ہے جس نے راہ سلوک طے کیا ہوا ہو۔ راستے کے نشیب و فراز سے واقف ہو اور خدا رسیدہ ہو۔ بعض لوگ لفظ وسیلہ سے مراد ایمان لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قرآن و حدیث ہمارے پاس موجود ہے لہذا ان سے بڑھ کر کون وسیلہ ہوگا۔ ان کا یہ فرمان بالکل درست ہے لیکن قرآن و حدیث کو سمجھنے کے لیے بھی تو کسی عالم کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اور یہ عالم یا مولوی وسیلہ ہے قرآن و حدیث کا علم سمجھانے میں ۔ جیسا کہ ہم اسی مقالہ کے شروع میں عرض کر چکے ہیں کہ ہر کام کے لیے استاد کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ استاد وسیلہ ہوگا۔ اس وسیلے کے بغیر کوئی فن نہیں سیکھا جا سکتا ۔ اللہ جل شانہ فرماتے ہیں:
فَسْءَلُوْ اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْن(سورۃ النحل آیت ۴۳)
’’اہل ذکر یعنی جاننے والوں سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے خود وسیلہ پکڑنے اہل ذکر سے پوچھنے اور صادقین کے پاس بیٹھنے کا حکم فرمایا ہے۔بہرحال وسیلہ عقلاً ونقلاً ضروری ہے اور تمام مفسرین خواہ مقتدمین ہوں یا متاخرین کے وسیلہ کا مطلب شیخ طریقت ہے کیونکہ یا ایھاالذین امنوا کا خطاب ان لوگوں سے کیا گیا ہے جو ایمان لاچکے ہیں ۔ حضرت شاہ عبدالرحیم ، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی قدس اللہ اسرارہم جو اہل طریقت میں مقبول ہیں وسیلہ سے مراد شیخ طریقت لیتے ہیں ۔ اس کے سوا نہ اللہ جل شانہ تک رسائی اور قرب حاصل ہوتا ہے اور نہ ہی راستہ کا علم ممکن ہو سکتا ہے۔ کیونکہ کامل مکمل کی ایک التفات سے اس قدر تصفیہ باطن ہوتا ہے کہ ریاضات کثیرہ سے بھی نہیں ہو سکتا۔ اور تزکیہ نفس اور تصفیہ باطن کے لیے امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’ اللہ رب العزت کی نعمتوں کے ادائے شکر کا پہلا درجہ یہ ہے کہ بندہ اپنے عقائد فرقہ ناجیہ اہلسنت والجماعت کی آراء کے مطابق احکام شریعہ بجا لاتا رہے۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ بلند درجہ صوفیا کے سلوک کے موافق اپنے نفس کا تصفیہ و تزکیہ کرے‘‘ ۔ (مکتوبات شریف دفتر اول مکتوب۷۱)
*۔ ’’اگر ان دو امور میں پختہ ہوجاؤ تو پھر کوئی غم نہیں ایک تو صاحب شریعت علیہ وآلہ الصلوٰ ۃ والتسلیمات کی متابعت اور دوسری شیخ طریقت سے محبت و اعتقاد۔ آگاہ رہیں اور التجا تضرع کریں کہ ان دو دولتوں میں فتور نہ آنے پائے پھر جو کچھ ہو آسان ہے اوراس کی تلافی ممکن ہے‘‘۔(مکتوبات شریف دفتر سوم مکتوب ۱۳)
کاملوں سے ملتا ہے یہ گوہر میاں
کاغذوں میں ہے بھلا ہمت کہاں
قرآن حکیم میں اللہ جل شانہ نے منصب نبوت کی یوں وضاحت فرمائی ہے:
ھُوَالَّذَیْ بَعَثَ فِیْ الاُمِّیّٖنَ رَسُوْلاً مِّنْھُمْ یَتْلُوْ ا عَلَیْھِمْ آیاتہٖ وَ یُزَکِّیْھِمْ وَ یُعَلَّھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃِ۔(سورۃ جمعہ آیت ۲)
ترجمہ: ’’اللہ وہ ہے جس نے بھیجا ان پڑھوں کے درمیان پیغمبر انہی میں سے جو پڑھتا ہے ان لوگوں کے سامنے اللہ کی آیات اور پاک کرتا ہے ان کو اور سکھاتا ہے ان کو کتاب و حکمت‘‘۔کتاب کے ساتھ معلم کتاب یعنی سکھانے والے کو استاد کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔ نسخہ کے ساتھ طبیب کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
*۔ حضرت علامہ محمد مقصود فرماتے ہیں :
’’جو لو گ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن کی موجودگی میں شیخ کی کیا ضرورت ہے ان سے ہم پوچھتے ہیں کہ قرآن کی موجودگی میں نبی یا رسول کی کیا ضرورت تھی۔ چنانچہ جس طرح رسول اللہ ﷺ کی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ضرورت تھی آج ہمیں بھی وہی ضرورت درپیش ہے۔ جس طرح رسول اکرم ﷺ کے بغیر ہدایت ناممکن تھی اب بھی نائب رسول اللہ ﷺ کے بغیر ہدایت نا ممکن ہے۔ حیرت ہے کہ علمائے ظاہر لوگوں کے درمیان تو اپنی ضرورت محسوس کرتے ہیں لیکن ایسے شیخ کامل کی ضرورت محسوس نہیں کرتے جو ان سے کئی گنا زیادہ عبادات، مجاہدات و ریاضات کرکے ذات حق کے قرب ومعرفت کا شرف حاصل کر چکے ہیں ‘‘۔ (تذکرہ نقشبندیہ خیریہ ص۵۰)
*۔ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ(۶۹۹۔۷۶۷ء)۸۰۔۱۵۰ہجری۔ نے بہ ہمہ علم و تفقہ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ پہلے تصوف او ر صوفیاء کی مخالفت میں مشغول تھے۔ لیکن بعد میں حضرت بشر حافی رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں ر ہ کر حلاوت ایمان نصیب ہوئی۔ جو شخص احکام شریعت ان سے دریافت کرنے آتا تو خود بتا دیتے لیکن جب کوئی شخص راہ حقیقت دریافت کرنے آتا تو حضرت شیخ بشر حافی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بھیج دیتے ۔ یہ دیکھ کر ان کے شاگرد وں کو غیرت آئی اور عرض کیا کہ آپ اتنے بڑے عالم ہو اکر ایک صوفی کے حوالے کیوں کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ مجھے اللہ کے احکام کا علم ہے اور ان کو خود اللہ کا علم ہے۔ اس لیے طالبان حق کو ان کے پاس بھیجتا ہوں۔
*۔ سلطان العارفین حضرت با یزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
جس کا کوئی امام نہ شیطان اس کا امام ہو تاہے۔(من لیس لہ شیخ فشیخہ ابلیس)
امام قشیری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ قول ان الفاظ میں حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب کیا ہے۔ من لم یکن لہ استاذ فامامہ الشیطان(رسالہ قشیریہ ص۳۳۸)
*۔حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی علیہ الرحمۃ حاشیہ قول الجمیل میں فرماتے ہیں کہ:
’’وسیلہ سے مراد ارادت و بیعت مرشد کی ہے‘‘۔ (القول الجمیل شرح شفاء العلیل)
حضرت علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
’’کمالات باطنی حاصل کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے اس لیے پیر کامل کی تلاش بھی ضروریات دین میں سے ہے کیونکہ وصول الی اللہ پیر کامل کے توسط کے بغیر نادرات میں شامل ہے‘‘۔ (ارشاالطالبین)
*۔ حضرت علامہ اسمعیل علیہ الرحمۃ آیت’’یا ایھا الذین امنو ا اتقواللہ و کونو مع الصادقین‘‘ کے تحت فرماتے ہیں:
’’صادقین وہ لو گ ہیں جو وصول الی اللہ کے طریق کے رہنما ہیں جب سالک ان کی صحبت میں شامل ہوجاتا ہے تو ان کی محبت و تربیت قوت و ولایت سے سیر الی اللہ اور ترک ماسوا کے مراتب پر پہنچ جاتا ہے‘‘۔ (تفسیر روح البیان)
*۔ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی علیہ الرحمۃ:
’’شیخ کامل کی تلاش کرنی چاہیے اور اپنے باطنی امراض کا علاج ان سے کرانا چاہیے‘‘(مکتوب ۲۳۰ دفتر اول)
’’وہ لوگ جو اس امت کے اولیاء کی صحبت میں زندگانی گزارتے ہیں وہ بھی ان رذائل سے پاک ہوجاتے ہیں (دفتر سوم مکتوب ۲۴)
اہل اللہ قلبی امراض کے طبیب ہیں باطنی امراض کا ازالہ ان بزرگوں کی توجہ سے وابستہ ہے ان کا کلام دوا اور ان کی نظر شفاء ہے ۔ حدیث شریف میں وارد ہے۔
ھم قوم لا یشقی جلیسھم (بخاری و مسلم)
’’یہ ایسی قوم ہے جن کا ہم نشین بد نصیب نہیں ہوتا‘‘۔(دفتر اول مکتوب ۱۰۹)
پس کامل بنانے والے شیخ کی صحبت کبریت احمر ہے اس کی نظر دوا اور اس کی باتیں شفاء ہیں ‘‘۔(دفتر اول مکتوب۲۳)
*۔ مشائخ نقشبندیہ سے نسبت ان سے عقیدت اور ان کی متابعت دین و دنیا دونوں میں باعث سعادت ہے۔ مولانا ابو الکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ ان عظیم ہستیوں سے اپنی ارادت ان الفاظ میں ظاہر کرتے ہیں۔
’’یہی نسبت اور ارادت ایک دولت ہے جو ہم بے مائیگان کا ر اور تہی دستان راہ کے لیے توشہ آخرت اور وسیلہ نجات ثابت ہو۔ اگر اس کے دامن تک ہاتھ نہ پہنچ سکا تو اس کے دوستوں کا دامن پکڑ سکتے ہیں ۔ اللہ اس راہ میں ثبات و استقامت ورزی عطا فرمائے اور اس کے دوستوں کی محبت و ارادت سے ہمارے قلوب ہمیشہ معمور اور آباد رہیں‘‘ *۔ اللہ جل شانہ فرماتے ہیں : یَوْمَ نَدْ عُوْ ا کُلَّ اُنَاس بِاِ مَامِھِمْ(سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر71)
ترجمہ: ’’قیامت میں ہم سب کو امام کے ساتھ بلائیں گے اگر شیخ طریقت یا پیرومرشد نہ ہو تو کس کے ساتھ اٹھیں گے‘‘۔
*۔ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
’’شیخ اپنے مرید کو اپنی باطنی قوت سے علم الہی سکھاتاہے اور شیخ کا کلام مرید کے باطن کو معمور کردیتا ہے اور اس کو قرب الہی پر چلا دیتا ہے۔ (ترجمہ عوارف المعارف)
اسی لیے ان ہدایت یافتہ حضرات کی پیروی کا حکم اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں فرمایا ہے:
اُولئک الذین ھدی اللہ فبھدھم اقتدہ۔(سورۃ انعام آیت ۹۱)
’’یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت فرمائی تو تو بھی ان ہدایت یافتہ کی پیروی کر‘‘۔
*۔ بزرگان دین اپنے پیروکاروں کے قلب و دماغ اور رگ و رشتے میں اللہ کی عبادت اور بندگی کا ایسا داعبہ پیدا کرتے ہیں کہ ان کی نظر وں سے ماسویٰ اللہ معدوم ہوجاتاہے۔ اور وہ ہر لمحہ دل کی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کو دیکھتے اور مشاہدہ حق میں مشغول رہتے ہیں اور سالکان طریقت اپنے مرشد کامل کے روئے انور میں نور حق کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
عارف رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
فیض حق اندر کمال اولیاء نور حق اندر جمال اولیاء
ہر کہ خواہد ہم نشینی با خدا اور نشیند در حضور اولیاء
چوں شوی دور از حضور اولیاء در حقیقت گشتہ دور از خدا
یک زمانہ صحبت با اولیاء
بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا
*۔ تصور شیخ کے بیان میں:

بعض نادان لوگ تصور شیخ کو شرک کہتے ہیں حالانکہ یہ شرک نہیں اس کے شرک نہ ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اس کی تعلیم صلف صالحین سے چلی آتی ہے اور مشائخ طریقت نے اس کو ہدایت و رہنمائی کا ایک ذریعہ سمجھا ہے اس میں نہ شیخ کی عبادت ہوتی ہے اور نہ ہی شیخ کا ذکر ہوتا ہے بلکہ اپنے دل کے پراگندہ خیالات کو ایک طرف باندھ لینا ہے اور شیخ کو اپنے اور اللہ کے درمیان ہادی اور رابطہ سمجھنا ہے جیسے کعبہ عابدو معبود کے درمیان رابطہ ہے نماز ، زکوۃ یہ سب عابدو معبود کے درمیان رابطہ ہیں اسی طرح مرشد مرید اور اللہ کے درمیان رابطہ ہے اللہ تعالیٰ جو کچھ دیتا ہے مرشد کے ہاتھ سے دیتا ہے اس لیے مرید صادق کے لیے لازم ہے کہ با ادب بیٹھ کر اپنے مرشد کی تصویر کو دل میں پکائے اور نعمت فیض حاصل کرے اور یہ اعتقاد رکھے کہ شیخ مظہر حق ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے میرے فیض دینے کے واسطے مقرر کیا ہے۔
*۔ ذکر:

ذکر وہی کامل ہوتا ہے جو شیخ سکھلائے کیونکہ مرید مردے کی مانند ہے اور پیر غسال ہے مردے کے ہاتھ پاؤں غرضیکہ ہر اعضاء کو جدھر کرتا ہے ادھر ہی ہو جاتا ہے اس لیے طریقہ نقشبندیہ میں سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ شیخ کے اشارے پر چلا جائے اور یہی حال ذکر کا ہے جس اسم کا شیخ ذکر سکھائے مرید وہی ذکر کرے اپنے طریقہ کو اس میں نہ ملائے بلکہ شیخ کے راستے کو پکڑے ہمارے سلسلہ نقش بند یہ میں اسم ذات کا ذکر سکھایا جاتا ہے وہ ہے ’’اللہ ھو‘‘ اس ذکر کے کرنے کے دو طریق ہیں ایک ذکر جہر یعنی بلند آواز سے اور دوسرا ذکر خفی مرید کو سب سے پہلے ذکر جہر پر جمایا جاتا ہے اور جب وہ اس میں کامل ہو جائے تو پھر ذکر خفی سکھایا جاتا ہے جو افضل ذکر ہے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں سب سے زیادہ اہمیت ذکر حق ہی ہے حق تعالیٰ کو یاد کرنا سب عبادتوں کا خلاصہ اور جان ہے قرآن شریف میں ارشاد ربانی ہے۔
وَاذْکُرُاللہَ کَثِیر لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُون۔(ترجمہ: اللہ تعالیٰ کو بہت یاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ)۔
اسلام کی اصل جڑ کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے اور یہ عین ذکر ہے حدیث شریف میں آتا ہے کہ مرتے وقت جس کی زبان کلمہ طیبہ سے تر ہوگی وہ دوزخ سے نجات پائے گا۔ذکر کرنے کا ثمرہ یہ ہے کہ ذاکر کو مذکور یاد کرتاہے اللہ کا ذکر کرنے والا آسمان پر پاکیزہ مجلس میں یاد کیا جاتاہے اس سے زیادہ ثمرہ اور نتیجہ کیا ہے اس واسطے ارشاد ربانی ہوا۔ فَاذْ کُرُوْنِی اَذْ کُرْکُم۔ ترجمہ: تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یا د کروں گا۔
جناب رسول مقبول ﷺ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ سب کاموں سے کون سا کام افضل ہے آپ ﷺ نے فرمایا مرتے وقت ذکر الہی سے زبان تر ہونا۔نیز آپ ﷺ نے فرمایا کہ خدا کے نزدیک جو کام بہترین اور مقبول ہیں اور تمہارے بزرگ ترین درجات ہیں اور سونا چاندی کے صدقہ دینے سے بہتر ہے اور خدا کے دشمنوں کے ساتھ جہاد کرنے سے بھی بہت بڑھ کر ہے اس کام سے میں تمہیں آگاہ کروں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ارشاد فرمائیے وہ کیا کام ہے آپ ﷺ نے فرمایا ذکر اللہ یعنی حق تعالیٰ کو یاد کرنا اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ خدا کویاد کرنے والا غافلوں میں ایسا ہے جیسا مردوں میں زندہ اور سوکھی گھاس میں ہرا درخت اور جہاد سے بھاگے ہوؤں میں غازی حضرت معاز بن جبل رضی اللہ عنہ کو قول ہے کہ اہل جنت کو کسی امر پر حسرت نہ ہوگی مگر دنیا میں جو ساعت یاد الہی سے غفلت میں گزری ہوگی اس پر حسرت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے ذاکرین کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا : اَلَّذِیْنَ یَزْکُرُونَ اللہ قِیاماً وَّ عَلےٰ قُعو دًاوَّ علےٰ جُنُو بِھِم۔
وہ لوگ جو کھڑے بیٹھے سوتے اور کروٹیں بدلتے اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتے اس سے اس آدمی کی زیادہ فضیلت کیا ہوگی کہ مالک دو جہاں خالق انس و جاں اس ضعیف البیان انسان کو یاد کرے۔
*۔ ذکر کا مفہوم اور اس کی حقیقت:

ذکر کے معنی یاد کر نا ، یاد زبان سے بھی ہوتی ہے اور دل سے بھی مگر افضل ذکر وہی ہے جو دل اور زبان دونوں سے ہو ورنہ اگر دل سے ہو تو زبانی ذکر سے افضل ہے (ہدایت الانسانی)۔ مشائخ طریقت کے نزدیک ذکر دو قسم کا ہے ایک ذکر جہر اور دوسرا ذکر خفی۔
*۔ ذکر جہر:

ذکر جہر کے معنی بلند آواز سے ذکر کرنا ذکر جہر اثر سے خالی نہیں جب کہ ذاکر کا مقصود اللہ ہے۔ اس ذکر کا ایک فائدہ یہ ہے جیسے مثل مشہور ہے کہ ’’خربوز ے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے‘‘ اسی طرح جب ذاکر ذکر جہر کرے گا تو دوسرے لوگوں کے دلوں میں بھی ذکر کرنے کا شوق پیدا ہوگا اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ زبان اور دماغ کی صلاحیتیں اس میں بروئے کار ہوتی ہیں تو زبان اور دماغ میں جو کدورتیں ہوتی ہیں اس سے پاک ہو جاتی ہیں اور اس طرح ذاکر بیہودہ باتیں کرنے سے شرم کرتاہے اور خیالات فاسدہ کو دماغ سے صاف کرتا رہتا ہے۔ گویا کہ جسم کے دو بڑے رکن زبان اور دماغ کی اصلاح ہوتی رہتی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ اے عمر رضی اللہ عنہ تو بلند آواز سے قرآن کیوں پڑھتا ہے عرض کیا حضور ﷺ میں سوتے کو جگا تاہوں اور شیطان کو بھگاتا ہوں یعنی ذکرجہر سوئے ہوے دلوں کو بیدار کرتا ہے اور ان سے شیطانی وسوسوں کو نکا ل کر باہر کر دیتا ہے۔
*۔ ذکر خفی:

ْذکر خفی دوسرے ذکر سے زیادہ افضل اور بزرگی والا ہے اس کو تفکر اور ذکر قلبی بھی کہتے ہیں۔ اس میں ذاکر خاموش ہو کر خدا کی ذات میں فنا ہو جاتا ہے اس کے تمام خیالات اللہ کی ذات میں گم ہوتے ہیں۔ اس کو دنیا کی ہر چیز میں اللہ کی ذات نظر آتی ہے جیسا کہ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃاللہ علیہ کا قول ہے کہ میں گھاس کا ایک تنکا بھی ایسا نہیں دیکھتا جو ذکر حق میں محو نہ ہو ایسا ذاکر اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال اور بزرگی اور زمین و آسمان میں اس کی قدرت کے آثار اور نشانات اور تمام اشیا کو جو زمین و آسمان میں ہیں بنظر بصیرت ملاحظہ کرتا ہے اور توحید الہی پتھر کی یکسر کی طرح اس کے دل میں جم جاتی ہے۔ مشکل آسانی رنج و غم خوشی و مسرت غرضیکہ زندگی کے ہر موڑ پر وہ خدا ئے یکتائی کی یاد میں لگا رہتا ہے ۔ اور اس طرح ابدی زندگی حاصل کر لیتا ہے ایسے ذاکر کو فناء فی اللہ بھی کہتے ہیں حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت ہے کہ افضل ذکر خفی ہے جو اعمال لکھنے والے اور محافظ فرشتے نہیں سنتے جب قیامت کا دن ہوگا اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کو جمع کرے گا اس وقت اعمال لکھنے والے فرشتے اعمال نامہ اللہ کے حضور پیش کریں گے اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھو کوئی عمل ان کا باقی تو نہیں رہا۔ جو آپ نے نہ لکھا ہو فرشتے عرض کریں گے خدایا جس چیز کو ہم نے جانا وہ تو ہم نے جمع کر دیا ۔ کوئی باقی نہیں رہا پھر اللہ تعالیٰ بندے کو مخاطب کر کے فرمائے گا کہ تحقیق میرے پاس تیرے لیے نیکی ہے جس کو تو نہیں جانتا اور نہ ہی یہ فرشتے جانتے تھے وہ ہے ذکر خفی کیونکہ دلوں کی آواز کو میں ہی سنتا جانتا ہوں اور میں تجھ کو اس کا بدلہ دوں گا۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں نے معراج کی رات ایک شخص کو 
(۹۲)
دیکھا کہ عرش کے نور میں ڈھانپا ہوا ہے میں نے پوچھا یہ کون ہے کیا کوئی فرشتہ ہے کہا گیا نہیں پھر میں نے پوچھا کہ کوئی نبی ہے کہا گیا نہیں بلکہ یہ ایک آدمی ہے کہ اس کی زبان اللہ کے ذکر سے تر رہتی تھی ۔ اور اس کا دل مسجد وں میں معلق تھا یہ ہے ذکر کی حقیقت۔
*۔خواب: 

ایک رات میں نے خواب میں اپنے شیخ سیّد عابد علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا آپ سفید لباس میں ملبوس تھے میں نے عرض کیا کہ حضور اللہ تعالیٰ نے آپ سے کیا معاملہ کیا فرمانے لگے اللہ تعالیٰ نے مجھے معاف کر دیا ہے عرض کیا کس عمل کی بدولت فرمانے لگے دنیا میں اللہ اللہ کرتا اور کرواتا تھا ۔ یعنی خود بھی ذکر حق کرتا اور دوسروں کو بھی ذکر حق کرنے کی تلقین کرتا تھا اس عمل کی بدولت اللہ تعالیٰ نے مجھے معاف کر دیا۔
*۔ اذکار:

افضل الذکر لا الہ الا اللہ محمد رسو ل اللہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جو شخص صد ق دل سے یہ کلمہ پڑھے وہ جنت میں جائے گا اگر چہ اس کے گناہ خاک کے برابر کثرت سے ہوں تو بھی اس کی بخشش ہو جائے گی۔
*۔سبحان اللہ وبحمدہ: جو شخص سو بار یہ تسبیح پڑھے اس کے تمام گناہ بخش دئیے جاتے ہیں اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں اور فرمایا کہ جو شخص سبحان اللہ ۳۳ بار الحمد للہ ۳۳ بار، اللہ اکبر ۳۴ بار کہے پھر یہ کلمہ پڑھے لاَ اِلٰہَ الاَّ اللہ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْکَ لَہٗ لَہٗ المُلْکُ وَلَہُ الحَمْدُ وَ ھُوَ علیٰ کُلِّ شَی ءِِ قَدِیرْ۔ اس کے تمام گناہ بخش دیے جاتے ہیں اگر چہ کف دریا کے برابر ہوں۔
حدیث شریف میں آیا کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ تنگدست ہوں آپ ﷺ نے فرمایا تجھے وہ وظیفہ نہ بتاؤں جس کی بدولت فرشتے روزی پاتے ہیں عرض کیا وہ کیا ہے فرمایا نبی پاک ﷺ نے سُبْحَان اللّٰہِ وَبِحَمدِ ہٖ سُبْحان اللّٰہ العَظِیم وَبِحَمْدِ ہٖ اَستَغفِرُ اللّٰہ۔ فجر کی نماز سے پہلے پڑھ لیا کرو ۔ دنیا تیری طرف متوجہ ہو جائے گی۔ اور تنگدستی جاتی رہے گی اور فرمایا کہ ہر کلمہ اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جو قیامت تک اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتا ہے اور اس کا ثواب بھی تیرے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا یہی کلمات اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب کلمات سے بہتر ہیں۔ 
حدیث شریف میں ہے۔ کلمتان خفیفتان علی اللسان و ثقیلتان علی المیزان ۔اگرچہ زبان پر ہلکے ہیں مگر میزان میں گراں ہیں۔ اور خدا کے نزدیک دوست و محبوب ہیں غریبوں اور محتاجوں نے نبی پا ک ﷺ کی بارگاہ بے کس پناہ میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ آخرت کا ثواب تو سب امیر لے گئے کیونکہ وہ صدقہ اور خیرات دیتے ہیں جس کی ہم میں طاقت نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ محتاج کی ہر تسبیح اور ہر تکبیر صدقہ ہے ’’اللّٰھمَّ اجرنی من النار ‘‘۔ جو آدمی ہر نماز کے بعد یہ کلمات سات مرتبہ پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ کی آگ سے نجات دیں گے۔
*۔ استغفار:

رسول مقبول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص استغفار کرے گا کسی بھی رنج میں ہو خوش ہو جائے گا اور جہاں سے اس کے وہم وگمان میں بھی نہ ہو روزی پائے گا اور فرمایا کہ میں دن بھر میں ستر بار استغفار کرتا ہوں اور فرمایاکہ جو کوئی سوتے وقت اَستَغفِرُ اللّٰہَ الَّذِی 
لاَ اِلٰہَ اِلاَّ ھُوَ الحیُّ القَیُّوم پڑھے گا اس کے سب گناہ بخش دئیے جائیں گے اور وہ فتنہ شیطان سے محفوظ رہے گا۔
*۔ درود شریف:
اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰءِکَتِہٖ یُصَلُّوْنَ عَلیَ النَّبیُّ۔ یا ایُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُو صَلُّو عَلَیہِ وَ سَلِّمُو تَسْلِیماً۔(القرآن)
ترجمہ: ’’ تحقیق اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں نبی اکرم ﷺ پر ، اے ایمان والو تم بھی نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجا کرو‘‘۔
مندرجہ بالا آیات مقدسہ سے درود شریف کے فضائل کا بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جو کوئی مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے تمام ملائکہ اس پر درود بھیجتے ہیں ۔ اور اس کے نامہ اعمال میں دس نیکیاں درج کی جاتی ہیں اور دس برائیاں مٹا دی جاتی ہیں اور اس کے دس درجے بلند کیے جاتے ہیں اور اس پر دس رحمتیں نازل کی جاتی ہیں اور فرمایا کہ جو کوئی مجھ پر درود لکھتا ہے جب تک میرا نام اس پر لکھا رہے گا ملائکہ اس کے واسطے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ اور فرمایا جو میرا نام سن کر درود نہ بھیجے وہ بخیل ہے۔ صَلیَ اللّٰہُ عَلیٰ حَبِیْبِہٖ مُحَمَّدِِ وَّ اٰلِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ وَسَلَّمْ۔
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ احیاء العلوم میں فرماتے ہیں اہل جنت کو کسی بات کی حسرت نہ ہوگی مگر ایک بات پر حسرت ہوگی کہ دنیا میں جو سانس اللہ کی یاد سے غفلت میں گزری ہو گی۔ 
*۔ آخر میں بارگاہ رب العزت میں میری عاجزانہ اور نیاز مندانہ دعا ہے کہ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کوحضرات مشائخ نقشبندیہ اور تمام بزرگان دین کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور حضرت پیر سیّد جعفر علی شاہ نقشبندی مجددی دام فیضہم کو صحت و عافیت کے ساتھ عمر دراز عطا فرمائے ۔ اور معتقدین پر آپ کا سایہ عاطفت ہمیشہ قائم رکھے۔اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللّٰہ علیہ والہٖ وسلم

بیعت کی اہمیت

امت مسلمہ کے اولیاء اللہ میں بیعت کا طریقہ تواتر کے ساتھ ثابت ہے۔درویشی یا فقیری تب تک حاصل نہیں ہوتی جب تک کسی شیخ وقت کی بیعت نہ کی جائے کیونکہ طریقت کی خاردار راہ میں سالک کو قدم قدم پر قطاع الطریق کے ہاتھے چڑھنے کا خطرہ درپیش ہوتا ہے ۔ حدیث رسول مقبول ﷺ ہے:
*۔الرفیق ثم الطریق (پہلے ہم سفر بعد سفر) (جواہر غیبی کنز چہارم ص ۲۳۲)
*۔ حضرت مولانا جلال الدین رومی علیہ الرحمۃ (۶۷۲ھ/۱۲۷۳ء) فرماتے ہیں :
یار باید راہ تنہا مرد از سر خود اندردیں صحرا مرو
ہر کہ او بے مرشدے در راہ شد او زغولاں گمراہ درچاہ شد
گر نہ باشد سایہ پیرائے فضول پس تیرا سر گشتہ دارد بانگ غول
*۔ بیعت کا لفظ بیع سے بنا ہے جس کے معنی بیچنا یا فروخت کر دینا۔ چونکہ مرید شیخ طریقت کے ہاتھ پر بِک جاتا ہے لہذا اس سے بیعت ہوگیا۔
*۔اصطلاحی طور پر بیعت اس تغیر حال کو کہتے ہیں کہ بندہ شیخ یا مرشد کے واسطہ سے اپنا سب کچھ اپنی مرضی سے چھوڑ کر اپنے مالک و خالق کی رضا کو اپنا نصب العین قرار دے۔ اس سلسلہ میں مرشد یا شیخ طریقت کچھ حکم دے تو اس پر چوں چراں عمل کرے۔
*۔ حیات بشری کے ایک ایک لمحہ میں شیخ مرید کا خضر راہ ہوتا ہے اور مرید بھی اپنے علم و عقل اور انا و خودی سے دست بردار ہو کر شیخ کے سامنے ایسی مکمل سپردگی کرتاہے کہ کسی معاملہ میں وہ صاحب اختیار نہیں رہتا۔ شیخ کے سامنے مرید کی وہی حیثیت ہوتی ہے جو غسال کے ہاتھ میں مردہ کی ہوتی ہے جس طرح چاہے الٹتا پلٹتا رہے۔(لطائف اشرفی جلد اول ص ۱۷۴۔ جواہر غیبی کنز چہارم ص۲۴۱)
بیعت جب کسی شیخ کامل کے دست حق پر کی جاتی ہے تو بمعہ آداب و شرائط وہ سلسلہ شیخ کے کامل توسط سلسلہ بہ سلسلہ جناب سید المرسلین ﷺ تک پہنچتی ہوئی اللہ رب العزت پر ختم ہوتی ہے۔ اگر بیعت کرنے والا اپنے اس عہد پر قائم رہے تو اللہ رب العزت کی طرف سے انتہائی انعامات و مراتب سے نوازا جاتا ہے۔
*۔ مرید کا لفظ ارادہ سے بنا ہے۔ جس کے معنی ہیں قصد کرنا اس کا ماخذ یہ آیت ہے ۔ یریدون وجہ اللّٰہ اولئک ھم الفائزون۔لہذا مرید کے معنی ہوئے ارادہ کر نے والا چونکہ مرید اللہ کی رضا کا طالب ہوکر شیخ کے پاس جاتا ہے لہذا سے مرید کہتے ہیں اور مرید بننے کا مقصد یہ ہوتاہے کہ اللہ سے عہد کرنا کہ مولیٰ میں تیرا بندہ فرمانبردار بنوں گا۔
مگر چونکہ اللہ جل شانہ تک ہماری رسائی نہیں تو اس کے کسی نیک بند ے (شیخ طریقت ) کے ہاتھ یہ عہد کرتے ہیں جیسے جب خدا کو سجدہ کرنا ہو تو کعبہ کو سامنے لے کر سجدہ کر لیتے ہیں ۔ کعبہ قبلہ نماز ہے۔ اور پیرومرشد قبلہ عہدو پیمان ہوتا ہے۔ (اسرار الاحکام)
*۔ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے رہبر کامل خود آنحضور ﷺ تھے ۔ اور انہوں نے زمانہ رسالت میں مختلف اوقات میں مختلف مقاصد کے لیے بیعتیں کیں۔
اولاً اسلام لاتے وقت حضور پرنور ﷺ سے بیعت کی پھر خاص معاہدوں کے لیے بیعت جیسے حدیبیہ کے مقام پر ’’بیعت الرضوان‘‘ پھر خلفاء راشدین کے ہاتھوں پر بیعت کی لہذا حضرا ت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی مرید مصطفی ﷺ تھے اور اب صرف بیعت توبہ کی جاتی ہے جو دراصل ان تمام امور پر منحصر ہوتی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
اِنَّ الَّذِینَ یُبَایِعُونَکَ اَنَّمَا یُبَایِعُونَ اللّٰہ۔ یَدُ اللّٰہِ فَوقَ اَیْدِ یْھِمْ فَمَن نَّکَثَ فَاِنَّمَا یَنْکُثُ عَلیٰ نَفْسِہٖ وَمَن اَوْفٰی بِمَا عٰھَدَ عَلَیہُ اللّٰہ فَسَیُوتِیہِ اجراً عَظِیْمَا۔(سورۃ فتح ۱۰)
ترجمہ: جو لوگ بیعت کرتے ہیں آپ حضور سیدالمرسلین ﷺ سے وہ اللہ سے بیعت کرتے ہیں اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے سو جو عہد شکنی کرتاہے تو وہ اپنی ذات کے نقصان پر عہد توڑتا ہے۔ اور جس نے پورا کیا اس کو جس پر اللہ سے عہد کیا تھا سو عنقریب ان کو اجر عظیم عنایت کرے گا۔
*۔بیعت چند قسم کی ہوتی ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی پہلی بیعت حضور ﷺ کے ہاتھ شریف پر تھی۔ پھر خاص موقعوں پر بیعت خاضہ ہوئیں۔پھر خلفاء راشدین کے ہاتھ پر بیعت دو بیعتوں پر مشتمل تھی بیعت سلطنت اور بیعت طریقت خلفاء راشدین کے زمانہ تک ہر سلطان شیخ بھی ہوتا تھا کیونکہ ان کی خلافت خلافتِ راشدہ تھی ان کے بعد سلاطین اس پائے کے نہ رہے لہذا ان سے صرف سلطنت کی وفاداریاں کی بیعت کی گئی جسے آج کے دور میں ’’حلف وفاداری‘‘ کہتے ہیں ۔ اور مشائخ عظام سے بیعت طریقت ہوئیں۔
*۔ عالم ربانی حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمۃ نے ایک مشہور حدیث نقل فرمائی ہے:’’رسول اللہ ﷺ سے لوگ بیعت کرتے تھے کبھی ہجرت اور جہاد پر اور گاہے اقامت ارکان اسلام یعنی صوم و صلٰوۃ حج پر، گاہے ثبات و قرار پر، معرکہ کفار میں کبھی سنت نبی ﷺ کے تمسک پر کبھی بد عت سے بچنے اور عبادات کے شائق اور حریص ہونے پر اور ابن ماجہ نے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے چند محتاج مہاجرین سے بیعت کی اس بات پر کہ وہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کریں‘‘۔(قول الجمیل فی شرح شفاء العلیل ص۱۳)
’’رسول اللہ ﷺ خلیفۃ اللہ تھے۔ معلم قرآن و حدیث تھے اور امت کا تزکیہ فرمانے والے تھے۔ اس لیے ان کا فعل ان کے خلفاء کے واسطے ہوگیا‘‘۔(قول الجمیل فی شرح شفاء العلیل ص۱۴)
*۔اسی لیے حضور سید المرسلین ﷺ کے بعد باوجود دین کامل و مکمل ہونے کے لیے جمیع صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی بیعت خلافت و توحید کی ۔ جیسا کہ رسول مقبول ﷺ نے فرمایا:
’’اتبعو ا با لذین من بعدی ابو بکر و عمر‘‘۔
’’میرے بعد ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہم کی تابعداری کرو‘‘۔
اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنہ (حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ، عمر رضی اللہ عنہ ، عثمان رضی اللہ عنہ، اور علی رضی اللہ عنہ) کی بیعت فقط خلافت کی بیعت نہیں کی بلکہ باطنی امور میں بھی بیعت کی تھی۔ 
*۔ مفسر قرآن علامہ حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی علیہ الرحمۃ بالصراحت فرماتے ہیں :
’’حضرت مجدد رضی اللہ عنہ فرمودہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بعد رسول کریم ﷺ بیعت ابو بکر و عمروعثمان و علی رضوان اللہ علیہم اجمعین کردند مقصود ازیں بیعت فقط امور دنیا نبود بلکہ کسب کمالات باطنی ہم بود‘‘۔(ارشاد الطالبین ص۱۲۵)
’’حضرت مجدد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ صحابہ رضی اللہ عنہ نے رسول کریم ﷺ کے بعد حضرت ابو بکر، عمر، عثمان ، اور علی رضوا ن اللہ علیہم اجمعین کی بیعت کی اس بیعت کا مقصد صرف امور دنیا ہی نہ تھا ۔ بلکہ کمالات باطنی کا حصول بھی تھا۔
*۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ:
’’خلفائے راشدین کے بعد ملوک و سلاطین میں بیعت یعنی بیعت توبہ و تقویٰ معدوم ہوگئی تو حضرات صوفیا نے فرصت کو غنیمت جان کر سنیت بیعت اختیار کی۔ چنانچہ توبہ اور ترک معاصی کا عزم کرنا اور تقوی کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنا امر مخفی ہے اور پوشیدہ ہے تو بیعت کو اس کے قائم مقام کر دیا‘‘۔ (قول الجمیل ص۱۷)
*۔ صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ انسان علم و تفقہ اور زُہد و ورع میں کتنا ہی بلند مقام کیوں نہ ہو وہ پیرومرشد (شیخ طریق) سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ نے بہ ہمہ علم و تفقہ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی۔ ان سے خرفہ خلافت پایا تھا اور تلقین ذکروفکر حاصل کی تھی ۔ نیز انہوں نے تبرکاً خرقہ اجازت حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ سے پہنا تھا۔ (جواہر غیبی چہارم ص۲۳۲)
حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ حضرت ہبیرہ بصری رحمۃ اللہ علیہ سے ارادت تھی۔ آپ نے ان کی بیعت بھی کی تھی اوران سے خرقہ اجازت بھی پایا تھا ۔ (جواہر غیبی چہارم ص۲۳۲) حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت بشر حافی رحمۃ اللہ علیہ کی بیعت کر کے ان سے خرقہ اجازت حاصل کیا تھا۔ (جواہر غیبی چہارم ص۲۳۲) حضرت امام محمد رحمۃ اللہ علیہ (۱۳۲۔۱۸۹ ہجری) ۷۴۹۔۸۰۴ء۔ نے حضرت داؤد طائی رحمۃ اللہ علیہ کی بیعت کی تھی اور ان سے خرقہ اجازت پایا تھا ۔ حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ(۱۱۳۔۱۸۳ ہجری) ۷۳۱۔۷۹۹ء حضرت حاتم اصم رحمۃ اللہ علیہ (م۔۲۳۷ ہجری) ۸۵۱ء کے مرید تھے۔ 
*۔ ان شواہد کی روشنی میں یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ سالک کے لیے مرشد یا شیخ طریقت کی تلاش ضروری اور لازمی ہے کیونکہ شیخ یا مرید کے بغیر تربیت و تزکیہ اخلاق نا ممکن ہے۔ جس طرح امت ہدایت و رہنمائی کے لیے نبی کی محتاج ہوتی ہے اسی طرح طالب بھی شیخ کا محتاج ہوتا ہے۔ نبوت کے بعد نیابت سے فاضل کوئی درجہ نہیں ہے اور یہ نیابت خلق کو رسول اللہ ﷺ کے طریقہ پر حق تعالیٰ کی دعوت دینا ہے ۔ اس سے مراد یہی نیابت ہے۔ حدیث رسول مقبول ﷺ ہے: ’’الشیخ فی قومہ کا لنبی فی امتہٖ‘‘
’’شیخ اپنی قوم میں ایسا ہے جیسے نبی اپنی امت میں ‘‘
*۔وضاحت:

*۔ شیخ طریقت کی تلاش و جستجو میں طالب کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ وہ ہر انسان کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہ دیدے۔ بلکہ جس طرح جسمانی بیماری کے لیے کسی حاذق طبیب کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح باطنی یا روحانی بیماریوں کے لیے بھی مرشد کامل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر نیم حکیم جان کے لیے خطرہ ہوتا ہے تو ناقص شیخ طالب کے ایمان کے لیے خطرہ ہوتا ہو۔ نیم حکیم مرض کی صحیح تشخیص نہیں کرسکتا اسی طرح ناقص شیخ تربیت سالک نہیں کرسکتا۔ اس لیے بیعت کرنے والے کو کسی مرشد کامل جو کی صحیح جانشین مصطفی ﷺ ہو کی بیعت کرنی چاہیے ورنہ بجائے فائدہ کے نقصان و ضرر کا احتمال زیادہ ہے۔ مرید کامل ہی اس کو واصل بااللہ کر سکتا ہے۔عارف کامل حضرت میاں محمد جہلمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں۔
مرد ملے تے درد نہ چھوڑے اوگن دے گن کر دا
کامل لوگ محمد بخشا لعل بنان پتھر دا

’’پیر ناقص کی مثال ایسی ہے کہ وہ مریض جو طبیب ناقص سے علاج کرائے۔ وہ درحقیقت اپنے مرض میں زیادتی کر رہا ہے اگر چہ ابتدا میں اس کی دو ا قدرے تخفیف کر دے مگر فی الحقیقت وہ عین ضرر و نقصان ہے‘‘۔(مکتوبات شریعت دفتر اول مکتوب ۶۱)
دوسری جگہ فرماتے ہیں :
’’دنیا آخرت کی کھیتی ہے اس شخص پر افسوس جس نے اس میں کچھ نہ کمایا اور جاننا چاہیے کہ زمین کو خالی رکھنا دو طرح پر ہے پہلے یہ کہ اس میں کچھ نہ بوئے اور دوسرا یہ کہ اس میں خبیث اور ردّی تخم ڈالے اور بیج ضائع کرنے کی یہ دوسری قسم ضرر فساد میں پہلی قسم سے بہت زیادہ ہے جیسا کی مخفی اور پوشیدہ نہیں ‘‘۔
بیج کی خرابی اور فساد یہ ہے کہ انسان پیر ناقص سے طریقہ اخذ کرے اور اس کے راستے پر چلے کیونکہ پیر ناقص اپنی خواہش نفس کا تابع اور پیروکار ہوتا ہے۔ اور جس چیز میں ہوائے نفس کی آمیزش ہو تو وہ خواہش نفس کی ہی معاونت کرے گی۔ اس طرح تاریکی پر تاریکی میں اضافہ ہوگا۔ 
’’دوسری خرابی یہ ہے کہ پیر ناقص اللہ سبحانہ و تعالیٰ تک پہنچانے والے راستوں اور نہ پہنچانے والوں راستوں میں تمیز نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وہ خود اب تک غیر واصل ہے تو طالب کو بھی گمراہی میں ڈال دے گا۔ جس طرح خود گمراہی میں پڑا ہے‘‘۔(دفتر مکتوب اول ۲۳)
*۔شیخ کامل کا انتخاب:
*۔ آج کل زندگی کے ہر شعبہ میں مکار اور گند م نما جو فروشوں کی اکثریت ہے۔ اور اصل و نقل کی تمیز جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ آجکل خالص اور ضروریات زندگی اور ادویات ملنا بھی محال ہے۔ لیکن دنیا کے کام چل رہے ہیں ۔ اسی طرح جب یہ مسلمہ بات ہے کہ زمانہ اہل اللہ کے وجود سے کبھی خالی نہیں ہوتا۔(تفصیل پہلے گزر چکی ہے) تو انتخاب شیخ اگرچہ مشکل مسئلہ ہے لیکن شیخ کامل سے روحانی فیض حاصل کرنے کی خاطر تصوف میں آداب و شرائط مقرر کیے گئے ہیں ۔ جن پر عمل کر نے سے یہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ پھر اس بارے میں قرآن و حدیث اور اولیائے ربانی کے اپنے ارشادات بھی موجود ہیں جس سے ولی کامل کی پہچان آسان ہو جاتی ہے اس بارے میں اہل تصوف کی ہدایت یہ ہے کہ مجذوبوں اور مغلوب الحال درویشوں کو ہرگز شیخ نہیں بننا چاہیے اگرچہ یہ لوگ واصل باللہ ہی کیوں نہ ہوں۔ تربیت ، مشیحیت اور پیری کے لیے یہ لوگ بالکل موزوں نہیں ہوتے۔ (جواہر غیبی کنز چہارم ص ۲۳۳)
حضرت شیخ عبدالقاد ر جیلانی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے طالب کے لیے ایک تیر بہ ہدف دعا کا طریقہ یوں بتلایا ہے کہ طالب نصف شب کو جاگ کر دو رکعت نماز پڑھے سجدہ کرے اور آہ وزاری کے ساتھ یہ دعا پڑھے:
’’یا رب دلنی علی عبد من عبادک المقربین ید لنی علیک و یعلمنی طریق الوصول الیک‘‘
’’اے میرے ربّ! مجھے اپنے مقرب بندوں میں سے کسی بندے کی طرف رہنمائی کر جو مجھے تیری طرف رہنمائی کرے اور تجھ تک پہنچنے کا طریقہ بتلادے‘‘۔
اللہ تعالیٰ اس دعا کے نتیجہ میں اسے اپنے اولیاء اللہ میں سے ضرور کسی شیخ کی طرف رہنمائی کر ے گا جو اس کا رہبر ہو(جواہر غیبی کنز چہارم ص۲۳۱)
کے لیے معروف ہو تو اسے اپنے نفس کو پاک کر کے شیخ کی خدمت میں جانا چاہیے۔
*۔ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی قدس سرہ فرماتے ہیں :
’’نعمتیں عطا کرنے والے رب کے ادائے شکر کا پہلا درجہ یہ ہے کہ بندہ اپنے عقائد ناجیہ اہل سنت والجماعت کے مطابق صحیح اور درست رکھے۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ اس بلند مرتبہ گروہ کے مجتہدین کی آراء کے مطابق احکام شرعیہ بجا لاتا رہے ۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ بلند درجہ گروہ صوفیہ کے سلوک کے موافق اپنے نفس کا تصفیہ و تزکیہ کرے‘‘۔
(مکتوبات شریف۔ دفتر اول مکتوب ۷۱)
’’شیخ کامل کی تلاش کرنی چاہیے اور اپنے باطنی امراض کا علاج اس سے کرانا چاہیے اور جب تک شیخ کامل نہ ملے ان احوا ل کو ’’لا‘‘ کے نیچے لا کر نفی کریں اور معبود برحق کا جو بے چوں و بے چگوں ہے اثبات کرے‘‘۔(دفتر اول مکتوب ۲۳)

Ref: https://darbarsharif.weebly.com/khatm-e-khawajgan--shajra-sharif.html

 

Bayans Murshid-e-Kamil

Annual Mehfil e Milad
Birthday Mehfil
Milad un Nabi Lahore
video

Urs Mubarik complete List

Golden Sayings

Read Golden Sayings of Murshid E Kamil

Books & Booklets

Download Murshid E Kamil Books & Booklets

Waseel-e-Nijaat Part-47

Download Aqaid Ahle Sunnah Wal Jammah